اعتکاف کی مٹھاس کیسے حاصل کی جائے؟
عبادت کی ایک مٹھاس ہوتی ہے، اور جو اس مٹھاس کو چکھ لیتا ہے، وہ دنیا کی ہر مادی خوشی کو حقیر سمجھتا ہے۔
یہی وہ روحانی کیفیت ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔
۔”ذاق طعم الإيمان”۔
جس نے ایمان کی حقیقت کو پا لیا، اس نے اس کا ذائقہ چکھ لیا۔ بخاری ۔
اور دوسری حدیث میں فرمایا:۔
۔”ثلاثة من كن فيه وجد حلاوة الإيمان”۔
تین چیزیں جس میں ہوں، وہ ایمان کی مٹھاس کو پائے گا۔ بخاری ۔
۔✅ یعنی ایمان اور عبادت کی مٹھاس ایک ایسی حقیقت ہے، جسے دل محسوس کرتا ہے، جیسے زبان کھانے کے ذائقے کو چکھتی ہے۔
اعتکاف کی مٹھاس کا راز کیا ہے؟
ہر عبادت میں مٹھاس تبھی حاصل ہوتی ہے، جب دل، دماغ اور روح مکمل طور پر اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے۔
۔✅ ابن القیمؒ فرماتے ہیں:۔
اعتکاف درحقیقت یہ ہے کہ دل کو اللہ کے لیے وقف کر دیا جائے، اور بندہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہو جائے، یہاں تک کہ اس کی روح اور خیالات میں کوئی دوسری چیز نہ رہے۔
جب بندہ اللہ کی محبت میں غرق ہو جاتا ہے، اور جب اس کا دل اللہ کی یاد میں مکمل یکسوئی حاصل کر لیتا ہے، تو وہ ایسا لطف اور سرور پاتا ہے، جس کا دنیا میں کوئی متبادل نہیں۔
۔✅ یہی وجہ ہے کہ عبادت گزار بندے کی روح ہر چیز سے منقطع ہو جاتی ہے، اور وہ صرف اللہ کے حضور جھکنے میں خوشی محسوس کرتا ہے۔
ایسی روح کا مقام وہ ہوتا ہے، جو زمین سے بلند ہو کر اللہ کے قرب میں پہنچ جاتا ہے، اور جب اس کا وقت آتا ہے، تو اس سے کہا جاتا ہے:۔
۔ يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ (27) ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً (28) فَادْخُلِي فِي عِبَادِي (29) وَادْخُلِي جَنَّتِي (30)۔
ترجمہ: اے مطمئن روح! اپنے رب کی طرف لوٹ آ، اس حال میں کہ تو اس سے راضی ہے، اور وہ تجھ سے راضی ہے۔ پس میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا، اور میری جنت میں داخل ہو جا۔ سورۃ الفجر۔
۔✅ یہی وہ کیفیت ہے، جو اعتکاف گزار کو اللہ کے قریب کر دیتی ہے۔
اعتکاف گزار کو اللہ کی قربت کیسے محسوس ہوتی ہے؟
۔✅ ابن القیمؒ مزید فرماتے ہیں:۔
جب بندہ اللہ کی عبادت میں مکمل محویت اختیار کر لیتا ہے، تو وہ ایسا لطف محسوس کرتا ہے، جیسے وہ اللہ سے براہ راست گفتگو کر رہا ہو، اس سے راز و نیاز کر رہا ہو، کبھی اس سے معذرت کر رہا ہو، کبھی اس کی حمد و ثناء کر رہا ہو، اور کبھی اس کے سامنے گڑگڑا کر مانگ رہا ہو۔
یہی وہ مقام ہے، جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:۔
۔”الإحسان أن تعبد الله كأنك تراه”۔
احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو، جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو۔ بخاری ۔
۔✅ یہی وہ روحانی کیفیت ہے، جب بندہ حقیقی طور پر اللہ کی محبت میں کھو جاتا ہے، اور ہر چیز اس کے لیے بے معنی ہو جاتی ہے، سوائے اس کے کہ وہ اللہ کے قریب ہو۔
جب بندہ اللہ سے دعا کرتا ہے، اس کے سامنے جھک جاتا ہے، تو اس کا دل سکون پا لیتا ہے، اور وہ عبادت میں ایسا لطف محسوس کرتا ہے، جس کی کوئی نظیر نہیں۔
۔✅ یہی وہ مقام ہے، جہاں بندہ صرف اللہ کے سامنے اپنی عاجزی اور بے بسی کا اظہار کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کو دعا اور عاجزی کیوں پسند ہے؟
۔✅ ابن القیمؒ مزید فرماتے ہیں:۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے، جب وہ اس کے سامنے گڑگڑاتا ہے، مانگتا ہے، دعا کرتا ہے، اور اپنی عاجزی ظاہر کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فضل اس کے بندے پر پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے، اور وہ اپنے علم کے مطابق بندے کی کوتاہیوں کے باوجود اس پر احسان فرماتا ہے۔
۔✅۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو مانگنے کا حکم اس لیے دیتا ہے، تاکہ وہ اپنی عاجزی اور بندگی کا اعتراف کرے، اور یہ ظاہر کرے کہ وہ اللہ کے بغیر کچھ نہیں۔
اللہ تعالیٰ کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بندہ اس سے مانگے یا نہ مانگے، مگر اللہ کو بندے کی عاجزی پسند ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ بندہ اس سے مانگے، تاکہ اس پر رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔
خلاصہ: اعتکاف کی مٹھاس کیسے حاصل کی جائے؟
۔✅ عبادت کی مٹھاس اور اس کا لطف تبھی حاصل ہوتا ہے، جب دل مکمل طور پر اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے۔
۔✅ اعتکاف کا اصل مقصد دنیاوی مشغولیات سے کٹ کر، اللہ کی محبت میں فنا ہو جانا ہے۔
۔✅ جب بندہ عبادت میں مکمل یکسوئی حاصل کر لیتا ہے، تو وہ ایسا لطف محسوس کرتا ہے، جو الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا۔
۔✅ اعتکاف گزار کو چاہیے کہ وہ عبادت میں اس قدر گم ہو جائے، کہ وہ اللہ کے قریب ہونے کا لطف محسوس کرے۔
۔✅ اللہ تعالیٰ کو وہ بندے پسند ہیں، جو اس کے سامنے گڑگڑاتے ہیں، عاجزی اختیار کرتے ہیں، اور اس سے مانگتے ہیں۔
۔✅ اللہ کی سب سے بڑی نعمت یہی ہے کہ وہ اپنے بندے کو اپنی عبادت میں سکون اور لطف عطا کرے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اعتکاف کی حقیقی مٹھاس اور روحانی لطف نصیب فرمائے، اور ہمیں اس عبادت کو اس کے اصل مقصد کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!۔
زمرے
رمضان