رمضان میں قیام اللیل (تراویح) کی فضیلت


 رمضان میں قیام اللیل (تراویح) کی فضیلت

قیام رمضان، بخشش کا ذریعہ:۔
رمضان المبارک میں قیام (تراویح) کرنا ایک عظیم عمل ہے، جس کے متعلق نبی کریم ﷺ نے فرمایا:۔
مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔
۔(صحیح البخاری)۔
مفہومی ترجمہ: جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام (تراویح) کیا، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔
امام ابوالولید الباجیؒ فرماتے ہیں:۔
۔”یہ حدیث قیامِ رمضان کی بڑی ترغیب دلاتی ہے، اور سب سے زیادہ ضروری ہے کہ اس عمل کی طرف سبقت کی جائے (کیونکہ اتنی بڑی فضیلت والا عمل ہے)، کیونکہ اس سے گناہوں کی مغفرت ہوتی ہے۔
مزید فرماتے ہیں:۔
۔”قیامِ رمضان کا حقیقی اجر وہی حاصل کرے گا، جو نبی کریم ﷺ کی ترغیب پر یقین رکھتے ہوئے اسے ادا کرے، اللہ کی رضا کے لیے کرے۔ نہ ریا کاری کی نیت ہو، نہ شہرت طلبی۔ کیونکہ ایسی نیت سے عمل خراب ہوجاتے ہیں”۔ (شرح الموطأ للباجی)۔

تراویح مکمل کرنے کی فضیلت:۔
نبی کریم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا:۔
إِنَّهُ مَنْ قَامَ مَعَ الإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ، كُتِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ۔
۔(سنن الترمذی)۔
مفہومی ترجمہ: جو شخص امام کے ساتھ (تراویح میں) قیام کرے، یہاں تک کہ وہ نماز مکمل کر لے، تو اس کے لیے پوری رات کے قیام کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔
اس حدیث میں اس بات کی ترغیب ہے کہ تراویح کو مکمل کرنا افضل ہے، اور اگر کوئی شخص امام کے ساتھ آخر تک نماز میں شامل رہے تو گویا اس نے ساری رات قیام کیا۔
خلاصہ یہ ہوا کہ رمضان میں تراویح پڑھنا گناہوں کی مغفرت اور اللہ کی رضا کا بہترین ذریعہ ہے۔ تراویح کو ایمان اور اخلاص کے ساتھ ادا کرنا چاہیے، نہ کہ دکھاوے یا رسمی طور پر۔ امام کے ساتھ نماز مکمل کرنا پوری رات کے قیام کے برابر ہے، اس لیے تراویح کو مکمل باجماعت ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اللهم اجعلنا من القائمين في رمضان، واغفر لنا ذنوبنا ببركة هذا الشهر الكريم!

Mian Muhammad Shahid Sharif

Accounting & Finance, Blogging, Coder & Developer, Graphic Designer, Administration & Management, Stores & Warehouse Management, an IT Professional.

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی