🌻 بچہ دانی نکلوانے کا حکم


 📿 عورت کی بچہ دانی نکلوانے کا حکم:

عام حالات میں دائمی اور مستقل طور پر منع حمل کی کوئی صورت اور  تدبیر اختیار کرنا جیسے کہ بچہ دانی ہی نکلوا لینا جائز نہیں، یہ بہر صورت ممنوع ہے، اس لیے جب تک کوئی عارضی مانعِ حمل صورت قابلِ عمل ہو تو اسی کو اختیار کرنا چاہیے، البتہ صرف ایک صورت میں بچہ دانی نکلوانے کی گنجائش ہے کہ ماہر قابلِ اعتماد ڈاکٹروں اور طبیبوں کی رائے یہ ہو کہ بچہ پیدا ہونے کی صورت میں عورت کو جان کا یا کسی عضو کے ضائع ہونے کا خطرہ ہو تو ایسی صورت میں آپریشن کرکے بچہ دانی ہی نکلوا لینا تاکہ استقرارِ حمل نہ ہوسکے تو ایسی شدید مجبوری میں اس کی گنجائش ہے۔ 
(فتاوٰی محمودیہ، اہم فقہی فیصلے)

☀ فتح الباري شرح صحيح البخاري:
وَاسْتَدَلَّ بِهِ الْخَطَّابِيُّ عَلَى جَوَازِ الْمُعَالَجَةِ لِقَطْعِ شَهْوَةِ النِّكَاحِ بِالْأَدْوِيَةِ، وَحَكَاهُ الْبَغَوِيُّ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ»، وَيَنْبَغِي أَنْ يُحْمَلَ عَلَى دَوَاءٍ يُسَكِّنُ الشَّهْوَةَ دُونَ مَا يَقْطَعُهَا أَصَالَةً؛ لِأَنَّهُ قَدْ يَقْدِرُ بَعْدُ فَيَنْدَمُ لِفَوَاتِ ذَلِكَ فِي حَقِّهِ، وَقَدْ صَرَّحَ الشَّافِعِيَّةُ بِأَنَّهُ لَا يَكْسِرُهَا بِالْكَافُورِ وَنَحْوِهِ، وَالْحُجَّةُ فِيهِ أَنَّهُمُ اتَّفَقُوا على منع الْجب والخصاء فَيَلْحَقُ بِذَلِكَ مَا فِي مَعْنَاهُ مِنَ التَّدَاوِي بِالْقَطْعِ أَصْلًا. (بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ)
☀ الفتاوى الهندية:
خِصَاءُ بَنِي آدَمَ حَرَامٌ بِالِاتِّفَاقِ. (كِتَابُ الْكَرَاهِيَةِ: الْبَابُ التَّاسِعَ عَشَرَ فِي الْخِتَانِ وَالْخِصَاءِ وَقَلْمِ الْأَظْفَارِ وَقَصِّ الشَّارِبِ وَحَلْقِ الرَّأْسِ وَحَلْقِ الْمَرْأَةِ شَعْرَهَا وَوَصْلِهَا شَعْرَ غَيْرِهَا)

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہم 
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی

Mian Muhammad Shahid Sharif

Accounting & Finance, Blogging, Coder & Developer, Administration & Management, Stores & Warehouse Management, an IT Professional.

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی