ⲯ🌹﹍︿🕌﹍︿﹍🕋 سورہ ہود آیت نمبر 49 🕋﹍ⲯ﹍🌹ⲯ🌹﹍︿🕌﹍☼
بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ
تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ ۧ
ⲯ🌹﹍︿🕌﹍︿﹍🕋 لفظی ترجمہ 🕋﹍ⲯ﹍🌹ⲯ🌹﹍︿🕌﹍☼
تِلْكَ : یہ مِنْ : سے اَنْۢبَآءِ الْغَيْبِ : غیب کی خبریں نُوْحِيْهَآ : ہم وحی کرتے ہیں اسے اِلَيْكَ : تمہاری طرف مَا : نہ كُنْتَ تَعْلَمُهَآ : تم ان کو جانتے تھے اَنْتَ : تم وَلَا : اور نہ قَوْمُكَ : تمہاری قوم مِنْ : سے قَبْلِ ھٰذَا : اس سے پہلے فَاصْبِرْ : پس صبر کریں اِنَّ : بیشک الْعَاقِبَةَ : اچھا انجام لِلْمُتَّقِيْنَ : پرہیزگاروں کے لیے
ⲯ🌹﹍︿🕌﹍︿﹍🕋 ترجمہ 🕋﹍ⲯ﹍🌹ⲯ🌹﹍︿🕌﹍☼
شروع اللہ کے نام سے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے
(اے پیغمبر) یہ غیب کی کچھ باتیں ہیں جو ہم تمہیں وحی کے ذریعے بتا رہے ہیں۔ یہ باتیں نہ تم اس سے پہلے جانتے تھے، نہ تمہاری قوم۔ لہذا صبر سے کام لو اور آخری انجام متقیوں ہی کے حق میں ہوگا۔ (28)
ⲯ🌹﹍︿🕌﹍︿﹍🕋 تفسیر 🕋﹍ⲯ﹍🌹ⲯ🌹﹍︿🕌﹍☼
28: حضرت نوح ؑ کا واقعہ بیان فرمانے کے بعد آنحضرت ﷺ کے بارے میں اس آیت نے دو حقیقتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ایک یہ کہ یہ واقعہ نہ صرف آپ کو بلکہ قریش اور عرب کے غیر اہل کتاب میں سے کسی کو پہلے معلوم نہیں تھا، اور آپ کے پاس اس کو اہل کتاب سے سیکھنے کا بھی کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ لہذا یہ بات واضح ہے کہ یہ واقعہ آنحضرت ﷺ کو وحی کے ذریعے معلوم ہوا ہے۔ اس سے آپ کی نبوت اور رسالت کی دلیل ملتی ہے۔ دوسرے آنحضرت ﷺ کو اپنی قوم کی طرف سے جس تکذیب اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اس واقعے کے ذریعے آپ کو اول تو صبر سے کام لینے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ اور دوسرے یہ تسلی دی گئی ہے کہ جس طرح حضرت نوح ؑ کو شروع میں سخت مشکلات پیش آئیں، مگر آخر انجام انہی کے حق میں ہوا اسی طرح آنحضرت ﷺ بالآخر ان لوگوں پر غالب آئیں گے۔