غزوۂ بدر کا پسِ منظر


 غزوۂ بدر کا پسِ منظر

یہ عظیم معرکہ رمضان المبارک 2 ہجری میں پیش آیا، جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مشرکینِ قریش پر فتح عطا فرمائی۔
اسی لیے اللہ نے اس دن کو یوم الفرقان قرار دیا، کیونکہ اس دن حق اور باطل کے درمیان واضح فرق ہو گیا۔

وجہِ جنگ:۔
نبی اکرم ﷺ کو معلوم ہوا کہ ابو سفیان قریش کے ایک تجارتی قافلے کے ساتھ شام سے مکہ جا رہا ہے۔
یہ قافلہ درحقیقت قریش کا مالِ تجارت تھا، اور اس میں موجود منافع کا بڑا حصہ مسلمانوں پر ہونے والے مظالم میں استعمال کیا جاتا تھا۔
چونکہ قریش نے مسلمانوں کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کر رکھا تھا اور مکہ سے انہیں بے دخل کر دیا تھا، اس لیے نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ اس قافلے کو روکیں تاکہ کفار کو مالی نقصان پہنچے۔

مسلمانوں کی روانگی اور قریش کی تیاری
نبی اکرم ﷺ 313 مجاہدین کے ساتھ روانہ ہوئے، جن میں 70 مہاجرین اور باقی انصار تھے۔
ان کے پاس صرف 2 گھوڑے اور 70 اونٹ تھے، جنہیں باری باری سوار ہو کر استعمال کیا جا رہا تھا۔
دوسری طرف، جب ابو سفیان کو مسلمانوں کے عزائم کا علم ہوا، تو اس نے فوراً قریش کو مدد کے لیے پیغام بھیجا۔
قریش نے فوراً ایک ہزار کا لشکر تیار کیا، جس میں 100 گھوڑے اور 700 اونٹ شامل تھے، اور وہ بڑے غرور اور تکبر کے ساتھ بدر کی طرف روانہ ہوئے۔
ان کے ساتھ گانے والی عورتیں بھی تھیں، جو مسلمانوں کی ہجو (مزاحیہ اور طنزیہ اشعار) گانے کے لیے آئی تھیں۔
ابو سفیان کا قافلہ راستہ بدل کر بچ نکلا، مگر قریش نے جنگ کے بغیر واپس جانے سے انکار کر دیا۔
ابو جہل نے اعلان کیا:۔
۔ “ہم بدر پہنچیں گے، وہاں تین دن قیام کریں گے، خوب اونٹ ذبح کریں گے، شراب پییں گے اور ہماری طاقت کو دیکھ کر عرب کے قبائل ہم سے خوفزدہ رہیں گے!”۔

نبی اکرم ﷺ کا مشورہ لینا اور صحابہ کی وفاداری
جب نبی اکرم ﷺ کو معلوم ہوا کہ قریش جنگ پر آمادہ ہیں، تو آپ ﷺ نے صحابہ سے مشورہ طلب کیا۔
سب سے پہلے حضرت مقداد بن اسودؓ کھڑے ہوئے اور کہا:۔
۔ “یا رسول اللہ! ہم آپ سے وہ بات نہیں کہیں گے جو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی: (جاؤ، تم اور تمہارا رب لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں)۔
بلکہ ہم آپ کے ساتھ ہر طرف لڑیں گے، چاہے دائیں ہو، بائیں ہو، آگے ہو یا پیچھے!”۔
اس کے بعد حضرت سعد بن معاذؓ، جو مدینہ کے انصار کے سردار تھے، کھڑے ہوئے اور کہا:۔
۔ “یا رسول اللہ! شاید آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ ہم انصار مدینہ میں رہ کر آپ کی مدد کریں گے،۔
مگر میں انصار کی طرف سے یہ کہتا ہوں کہ آپ جہاں چاہیں جائیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں،
آپ جس سے چاہیں تعلق جوڑیں یا توڑیں،۔
ہمارے مال میں سے جتنا چاہیں لے لیں، جو آپ لے لیں وہ ہمیں زیادہ محبوب ہوگا!
اگر آپ ہمیں سمندر میں لے کر جائیں تو ہم آپ کے ساتھ اس میں بھی کود پڑیں گے!”۔
یہ سن کر نبی اکرم ﷺ بہت خوش ہوئے اور فرمایا:۔
۔ “چلو، خوش ہو جاؤ! میں اللہ کی مدد کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں!”۔

جنگ کی تیاری اور اللہ کی نصرت
نبی اکرم ﷺ اور صحابہ بدر کے چشمے کے قریب پہنچے، تاکہ پانی تک رسائی مسلمانوں کے پاس ہو۔
رات کے وقت اللہ نے بارش نازل فرمائی:۔
مسلمانوں کے لیے یہ رحمت تھی، کیونکہ زمین نرم ہو گئی اور ان کے قدم مضبوط ہو گئے۔ کفار کے لیے یہ آزمائش تھی، کیونکہ زمین کیچڑ بن گئی اور ان کے لیے چلنا مشکل ہو گیا۔
مسلمانوں کے لیے ایک جنگی خیمہ بنایا گیا، جہاں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت سعدؓ پہرہ دے رہے تھے۔
نبی اکرم ﷺ نے دعا مانگی:۔
۔ “اے اللہ! اگر آج یہ مٹھی بھر جماعت ہلاک ہو گئی، تو روئے زمین پر کوئی تیری عبادت کرنے والا باقی نہیں رہے گا!”۔
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی دعا قبول فرمائی اور فرشتوں کو نازل کیا: “میں تمہارے ساتھ ہوں، تم اہلِ ایمان کے دل مضبوط کرو، میں کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا، پس ان کی گردنوں پر ضربیں مارو!” (الانفال: 12-14)۔

جنگ کا آغاز اور مسلمانوں کی فتح:۔
سب سے پہلے قریش کے تین سردار (عتبہ، شیبہ، ولید بن عتبہ) میدان میں آئے، جنہیں حضرت علیؓ، حضرت حمزہؓ اور حضرت عبیدہؓ نے قتل کیا۔
پھر جنگ زور پکڑ گئی، اور نبی اکرم ﷺ نے ایک مٹھی بھر مٹی کفار پر پھینکی، جس سے ان کی آنکھیں بھر گئیں اور وہ بدحواس ہو گئے۔
نتیجہ:۔
۔ 70 کفار مارے گئے، جن میں ابو جہل بھی شامل تھا۔
۔ 70 قیدی بنائے گئے، جنہیں بعد میں فدیہ لے کر یا احسان کر کے چھوڑ دیا گیا۔

غزوۂ بدر سے سیکھنے والے اسباق
۔📌 اللہ کی مدد ہمیشہ حق کے ساتھ ہوتی ہے، چاہے تعداد کم ہو۔
۔📌 تکبر اور غرور کی کوئی حیثیت نہیں، ابو جہل کا انجام سب کے سامنے ہے۔
۔📌 دعا اور توکل کے ساتھ مکمل تیاری بھی ضروری ہے۔
۔📌 اللہ کی راہ میں لڑنے والے کبھی نقصان میں نہیں رہتے۔
۔📌 اے اللہ! ہمیں اسلام کی خدمت کے لیے چن لے، اور ہمارے دشمنوں پر ہمیں غالب فرما!
۔📌 اے اللہ! ہمیں حق کے ساتھ کھڑا ہونے کی توفیق دے، اور ہمیں دین کا مددگار بنا! آمین!۔

Mian Muhammad Shahid Sharif

Accounting & Finance, Blogging, Coder & Developer, Graphic Designer, Administration & Management, Stores & Warehouse Management, an IT Professional.

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی