🌻 نا اہل ڈاکٹر کے نقصان پر تاوان لازم ہونے کا حکم


 🌻 نا اہل ڈاکٹر کے نقصان پر تاوان لازم ہونے کا حکم


📿 نا اہل اور جعلی ڈاکٹر کے نقصان پر تاوان لازم ہونے کا حکم:
ڈاکٹر کے لیے اپنے شعبے اور فیلڈ سے متعلق مہارت اور اہلیت حاصل ہونا ضروری ہے، ڈاکٹری میں مہارت کے لیے ضروری ہے کہ:
▪️ڈاکٹر کو مرض کی تشخیص وشناخت میں مہارت حاصل ہو۔
▪️دواؤں کے اثرات (یعنی ان کے ایکشن، ری ایکشن اور ایجابی، سلبی اثرات) سے واقفیت ہو۔
▪️مریض کے جسم اور مزاج کے لیے اُس دوا کے مفید ومضر ہونے سے متعلق مکمل معلومات ہوں۔ 
▪️متعلقہ معتبر محکمہ صحت کی جانب سے اس ڈاکٹر کو مریضوں کا علاج کرنے کی اہلیت واجازت پر مشتمل سرٹیفیکیٹ اور سند حاصل ہو۔
▪️اس لیے مطلوبہ اہلیت اور مہارت کے بغیر کسی شخص کا ڈاکٹر بن کر مریضوں کا علاج کرنا  ناجائز، گناہ اور غیر قانونی ہے، جس کے نقصانات محتاجِ بیان نہیں۔ ایسی صورت میں اگر اس ڈاکٹر کے غلط علاج کی وجہ سے کسی مریض کا نقصان ہوجائے یا اس کی جان چلی جائے تو اس کا تاوان اور ضمان اس ڈاکٹر پر لازم ہوگا، جس کی تفصیل نقصان کی نوعیت پر موقوف ہے، اس لیے ایسی المناک صورتحال میں اہلِ علم کے سامنے تفصیل ذکر کرکے ان سے راہنمائی لے لینی چاہیے۔ 

☀ سنن أبي داود:
4587- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ: حَدَّثَنَا حَفْصٌ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ: حَدَّثَنِي بَعْضُ الْوَفْدِ الَّذِينَ قُدِمُوا عَلَى أَبِي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «أَيُّمَا طَبِيبٍ تَطَبَّبَ عَلَى قَوْمٍ، لَا يُعْرَفُ لَهُ تَطَبُّبٌ قَبْلَ ذَلِكَ فَأَعْنَتَ فَهُوَ ضَامِنٌ». (بَابٌ فِيمَنْ تَطَبَّبَ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَأَعْنَتَ)
☀ زاد المعاد في هدي خير العباد ﷺ:
وَقَوْلُهُ ﷺ: «مَنْ تَطَبَّبَ»، وَلَمْ يَقُلْ: مَنْ طَبَّ؛ لِأَنَّ لَفْظَ التَّفَعُّلِ يَدُلُّ عَلَى تَكَلُّفِ الشَّيْءِ وَالدُّخُولِ فِيهِ بِعُسْرٍ وَكُلْفَةٍ، وَأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِهِ، كَتَحَلَّمَ وَتَشَجَّعَ وَتَصَبَّرَ وَنَظَائِرِهَا، وَكَذَلِكَ 
بَنَوْا تَكَلَّفَ عَلَى هَذَا الْوَزْنِ، قَالَ الشَّاعِرُ:
وَقَيْسُ عَيْلَانَ وَمَنْ تَقَيَّسَا
وَأَمَّا الْأَمْرُ الشَّرْعِيُّ فَإِيجَابُ الضَّمَانِ عَلَى الطَّبِيبِ الْجَاهِلِ، فَإِذَا تَعَاطَى عِلْمَ الطِّبِّ وَعَمَلَهُ، وَلَمْ يَتَقَدَّمْ لَهُ بِهِ مَعْرِفَةٌ، فَقَدْ هَجَمَ بِجَهْلِهِ عَلَى إِتْلَافِ الْأَنْفُسِ، وَأَقْدَمَ بِالتَّهَوُّرِ عَلَى مَا لَمْ يَعْلَمْهُ، فَيَكُونُ قَدْ غَرَّرَ بِالْعَلِيلِ، فَيَلْزَمُهُ الضَّمَانُ لِذَلِكَ، وَهَذَا إِجْمَاعٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ. قَالَ الخطابي: لَا أَعْلَمُ خِلَافًا فِي أَنَّ الْمُعَالِجَ إِذَا تَعَدَّى فَتَلِفَ الْمَرِيضُ كَانَ ضَامِنًا، وَالْمُتَعَاطِي عِلْمًا أَوْ عَمَلًا لَا يَعْرِفُهُ مُتَعَدٍّ، فَإِذَا تَوَلَّدَ مِنْ فِعْلِهِ التَّلَفُ ضَمِنَ الدِّيَةَ، وَسَقَطَ عَنْهُ الْقَوَدُ، لِأَنَّهُ لَا يَسْتَبِدُّ بِذَلِكَ بِدُونِ إِذْنِ الْمَرِيضِ، وَجِنَايَةُ الْمُتَطَبِّبِ فِي قَوْلِ عَامَّةِ الْفُقَهَاءِ عَلَى عَاقِلَتِهِ. 
(فصل هَدْيِهِ ﷺ فِي تَضْمِينِ مَنْ طَبَّ النَّاسَ وَهُوَ جَاهِلٌ بِالطِّبِّ)
☀ الموسوعة الفقهية الكويتية:
ضَمَانُ الطَّبِيبِ لِمَا يُتْلِفُهُ:
7- يَضْمَنُ الطَّبِيبُ إِنْ جَهِل قَوَاعِدَ الطِّبِّ أَوْ كَانَ غَيْرَ حَاذِقٍ فِيهَا، فَدَاوَى مَرِيضًا وَأَتْلَفَهُ بِمُدَاوَاتِهِ، أَوْ أَحْدَثَ بِهِ عَيْبًا. أَوْ عُلِّمَ قَوَاعِدَ التَّطْبِيبِ وَقَصَّرَ فِي تَطْبِيبِهِ، فَسَرَى التَّلَفُ أَوِ التَّعْيِيبُ. أَوْ عُلِّمَ قَوَاعِدَ التَّطْبِيبِ وَلَمْ يُقَصِّرْ وَلَكِنَّهُ طَبَّبَ الْمَرِيضَ بِلا إِذْنٍ مِنْهُ، كَمَا لَوْ خَتَنَ صَغِيرًا بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهِ، أَوْ كَبِيرًا قَهْرًا عَنْهُ، أَوْ وَهُوَ نَائِمٌ، أَوْ أَطْعَمَ مَرِيضًا دَوَاءً قَهْرًا عَنْهُ فَنَشَأَ عَنْ ذَلِكَ تَلَفٌ وَعَيْبٌ، أَوْ طَبَّبَ بِإِِذْنٍ غَيْرِ مُعْتَبَرٍ لِكَوْنِهِ مِنْ صَبِيٍّ، إِِذَا كَانَ الإِِذْنُ فِي قَطْعِ يَدٍ مَثَلاً، أَوْ بِعَضُدٍ أَوْ حِجَامَةٍ أَوْ خِتَانٍ، فَأَدَّى إِِلَى تَلَفٍ أَوْ عَيْبٍ: فَإِِنَّهُ فِي ذَلِكَ كُلِّهِ يَضْمَنُ مَا تَرَتَّبَ عَلَيْهِ. (تَطْبِيبٌ)

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہم 
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی

Mian Muhammad Shahid Sharif

Accounting & Finance, Blogging, Coder & Developer, Graphic Designer, Administration & Management, Stores & Warehouse Management, an IT Professional.

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی