🌻 ڈاکٹری ہمدردی یا ظلم؟


 🌻 ڈاکٹری ہمدردی یا ظلم؟


📿 ڈاکٹر کا رقم بٹورنے کی خاطر مریض کا نقصان کرنے کا حکم:
ڈاکٹری کا شعبہ انسانیت کی خدمت کا ایک عظیم الشان شعبہ ہے جس کی ضرورت، اہمیت اور فضائل محتاجِ بیان نہیں۔ اس شعبے کا بنیادی اور اصل مقصد انسانیت کی خدمت ہے، اس لیے اس کی بنیاد فقط دیانت، امانت اور ہمدردی پر ہے اور اس میں قدم قدم پر اور ہر مرحلے پر انھی صفات کی پاسداری کرنی چاہیے، لیکن آجکل کئی سارے ڈاکٹر دیانت، امانت اور ہمدردی جیسی اہم، اعلیٰ اور بنیادی صفات کو بالائے طاق رکھ کر اس شعبے کو فقط پیسہ کمانے کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں جس کے نتیجے میں خیانت اور ظلم کے جو مناظر سامنے آرہے ہیں وہ غیر شرعی اور غیر اخلاقی ہونے کے ساتھ ساتھ حد درجہ افسوس ناک بھی ہیں، ایسے ظالم ڈاکٹر طب کے اس عظیم الشان اور اہم ترین شعبے کے چہرے پر بد نما داغ ہیں، ان کا یہ طرزِ عمل سراسر ناجائز اور گناہ ہے، جس سے انھیں باز آنا چاہیے، بصورتِ دیگر متعلقہ حکومتی اداروں کو ان کے خلاف مؤثر کارروائی کرنی چاہیے۔
 ذیل میں ایسے ڈاکٹروں کی خیانت اور ظلم کی چند صورتیں ذکر کی جارہی ہیں:
1️⃣ مریض کو آپریشن کی ضرورت نہ ہونے کے باوجود محض رقم بٹورنے کی خاطر اس پر آپریشن کو لازم قرار دینا، حتی کہ مریض اور ان کے متعلقین کو اس قدر خوف زدہ کردیتے ہیں کہ وہ آپریشن کرانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
2️⃣ محض رقم بٹورنے کے لیے بلا ضرورت ٹیسٹ اور ایکسرے وغیرہ کرانے کی تجویز دینا اور وہ بھی اپنے متعلقہ کلینک، لیبارٹری اور ہسپتال میں!
3️⃣ سرکاری ہسپتال میں علاج ممکن ہونے کے باوجود ڈاکٹر کا مریض کا علاج نہ کرنا اور محض رقم بٹورنے کے لیے اس مریض کو علاج کے لیے اپنے پرائیویٹ کلینک یا ہسپتال آنے پر مجبور کرنا۔ 
4️⃣ مریض کو بار بار بلا ضرورت مشورے کے لیے بلانا اور ہر بار مشورے کی فیس لینا۔
5️⃣ مریض کو بلا ضرورت ایک سے زائد بار  اپنے پاس علاج اور معائنے کے لیے بلانا تاکہ ہر بار اس سے رقم بٹوری جاسکے۔
6️⃣ دواؤں کی کمپنیوں سے کمیشن اور مفادات لینے کی خاطر مریض کو انھی کمپنیوں کی غیر معیاری، غیر مفید یا غیر اہم ادویات تجویز کرنا۔
7️⃣ ولادت کے بعد بلا ضرورت بچے کو شیشے میں رکھنے پر مجبور کرنا تاکہ رقم بٹوری جاسکے۔
اس طرح کے تمام حربے اور وارداتیں شرعی اعتبار سے خیانت اور ظلم کے زمرے میں آتے ہیں، جس سے اجتناب کرنا بہت ضروری ہے، حالانکہ ڈاکٹر تو امانت دار، ہمدرد اور خیر خواہ ہوتا ہے، بھلا وہ ایسے ظلم والے کام کیسے کرلیتا ہے! 
اسی کے ساتھ ساتھ دو احادیث ملاحظہ فرمائیں: ایک تو یہ کہ حضور اقدس ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا کہ:’’دین سراسر خیر خواہی ہے۔‘‘ جیسا کہ ’’سنن ابی داود‘‘ میں ہے:
4946- عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِىِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ، إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ، إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ»، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «لِلّٰہِ، وَكِتَابِهِ، وَرَسُولِهِ، وَأَئِمَّةِ الْمُؤْمِنِينَ وَعَامَّتِهِمْ، وَأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ».
اس لیے مسلمان ڈاکٹروں کو مریضوں کا خیر خواہ ہی ہونا چاہیے اور ہر قسم کے ظلم، خیانت اور بد خواہی سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔ دوسری حدیث یہ ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جس شخص سے اُس کے مسلمان بھائی نے کوئی مشورہ طلب کیا، جس پر اُس شخص نے مشورہ طلب کرنے والے کو غلط مشورہ دیا تو یقینًا اس شخص نے اس بھائی کے ساتھ خیانت کی۔‘‘
☀ المستدرك على الصحيحين:
349- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِأَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: «مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، وَمَنِ اسْتَشَارَهُ أَخُوهُ فَأَشَارَ عَلَيْهِ بِغَيْرِ رِشْدَةٍ فَقَدْ خَانَهُ، وَمَنْ أَفْتَى بِفُتْيَا غَيْرِ ثَبْتٍ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ». تَابَعَهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو.
☀ التعليق من تلخيص الذهبي: 
وتابعه يحيى بن أيوب عن بكر بن عمرو بنحوه احتجا برواته سوى عمرو وقد وثق.
یہ حدیث بھی ایک ڈاکٹر کو یہ تاکید کرتی ہے کہ وہ مریض کو خیر خواہانہ اور صحیح مشورہ دے اور اس کی صحیح راہنمائی کرے، کیونکہ غلط مشورہ اور غلط راہنمائی خیانت کے زمرے میں آتی ہے۔

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہم 
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی

Mian Muhammad Shahid Sharif

Accounting & Finance, Blogging, Coder & Developer, Graphic Designer, Administration & Management, Stores & Warehouse Management, an IT Professional.

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی