🌹 بسْمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ پوسٹ نمبر 98 ・❱━━━
نماز توڑنے والی چیزوں کا بیان:
نماز میں عمل کثیر کرنا
فقہاء کرام رحمھم اللہ نے یہ ضابطہ بیان کیا ہے کہ نماز عمل کثیر سے ٹوٹ جاتی ہے، عمل کثیر کی چند تعریفات کتب فقہ میں مذکور ہیں:
1. نماز میں ایسا عمل کرنا ، جو نماز کی جنس سے نہ ہو اور دور سے دیکھنے والا یہ سمجھے کہ یہ شخص نماز کی حالت میں نہیں ہے۔
2. ہر ایسا عمل جو دو ہاتھوں سے عموما کیا جاتا ہو ، وہ عمل کثیر ہے ، چاہے نمازی اس کو ایک ہاتھ سے کرے ، مثلا عمامہ باندھنا۔
3. بعض فقہاء کرام کے نزدیک ایک ہی رکن میں تین بار مسلسل کوئی حرکت اور عمل کرنا بھی عمل کثیر ہے ، مثلا ہاتھ اٹھایا اور بدن کھجایا ، پھر ہاتھ رکھ کر پھر اٹھایا اور بدن کھجایا ، اس طرح مسلسل تین دفعہ کیا ایک رکن کے وقت میں تو نماز ٹوٹ گئی۔
👈 ایک ہاتھ سے جو کام کیا جاتا ہے ، نماز میں اس کے کرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی ، البتہ بلاضرورت ایسا کرنا مکروہ ہے۔
📚حوالہ:
* بدائع الصنائع 1/553
* حاشیہ الطحطاوی 322
* حلبی کبیر 441
━━━━━━━━❪❂❫━━━━━━━
▒▓█ مَجْلِسُ الْفَتَاویٰ █▓▒
مرتب:✍
مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ
━━━━━━━━❪❂❫━━━━━━━