🌻 *ٹینکی، حوض اور تالاب کی پاکی ناپاکی کا حکم*
💧 پانی دو طرح کا ہوتا ہے: ٹھہرا پانی اور جاری پانی۔ پھر ٹھہرے پانی کی دو قسمیں ہیں:
1⃣ قلیل یعنی کم پانی۔
2⃣ کثیر یعنی زیادہ پانی۔
’’قلیل پانی‘‘ میں کوئی نجاست شامل ہوجائے تو وہ ناپاک ہوجاتا ہے، چاہے اس میں نجاست کا کوئی اثر یعنی رنگ، بو یا ذائقہ ظاہر ہو یا نہ ہو، جبکہ ’’کثیر پانی‘‘ میں اگر کوئی نجاست شامل جائے تو محض نجاست کے گرجانے سے وہ پانی ناپاک نہیں ہوتا، بلکہ ناپاک اس وقت ہوگا جب اس میں اس نجاست کا کوئی اثر یعنی رنگ، بو یا ذائقہ ظاہر ہوجائے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، درر الحکام، احسن الفتاوی، فتاوٰی عثمانی)
💧 *قلیل اور کثیر پانی کی وضاحت:*
قلیل اور کثیر پانی سے متعلق پاکی ناپاکی کا حکم ذکر کرنے کے بعد یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کون سا پانی قلیل کہلاتا ہے اور کون سا کثیر، تو واضح رہے کہ ہر وہ ٹھہرا پانی [تالاب، حوض، ٹینکی وغیرہ] جس کا رقبہ 100 مربع ذِراع یعنی 225 اسکوائر فٹ یا اس سے زیادہ ہو اس کو ’’کثیر پانی‘‘ کہا جاتا ہے، اور جو اس سے کم ہو تو اُس کو ’’قلیل پانی‘‘ کہا جاتا ہے۔
💐 *وضاحت 1⃣:* واضح رہے کہ تالاب، حوض اور ٹینکی وغیرہ چاہے گول ہوں، چوکور ہوں، مستطیل ہوں، تکون ہوں یا جیسے بھی ہوں؛ سب کا یہی حکم ہے کہ وہ کثیر پانی تب کہلائے گا جب اس کا اندرونی رقبہ 225 اسکوائر فٹ ہو۔
💐 *وضاحت 2⃣:* قلیل اور کثیر پانی کی مذکورہ بالا پیمائش میں گہرائی کا اعتبار نہیں، بس اتنی معمولی گہرائی بھی کافی ہے کہ اگر اس سے دونوں ہاتھوں کے ذریعے چلّو بھر کر پانی لیا جائے تو نیچے کی زمین ظاہر نہ ہو، بلکہ اصل اعتبار لمبائی اور چوڑائی کے پھیلاؤ سے حاصل ہونے والے اندرونی رقبے کا ہے کہ اگر وہ 225 اسکوائر فٹ یا اس سے زیادہ ہو تو یہ ’’کثیر پانی‘‘ ہے، لیکن اگر اس سے کم ہو تو وہ ’’قلیل پانی‘‘ کہلائے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو ٹینکی یا حوض وغیرہ گہرا تو ہو لیکن اس کا رقبہ 225 اسکوائر فٹ سے کم ہو تو وہ قلیل پانی ہی کہلائے گا۔
🌳 *مفید مشورہ:*
ماقبل کی تفصیل سے معلوم ہوا کہ جس پانی یعنی تالاب، حوض، ٹینکی وغیرہ کا رقبہ 100 مربع ذِراع یعنی 225 اسکوائر فٹ یا اس سے زیادہ ہو اس کو ’’کثیر پانی‘‘ کہا جاتا ہے، اور کثیر پانی میں یہ سہولت ہے کہ جب تک اس میں نجاست کا کوئی اثر یعنی رنگ، بو یا ذائقہ ظاہر نہ ہوتو وہ ناپاک نہیں ہوتا، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ٹینکی، حوض یا تالاب وغیرہ بناتے وقت اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ اس کا رقبہ 100 مربع ذِراع یعنی 225 اسکوائر فٹ یا اس سے زیادہ ہو، تاکہ نجاست شامل ہونے کی صورت میں جب اس کا کوئی اثر ظاہر نہ ہو تو وہ ناپاک ہوجانے سے محفوظ ہوسکے اور پانی کی موجودہ بحرانی صورتحال میں مفید ثابت ہوسکے۔
💧 *دَہ دَر دَہ/ عشرہ فی عشرہ کی حقیقت اور مفہوم:*
