🌻 *آخری قعدہ کرکے اٹھنے کے بعد دوبارہ بیٹھنے پر التحیات کا حکم*
📿 *نماز کے آخری قعدہ میں بھول کر اٹھنے کے بعد دوبارہ بیٹھنے کی صورت میں التحیات کا حکم:*
اگر کوئی شخص نماز کے آخری قعدہ میں التحیات اور تشہد پڑھنے کے بعد بھول کر اگلی رکعت کے لیے کھڑا ہوجائے اور پھر یاد آنے پر دوبارہ قعدہ میں بیٹھ جائے تو اس کو دوبارہ التحیات اور تشہد پڑھنے کی ضرورت نہیں، بلکہ وہ بیٹھنے کے بعد دائیں جانب سلام پھیر کر سجدہ سہو کے دو سجدے کرلے اور اس کے بعد التحیات سے شروع کرکے آخر تک یعنی دعا تک پڑھ کر سلام پھیر لے۔ یوں اس کی نماز درست شمار ہوگی۔
☀️ الدر المختار:
(وَإِنْ قَعَدَ فِي الرَّابِعَةِ) مَثَلًا قَدْرَ التَّشَهُّدِ (ثُمَّ قَامَ عَادَ وَسَلَّمَ) وَلَوْ سَلَّمَ قَائِمًا صَحَّ؛ ثُمَّ الْأَصَحُّ أَنَّ الْقَوْمَ يَنْتَظِرُونَهُ، فَإِنْ عَادَ تَبِعُوهُ.
☀️ رد المحتار على الدر المختار:
(قَوْلُهُ: مَثَلًا) أَيْ أَوْ قَعَدَ فِي ثَالِثَةِ الثُّلَاثِيِّ أَوْ فِي ثَانِيَةِ الثُّنَائِيِّ، ح. (قَوْلُهُ: ثُمَّ قَامَ) أَيْ وَلَمْ يَسْجُدْ. (قَوْلُهُ: عَادَ وَسَلَّمَ) أَيْ عَادَ لِلْجُلُوسِ؛ لِمَا مَرَّ أَنَّ مَا دُونَ الرَّكْعَةِ مَحَلٌّ لِلرَّفْضِ. وَفِيهِ إشَارَةٌ إلَى أَنَّهُ لَا يُعِيدُ التَّشَهُّدَ، وَبِهِ صَرَّحَ فِي «الْبَحْرِ». قَالَ فِي «الْإِمْدَادِ»: وَالْعَوْدُ لِلتَّسْلِيمِ جَالِسًا سُنَّةٌ؛ لِأَنَّ السُّنَّةَ التَّسْلِيمُ جَالِسًا، وَالتَّسْلِيمُ حَالَةَ الْقِيَامِ غَيْرُ مَشْرُوعٍ فِي الصَّلَاةِ الْمُطْلَقَةِ بِلَا عُذْرٍ، فَيَأْتِي بِهِ عَلَى الْوَجْهِ الْمَشْرُوعِ، فَلَوْ سَلَّمَ قَائِمًا لَمْ تَفْسُدْ صَلَاتُهُ وَكَانَ تَارِكًا لِلسُّنَّةِ اهـ. (قَوْلُهُ: ثُمَّ الْأَصَحُّ إلَخْ) لِأَنَّهُ لَا اتِّبَاعَ فِي الْبِدْعَةِ، وَقِيلَ: يَتَّبِعُونَهُ مُطْلَقًا عَادَ أَوْ لَا. (بَابُ سُجُودِ السَّهْوِ)
✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہم
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی