ⲯ🌹﹍︿🕌﹍︿﹍🕋 سورہ یوسف آیت نمبر 20 🕋﹍ⲯ﹍🌹ⲯ🌹﹍︿🕌﹍☼
بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ
وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ ۧ
ⲯ🌹﹍︿🕌﹍︿﹍🕋 لفظی ترجمہ 🕋﹍ⲯ﹍🌹ⲯ🌹﹍︿🕌﹍☼
وَشَرَوْهُ : اور انہوں نے اسے بیچ دیا بِثَمَنٍ : دام بَخْسٍ : کھوٹے دَرَاهِمَ : درہم مَعْدُوْدَةٍ : گنتی کے وَكَانُوْا : اور وہ تھے فِيْهِ : اس میں مِنَ : سے الزَّاهِدِيْنَ : بےرغبت، بےزار
ⲯ🌹﹍︿🕌﹍︿﹍🕋 ترجمہ 🕋﹍ⲯ﹍🌹ⲯ🌹﹍︿🕌﹍☼
شروع اللہ کے نام سے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے
اور (پھر) انہوں نے یوسف کو بہت کم قیمت میں بیچ دیا جو گنتی کے چند درہموں کی شکل میں تھی، اور ان کو یوسف سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ (12)
ⲯ🌹﹍︿🕌﹍︿﹍🕋 تفسیر 🕋﹍ⲯ﹍🌹ⲯ🌹﹍︿🕌﹍☼
12: قرآن کریم کے الفاظ سے تو بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ بیچنے والے قافلے ہی کے لوگ تھے، اور حضرت یوسف ؑ کو اپنے پاس رکھنے سے دلچسپی نہیں تھی بلکہ ان کو بیچ کر جو بھی قیمت ہاتھ آجائے وہ اسے غنیمت سمجھتے تھے، کیونکہ مفت حاصل ہو رہی تھی۔ اس لیے جب کوئی خریدار ملا، انہوں نے اسے تھوڑی سی قیمت پر ہی بیچ دیا۔ البتہ بعض روایات میں واقعے کی یہ تفصیل آئی ہے کہ حضرت یوسف ؑ کے بھائی انہیں کنویں میں ڈال تو گئے تھے۔ لیکن بڑا بھائی یہودا روزانہ ان کی خبر گیری کے لیے آتا تھا اور کچھ کھانا بھی انہیں پہنچا دیتا تھا۔ تیسرے دن جب انہیں کنویں میں نہ پایا تو تلاش کرنے سے وہ قافلے والے مل گئے۔ اس موقع پر دوسرے بھائی بھی آگئے اور انہوں نے قافلے والوں سے کہا کہ یہ ہمارا غلام ہے جو بھاگ گیا تھا۔ اور اگر تم چاہو تو ہم اسے تمہارے ہاتھ فروخت کرسکتے ہیں۔ چونکہ ان بھائیوں کا اصل مقصد تو یہ تھا کہ وہ ان کے والد کی سرزمین سے دور چلے جائیں۔ قیمت لینا اصل مقصد نہیں تھا۔ اس لیے انہوں نے حضرت یوسف ؑ کو قافلے والوں کے ہاتھ معمولی قیمت پر بیچ دیا۔ بائبل میں بھی یہ مذکور ہے کہ بیچنے والے ان کے بھائی ہی تھے اور انہوں نے قافلے کے ہاتھ حضرت یوسف ؑ کو فروخت کیا تھا۔