فتح مکہ اسلامی تاریخ کا ایک عظیم دن
رمضان المبارک میں جہاں غزوۂ بدر پیش آیا، جس میں اسلام کا غلبہ ہوا، اسی رمضان المبارک 8 ہجری میں ایک اور تاریخی فتح ہوئی جسے “فتح مکہ” کہا جاتا ہے۔
یہ وہ دن تھا جب:۔
۔✅ شرک کی جگہ توحید کا اعلان ہوا۔
۔✅ کفر کی جگہ ایمان نے لے لی۔
۔✅ غرور و تکبر کی جگہ عاجزی و انکساری آگئی۔
۔✅ مکہ کے در و دیوار میں اللہ کی کبریائی اور وحدانیت کا اعلان کیا گیا۔
فتح مکہ کا اصل سبب کیا تھا؟
سن 6 ہجری میں صلح حدیبیہ کے معاہدے کے تحت طے پایا تھا کہ جو قبیلہ چاہے، وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شامل ہو سکتا ہے۔ اور جو چاہے، وہ قریش کے ساتھ مل سکتا ہے۔
بنو بکر نے قریش کے ساتھ معاہدہ کیا،
بنو خزاعہ نے مسلمانوں کے ساتھ صلح کی۔
بنو بکر اور بنو خزاعہ کے درمیان پرانی دشمنی تھی، قریش نے بنو بکر کی مدد کی، اور چپکے سے انہیں اسلحہ اور جنگجو فراہم کیے۔ بنو بکر نے بنو خزاعہ پر حملہ کر دیا، اور مسلمانوں کے حمایتی قبائل کو نقصان پہنچایا۔
جب قریش کو اپنی غلطی کا احساس ہوا، تو انہوں نے ابوسفیان کو معاہدہ برقرار رکھنے کے لیے بھیجا، لیکن…۔
۔✅ نبی اکرم ﷺ نے ان کی بات کو مسترد کر دیا!۔
۔✅ ابوبکر، عمر، علی سمیت کسی بھی صحابی نے ان کی سفارش نہیں کی۔
ابوسفیان واپس مکہ آیا اور قریش سے کہنے لگا:۔
۔ “محمد ﷺ نے میری کوئی بات نہیں مانی، ابو بکر اور عمر نے میری مدد نہیں کی، علی نے صرف مجھے بے فائدہ مشورہ دیا۔”۔
قریش نے کہا: ” تمہیں بے وقوف بنایا گیا ہے!”۔
نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کو جنگ کی تیاری کا حکم دیا، اور دعا کی:۔
۔ “اے اللہ! قریش تک ہماری روانگی کی خبر نہ پہنچے!”۔
آپ ﷺ 10,000 صحابہ کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے ۔ راستے میں حضرت عباسؓ (نبی اکرم ﷺ کے چچا) مسلمان ہو کر قافلے میں شامل ہو گئے۔ ابوسفیان کے بیٹے حضرت معاویہؓ بھی مسلمانوں میں شامل ہو گئے۔ جب مسلمانوں کا لشکر “مر الظهران” کے مقام پر پہنچا۔ نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا: ہر سپاہی آگ روشن کرے!۔
۔ 10,000 سپاہیوں کی 10,000 آگیں دیکھ کر قریش خوفزدہ ہو گئے۔ اسی رات، حضرت عباسؓ ابو سفیان کے پاس گئے، اور کہا: “تمہارے پاس صرف ایک راستہ ہے: اسلام قبول کر لو!۔
ابو سفیان نے اسلام قبول کر لیا!۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:۔
۔ “جس نے ابو سفیان کے گھر میں پناہ لی، وہ محفوظ ہے!”۔
20 رمضان 8 ہجری کو نبی اکرم ﷺ مکہ میں فاتحانہ انداز میں داخل ہوئے۔
آپ ﷺ کا سر انکساری کے باعث جھکا ہوا تھا۔ زبان پر سورۃ الفتح کی آیات تھیں: “بے شک، ہم نے آپ کو کھلی فتح عطا کی ہے!”۔
مسلمانوں نے تین راستوں سے مکہ میں داخل ہو کر شہر پر قبضہ کر لیا۔
نبی اکرم ﷺ مسجد الحرام پہنچے، اور کعبہ میں موجود 360 بتوں کو توڑ دیا!۔
۔✅ آپ ﷺ نے فرمایا:۔
۔ “حق آ گیا، اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی کے لیے ہے ۔ (الاسراء: 81)۔
فتح مکہ کے اسباق:۔
۔✅ حق ہمیشہ غالب آتا ہے، چاہے باطل کتنا ہی طاقتور ہو۔
۔✅ دشمن کو معاف کرنا بھی فتح کی علامت ہے۔
۔✅ اسلام ہمیشہ عدل و رحمت کی تعلیم دیتا ہے۔
۔📌 اے اللہ! ہمیں بھی دین اسلام کی سربلندی کے لیے قبول فرما!۔
۔📌 اے اللہ! ہمیں ظلم اور باطل کے خلاف کھڑا ہونے کی توفیق عطا فرما!۔
۔📌 اللہم انصر الاسلام والمسلمین!۔
۔📌 وصل اللہم وسلم علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین!۔