رمضان اور قرآن میں ایک خصوصی تعلق


 رمضان اور قرآن میں ایک خصوصی تعلق

رمضان المبارک وہ مبارک مہینہ ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:۔
۔(هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى)۔
۔(البقرة: 185)۔
مفہومی ترجمہ: یہ (قرآن) لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور اس میں راہِ راست کی واضح نشانیاں ہیں۔
ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔
۔”اللہ تعالیٰ نے رمضان کے مہینے کو تمام مہینوں پر فضیلت دی اور اسے قرآن کے نزول کے لیے منتخب کیا” (تفسیر ابن کثیر)۔
پس مؤمن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس بابرکت مہینے میں قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کرے، اسے پڑھے، سمجھنے کی کوشش کرے اور اس پر عمل کرے۔

رمضان میں نبی کریمﷺ کا قرآن سے تعلق:۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں قرآن کے ساتھ خصوصی مشغولیت اختیار فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں:۔
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ، وَكَانَ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ، فَلَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ.
۔(صحیح البخاری)۔
مفہومی ترجمہ: رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ سخی تھے، اور رمضان میں جب حضرت جبرائیلؑ سے ملاقات ہوتی، تو اس وقت سب سے زیادہ سخی ہوتے۔ حضرت جبرائیلؑ رمضان کی ہر رات آپؐ سے ملتے اور قرآن کا مذاکرہ کرتے۔ پس رسول اللہ ﷺ تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخاوت کرتے۔
اسی طرح نبی کریم ﷺ کی وفات والے سال میں قرآن کے دور کی تعداد دو بار کر دی گئی، جیسا کہ حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں:۔
كَانَ يَعْرِضُ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ الْقُرْآنَ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً، فَعَرَضَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ فِي الْعَامِ الَّذِي ‌قُبِضَ فِيهِ، وَكَانَ يَعْتَكِفُ كُلَّ عَامٍ عَشْرًا، فَاعْتَكَفَ عِشْرِينَ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ.
۔(صحیح البخاری)۔
مفہومی ترجمہ: ہر سال نبی کریم ﷺ ایک مرتبہ قرآن پاک کا دور فرماتے، مگر جس سال آپ ﷺ کا وصال ہوا، اس سال دو مرتبہ کیا گیا۔ اور آپ ﷺ ہر سال دس دن اعتکاف فرماتے، مگر وصال سے قبل والے سال بیس دن اعتکاف فرمایا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان المبارک میں قرآن کے ساتھ خصوصی تعلق قائم کرنا سنتِ نبوی ہے۔

قرآن کی تلاوت اور اس کا اجر:۔
نبی کریم ﷺ نے قرآن کی تلاوت پر عظیم اجر و ثواب کی بشارت دی، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے:۔
مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لا أَقُولُ (الم) حَرْفٌ، وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ، وَلَامٌ حَرْفٌ، وَمِيمٌ حَرْفٌ.
۔(سنن الترمذی)۔
مفہومی ترجمہ: جو شخص قرآن کا ایک حرف پڑھے گا، اسے ایک نیکی ملے گی، اور ہر نیکی دس درجہ بڑھا دی جائے گی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف، لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوبصورت آواز میں قرآن پڑھنے کی بھی ترغیب دی، جیسا کہ حضرت براء بن عازبؓ بیان کرتے ہیں:۔
حَسِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ، فَإِنَّ الصَّوْتَ الْحَسَنَ يَزِيدُ الْقُرْآنَ حُسْنًا.
۔(سنن الدارمی)۔
مفہومی ترجمہ: قرآن کو اپنی آواز سے مزین کرو، کیونکہ اچھی آواز قرآن کو مزید خوبصورت بنا دیتی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ رمضان المبارک میں قرآن سے زیادہ سے زیادہ تعلق قائم کرنا چاہیے، اسے تلاوت، تدبر اور غور و فکر کے ساتھ پڑھنا چاہیے، اور اس کے پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے، کیونکہ یہی اصل کامیابی ہے۔

Mian Muhammad Shahid Sharif

Accounting & Finance, Blogging, Coder & Developer, Graphic Designer, Administration & Management, Stores & Warehouse Management, an IT Professional.

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی