🌴⑤🛡️مرادِ رسولِ کریم ﷺ، خلیفہ دوم، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ🕌⑤⚔️
مرادِ رسولِ کریم ﷺ,تاریخی واقعات,خلیفہ دوم,حضرت عمر فاروق,علامہ شبلی نعمانیؒ,
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
✍🏻 شمس العلماء علامہ شبلی نعمانی ؒ
الکمونیا ڈاٹ کام ─╤╦︻ ترتیب و پیشکش ︻╦╤─ آئی ٹی درسگاہ
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*ٍ
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اپنی بیویوں کو طلاق دینا
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*ٍ
اس زمانے تک کافرہ عورتوں کو عقد نکاح میں رکھنا جائز تھا۔ لیکن جب یہ آیت نازل ہوئی ” ولا تمسکو ھن بعصم الکوافر” تو یہ امر ممنوع ہو گیا۔ اس بناء پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی دونوں بیویوں کو جو کافرہ تھیں طلاق دے دی۔ ان میں سے ایک کا نام قریبہ اور دوسری کا ام کلثوم بنت جرول تھا۔ ان دونوں کو طلاق دینے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جمیلہ سے جو ثابت بن ابی الا جلح کی بیٹی تھیں نکاح کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرزند عاصم انہی کے بطن سے تھے۔ (طبری واقعات 6ھ)۔ اسی سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سلاطین اور والیان ممالک کے نام دعوت اسلام کے خطوط بھیجے۔
جنگ خیبر 7 ہجری (639 عیسوی)
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*ٍ
77 ہجری میں خیبر کا مشہور معرکہ پیش آیا۔ اوپر تم پڑھ آئے ہو کہ قبیلہ بنو نضیر کے یہودی جو مدینہ منورہ سے نکالے گئے تھے خیبر میں جا کر آباد ہوئے۔ انہی میں سے سلام و کنانہ وغیرہ نے 5 ہجری میں قریش کو جا کر بھڑکایا۔ اور ان کو مدینہ پر چڑھا لائے۔ اس تدبیر میں اگرچہ ان کو ناکامی ہوئی۔ لیکن انتقام کے خیال سے وہ باز نہ آئے۔ اور اس کی تدبیریں کرتے رہتے تھے۔ چنانچہ 6 ہجری میں قبیلہ بنو سعد نے ان کی اعانت پر آمادگی ظاہر کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو خبر معلوم ہوئی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجا۔ بنو سعد بھاگ گئے۔ اور پانچ سو اونٹ غنیمت میں ہاتھ آئے۔ (مواہب لگنیہ وزر قانی زکر سریہ)۔ پھر قبیلہ عظفان کو آمادہ کیا، چنانچہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم خیبر کی طرف بڑھے تو سب سے پہلے اسی قبیلہ نے سد راہ ہونا چاہا۔ ان حالات کے لحاظ سے ضروری تھا کہ یہودیوں کا زور توڑ دیا جائے ورنہ مسلمان ان کے خطرے سے مطمئن نہیں ہو سکتے تھے۔
غرض 77 ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے چودہ سو پیدل اور دو سو سواروں کے ساتھ خیبر کا رخ کیا۔ خیبر میں یہودیوں نے بڑے مضبوط قلعے بنا لئے تھے۔ مثلاً حصن ناعم، حصن قموص، حصن صعب و طیح اور سلالم، یہ سب قلعے جلد از جلد فتح ہو گئے۔ لیخ وطیح و سلالم جن پر عرب کا مشہور بہادر مرحب قابض تھا۔ آسانی سے فتح نہیں ہو سکتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سپہ سالار بنا کر بھیجا۔ لیکن وہ ناکام آئے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مامور ہوئے ہوئے۔ وہ برابر دو دن جا کر لڑے۔ لیکن دونوں دن ناکام رہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ کل میں ایسے شخص کو علم دوں گا جو حملہ آور ہو گا۔ اگلے دن تمام اکابر صحابہ علم نبوی کی امید میں بڑے سر و سامان سے ہتھیار سجا سجا کر آئے۔ ان میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے اور ان کا خود بیان ہے کہ میں نے کبھی اس موقع کے سوا علم بر داری اور افسری کی آرزو نہیں کی، لیکن قضا و قدر نے یہ فخر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے اٹھا رکھا تھا۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی کی طرف توجہ نہیں کی۔ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا کرعلم ان کو عنایت کیا۔ مرحب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ سے مارا گیا اور اس کے قتل پر اس معرکہ کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ خیبر کی زمین آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے مجاہدوں کو تقسیم کر دی۔ چنانچہ ایک ٹکڑا جس کا نام شمع تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حصے میں آیا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو خدا کی راہ میں وقف کر دیا۔ چنانچہ صحیح مسلم باب الوقف میں یہ قصہ بہ تفصیل مذکور ہے۔ اور اسلام کی تاریخ میں یہ پہلا وقف تھا جو عمل میں آیا۔
اسی سال آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو 30 آدمیوں کے ساتھ قبیلہ ہوازن کے مقابلے کو بھیجا۔ ان لوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آمد سنی تو بھاگ نکلے اور کوئی معرکہ پیش نہیں آیا۔
88 ہجری میں مکہ فتح ہوا، اس کی ابتداء یوں ہوئی کہ حدیبیہ میں جو صلح قرار پائی تھی اس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ قبائل عرب میں جو چاہے قریش کا ساتھ دے اور جو چاہے اسلام کے سایہ امن میں آئے۔ چنانچہ قبیلہ خزاعہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور خاندان بنوبکر نے قریش کا ساتھ دیا۔ ان دونوں قبیلوں میں مدت سے ان بن تھی۔ اور بہت سے معرکے ہو چکے تھے۔ لڑائی کہ سلسلہ جاری تھا کہ حدیبیہ کی صلح وقوع میں آئی اور شرائط معاہدہ کی رو سے دونوں قبیلے لڑائی سے دست بردار ہو گئے۔ لیکن چند روز بعد بنوبکر نے نقض عہد کیا۔ اور قریش نے ان کی اعانت کی۔ یہاں تک کہ خزاعہ نے حرم میں جا کر پناہ لی۔ تب بھی ان کو پناہ نہ ملی۔ خزاعہ نے جا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے اس۔ ۔ ۔ ۔ کیا۔ ابو سفیان کو یہ خبر معلوم ہوئی تو پیش بندی کے لیے مدینہ منورہ پہنچا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر قریش کی طرف سے تجدید صلح کی درخواست کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے کچھ جواب نہ دیا تو اٹھ کر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور پھر حضر ت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیا کہ آپ اس معاملے کو طے کر دیجیئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سختی سے جواب دیا کہ وہ بالکل ناامید ہو گیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ کی تیاریاں شروع کیں۔ اور رمضان 8 ہجری میں 10 ہزار فوج کے ساتھ مدینہ سے نکلے۔ مقام۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نزول اجلال ہوا۔ تو حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے خچر پر سوار ہو کر مکہ کی طرف چلے۔ ادھر سے ابو سفیان آ رہا تھا۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے کہا۔ آ میں تجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے امن دلا دوں ورنہ آج تیری خیر نہیں۔ ابو سفیان نے غنیمت سمجھا اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہو لیا۔ راہ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سامنا ہوا۔ ابو سفیان کو ساتھ دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خیال کیا کہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی سفارش کے لیے جا رہے ہیں۔ بڑی تیزی سے بڑھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ مدتوں کے بعد اس دشمن اسلام پر قابو ملا ہے۔ اجازت دیجیئے کہ اس کی گردن مار دوں۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ” عمر ابو سفیان اگر عبد مناف کے خاندان سے نہ ہوتا اور تمہارے قبیلہ کا آدمی ہوتا تو تم اس کی جان کے خواہاں نہ ہوتے۔ ” حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔ ” خدا کی قسم میرا باپ خطاب اسلام لاتا تو مجھ کو اتنی خوشی نہ ہوتی جتنی اس وقت ہوئی تھی۔ جب آپ اسلام لائے تھے۔ ” آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سفارش قبول کی۔ اور ابو سفیان کو امن دیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم بڑے جاہ و جلال سے مکہ میں داخل ہوئے اور درِ کعبہ پر کھڑے ہو کر نہایت فصیح و بلیغ خطبہ پڑھا۔ جو بعید تاریخوں میں منقول ہے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ساتھ لے کر مقام صفا پر لوگوں سے بیعت لینے کے لئے تشریف فرما ہوئے۔ لوگ جوق در جوق آتے تھے اور بیعت کرتے جاتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے قریب لیکن کس قدر نیچے بیٹھے تھے۔ جب عورتوں کی باری آئی تو چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم بیگانہ عورت کے ہاتھ کو مس نہیں کرتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ارشاد فرمایا کہ تم ان سے بیعت لو، چنانچہ عورتوں نے انہی کے ہاتھ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے بیعت کی۔
غزوۂ حنین
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*ٍ
اسی سال ہوازن کی لڑائی پیش آئی جو (حنین، عرفات کے پیچھے ایک وادی کا نام ہے جو مکہ معظمہ سے نو دس میل ہے ) غزوہ حنین کے نام سے مشہور ہے۔ ہوازن عرب کا مشہور اور معزز قبیلہ تھا۔ یہ لوگ ابتداء سے اسلام کی ترقی کو رقابت کی نگاہ سے دیکھتے آئے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم جب فتح مکہ کے ارادہ سے مدینہ سے نکلے تو ان لوگوں کو گمان ہوا کہ ہم پر حملہ کرنا مقصود ہے۔ چنانچہ اسی وقت جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں۔ اور جب یہ معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم مکہ پہنچے تو مکہ پر حملہ کے لیے بڑے ساز و سامان سے روانہ ہو کر حنین میں ڈیرے ڈالے (تاریخ طبری)۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ خبر سنی تو بارہ ہزار کی جمعیت کے ساتھ مکہ معظمہ سے روانہ ہوئے۔ حنین میں دونوں فوجیں صف آراء ہوئیں۔ مسلمانوں نے پہلے حملہ میں ہوازن کو (صحیح مسلم غزوہ حنین) بھگا دیا۔ لیکن مال غنیمت کے لوٹنے میں مصروف ہوئے تو ہوازن نے حملہ کیا۔ اور اس قدر تیر برسائے کہ مسلمانوں میں ہلچل مچ گئی۔ اور بارہ ہزار آدمیوں سے معدودے چند کے سوا باقی سب بھاگ نکلے۔ اس معرکہ میں جو صحابہ ثابت قدم رہے ان کا نام خصوصیت کے ساتھ لیا گیا ہے۔ اور ان میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل ہیں۔ چنانچہ علامہ طبری نے صاف تصریح کی ہے۔ محمد بن اسحاق نے جو امام بخاری کے شیوخ حدیث میں داخل ہیں اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کے امام مانے جاتے ہیں۔ کتاب السغازی میں لکھا ہے کہ ” وبا و پیغمبر چند تن از مہاجرین و انصار و اہل بیعت بازماند۔ ۔ ۔ وند مثل ابو بکر و علی و عمر و عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم (ابن اسحاق کی اصل کتاب میں نے دیکھی، لیکن اس کا ایک نہایت قدیم ترجمہ فارسی زبان میں میری نظر سے گزرا ہے اور عبارت منقولہ اسی سے ماخوذ ہے۔ یہ ترجمہ 662 عیسوی میں سعدان زندگی کی حکم سے کیا گیا تھا۔ اور بس ایک نہایت قدیم نسخہ الہ آباد کے کتب خانہ عام میں موجود ہے ) تھے۔ لڑائی کی صورت۔ ۔ ۔ ۔ کر پھر بن گئی۔ یعنی مسلمانوں کو فتح ہوئی۔ اور ہوازن کے چھ ہزار آدمی گرفتار ہوئے۔
99 ہجری میں خبر مشہور ہوئی کہ قیصر روم عرب پر حملہ کی تیاریاں کر رہا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ سن کر صحابہ کو تیاری کا حکم دیا اور چونکہ یہ نہایت تنگی اور عسرت کا زمانہ تھا، اس لئے لوگوں کو زر و مال سے اعانت کی ترغیب دلائی۔ چنانچہ اکثر صحابہ نے بڑی بڑی رقمیں پیش کیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس موقعہ پر تمام مال و اسباب میں سے لا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں پیش کیا (ترمذی و ابو داؤد میں واقعہ فضائل ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تحت میں منقول ہے۔ لیکن غزوہ کی تعیین نہیں ہے )۔ غرض اسلحہ اور رسد کا سامان مہیا کیا گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ سے روانہ ہوئے۔ لیکن مقام تبوک میں پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ خبر غلط تھی۔ اسی لیے چند روز قیام فرما کر واپس آئے۔
اسی سال آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ازواج مطہرات سے ناراض ہو کر ان سے علیحدگی اختیار کی۔ اور چونکہ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے طرز عمل سے یہ خیال ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ازواج کو طلاق دے دی اس لئے تمام صحابہ کو نہایت رنج و افسوس تھا۔ تاہم کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں کچھ کہنے سننے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ نے حاضر ہونا چاہا۔ لیکن بار بار اذن مانگنے پر بھی اجازت نہ ملی۔ آخر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پکار کر دربان سے کہا کہ ” شاید رسول اللہ کو یہ گمان ہے کہ میں حفصہ (حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ مطہرہ) کی سفارش کے لئے آیا ہوں۔ خدا کی قسم اگر رسول اللہ حکم دیں تو میں جا کر حفصہ کی گردن مار دوں۔ ” آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فوراً بلایا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی کہ ” کیا آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ازواج کو طلاق دے دی؟” آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ” نہیں ” حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ تمام مسلمان مسجد میں سوگوار بیٹھے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اجازت دیں تو انہیں یہ مژدہ سنا آؤں۔ اس واقعہ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تقرب کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہی واقعات کے سلسلے میں ایک موقع پر کہا کہ ” عمر! تم ہر چیز میں دخیل ہو گئے۔ یہاں تک کہ اب ازواج کے معاملہ میں بھی دخل دینا چاہتے ہو۔ “
10 ہجری (6366 عیسوی) میں اطراف عرب سے نہایت کثرت سے سفارتیں آئیں۔ اور ہزاروں لاکھوں آدمی اسلام کے حلقے میں آئے۔ اسی سال آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے حج کے لئے مکہ معظمہ کا قصد کیا اور یہ حج آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری حج تھا۔ 11 ہجری (623 عیسوی) (یہ سن غلط ہے یا پھر اوپر دیا ہوا سن غلط ہے ) ماہ صفر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے رومیوں کے مقابلے کے لیے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مامور کیا۔ اور تمام اکابر صحابہ کو حکم دیا کہ ان کے ساتھ جائیں۔ لوگ تیار ہو چکے تھے کہ آخیر صفر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم بیمار ہو گئے اور تجویز ملتوی ہو رہ گئی۔
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*ٍ
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم بہ روایتِ مشہور 133 دن بیمار رہے۔ بہقی نے بہ سند صحیح ان کی تعداد دس دن بیان کی ہے۔ سلیمان تمیمی نے بھی مغازی میں یہی تعداد لکھی ہے (فتح الباری، جلد 5، )۔ بیماری کی حالت یکساں نہ تھی۔ کبھی بخار کی شدت ہو جاتی تھی اور کبھی اس قدر افاقہ ہو جاتا تھا کہ مسجد میں جا کر نماز ادا فرماتے تھے ، یہاں تک عین وفات کے دن نماز فجر کے وقت طبیعت اس قدر بحال تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم دروازے تک آئے اور پردہ اٹھا کر لوگوں کو نماز پڑھتے دیکھا، نہایت محظوظ ہوئے اور تبسم فرمایا۔
قرطاس کا واقعہ
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*ٍ
بیماری کا بڑا مشہور واقعہ قرطاس کا واقعہ ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے وفات سے تین روز پہلے قلم اور دوات طلب کیا۔ اور فرمایا کہ ” میں تمہارے لئے ایسی چیز لکھوں گا کہ تم آئندہ گمراہ نہ ہو گے۔ ” اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو درد کی شدت ہے اور ہمارے لئے قرآن کافی ہے۔ حاضرین میں سے بعضوں نے کہا کہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بہکی باتیں کر رہے ہیں۔ ” (نعوذ باللہ) روایت میں ہجر کا لفظ ہے جس کے معنی ہذیان کے ہیں۔
یہ واقعہ بظاہر تعجب انگیز ہے۔ ایک معترض کہہ سکتا ہے کہ اس سے گستاخی اور سرکشی ہو گی کہ جناب رسول صلی اللہ علیہ و سلم بستر مرگ پر ہیں اور امت کے درد و غمخواری کے لحاظ سے فرماتے ہیں کہ ” لاؤ میں ایک ہدایت نامہ لکھ دوں جو تم کو گمراہی سے محفوظ رکھے۔ یہ ظاہر ہے کہ گمراہی سے بچانے کے لیے جو ہدایت ہو گی وہ منصب نبوت کے لحاظ سے ہو گی۔ اور اس لئے اس میں سہو و خطا کا احتمال نہیں ہو سکتا۔ باوجود اس کے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے پروائی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کچھ ضرورت نہیں ہم کو قرآن کافی ہے۔ طرہ یہ کہ بعض روایتوں میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے اس ارشاد کو ہذیان سے تعبیر کیا تھا۔ (نعوذ باللہ)۔
یہ اعتراض ایک مدت سے چلا آتا ہے۔ اور مسلمانوں کے دو مختلف گروہوں نے اس پر بڑی طبع آزمائیاں کی ہیں۔ لیکن چونکہ اس بحث میں غیر متعلق باتیں چھڑ گئیں۔ اور اصول درایت سے کسی نے کام نہیں لیا۔ اس لئے مسئلہ نا منفصل رہا اور عجیب عجیب بیکار بحثیں پیدا ہو گئیں۔ یہاں تک کہ یہ مسئلہ چھڑ گیا کہ پیغمبر سے ہذیان ہونا ممکن ہے۔ کیونکہ ہذیان انسانی عوارض میں ہے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم عوارض انسانی سے بری نہ تھے۔
یہاں دراصل یہ امر غور طلب ہے کہ جو واقعہ جس طریقے سے روایتوں میں منقول ہے اس سے کسی امر پر اسثناد ہو سکتا ہے یا نہیں؟ اس بحث کے لیے پہلے واقعات ذیل کو پیش نظر رکھنا چاہیے :
(۱) آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کم و بیش 13 دن تک بیمار رہے۔
(۲۲) کاغذ و قلم دوات طلب کرنے کا واقعہ جمعرات کے دن کا ہے جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم میں بہ تصریح مذکور ہے۔ اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے دو شنبہ کے دن انتقال فرمایا۔ اس لئے اس واقعہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم چار دن تک زندہ رہے۔
(۳۳) اس تمام مدت بیماری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی نسبت اور کوئی واقعہ اختلال حواس کا کسی روایت میں کہیں مذکور نہیں۔
(۴۴) اس واقعہ کے وقت کثرت سے صحابہ موجود تھے۔ لیکن یہ حدیث باوجود اس کے بہت سے طریقوں سے مروی ہے۔ (چنانچہ صرف صحیح بخاری میں سات طریقوں سے مذکور ہے۔ ) باایں ہمہ بجز عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اور کسی صحابی سے اس واقعہ کے متعلق ایک حرف بھی منقول نہیں۔
(۵) عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر اس وقت صرف 13 – 14 برس کی تھی۔
(۶۶) اس سے بڑھ کر یہ کہ جس وقت کا یہ واقعہ ہے۔ اس موقع پر عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود موجود نہ تھے۔ اور یہ معلوم نہیں کہ یہ واقعہ انہوں نے کس سے سنا۔ (بخاری باب کفایہ العلم میں جو حدیث مذکور ہے اس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ واقعہ میں موجود تھے۔ اس لئے محدثین نے اس پر بحث کی ہے اور بہ دلائل قطعیہ ثابت کیا ہے موجود نہ تھے۔ دیکھو فتح الباری باب کفایہ العلم)۔
(۷۷) تمام روایتوں میں مذکور ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے کاغذ قلم مانگا تو لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بہکی ہوئی باتیں کر رہے ہیں۔ (علامہ قرطینی نے یہ تاویل کی ہے اور اس پر ان کو ناز ہے کہ ” لوگوں نے یہ لفظ استعجاب کے طور پر کہا تھا۔ یعنی یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم کی تعمیل کرنی چاہیے۔ خدانخواستہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا قول ہذیان تو نہیں کہ اس کا لحاظ نہ کیا جاوے۔ یہ تاویل دل کو لگتی ہوئی ہے۔ لیکن بخاری و مسلم کی بعض روایتوں میں ایسے الفاظ ہیں جن میں تاویل کا احتمال نہیں۔ مثلاً ھجر ھجر (دو دفعہ) با ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ھجر (صحیح مسلم)۔
اب سب سے پہلے یہ امر لحاظ کے قابل ہے کہ جب اور کوئی واقعہ یا قرینہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے اختلال حواس کا کہیں کسی روایت میں مذکور نہیں تو صرف اس قدر کہنے سے کہ ” قلم دوات لاؤ” لوگوں کو ہذیان کا کیونکر خیال پیدا ہو سکتا ہے ؟ فرض کر لو کہ انبیاء سے ہذیان سرزد ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ معمولی بات بھی کہیں تو ہذیان سمجھی جائے۔ ایک پیغمبر کا وفات کے قریب یہ کہنا کہ قلم دوات لاؤ میں ایسی چیزیں لکھ دوں کہ تم آئندہ گمراہ نہ ہو اس میں ہذیان کی کیا بات ہے۔ (ہمارے نکتہ سنجوں نے یہ مضمون آفرینی کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم لکھنا نہیں جانتے تھے اس لئے آپ کا یہ فرمانا کہ میں لکھ دوں ہذیان کا قرینہ تھا۔ لیکن اس لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ لکھنے کے معنی لکھوانے کے بھی آتے ہیں۔ اور یہ مجاز عموماً شائع و ذرائع ہے۔ ) یہ روایت اگر خواہ مخواہ صحیح سمجھی جائے تب بھی اس قدر سیر حال تسلیم کرنا ہو گا کہ راوی نے روایت میں وہ واقعات چھوڑ دیئے ہیں جن سے لوگوں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم ہوش میں نہیں ہیں۔ اور مدہوشی کی حالت میں قلم دوات طلب فرما رہے ہیں۔ پس ایسی روایت سے جس میں راوی نے واقعہ کی نہایت ضروری خصوصیتیں چھوڑ دیں۔ کسی واقعہ پر کیونکر استدلال ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ جب ان امور کا لحاظ کیا جائے کہ اتنے بڑے عظیم الشان واقعہ میں تمام صحابہ میں سے صرف حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے راوی ہیں اور یہ کہ ان کی عمر اس وقت 13-14 برس کی تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ واقعہ کے وقت موجود نہ تھے۔ تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس روایت کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے۔ ممکن ہے کہ کسی کوتاہ نظر پر یہ امر گراں گزرے کہ بخاری اور مسلم کی حدیث پر شبہ کیا جائے لیکن اس کو سمجھنا چاہیے کہ بخاری اور مسلم کے کسی راوی کی نسبت یہ شبہ کرنا کہ وہ واقعہ کی پوری ہیئت محفوظ نہ رکھ سکا، اس سے کہیں زیادہ آسانی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی نسبت ہذیان اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسبت گستاخی کا الزام لگایا جائے۔
غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اس واقعہ کے بعد چار دن زندہ رہے۔ اور اس اثناء میں وقتاً فوقتاً بہت سی ہدادیتیں اور وصیتیں فرمائیں۔ عین وفات کے دن آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی حالت اس قدر سنبھل گئی تھی کہ لوگوں کو بالکل صحت کا گمان ہو گیا تھا۔ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی خیال سے اپنے کو جو مدینہ منورہ سے دو میل پر تھا واپس چلے گئے (طبری -14)۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وفات کے وقت تک موجود رہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے 12 ربیع الاول 11 ہجری دو شنبہ کے دن دوپہر کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں انتقال فرمایا۔ سہ شنبہ کو دوپہر ڈھلنے پر مدفون ہوئے۔ جماعت اسلام کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے جو صدمہ ہوا اس کا اندازہ کون کر سکتا ہے ؟ عام روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس قدر خود رفتہ ہوئے کہ مسجد نبوی میں جا کر اعلان کیا کہ ” جو شخص یہ کہے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے وفات پائی اس کو قتل کر دوں گا” لیکن قرائن اس روایت کی تصدیق نہیں کرتے۔ ہمارے نزدیک چونکہ مدینے میں کثرت سے منافقین کا گروہ موجود تھا۔ جو فتنہ پردازی کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کا منتظر تھا اس لئے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مصلحتاً اس خبر کو پھیلنے سے روکا ہو گا۔ اسی واقعہ نے روایتوں کے تغیرات سے مختلف صورت اختیار کر لی ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ صحیح بخاری وغیرہ میں اس قسم کی تصریحات موجود ہیں جو ہمارے اس قیاس کے مطابق نہیں ہو سکتیں۔
سقیفہ بنی ساعدہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا استخلاف
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*ٍ
یہ واقعہ بظاہر تعجب سے خالی نہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے انتقال فرمایا تو فوراً خلافت کی نزاع پیدا ہو گئی۔ اور اس بات کا بھی انتظار نہ کیا گیا کہ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی تجہیز و تکفین سے فراغت حاصل کی جائے۔ کس کے قیاس میں آ سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم انتقال فرمائیں اور جن لوگوں کو ان کے عشق و محبت کا دعویٰ ہو وہ ان کو بے گور و کفن چھوڑ کر چلے جائیں۔ اور اس بندوبست میں مصروف ہوں کہ مسند حکومت اوروں کے قبضہ میں نہ آ جائے۔
تعجب پر تعجب یہ ہے کہ یہ فعل ان لوگوں (حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم) سے سرزد ہوا جو آسمان اسلام کے مہروماہ تسلیم کئے جاتے ہیں،اس فعل کی ناگواری اس وقت اور زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔ جب یہ دیکھا جاتا ہے کہ جن لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے فطری تعلق تھا، یعنی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ و خاندان بنی ہاشم ان پر فطری تعلق کا پورا پورا اثر ہوا اور اس وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے درد غم اور تجہیز و تکفین سے ان باتوں کی طرف سے متوجہ ہونے کی فرصت نہ ملی۔
ہم اس کو تسلیم کرتے ہیں کہ کتب حدیث و سیر سے بظاہر اسی قسم کا خیال پیدا ہوتا ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ یہ سچ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ و ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تجہیز و تکفین چھوڑ کر سقیفہ بنی ساعدہ کو چلے گئے۔ یہ بھی سچ ہے کہ انہوں نے سقیفہ بنی ساعدہ میں پہنچ کر خلافت کے باب میں انصار سے معرکہ آرائی کی۔ اور اس طرح ان کوششوں میں مصروف رہے کہ گویا ان پر کوئی حادثہ پیش ہی نہیں آیا تھا۔ یہ بھی سچ ہے کہ انہوں نے اپنی خلافت کو نہ صرف انصار بلکہ بنو ہاشم اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بزور منوانا چاہا، گو بنو ہاشم نے آسانی سے ان کی خلافت تسلیم نہیں کی۔ لیکن اس بحث میں جو غور طلب باتیں ہیں وہ یہ ہیں :
(۱۱) کیا خلافت کا سوال حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ نے چھیڑا تھا؟
(۲) کیا یہ لوگ خود اپنی خواہش سے سقیفہ بنی ساعدہ میں گئے تھے ؟
(۳۳) کیا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بنو ہاشم خلافت کی فکر سے بالکل فارغ تھے ؟
(۴۴) ایسی حالت میں جو کچھ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ نے کیا، وہ کرنا چاہیے تھا یا نہیں؟
پہلی دو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کی نسبت ہم نہایت مستند کتاب ابو۔ ۔ ۔ ۔ کی عبارت نقل کرتے ہیں جس سے واقعہ کی کیفیت بخوبی سمجھ میں آ سکتی ہے۔
بینما لحن فی منزل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اذا رجل ینادی من وراء ال۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان اخرج الی یا ابن الخطاب فقلت الیک عنی فانا عنک مشاغیل یعنی بامر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فقال لہ قد حدث امر فان الانصار اجمعوا فی سقیفۃ بنی ساعدہ فادر کو ھم ان یحدثوا امر یکون فیہ حرب فقلت لابی بکر انفلقَ
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*ٍ
” حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے حلقہ مبارک میں بیٹھے تھے کہ دفعتاً دیوار کے پیچھے سے ایک آدمی نے آواز دی کہ ابن الخطاب (حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ذرا باہر آؤ۔ میں نے کہا چلو ہٹو ہم لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بندوبست میں مشغول ہیں۔ اس نے کہا کہ ایک حادثہ پیش آیا ہے۔ یعنی انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں اکٹھے ہوئے ہیں۔ اس لئے جلد پہنچ کر ان کی خبر لو۔ ایسا نہ ہو کہ انصار کچھ ایسی باتیں کر اٹھیں جس سے لڑائی چھڑ جائے۔ اس وقت میں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ چلو۔ “
اس سے ظاہر ہو گیا کہ نہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ نے خلافت کی بحث کو چھڑا تھا نہ اپنی خواہش سے سقیفہ بنی ساعدہ کو جانا چاہتے تھے۔
تیسری بحث کی کیفیت یہ ہے کہ اس وقت جماعت اسلامی تین گروہوں میں تقسیم کی جا سکتی تھی (۱) بنو ہاشم جس میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ شامل تھے ، (۲) مہاجرین کے رئیس و افسر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ تھے۔ (۳) انصار جن کے شیخ القبیلہ سعد بن عبادہ تھے۔ ان تینوں میں سے ایک گروہ بھی خلافت کے خیال سے خالی نہ تھا۔ انصار نے اپنا ارادہ ظاہر کر دیا تھا۔ بنو ہاشم کے خیالات ذیل کی روایت سے معلوم ہوں گے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے وفات کے دن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکان سے باہر نکلے۔ لوگوں نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا مزاج کیسا ہے ، چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی ظاہری حالت بالکل سنبھل گئی تھی، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ خدا کے فضل و کرم سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم اچھے ہو گئے۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ خدا کی قسم تم تین دن کے بعد غلامی کرو گے۔ میں آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم عنقریب اس مرض میں وفات پائیں گے۔ کیونکہ مجھ کو اس کا تجربہ ہے کہ خاندان عبد المطلب کا چہرہ موت کے قریب کس طرح متغیر ہو جاتا ہے۔ آؤ چلو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھ لیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد منصب (خلافت) کس کو حاصل ہو گا۔ اگر ہم اس کے مستحق ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے لیے وصیت فرما دیں گے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ نے عنہ نے کہا۔ ” میں نہ پوچھوں گا کیونکہ اگر پوچھنے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے انکار کیا تو پھر آئندہ کوئی امید نہ رہے گی (صحیح بخاری باب مرض النبی فتح الباری)۔
اس روایت سے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خیال تو صاف معلوم ہوتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کا اس وقت تک یقین نہ تھا اس لئے انہوں نے کوئی تحریک کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ اس کے علاوہ اپنے انتخاب کئے جانے پر بھروسہ نہ تھا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں ایک مجمع ہوا تھا جس میں تمام بنو ہاشم اور ان کے اتباع شریک تھے۔ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پیشرو تھے۔ صحیح بخاری میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبانی روایت ہے (صحیح بخاری کتاب الحدود باب رحم الحبلی)
” کان من خبرنا حین توفی اللہ لیہ ان الانصار خللونا واجتمعوا باسر ھم فی سقیفنۃ بی ساعدہ و خائف عنا علی وائریر ومن معھما واجتمع المھاجرون الی ابی بکر۔ “
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*ٍ
ہماری سرگزشت یہ ہے کہ جب خدا نے اپنے پیغمبر کو اٹھا لیا تو انصار نے قابطہ ہماری مخالف کی اور سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے اور علی اور زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور ان کے ساتھیوں نے بھی مخالفت کی۔ اور مہاجرین ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جمع ہوئے۔ “
یہ تقریر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک بہت بڑے مجمع میں کی تھی جس میں سینکڑوں صحابہ موجود تھے اس لیے اس بات کا گمان نہیں ہو سکتا کہ انہوں نے کوئی امر خلاف واقع کہا ہو، ورنہ یہ لوگ ان کو وہیں ٹوکتے۔ امام مالک رحمۃ اللہ کی روایت میں یہ واقعہ اور صاف ہو گیا ہے۔ اس کے یہ الفاظ ہیں :
و ان علیا والزبیر و من کان معھما تخلفوا فی بیت فاطمہ بنت رسول اللہ (فتح الباری شرح حدیث مذکور)
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*ٍ
” اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور لوگ ان کے ساتھ تھے وہ حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں ہم سے الگ ہو کر جمع ہوئے۔ “
تاریخ طبری میں ہے :
و تخلف علی والزبیر واخترط الزبیر سیفہ و قال لا اعمدہ حتی یبابع علی۔ (تاریخ طبری )۔
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*ٍ
” اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے علیحدگی اختیار کی، اور زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تلوار میان سے کھینچ لی اور کہا جب تک علی کے ہاتھ پر بیعت نہ کی جائے میں تلوار میان میں نہ ڈالوں گا۔ “
ان تمام روایتوں سے صاف یہ نتائج نکلتے ہیں کہ :
(۱۱) آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے ساتھ ہی خلافت کے باب میں تین گروہ ہو گئے :
(۱) انصار (۲) مہاجرین (۳) بنو ہاشم
(۲۲) مہاجرین حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اور بنو ہاشم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے۔
(۳۳) جس طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ آنحضرت صلی اللہ کو چھوڑ کر سقیفہ کو چلے گئے تھے ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس سے چلے آئےتھے ، اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں بنو ہاشم کا مجمع ہوا تھا۔
سقیفہ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نہ جانا اس وجہ سے نہ تھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے غم و الم میں مصروف تھے ، اور ان کو ایسے پر درد موقع پر خلافت کا خیال نہیں آ سکا تھا۔ بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ سقیفہ میں مہاجرین اور انصار جمع تھے۔ اور ان دونوں گروہ میں سے کوئی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دعویٰ کی تائید نہ کرتا۔ کیونکہ مہاجرین حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پیشوا تسلیم کرتے تھے۔ اور انصار کے رئیس سعد بن عبادہ تھے۔
اخیر بحث یہ ہے کہ جو کچھ ہوا وہ بے جا تھا یا بجا؟ اس کو ہر شخص جو ذرا بھی اصول تمدن سے واقفیت رکھتا ہو باآسانی سمجھ سکتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے جس وقت وفات پائی، مدینہ منورہ منافقوں سے بھرا پڑا تھا جو مدت سے اس باتکے منتظر تھے کہ رسول اللہ کا سایہ اٹھ جائے تو اسلام کو پامال کر دیں۔ اس نازک وقت میں آیا یہ ضروری تھا کہ لوگ جزع اور گریہ زاری میں مصروف رہیں یا یہ کہ فوراً خلافت کا انتظام کر لیا جائے۔ اور ایک منطم حالت قائم ہو جائے۔ انصار نے اپنی طرف سے خلافت کی بحث چھیڑ کر حالت کو اور نازک کر دیا۔ کیونکہ قریش جو انصار کو اس قدر حقیر سمجھتے تھے کہ جنگ بدر میں جب انصار ان کے مقابلے کو نکلے تو عتبہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو مخاطب کر کے کہا کہ ” محمد! ہم نا جنسوں سے نہیں لڑ سکتے ” کسی طرح انصار کے آگے سر تسلیم خم نہیں کر سکتے تھے۔ قریش پر کیا موقوف ہے ، تمام عرب کو انصار کی متابعت سے انکار ہوتا، چنانچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سقیفہ میں جو خطبہ دیا اس میں صاف اس خیال کو ظاہر کیا اور کہا ” و ان العرب لا تعرف ھذا الا مرالا لھذا الحیی من قریش” اس کے علاوہ انصار میں خود گروہ تھے ، اوس اور خزرج اور ان میں باہم اتفاق نہ تھا۔ اس حالت میں ضروری تھا کہ انصار کے دعویٰ خلافت کو دبا دیا جائے ، اور کوئی لائق شخص فوراً انتخاب کر لیا جائے۔ مجمع میں جو لوگ موجود تھے ان میں سب سے با اثر بزرگ اور معمر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ اور فوراً ان کا انتخاب بھی ہو جاتا۔ لیکن لوگ انصار کی بحث و نزاع میں پھنس گئے تھے۔ اور بحث طول پکڑ گئی۔ قریب تھا کہ تلواریں میان سے نکل آئیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ رنگ دیکھ کر دفعتہً حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا کہ سب سے پہلے میں بیعت کرتا ہوں۔ ساتھ ہی حضرت عثمان، ابو عبیدہ بن جراح، عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہم نے بھی ہاتھ بڑھا دیئے (ابن المادردی نے الاحکام السلطانیہ میں لکھا ہے کہ اول صرف پانچ شخصوں نے بیعت کی تھی)۔ اور پھر عام خلقت ٹوٹ پڑی۔ اس کاروائی سے ایک اٹھتا ہوا طوفان رک گیا۔ اور لوگ مطمئن ہو کر کاروبار میں مشغول ہو گئے۔ صرف بنو ہاشم اپنے ادغا پر رکے رہے ، اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں وقتاً فوقتاً جمع ہو کر مشورے کرتے رہتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بزور ان سے بیعت لینی چاہی۔ لیکن بنو ہاشم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوا کسی کے آگے سر نہیں جھکا سکتے تھے۔ ابن ابی شیبہ نے ” مصنف ” میں اور علامہ طبری نے ” تاریخ کبیر ” میں یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر کہا ” یا بنت رسول اللہ خدا کی قسم آپ ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ تاہم اگر آپ کے یہاں لوگ اس طرح مجمع کرتے رہے تو میں ان لوگوں کی وجہ سے گھر میں آگ لگا دوں گا۔ ” اگرچہ سند کے اعتبار سے اس روایت پر ہم اپنا اعتبار ظاہر نہیں کر سکتے کیونکہ اس روایت کے رو۔ ۔ ۔ ۔ کا حال ہم کو معلوم نہیں ہو سکا۔ تاہم درایت کے اعتبار سے اس واقعہ کے انکار کی کوئی وجہ نہیں۔
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*