🌴﹍ⲯ﹍ⲯ﹍ حضرت ابو بکر صدیقؓ ﹍🌴﹍🌴⭐تیسری قسط ⭐🌴


🌴﹍ⲯ﹍ⲯ﹍ حضرت ابو بکر صدیقؓ ﹍🌴﹍🌴⭐تیسری قسط ⭐🌴

یارِ غار والمزار ، افضل الخلائق بعد الانبیاء  کے حالاتِ زندگی پیدائش تا وفات
الکمونیا ─╤╦︻میاں شاہد︻╦╤─ آئی ٹی درسگاہ
✍🏻 طاہر چوھدری
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
سیدنا ابو بکر کا سلسلہ نسب چھٹی پست میں مرہ پر امام کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے(طبقات ابن سعد قسم اول جزء ثالث صفحہ 119)
سیدنا ابو بکر کے والد:
ابو قحافہ عثمان بن عمرو شرفائے مکہ میں سے تھے اور نہایت معمر تھے ابتداء جیسا کہ بوڑھوں کا قاعدہ ہے وہ اسلام کی تحریک کو بازیچہء اطفال سمجھتے تھے چنانچہ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب امام کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی تو میں امام کائنات کی تلاش میں ابو بکر کے گھر آیا اور وہاں ابوقحافہ موجود تھے انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ایک طرف سے گزرتے ہوئے دیکھ کر نہایت برہمی سے کہا کہ ان بچوں نےمیرے لڑکے کو بھی خراب کر دیا ہے۔ (الاصابہ جلد 4 صفحہ 221)
ابو قحافہ فتح مکہ تک اپنے آبائی مذہب پر قائم رہے فتح مکہ کے بعد جب رسول اللہ مسجد میں تشریف فرماتھے اور وہ اپنے فرزند سعید سیدنا ابو بکر کے ساتھ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور امام کائنات نے ان کی ضعف پیری کو دیکھ کر فرمایا کہ انہیں کیوں تکلیف دی ہے میں خود ان کے پاس پہنچ جاتا اس کے بعد امام کائنات نے نہایت شفقت سے ان کے سینہ پر ہاتھ پھیرا اور کلمات طیبات تلقین کر کے مشرف بہ اسلام فرمایا سیدنا ابو قحافہ نے بڑی عمر پائی۔ امام کائنات کے بعد اپنے فرزند ارجمند سیدنا ابو بکر کے بعد بھی کچھ دنوں تک زندہ رہے آخر عمر میں بہت ضعیف ہوگئے تھے اور آنکھوں کی بصارت چلی گئی تھی۔ 14ھ میں 97 برس کی عمر میں وفات پائی۔ (الاصابہ جلد4 صفحہ 222)
ابتدائی زندگی
واقعہ فیل کے تین برس بعد آپ کی مکہ میں ولادت ہوئی۔ آپ کا سلسلہ نسب ساتویں پشت پر سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مل جاتا ہے۔ آپ کا نام پہلے عبد الکعبہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بدل کر عبد اللہ رکھا، آپ کی کنیت ابوبکر تھی۔ آپ قبیلہ قریش کی ایک شاخ بنو تمیم سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد کا نام عثمان بن ابی قحافہ اور والدہ کا نام ام الخیر سلمٰی تھا۔ آپ کا خاندانی پیشہ تجارت اور کاروبار تھا۔ مکہ میں آپ کے خاندان کو نہایت معزز مانا جاتا تھا۔ کتب سیرت اور اسلامی تاریخ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعثت سے قبل ہی آپ کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان گہرے دوستانہ مراسم تھے۔ ایک دوسرے کے پاس آمد و رفت، نشست و برخاست، ہر اہم معاملات پر صلاح و مشورہ روز کا معمول تھا۔ مزاج میں یکسانی کے باعث باہمی انس ومحبت کمال کو پہنچا ہوا تھا۔ بعثت کے اعلان کے بعد آپ نے بالغ مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ ایمان لانے کے بعد آپ نے اپنے مال و دولت کو خرچ کرکے مؤذن رسول حضرت بلال سمیت بے شمار ایسے غلاموں کو آزاد کیا جن کو ان کے ظالم آقاؤں کی جانب سے اسلام قبول کرنے کی پاداش میں سخت ظلم وستم کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ آپ کی دعوت پر ہی حضرت عثمان، حضرت زبیر بن العوام، حضرت طلحہ، حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت سعد بن ابی وقاص جیسے اکابر صحابہ ایمان لائے جن کو بعد میں دربار رسالت سے عشرہ مبشرہ کی نوید عطا ہوئی۔
صدیق قبل اسلام:
سیدنا ابوبکر صدیق اسلام سے قبل ایک متمول تاجر کی حیثیت رکھتے تھے اور ان کی دیانتداری اور راست بازی کا خاصہ شہرہ تھا اہل مکہ ان کو علم تجربہ اور حسن خلق کے باعث نہایت معزز سمجھتے تھے ایام جاہلیت میں خون بہا کا مال آپ ہی کے پاس جمع کرایا جاتا تھا اگر کبھی کسی دوسرے شخص کے یہاں جمع ہوتا توقریش اس کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔سیدنا صدیق کو ایام جاہلیت میں بھی شراب نوشی سے نفرت تھی جیسی زمانہ اسلام میں تھی اس قسم کے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ شراب نوشی میں نقصان آبرو ہے رحمت کائنات کے ساتھ بچپن ہی سے ان کوخاص انس اور خلوص تھااور امام کائنات کے حلقہ ء احباب میں ہی داخل تھے اکثر تجارت کے سفروں میں بھی ہمراہی کا شرف حاصل ہوتا تھا۔
اسلام اور صدیق:
رحمت کائنات کو جب خلعت نبوت عطا ہوا اور امام کائنات نے مخفی طور پر احباب مخلصین اورمحرمان راز کے سامنے اس حقیقت کو ظاہر فرمایا تو مردوں میں سے سیدنا ابو بکر نے سب سے پہلے بیعت کے لیے ہاتھ بڑھایا اور بعض ارباب سیر نے ان کے قبول اسلام کے متعلق بہت سے طویل قصے نقل کیے ہیں لیکن یہ سب حقیقت سے دور ہیں اصل یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر کا آئینہ دل پہلے ہی سے صاف تھا فقط خورشید حقیقت کے عکس افگنی کی دیر تھی کیونکہ گذشتہ صحبتوں کے تجربوں نے نبوت کے خدوخال کو اس طرح واضح کر دیا تھا کہ معرضت حق کے لیے کوئی انتظار باقی نہ رہا البتہ ان کے اول مسلمان ہونے میں بعض مؤرخین اور اہل آثار نے کلام کیا ہے بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیدہ خدیجہ کا اسلام سب سے مقدم ہے اور بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا علی کو اولیت کا فخر حاصل ہے۔اور بعض کا خیال ہے کہ سیدنا زید بن ثابت بھی سیدنا ابوبکر سے پہلے مسلمان ہوچکے تھے لیکن اس کے مقابلہ میں ایسی اخبار وآثار بھی بکثرت موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اولیت کا طغرائے شرف و امتیاز صرف اسی ذات گرامی کےلیے مخصوص ہے اور سیدنا حسان بن ثابت کے ایک قصیدہ سے بھی اسی خیال کی تائید ہوتی ہے۔
اذاتذکرت شجوا من اخی ثقۃ
فاذکر اخاک ابابکر بما فعلا
جب تم صداقت شعار ہستی کے دکھ درد کو یا د کرنے لگو تو اپنے بھائی ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کارناموں کو یاد کرلینا۔
خیر البریۃ اتقاھا واعدلہا
بعدالنبی واوفاہا بما حملا
جو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور انبیاء کرام کے بعد تمام مخلوق میں سب سے بہتر، سب سے زیادہ پرہیزگار اور سب سے زیادہ انصاف پسند ہیں ،ونیز ذمہ داری میں سب سے زیادہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے والے ہیں ۔
والثانی التالی المحمود مشہدہ
واول الناس ممن صدق الرسلا
نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے یار غار ، ہمیشہ آپ کی صحبت میں رہنے والے اور مخلوق میں قابل تعریف ہیں ‘ اور سب سے پہلے رسولوں کی تصدیق کرنے والے ہیں ۔
محقیقن نے ان مختلف احادیث وآثار میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ عورتوں میں سیدنا علی بچوں میں سیدنا زید بن حارثہ غلاموں میں اور سیدنا صدیق آزاد اور بالغ مردوں میں سب سے اول مومن ہیں۔ (فتح الباری ج7 ص 130)
صدیق اسلام اور مکی زندگی:
صدیق اسلام اور مکی زندگی:
رحمت کائنات نے بعثت کے بعد کفار کی ایذا رسانی کے باوجود تیرہ برس تک مکہ میں دعوت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا سیدنا ابو بکر اس بے بسی کی زندگی میں جان مال رائے اور مشورہ غرض ہر حیثیت سے رحمت کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے رنج و راحت میں دست و بازوبنے رہے امام کائنات روزانہ صبح وشام سیدنا ابو بکر کے گھر تشریف لے جاتے اور دیر تک مجلس راز قائم رہتی۔(بخاری باب الہجرۃ النبی واصحابہ الی المدینہ)
مکہ میں ابتداً جن لوگوں نے داعی توحید کو لبیک کہا ان میں کثیر تعداد غلاموں اور لونڈیوں کی تھی جو اپنے مشرک آقاؤں کے پنجہء ظلم و ستم میں گرفتار ہونے بندگانِ توحید کو ان کے جفاکار مالکوں سے خرید کر آزاد کردیا۔ چنانچہ سیدنا بلال عامر بن فہیرہ، نہدیہ، جاریہ بنی مؤمل اور بنت نہدیہ وغیرہ اس صدیقی جودوکرم کے ذریعہ نجات پائی۔ لیکن آج معاملہ اس کے برعکس نظر آتا ہے کہ ایک نام نہاد مسلم حاکم وقت جس نے ایک آزاد بنت حوا ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو کافروں اور اسلام کے دشمنوں کے حوالے کیا گیا آج کہاں ہیں صلاح الدین ایوبی اور طارق بن زیاد کے روحانی فرزند جو زیاد کی طرح اپنی بہن کی عصمت کےلیے لبیک کہیں؟ اور وہ صدیق تھے کہ جب بھی کفار مکہ امام کائنات پر دست درازی کرتے تو یہ مخلص جانثار اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کافروں کےآگے سینہ سپر ہو جاتے ایک دفعہ رحمت کائنات خانہ کعبہ میں تقریر کر رہے تھے اور مشرکین مکہ اس تقریر سے سخت برہم ہوئے اور اس قدر مارا کہ امام کائنات بے ہوش ہوگئے اور ابو بکر نے آگے بڑھ کر کہا کہ اللہ تمہیں سمجھائے کیا تم ان کو اس لیے قتل کرو گے کہ یہ صرف ایک اللہ کا نام لیتاہے۔(فتح الباری ج7 ص 129) ایسےپیچیدہ حالات کی وجہ سے رحمت کائنات نے ہجرت مدینہ کا ارادہ کیا اور مشرکین مکہ اپنے تمام مکروں کو آزمانے کے باوجود اپنی ناکامی پر سخت برہم ہوئے اور اسی وقت رحمت کائنات کی گرفتاری کا اعلان کیا کہ جوشخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کرکے لائے گا اس کو سو اونٹ انعام میں دیئے جائیں گے چنانچہ متعدد بہادروں نے اپنے باطل مذہب کا جوش اور انعام کی طمع و لالچ میں امام کائنات کی تلاش میں نکلے یہاں تک کہ مکہ کے اطراف میں کوئی آبادی ویرانہ جنگل اورپہاڑ یا سنسان میدان ایسا نہ ہوگا جس کا جائزہ نہ لیا گیا ہو یہاں تک کہ ایک جماعت غارثور کے پاس جاپہنچی(جوکہ ہجرت کے دوران سب سے پہلی آرام گاہ تھی) اس وقت سیدنا صدیق کو نہایت اضطراب ہوا اور حزن و یاس کے عالم میں بولے اللہ کے رسول اگر وہ ذرا سی بھی نیچے کی طرف نگاہ کریں گے توہمیں دیکھ لیں گے مگر امام کائنات نے صدیق کو تشفی دی اور فرمایا مایوس وغمزدہ نہ ہوں ہم صرف دو نہیں ہیں ایک تیسرا (یعنی اللہ) بھی ہمارے ساتھ ہے۔ (مسلم فضائل ابی بکر الصدیق)
اس تشفی آمیز فقرہ سے سیدنا ابو بکر صدیق کو اطمینان ہو گیا اور ان مضطرب دل امداد غیبی کے تیقن پر لازوال جرأت و استقلال سے مملو ہوگیا خدا کی قدرت کہ کفارجو تلاش کرتے ہوئے اس غار تک پہنچے تھے ان کو مطلق محسوس نہ ہوا کہ ان کا گوہر مقصود اسی کان میں پنہاں ہے اور وہ ناکام واپس چلے گئے۔ فرمایا امام کائنات نے (من کان للہ کان اللہ لہ۔۔۔) اسی طرح یہ مختصر قافلہ دشمنوں کی گھاٹیوں سے بچتا ہوا بارہویں ربیع الاول سنہ نبوت کے چودہویں سال مدینہ کے قریب پہنچا اور انصار کو امام کائنات کی روانگی کا حال معلوم ہو چکاتھا وہ نہایت بے چینی سے آپ کا انتظار کر رہے تھے امام کائنات شہر کے قریب پہنچے تو انصار مدینہ استقبال کے لیے نکلے اور ہادی برحق کو حلقہ میں لے کر شہر قبا کی طرف بڑھے امام کائنات نے اس قافلے کو داہنی طرف مڑنے کا حکم دیا اور بنی عمرو بن عوف میں قیام پذیر ہوئے اور یہاں انصار جوق در جوق زیارت کےلیے آنے لگے اور رحمت کائنات خاموشی کے ساتھ تشریف فرماتھے اور سیدنا ابوبکر کھڑے ہو کر لوگوں کا استقبال کر رہے تھے بہت سے انصار جوپہلے رحمت کائنات کی زیارت سے مشرف نہیں ہوئے تھے وہ غلطی سے سیدنا ابو بکر کے گرد جمع ہونے لگے یہاں تک کہ جب آفتاب نبوت سامنے آنے لگا اور جانثار خادم نے بڑھ کر اپنی چادر سے آقائے نامدار پر سایہ کیا تو اس وقت خادم اور مخدوم میں امتیاز ہو گیا اور لوگوں نے رسالت مآب کو پہنچانا۔(بخاری باب ہجرۃ النبی واصحابہ)
ایک المناک سانحہ پر سیدنا صدیق کی ثابت قدمی:
جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوئے تو سیدنا ابوبکر صدیق مدینہ کی مشرقی جانب سُخ نام گاؤں میں مقیم تھے یہ جگہ اب مدینہ کے ائیرپورٹ کے قرب وجوار میں بنتی ہے جیسے ہی ان کو اس عظیم سانحے کی اطلاع ملی تو فوراً گھوڑے پر سوار ہوکر سُخ سے مدینہ منورہ تشریف لائے اور گھوڑے سے اترتے ہی مسجد بنوی میں داخل ہوئے لوگوں سے گفتگو نہیں کی سیدھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں پہنچے جہاں رسول اللہ کا جسد اطہر یمنی کپڑے سے ڈھکا ہواتھا سیدنا ابوبکر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹایا اور جھک کر آپ کے سر مبارک کا بوسہ لیا اور فرط غم سے رونے لگے پھر فرمایا:
بِأَبِي أَنْتَ يَا نَبِيَّ اللهِ لاَ يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ أَمَّا الْمَوْتَةُ الَّتِي كُتِبَتْ عَلَيْكَ فَقَدْ مُتَّهَا
صحيح البخاري (2/ 90)
اللہ کے نبی! میرا باپ آپ پر قربان ہو! اللہ آپ کو دو مرتبہ موت نہیں دے گا جوموت آپ کےلیے لکھی تھی وہ آچکی ہے۔
سیدنا ابو بکررضی اللہ عنہ حجرے سے باہر نکلے سیدنا عمر لوگوں سے محو گفتگو تھے آپ نے فرمایا(اجلس یا عمر!) عمر بیٹھ جائیے لیکن سیدنا عمر نے جوش و غضب میں اپنی گفتگو جاری رکھی سیدنا ابو بکر کھڑے ہو گئے اور خطبہ دینے لگے آپ نےاللہ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد وہ الفاظ ارشاد فرمائے کہ اگر ان الفاظ کو سونے کے پانی سے لکھا جائے تو پھر بھی حق ادا نہیں ہوگا۔
۔
فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم فَإِنَّ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَىٌّ لاَ يَمُوتُ
صحيح البخاري(2/ 91)
جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو وہ جان لے کہ وہ فوت ہوگئے ہیںاور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ
جان لے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے۔
شئیر کریں جزاکم اللہ خیرا۔۔۔
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*

Mian Muhammad Shahid Sharif

Accounting & Finance, Blogging, Coder & Developer, Administration & Management, Stores & Warehouse Management, an IT Professional.

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی