رمضان کے آخری عشرے کا پروگرام
رمضان کا آخری عشرہ سب سے زیادہ بابرکت اور قیمتی ہوتا ہے، کیونکہ اس میں لیلة القدر (شبِ قدر) آتی ہے، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان راتوں میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرے اور اپنے اعمال کو بہتر بنانے کی کوشش کرے، کیونکہ اعمال کا دار و مدار ان کے انجام پر ہوتا ہے۔
آخری عشرے میں ثابت قدمی اور محنت کی ضرورت:۔
رمضان کے آخری دنوں میں انسان دو میں سے کسی ایک حالت میں ہوتا ہے ۔ یا تو اس نے پورے مہینے میں خوب عبادت کی، اب اسے استقامت کے ساتھ آخری دنوں میں بھی محنت کرنی ہے، کیونکہ نیک اعمال کا اجر ان کے اختتام پر ہوتا ہے۔ یا پھر دوسری حالت یہ ہے کہ وہ سستی کا شکار رہا ہے، اب اس کے پاس موقع ہے کہ وہ آخری عشرے میں اپنی غفلت کی تلافی کرے اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:۔
إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِخَوَاتِيمِهَا۔
۔(صحیح البخاری)۔
مفہومی ترجمہ: اعمال کا دار و مدار ان کے انجام پر ہوتا ہے۔
اسی لیے جو شخص غفلت میں رہا، اسے چاہیے کہ ان آخری دنوں میں نیکیوں کی طرف متوجہ ہو اور زیادہ سے زیادہ عبادت کرے۔
نبی کریم ﷺ کا آخری عشرے میں معمول:۔
نبی کریم ﷺ رمضان کے پورے مہینے میں عبادت کا اہتمام کرتے، لیکن جب آخری عشرہ آتا تو اور زیادہ محنت کرتے۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں:۔
كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ شَدَّ مِئْزَرَهُ وَأَحْيَا لَيْلَهُ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ۔
۔(صحیح البخاری)۔
مفہومی ترجمہ: جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی کریم ﷺ کمر کس لیتے (عبادت کے لیے زیادہ محنت کرتے)، راتوں کو جاگتے اور اپنے اہل خانہ کو بھی جگاتے۔
امام ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کریم ﷺ آخری عشرے میں قیام کو زیادہ اہمیت دیتے تھے، تاکہ وہ اچھے انجام کے ساتھ رمضان کو مکمل کریں۔
اعتکاف کی سنت:۔
اعتکاف کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے مکمل یکسوئی حاصل کرنا ہے۔ نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں ہمیشہ اعتکاف کرتے تاکہ زیادہ سے زیادہ عبادت اور ذکر و اذکار میں مشغول رہیں۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں:۔
اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَشْرَ الأُوَلِ مِنْ رَمَضَانَ، ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الأَوْسَطَ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ وَإِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ، فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ فَلْيَعْتَكِفْ۔
۔(صحیح البخاری)۔
مفہومی ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے پہلے رمضان کے ابتدائی دس دنوں میں اعتکاف کیا، پھر درمیانی عشرے میں، پھر فرمایا:۔ مجھے شبِ قدر دکھائی گئی ہے، اور وہ آخری عشرے میں ہے، پس جو اعتکاف کرنا چاہے، وہ کرے۔
اعتکاف کا مقصد دنیاوی مشاغل سے دور ہو کر عبادت، ذکر، دعا اور توبہ میں مشغول ہونا ہے تاکہ انسان شبِ قدر کو پا سکے۔
لیلة القدر کی تلاش اور فضیلت:۔
شبِ قدر کی عبادت ہزار مہینوں (تقریباً 83 سال) کی عبادت سے بہتر ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔
لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ
۔(القدر: 3)۔
مفہومی ترجمہ: شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
شبِ قدر کب ہوتی ہے؟۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ شبِ قدر رمضان کے آخری عشرے میں کسی طاق رات میں ہوتی ہے۔
حضرت عائشہؓ سے مروی ہے: تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْوِتْرِ مِنْ الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)۔
مفہومی ترجمہ: شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔
یہ رات 21، 23، 25، 27 یا 29 رمضان کو ہو سکتی ہے۔ اس لیے ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ پورے عشرے میں عبادت کرے تاکہ وہ اس مبارک رات کو حاصل کر سکے۔
شبِ قدر کی علامتیں:۔
نبی کریم ﷺ نے شبِ قدر کی ایک نشانی یہ بیان فرمائی:۔
تَطْلُعُ الشَّمْسُ صَبِيحَةَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ بَيْضَاءَ لا شُعَاعَ لَهَا۔
۔(صحیح مسلم)۔
مفہومی ترجمہ: شبِ قدر کی صبح سورج بغیر شعاع کے طلوع ہوتا ہے۔
یہ نشانی بعد میں ظاہر ہوتی ہے تاکہ عبادت گزار خوش ہو اور جو محروم رہا، وہ مزید محنت کرے۔
شبِ قدر کی مخصوص دعا:۔
حضرت عائشہؓ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ اگر ہمیں شبِ قدر مل جائے تو کیا دعا پڑھیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:۔
اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي۔
۔(سنن الترمذی)۔
مفہومی ترجمہ: اے اللہ! بے شک تو معاف کرنے والا ہے اور معافی کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما دے۔
یہ دُعا اس رات میں زیادہ سے زیادہ پڑھنی چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس رات میں اپنے بندوں کی دعائیں قبول فرماتا ہے۔
آخری عشرے کے لیے عملی مشورے:۔
عبادت میں اضافہ: نمازِ تہجد کا اہتمام کریں۔ قرآن کی تلاوت زیادہ کریں۔ اللہ کے ذکر میں مشغول رہیں۔
اعتکاف کریں: اگر ممکن ہو تو مسجد میں اعتکاف کریں۔ اگر مسجد میں ممکن نہ ہو تو گھر میں عبادت کے لیے مخصوص وقت نکالیں۔
دنیاوی مشاغل سے پرہیز کریں: فضول خریداری، سوشل میڈیا، اور دیگر غیر ضروری سرگرمیوں سے بچیں۔
شبِ قدر کی تلاش کریں:ہر رات عبادت کریں، خاص طور پر طاق راتوں میں زیادہ محنت کریں۔
صدقہ و خیرات کریں:رمضان کے آخری ایام میں ضرورت مندوں کی مدد کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ نیکیاں حاصل ہوں۔
خلاصہ یہ ہے کہ رمضان کا آخری عشرہ اللہ کی رحمت، مغفرت اور نجات کا عشرہ ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ان دنوں میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرے، کیونکہ یہ لمحات قیمتی ہیں اور اگلا رمضان نصیب ہوگا یا نہیں، کوئی نہیں جانتا۔
زمرے
رمضان