کتبِ فقہ میں ’’دہ در دہ‘‘ کی اِصطلاح ٹھہرے ہوئےکثیر پانی کے لیے استعمال ہوتی ہے جس کو ’’حوضِ کبیر‘‘ یا ’’ماءِ راکد کثیر‘‘ بھی کہا جاتا ہے، اس اصطلاح کے ظاہری معنی تو یہی ہیں کہ وہ تالاب، ٹینکی یا ٹھہرا ہوا پانی جس کی لمبائی بھی 10 ذِراع ہو اور چوڑائی بھی 10 ذِراع ہو، ان دونوں کو باہم ضرب دینے سے اس کا اندرونی رقبہ 100 مربع یعنی اسکوائر ذراع آئے۔ ذراع شرعی گز کو کہا جاتا ہے جو کہ ڈیڑھ فٹ یعنی 18 اِنچ کا ہوتا ہے، اس لیے فٹ کے حساب سے اگر دیکھا جائے تو 10 ذراع کی موجودہ پیمائش 15 فٹ بنتی ہے، گویا کہ جدید دور کے مطابق ’’دہ در دہ‘‘ کا مطلب ہے: ہر وہ تالاب، ٹینکی یا ٹھہرا ہوا پانی جس کی لمبائی بھی 15 فٹ ہو اور چوڑائی بھی 15 فٹ ہو، ان دونوں کو باہمی ضرب دینے سے اس کا اندرونی رقبہ 225 مربع یعنی اسکوائر فٹ آئے گا۔
▪️ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ صرف اُس حوض وغیرہ کے ساتھ خاص ہے جس کی لمبائی اور چوڑائی 15، 15 فٹ ہو، بلکہ اس سے مراد ہر وہ ٹھہرا ہوا پانی [تالاب، حوض، ٹینکی وغیرہ] ہے جس کا رقبہ 100 مربع ذراع یعنی 225 اسکوائر فٹ یا اس سے زیادہ ہو، اس کو ’’کثیر پانی‘‘ کہا جاتا ہے، اور جو اس سے کم ہو تو اُس کو ’’قلیل پانی‘‘ کہا جاتا ہے، چاہے وہ ٹینکی اور تالاب وغیرہ گول ہوں، چوکور ہوں، مستطیل ہوں،تکون ہوں یا جیسے بھی ہوں؛ سب کا یہی حکم ہے۔
❄️ *مختلف نوعیتوں کے تالاب، ٹینکی اور حوض کو ناپنے کے طریقے:*
ماقبل میں مذکور مسئلے کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس ٹھہرے ہوئے پانی، حوض، تالاب یا ٹینکی کا رقبہ معلوم ہو، لیکن بہت سے حضرات کو رقبہ معلوم کرنے کا طریقہ ہی معلوم نہیں ہوتا، اس لیے ان کے لیے مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں، ذیل میں مختلف نوعیت کے حوض، ٹینکی اور تالاب کا رقبہ معلوم کرنے کا طریقہ لکھا جاتا ہے تاکہ سہولت رہے۔
💧 *مربع حوض، ٹینکی وغیرہ کا رقبہ معلوم کرنے کا طریقہ:*
مربع اور چکور حوض، ٹینکی وغیرہ کا اندرونی رقبہ معلوم کرنے کا طریقہ نہایت ہی آسان ہے کہ اس کی لمبائی یعنی طول کو چوڑائی یعنی عرض سے ضرب دے دیا جائے، جو جواب آئے تو وہی اس کا اندرونی رقبہ ہے۔ جس کی ایک مثال ماقبل میں ذکر ہوچکی ہے۔
💧 *گول حوض، ٹینکی وغیرہ کا رقبہ معلوم کرنے کا طریقہ:*
گول حوض، ٹینکی وغیرہ کا اندرونی رقبہ معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے نصف قُطر کو اس کی نصف گولائی سے ضرب دے دیا جائے ،جو جواب آئے تو وہی اس کا اندرونی رقبہ ہے۔ گول چیز کے درمیان میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک کے فاصلے کو قُطر کہا جاتا ہے۔
‼️ *علامہ شامی صاحب رحمہ اللہ کی ذکر کردہ گول حوض کی ایک پیمائش:*
علامہ شامی صاحب رحمہ اللہ نے گول حوض کی پیمائش ذکر فرمائی ہے جس کے مطابق جس گول حوض کی گولائی 36 ذراع یعنی 54 فٹ ہو اور اس کا قُطر 11.2 ذراع یعنی 16.8 فٹ ہو تو اس کا رقبہ تقریبًا 100 مربع ذراع یعنی 225 اسکوائر فٹ آسکتا ہے، وہ اس طرح کہ مذکورہ بالا اصول کے مطابق اس حوض کی گولائی کا آدھا لیا جائے جو کہ 18 ذراع یعنی27 فٹ بنتا ہے، اور اس گول حوض کے قُطر کا آدھا لیا جائے جو کہ 5.6 ذراع یعنی 8.4 فٹ بنتا ہے، پھر گولائی کے آدھے کو قُطر کے آدھے سے ضرب دیا جائے تو اس کا اندرونی رقبہ 100.8 مربع ذراع یعنی 226.8 اسکوائر فٹ آئے گا۔ اس کی پیمائش معمولی سی زیادہ آرہی ہے جس سے خاص فرق نہیں پڑتا۔
💧 *تکون حوض، ٹینکی وغیرہ کا رقبہ معلوم کرنے کا طریقہ:*
تکون حوض، ٹینکی وغیرہ کی متعدد صورتیں ہیں اور ہر صورت کا اندرونی رقبہ معلوم کرنے کا طریقہ عمومًا مختلف ہے جیسا کہ ریاضی سے واقف حضرات جانتے ہیں، اس لیے تکون کی ایک صورت ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں، جس تکون کے تینوں اطراف برابر ہوں اس کا اندرونی رقبہ معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے اس کی ایک جانب کی پیمائش کرکے اس کو اپنے ہی سے ضرب دیا جائے، جو جواب آئے اُس کا ایک تو دسواں حصہ نکالیں اور ایک تیسرا حصہ، پھر اس دسویں اور تیسرے حصے کو جمع کردیا جائے، جو جواب آئے تو وہی اس کا اندرونی رقبہ ہے۔
‼️ *علامہ شامی صاحب رحمہ اللہ کی ذکر کردہ تکون حوض کی ایک پیمائش:*
علامہ شامی صاحب رحمہ اللہ نے مذکورہ تکون حوض کی پیمائش ذکر فرمائی ہے جس کے مطابق مذکورہ تکون حوض کا رقبہ 225 اسکوائر فٹ یا 100 مربع ذراع اس صورت میں آسکتا ہے جب اس کا ہر جانب 15.2 ذراع ہو، اس کا اندرونی رقبہ معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کی ایک جانب کی پیمائش کرلی جائے جو کہ 15.2 ذراع آئے گی، پھر اس کو اپنے ہی سے ضرب دیا جائے کہ 15.2 ذراع کو 15.2 ذراع سےضرب دیاجائے، تو جواب 231.04 ذراع آئے گا، پھر انھی کا دسواں اور تیسرا حصہ معلوم کرنے کے لیے ان کو 10 اور 3 سے الگ الگ تقسیم کریں گے تو ان کا دسواں حصہ 23.104 ذراع آئے گاجبکہ تیسرا حصہ 77.013 ذراع آئے گا، پھر اس دسویں حصے کو تیسرے حصے میں جمع کیا جائے تو جواب 100.117 ذراع آئے گا جو کہ اندرونی رقبہ ہے۔
▪️ فٹ کےحساب سے مذکورہ تکون حوض کا رقبہ 225 اسکوائر فٹ اس صورت میں آسکتا ہے جب اس کا ہر جانب 22.8 فٹ ہو، اس کا اندرونی رقبہ معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کی ایک جانب کی پیمائش کرلی جائے جو کہ 22.8 فٹ آئے گی، پھر اس کو اپنے ہی سے ضرب دیا جائے کہ 22.8 فٹ کو 22.8 فٹ سے ضرب دیاجائے، تو جواب 519.84 فٹ آئے گا، پھر انھی کا دسواں اور تیسرا حصہ معلوم کرنے کے لیے ان کو 10 اور 3 سے الگ الگ تقسیم کریں گے تو ان کا دسواں حصہ 51.984 فٹ آئے گاجبکہ تیسر ا حصہ 173.28 فٹ آئے گا، پھر اس دسویں حصے کو تیسرے حصے میں جمع کیا جائے تو جواب 225.264 فٹ آئے گا جو کہ اندرونی رقبہ ہے۔ اس کی پیمائش بھی معمولی سی زیادہ آرہی ہے جس سے خاص فرق نہیں پڑتا۔
🌳 *فائدہ:* حوض، تالاب اور ٹینکی سمیت ہر ٹھہرے ہوئے پانی کا اندرونی رقبہ معلوم کرنے کے لیے پیمائش کے جو طریقے بیان ہوئے یہ کوئی لازم اور مخصوص نہیں ہیں بلکہ اگر ان کے علاوہ دیگر جدید حسابی فارمولوں کی مدد سے اندرونی رقبہ معلوم ہوسکتا ہے تو اسی کو اختیار کرلیا جائے جس میں سہولت ہو۔
🌳 *وضاحت:* ماقبل کی تفصیل میں کثیر پانی سے متعلق دہ در دہ کا قول اختیار کیا گیا ہے جس پر متعدد فقہاء متأخرین اور حضرات اکابر کا فتوی ہے اور اس میں عوام کے لیے بڑی سہولت بھی ہے، دیکھیے: ہدایہ، فتاویٰ قاضی خان، رد المحتار، فتاویٰ دار العلوم دیوبند، کفایت المفتی، فتاویٰ محمودیہ، فتاویٰ رحیمیہ، فتاویٰ عثمانی۔ مزید تفصیل کے لیے کتبِ فقہ ملاحظہ فرمائیں۔ فتاویٰ شامی میں ہے:
لَا يَخْفَى أَنَّ الْمُتَأَخِّرِينَ الَّذِينَ أَفْتَوْا بِالْعَشْرِ كَصَاحِبِ «الْهِدَايَةِ» وَقَاضِي خَانْ وَغَيْرِهِمَا مِنْ أَهْلِ التَّرْجِيحِ، هُمْ أَعْلَمُ بِالْمَذْهَبِ مِنَّا فَعَلَيْنَا اتِّبَاعُهُمْ، وَيُؤَيِّدُهُ مَا قَدَّمَهُ الشَّارِحُ فِي رَسْمِ الْمُفْتِي: وَأَمَّا نَحْنُ فَعَلَيْنَا اتِّبَاعُ مَا رَجَّحُوهُ وَمَا صَحَّحُوهُ كَمَا لَوْ أَفْتونَا فِي حَيَاتِهِمْ.
⭕ *تنبیہ:* مذکورہ بالا تفصیلات کنویں سے متعلق نہیں بلکہ اس کے احکام الگ ہیں۔
📚 *تفصیلی عبارات:*
☀️ الدر المختار:
(وَكَذَا) يَجُوزُ (بِرَاكِدٍ) كَثِيرٍ (كَذَلِكَ) أَيْ وَقَعَ فِيهِ نَجِسٌ لَمْ يُرَ أَثَرُهُ وَلَوْ فِي مَوْضِعِ وُقُوعِ الْمَرْئِيَّةِ، بِهِ يُفْتَى «بَحْرٌ». (وَالْمُعْتَبَرُ) فِي مِقْدَارِ الرَّاكِدِ (أَكْبَرُ رَأْيِ الْمُبْتَلَى بِهِ فِيهِ، فَإِنْ غَلَبَ عَلَى ظَنِّهِ عَدَمُ خُلُوصٍ) أَيْ وُصُولِ (النَّجَاسَةِ إلَى الْجَانِبِ الْآخَرِ جَازَ وَإِلَّا لَا) هَذَا ظَاهِرُ الرِّوَايَةِ عَنِ الْإِمَامِ، وَإِلَيْهِ رَجَعَ مُحَمَّدٌ، وَهُوَ الْأَصَحُّ كَمَا فِي «الْغَايَةِ» وَغَيْرِهَا، وَحَقَّقَ فِي «الْبَحْرِ» أَنَّهُ الْمَذْهَبُ، وَبِهِ يُعْمَلُ، وَأَنَّ التَّقْدِيرَ بِعَشْرٍ فِي عَشْرٍ لَا يَرْجِعُ إلَى أَصْلٍ يُعْتَمَدُ عَلَيْهِ، وَرُدَّ مَا أَجَابَ بِهِ صَدْرُ الشَّرِيعَةِ، لَكِنْ فِي «النَّهْرِ»: وَأَنْتَ خَبِيرٌ بِأَنَّ اعْتِبَارَ الْعَشْرِ أَضْبَطُ وَلَا سِيَّمَا فِي حَقِّ مَنْ لَا رَأْيَ لَهُ مِنْ الْعَوَامّ، فَلِذَا أَفْتَى بِهِ الْمُتَأَخِّرُونَ الْأَعْلَامُ: أَيْ فِي الْمُرَبَّعِ بِأَرْبَعِينَ، وَفِي الْمُدَوَّرِ بِسِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ، وَفِي الْمُثَلَّثِ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ خَمْسَةَ عَشَرَ وَرُبُعًا وَخُمُسًا بِذِرَاعِ الْكِرْبَاسِ، وَلَوْ لَهُ طُولٌ لَا عَرْضٌ لَكِنَّهُ يَبْلُغُ عَشْرًا فِي عَشْرٍ جَازَ تَيْسِيرًا....
☀️ رد المحتار:
(قَوْلُهُ: وَكَذَا يَجُوزُ) أَيْ رَفْعُ الْحَدَثِ. (قَوْلُهُ: بِرَاكِدٍ) الرُّكُودُ: السُّكُونُ وَالثَّبَاتُ «قَامُوسٌ». (قَوْلُهُ: أَيْ وَقَعَ نَجِسٌ إلَخْ) شَمِلَ مَا لَوْ كَانَ النَّجِسُ غَالِبًا، وَلِذَا قَالَ فِي «الْخُلَاصَةِ»: الْمَاءُ النَّجِسُ إذَا دَخَلَ الْحَوْضَ الْكَبِيرَ لَا يَنْجُسُ الْحَوْضُ وَإِنْ كَانَ النَّجِسُ غَالِبًا عَلَى مَاءِ الْحَوْضِ؛ لِأَنَّهُ كُلَّمَا اتَّصَلَ الْمَاءُ بِالْحَوْضِ صَارَ مَاءُ الْحَوْضِ غَالِبًا عَلَيْهِ. اهـ. (قَوْلُهُ: لَمْ يُرَ أَثَرُهُ) أَيْ مِنْ طَعْمٍ أَوْ لَوْنٍ أَوْ رِيحٍ، وَهَذَا الْقَيْدُ لَا بُدَّ مِنْهُ وَإِنْ لَمْ يُذْكَرْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْمَسَائِلِ الْآتِيَةِ فَلَا تَغْفُلُ عَنْهُ، وَقَدَّمْنَا أَنَّ الْمُرَادَ مِنْ الْأَثَرِ أَثَرُ النَّجَاسَةِ نَفْسِهَا دُونَ مَا خَالَطَهَا كَخَلٍّ وَنَحْوِهِ. (قَوْلُهُ: بِهِ يُفْتَى) أَيْ بِعَدَمِ الْفَرْقِ بَيْنَ الْمَرْئِيَّةِ وَغَيْرِهَا، وَعَزَاهُ فِي «الْبَحْرِ» إلَى «شَرْحِ الْمُنْيَةِ» عَنِ «النِّصَابِ»، وَأَرَادَ بِـ«شَرْحِ الْمُنْيَةِ» «الْحلْبةَ» لِابْنِ أَمِيرٍ الْحَاجِّ، وَقَدْ ذَكَرَ عِبَارَةَ «النِّصَابِ» فِي مَسْأَلَةِ الْمَاءِ الْجَارِي لَا هُنَا، عَلَى أَنَّهُ يُشْكِلُ عَلَيْهِ مَا فِي «شَرْحِ الْمُنْيَةِ» لِلْحَلَبِيِّ عَنِ «الْخُلَاصَةِ» أَنَّهُ فِي الْمَرْئِيَّةِ يَنْجُسُ مَوْضِعُ الْوُقُوعِ بِالْإِجْمَاعِ، وَأَمَّا فِي غَيْرِهَا فَقِيلَ كَذَلِكَ، وَقِيلَ لَا. اهـ. وَمِثْلُهُ فِي «الْحلْبةَ»، وَكَذَا «الْبَدَائِعُ»، لَكِنْ عَبَّرَ بِظَاهِرِ الرِّوَايَةِ بَدَلَ الْإِجْمَاعِ قَالَ: وَمَعْنَاهُ أَنْ يَتْرُكَ مِنْ مَوْضِعِ النَّجَاسَةِ قَدْرَ الْحَوْضِ الصَّغِيرِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ اهـ: وَقَدَّرَهُ فِي «الْكِفَايَةِ» بِأَرْبَعَةِ أَذْرُعٍ فِي مِثْلِهَا. وَقِيلَ: يَتَحَرَّى، فَإِنْ وَقَعَ تَحَرِّيهِ أَنَّ النَّجَاسَةَ لَمْ تَخْلُصْ إلَى هَذَا الْمَوْضِعِ تَوَضَّأَ مِنْهُ. قَالَ فِي «الْحلْبةَ»: قُلْت هُوَ الْأَصَحُّ اهـ وَكَذَا جَزَمَ فِي «الْخَانِيَّةِ» بِتَنَجُّسِ مَوْضِعِ الْمَرْئِيَّةِ بِلَا نَقْلِ خِلَافٍ، ثُمَّ نَقَلَ الْقَوْلَيْنِ فِي غَيْرِ الْمَرْئِيَّةِ، وَصَحَّحَ فِي «الْمَبْسُوطِ» أَوَّلَهُمَا، وَصَحَّحَ فِي «الْبَدَائِعِ» وَغَيْرِهَا ثَانِيَهُمَا، نَعَمْ قَالَ فِي «الْخَزَائِنِ»: وَالْفَتْوَى عَلَى عَدَمِ التَّنَجُّسِ مُطْلَقًا إلَّا بِالتَّغَيُّرِ بِلَا فَرْقٍ بَيْنَ الْمَرْئِيَّةِ وَغَيْرِهَا؛ لِعُمُومِ الْبَلْوَى، حَتَّى قَالُوا: يَجُوزُ الْوُضُوءُ مِنْ مَوْضِعِ الِاسْتِنْجَاءِ قَبْلَ التَّحَرُّكِ كَمَا فِي الْمِعْرَاجِ عَنِ «الْمُجْتَبَى». اهـ. وَقَالَ فِي «الْفَتْحِ»: وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ أَنَّهُ كَالْجَارِي لَا يَتَنَجَّسُ إلَّا بِالتَّغَيُّرِ، وَهُوَ الَّذِي يَنْبَغِي تَصْحِيحُهُ، فَيَنْبَغِي عَدَمُ الْفَرْقِ بَيْنَ الْمَرْئِيَّةِ وَغَيْرِهَا؛ لِأَنَّ الدَّلِيلَ إنَّمَا يَقْتَضِي عِنْدَ الْكَثْرَةِ عَدَمَ التَّنَجُّسِ إلَّا بِالتَّغَيُّرِ مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ. اهـ. فَقَدْ ظَهَرَ أَنَّ مَا ذَكَرَهُ الشَّارِحُ مَبْنِيٌّ عَلَى ظَاهِرِ هَذِهِ الرِّوَايَةِ عَنْ أَبِي يُوسُفَ حَيْثُ جَعَلَهُ كَالْجَارِي، وَقَدَّمْنَا عَنْهُ أَنَّهُ اُعْتُبِرَ فِي الْجَارِي ظُهُورُ الْأَثَرِ مُطْلَقًا، وَأَنَّهُ ظَاهِرُ الْمُتُونِ وَكَذَا قَالَ فِي «الْكَنْزِ» هُنَا، وَهُوَ كَالْجَارِي، وَمِثْلُهُ فِي «الْمُلْتَقَى». وَظَاهِرُهُ اخْتِيَارُ هَذِهِ الرِّوَايَةِ؛ فَلِذَا اخْتَارَهَا فِي «الْفَتْحِ» وَاسْتَحْسَنَهَا فِي «الْحلْبةَ»؛ لِمُوَافَقَتِهَا لِمَا مَرَّ عَنْهُ فِي الْجَارِي. قَالَ: وَيَشْهَدُ لَهُ مَا فِي «سُنَنِ ابْنِ مَاجَهْ» عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: انْتَهَيْت إلَى غَدِيرٍ فَإِذَا فِيهِ حِمَارٌ مَيِّتٌ فَكَفَفْنَا عَنْهُ حَتَّى انْتَهَى إلَيْنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ فَقَالَ: «إنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ»، فَاسْتَقَيْنَا وَأَرْوَيْنَا وَحَمَلْنَا. اهـ وَهَذَا وَارِدٌ عَلَى نَقْلِ الْإِجْمَاعِ السَّابِقِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. (قَوْلُهُ: فِي مِقْدَارِ الرَّاكِدِ) يُغْنِي عَنْهُ قَوْلُ الْمُصَنِّفِ فِيهِ الْمُتَعَلِّقُ بِالْمُعْتَبَرِ، فَالْأَوْلَى ذِكْرُهُ بَعْدَهُ تَفْسِيرًا لِمَرْجِعِ الضَّمِيرِ. (قَوْلُهُ: أَكْبَرُ رَأْيِ الْمُبْتَلَى بِهِ) أَيْ غَلَبَةُ ظَنِّهِ؛ لِأَنَّهَا فِي حُكْمِ الْيَقِينِ، وَالْأَوْلَى حَذْفُ أَكْبَرُ لِيَظْهَرَ التَّفْصِيلُ بَعْدَهُ ط. (قَوْلُهُ: وَإِلَّا لَا) صَادِقٌ بِمَا إذَا غَلَبَ عَلَى ظَنِّهِ الْخُلُوصُ أَوْ اشْتَبَهَ عَلَيْهِ الْأَمْرَانِ، لَكِنَّ الثَّانِيَ غَيْرُ مُرَادٍ؛ لِمَا فِي «التَّتَارْخَانِيَّة»: وَإِذَا اشْتَبَهَ الْخُلُوصُ فَهُوَ كَمَا إذَا لَمْ يَخْلُصْ اهـ فَافْهَمْ. (قَوْلُهُ: وَإِلَيْهِ رَجَعَ مُحَمَّدٌ) أَيْ بَعْدَمَا قَالَ بِتَقْدِيرِهِ بِعَشْرٍ فِي عَشْرٍ، ثُمَّ قَالَ: لَا أُوَقِّتُ شَيْئًا كَمَا نَقَلَهُ الْأَئِمَّةُ الثِّقَاتُ عَنْهُ، «بَحْرٌ». (قَوْلُهُ: وَهُوَ الْأَصَحُّ) زَادَ فِي «الْفَتْحِ»: وَهُوَ الْأَلْيَقُ بِأَصْلِ أَبِي حَنِيفَةَ: أَعْنِي عَدَمَ التَّحَكُّمِ بِتَقْدِيرٍ فِيمَا لَمْ يَرِدْ فِيهِ تَقْدِيرٌ شَرْعِيٌّ، وَالتَّفْوِيضُ فِيهِ إلَى رَأْيِ الْمُبْتَلَى، بِنَاءً عَلَى عَدَمِ صِحَّةِ ثُبُوتِ تَقْدِيرِهِ شَرْعًا. اهـ .... (قَوْلُهُ: وَحَقَّقَ فِي «الْبَحْرِ» أَنَّهُ الْمَذْهَبُ) أَيِ الْمَرْوِيُّ عَنْ أَئِمَّتِنَا الثَّلَاثَةِ وَأَكْثَرَ مِنَ النُّقُولِ الصَّرِيحَةِ فِي ذَلِكَ: أَيْ فِي أَنَّ ظَاهِرَ الرِّوَايَةِ عَنْ أَئِمَّتِنَا الثَّلَاثَةِ تَفْوِيضُ الْخُلُوصِ إلَى رَأْيِ الْمُبْتَلَى بِهِ بِلَا تَقْدِيرٍ بِشَيْءٍ، ثُمَّ قَالَ: وَعَلَى تَقْدِيرِ عَدَمِ رُجُوعِ مُحَمَّدٍ عَنْ تَقْدِيرِهِ بِعَشْرٍ فِي عَشْرٍ لَا يَسْتَلْزِمُ تَقْدِيرَهُ إلَّا فِي نَظَرِهِ، وَهُوَ لَا يَلْزَمُ غَيْرَهُ؛ لِأَنَّهُ لَمَّا وَجَبَ كَوْنُهُ مَا اسْتَكْثَرَهُ الْمُبْتَلَى فَاسْتِكْثَارُ وَاحِدٍ لَا يَلْزَمُ غَيْرَهُ، بَلْ يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ مَا يَقَعُ فِي قَلْبِ كُلٍّ، وَلَيْسَ هَذَا مِنَ الصُّوَرِ الَّتِي يَجِبُ فِيهَا عَلَى الْعَامِّيِّ تَقْلِيدُ الْمُجْتَهِدِ ذَكَرَهُ الْكَمَالُ ..... (قَوْلُهُ: لَكِنْ فِي «النَّهْرِ» إلَخْ) قَدْ تَعَرَّضَ لِهَذَا فِي «الْبَحْرِ» أَيْضًا، ثُمَّ رَدَّهُ بِأَنَّهُ إنَّمَا يُعْمَلُ بِمَا صَحَّ مِنَ الْمَذْهَبِ لَا بِفَتْوَى الْمَشَايِخِ، وَالْوَجْهُ مَعَ صَاحِبِ «الْبَحْرِ». وَإِذَا اطَّلَعْت عَلَى كَلَامِهَا جَزَمْت بِذَلِكَ، أَفَادَهُ ط. أَقُولُ: وَهُوَ الَّذِي حُطَّ عَلَيْهِ كَلَامُ الْمُحَقِّقِ ابْنِ الْهُمَامِ وَتِلْمِيذِهِ الْعَلَّامَةِ ابْنِ أَمِيرٍ الْحَاجِّ، لَكِنْ ذَكَرَ بَعْضُ الْمُحَشِّينَ عَنْ شَيْخِ الْإِسْلَامِ الْعَلَّامَةِ سَعْدِ الدِّينِ الدِّيرِيِّ فِي رِسَالَتِهِ «الْقَوْلُ الرَّاقِي فِي حُكْمِ مَاءِ الْفَسَاقِيِ» أَنَّهُ حَقَّقَ فِيهَا مَا اخْتَارَهُ أَصْحَابُ الْمُتُونِ مِنْ اعْتِبَارِ الْعَشْرِ وَرَدَّ فِيهَا عَلَى مَنْ قَالَ بِخِلَافِهِ رَدًّا بَلِيغًا، وَأَوْرَدَ نَحْوَ مِائَةِ نَقْلٍ نَاطِقَةٍ بِالصَّوَابِ إلَى أَنْ قَالَ:
وَإِذَا كُنْت فِي الْمَدَارِكِ غُـرًّا
ثُمَّ أَبْصَرْت حَاذِقًا لَا تُمَارِي
وَإِذَا لَمْ تَرَ الْهِـــلَالَ فَسَلِّمْ
لِأُنَـاسٍ رَأَوْهُ بِالْأَبْصَــارِ۔
لَا يَخْفَى أَنَّ الْمُتَأَخِّرِينَ الَّذِينَ أَفْتَوْا بِالْعَشْرِ كَصَاحِبِ «الْهِدَايَةِ» وَقَاضِي خَانْ وَغَيْرِهِمَا مِنْ أَهْلِ التَّرْجِيحِ هُمْ أَعْلَمُ بِالْمَذْهَبِ مِنَّا فَعَلَيْنَا اتِّبَاعُهُمْ، وَيُؤَيِّدُهُ مَا قَدَّمَهُ الشَّارِحُ فِي رَسْمِ الْمُفْتِي: وَأَمَّا نَحْنُ فَعَلَيْنَا اتِّبَاعُ مَا رَجَّحُوهُ وَمَا صَحَّحُوهُ، كَمَا لَوْ أَفْتُونَا فِي حَيَاتِهِمْ. (قَوْلُهُ: أَيْ فِي الْمُرَبَّعِ إلَخْ) أَشَارَ إلَى أَنَّ الْمُرَادَ مِنْ اعْتِبَارِ الْعَشْرِ فِي الْعَشْرِ مَا يَكُونُ وَجْهُهُ مِائَةَ ذِرَاعٍ سَوَاءٌ كَانَ مُرَبَّعًا، وَهُوَ مَا يَكُونُ كُلُّ جَانِبٍ مِنْ جَوَانِبِهِ عَشَرَةً وَحَوْلَ الْمَاءِ أَرْبَعُونَ وَوَجْهُهُ مِائَةٌ، أَوْ كَانَ مُدَوَّرًا أَوْ مُثَلَّثًا، فَإِنَّ كُلًّا مِنْ الْمُدَوَّرِ وَالْمُثَلَّثِ إذَا كَانَ عَلَى الْوَصْفِ الَّذِي ذَكَرَهُ الشَّارِحُ يَكُونُ وَجْهُهُ مِائَةً، وَإِذَا رَبَّعَ يَكُونُ عَشْرًا فِي عَشْرٍ فَافْهَمْ. (قَوْلُهُ: وَفِي الْمُدَوَّرِ بِسِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ) أَيْ بِأَنْ يَكُونَ دَوْرُهُ سِتَّةً وَثَلَاثِينَ ذِرَاعًا وَقُطْرُهُ أَحَدَ عَشَرَ ذِرَاعًا وَخُمُسَ ذِرَاعٍ، وَمِسَاحَتُهُ أَنْ تَضْرِبَ نِصْفَ الْقُطْرِ وَهُوَ خَمْسَةٌ وَنِصْفٌ وَعُشْرٌ فِي نِصْفِ الدَّوْرِ وَهُوَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ يَكُونُ مِائَةَ ذِرَاعٍ وَأَرْبَعَةَ أَخْمَاسِ ذِرَاعٍ. اهـ. «سِرَاجٌ»، وَمَا ذَكَرَهُ هُوَ أَحَدُ أَقْوَالٍ خَمْسَةٍ. وَفِي «الدُّرَرِ» عَنِ «الظَّهِيرِيَّةِ»: هُوَ الصَّحِيحُ، وَهُوَ مُبَرْهَنٌ عَلَيْهِ عِنْدَ الْحِسَابِ. وَلِلْعَلَّامَةِ الشُّرُنْبُلَالِيُّ رِسَالَةٌ سَمَّاهَا «الزَّهْرَ النَّضِيرَ عَلَى الْحَوْضِ الْمُسْتَدِيرِ» أَوْضَحَ فِيهَا الْبُرْهَانَ الْمَذْكُورَ مَعَ رَدِّ بَقِيَّةِ الْأَقْوَالِ، وَلَخَّصَ ذَلِكَ فِي حَاشِيَتِهِ عَلَى «الدُّرَرِ». (قَوْلُهُ: وَرُبُعًا وَخُمُسًا) فِي بَعْضِ النُّسَخِ أَوْ خُمُسًا بِـ«أَوْ» لَا بِالْوَاوِ، وَهِيَ الْأَصْوَبُ بِنَاءً عَلَى الِاخْتِلَافِ فِي التَّعْبِيرِ، فَإِنَّ بَعْضَهُمْ كَنُوحٍ أَفَنْدِي عَبَّرَ بِالرُّبُعِ وَبَعْضُهُمْ كالشرنبلالي فِي رِسَالَتِهِ عَبَّرَ بِالْخُمُسِ، وَهُوَ الَّذِي مَشَى عَلَيْهِ فِي «السِّرَاجِ» حَيْثُ قَالَ: فَإِنْ كَانَ مُثَلَّثًا فَإِنَّهُ يُعْتَبَرُ أَنْ يَكُونَ كُلُّ جَانِبٍ مِنْهُ خَمْسَةَ عَشَرَ ذِرَاعًا وَخُمُسَ ذِرَاعٍ حَتَّى تَبْلُغَ مِسَاحَتُهُ مِائَةَ ذِرَاعٍ، بِأَنْ تَضْرِبَ أَحَدَ جَوَانِبِهِ فِي نَفْسِهِ، فَمَا صَحَّ أَخَذْت ثُلُثَهُ وَعُشْرَهُ فَهُوَ مِسَاحَتُهُ. بَيَانُهُ أَنْ تَضْرِبَ خَمْسَةَ عَشَرَ وَخُمُسًا فِي نَفْسِهِ يَكُونُ مِائَتَيْنِ وَإِحْدَى وَثَلَاثِينَ وَجُزْءًا مِنْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنْ ذِرَاعٍ، فَثُلُثُهُ عَلَى التَّقْرِيبِ سَبْعَةٌ وَسَبْعُونَ ذِرَاعًا، وَعُشْرُهُ عَلَى التَّقْرِيبِ ثَلَاثَةٌ وَعِشْرُونَ فَذَلِكَ مِائَةُ ذِرَاعٍ وَشَيْءٌ قَلِيلٌ لَا يَبْلُغُ عُشْرَ ذِرَاعٍ. اهـ. أَقُولُ: وَعَلَى التَّعْبِيرِ بِالرُّبُعِ يَبْلُغُ ذَلِكَ الشَّيْءُ الْقَلِيلُ نَحْوَ رُبُعِ ذِرَاعٍ فَالتَّعْبِيرُ بِالْخُمُسِ أَوْلَى كَمَا لَا يَخْفَى فَكَانَ يَنْبَغِي لِلشَّارِحِ الِاقْتِصَارُ عَلَيْهِ فَافْهَمْ. (قَوْلُهُ: بِذِرَاعِ الْكِرْبَاسِ) بِالْكَسْرِ: أَيْ ثِيَابِ الْقُطْنِ، وَيَأْتِي مِقْدَارُهُ.
[تَنْبِيهٌ]: لَمْ يَذْكُرْ مِقْدَارَ الْعُمْقِ إشَارَةً إلَى أَنَّهُ لَا تَقْدِيرَ فِيهِ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ وَهُوَ الصَّحِيحُ «بَدَائِعُ»، وَصَحَّحَ فِي «الْهِدَايَةِ» أَنْ يَكُونَ بِحَالٍ لَا يَنْحَسِرُ بِالِاغْتِرَافِ: أَيْ لَا يَنْكَشِفُ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى «مِعْرَاجٌ». وَفِي «الْبَحْرِ» الْأَوَّلُ أَوْجَهُ، لِمَا عُرِفَ مِنْ أَصْلِ أَبِي حَنِيفَةَ اهـ وَقِيلَ: أَرْبَعُ أَصَابِعَ مَفْتُوحَةٍ، وَقِيلَ: مَا بَلَغَ الْكَعْبَ، وَقِيلَ: شِبْرٌ، وَقِيلَ: ذِرَاعٌ، وَقِيلَ: ذِرَاعَانِ «قُهُسْتَانِيٌّ». (قَوْلُهُ: لَكِنَّهُ يَبْلُغُ إلَخْ) كَأَنْ يَكُونَ طُولُهُ خَمْسِينَ وَعَرْضُهُ ذِرَاعَيْنِ مَثَلًا فَإِنَّهُ لَوْ رَبَّعَ صَارَ عَشْرًا فِي عَشْرٍ. (باب المیاہ)
✍۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی