🗡️🛡️⚔*شمشیرِ بے نیام*⚔️🛡️🗡️ : *قسط 44*👇




🗡️🛡️⚔*شمشیرِ بے نیام*⚔️🛡️🗡️
🗡️ تذکرہ: حضرت خالد ابن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ 🗡️
✍🏻تحریر:  عنایت اللّٰہ التمش
🌈 ترتیب و پیشکش : *میاں شاہد*  : آئی ٹی درسگاہ کمیونٹی
قسط نمبر *44* ۔۔۔۔

شرجیلؓ پریشان سے ہو گئے اور خالدؓ کے پاس گئے-شرجیلؓ بن حسنہ نے خالدؓ بن ولید کو لڑائی کی ساری روئیداد سنائی اور یہ بھی بتایا کہ رومی سالار توما اگر مرا نہیں تو وہ لڑائی کیلئے ناکارہ ہو گیا ہے ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی کتنی نفری شہید اور کتنی نفری زخمی ہو گئی ہے۔’’اگر رومیوں نے ایسا ہی ایک اور حملہ کیا تو شاید ہم نہ روک سکیں۔‘‘شرجیلؓ نے خالدؓ سے کہا۔’’مجھے کمک کی ضرورت ہے۔‘‘’’حسنہ کے بیٹے!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ایسا حملہ کسی اور دروازے سے ہم میں سے کسی اور پر بھی ہو سکتا ہے۔کسی بھی دستے کی نفری کم نہیں کی جاسکتی……ابنِ حسنہ!خدا کی قسم، تو ہمت ہارنے والوں میں سے نہیں تھا۔کیا اپنے اتنے زیادہ ساتھیوں کے خون نے تیرا حوصلہ کمزور کر دیا ہے؟‘‘’’نہیں ابنِ ولید!‘‘شرجیلؓ نے کہا۔’’اگر مجبوری ہے تو میں ایک آدمی کی بھی کمک نہیں مانگوں گا۔‘‘’’میں تجھے تنہا نہیں چھوڑوں گا۔  ‘‘خالدؓ نے کہا۔’’تجھ پر حملہ ہوا تو ہم دیکھتے رہیں گے، اگر حملہ تیری برداشت سے باہر ہوا تو ضرار تیری مدد کو پہنچے گا۔پھر بھی ضرورت پڑی تو میں آجاؤں گا……تیرے پاس جتنی بھی نفری رہ گئی ہے اسے تیار رکھ۔ رومیوں کے سالار کو اگر آنکھ میں تیر لگا ہے تو ایک دو دن رومی باہر آکر حملہ نہیں کریں گے۔‘‘خالدؓ کی رائے صحیح نہیں تھی،توما نے ایک معجزہ کر دکھایا تھا۔وہ صحیح معنوں میں جنگجو تھا۔چونکہ وہ شاہی خاندان کافرد تھا، اس لیے سلطنتِ روم کی جو محبت اس کے دل میں تھی وہ قدرتی تھی۔بعد میں پتا چلا تھا کہ اس کی آنکھ میں تیر لگا تو اسے اٹھا کر اندر لے گئے۔جراح نے دیکھا کہ تیر اتنا زیادہ اندر نہیں اترا کہ توما کی ہلاکت کا باعث بن جائے۔کھوپڑی کی ہڈی کو تیر نے مجروح نہیں کیا تھا۔یہ صرف آنکھ میں اترا لیکن نکالا نہیں جا سکتا تھا۔ ’’کاٹ دو اسے!‘‘توما نے جراح سے کہا۔’’باقی اندر ہی رہنے دو،اور اس آنکھ پر پٹی باندھ دو،دوسری آنکھ پر پٹی نہ آئے۔میں آج رات ایک اور حملہ کروں گا۔‘‘’’سالارِ اعلیٰ!‘‘جراح نے کہا۔’’کیا کہہ رہے ہیں آپ؟آپ لڑائی کے قابل نہیں۔‘‘’’اس ایک آنکھ کے بدلے مسلمانوں کی ایک ہزار آنکھیں ضائع کروں گا۔‘‘توما نے کہا۔’’میں انہیں صرف شکست نہیں دوں گا، میں ان کے وطن عرب تک ان کا تعاقب کروں گا۔میں اپنے کام کو اس وقت مکمل سمجھوں گا جب ان کے ملک کو اس قابل رہنے دوں گا کہ وہاں صرف جانور رہ جائیں گے۔‘‘توما کے یہ الفاظ متعدد مؤرخوں نے لکھے ہیں اور واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے۔ان میں یورپی تاریخ دان ہنری سمتھ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ان سب کی تحریروں کے مطابق توما کے حکم سے جراح نے تیر آنکھ کے قریب سے کاٹ دیااور اوپر پٹی کس کر باندھ دی۔یہ جذبے اور عزم کی پختگی کا کرشمہ تھا کہ تومانے اتنے شدید زخم کو برداشت کر لیا اور حکم دیا کہ آج ہی رات باہر نکل کر مسلمانوں پر حملہ کیا جائے گا۔’’اتنی ہی فوج بابِ توما کے سامنے اکٹھی کی جائے جتنی میں دن کے حملے میں لے کر گیا تھا۔‘‘توما نے حکم دیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔چلتے چلتے اس نے شراب پی اور ہتھیار بند ہو کر باہر نکل گیا۔

اُن راتوں کو چاند پورا ہوتا تھا۔فضاء صاف رہتی تھی۔اس لئے چاندنی شفاف ہوتی تھی۔توما نے بڑا اچھا طریقہ اختیار کیا۔اس نے اپنے تمام دستوں کے کمانڈروں کو حکم دیا کہ تین اور دروازوں بابِ صغیر، بابِ شرق، اور بابِ جابیہ۔سے باہر جا کر مسلمانوں پر اس طرح حملے کریں کہ اپنے آپ کو لڑائی میں اتنا زیادہ نہ الجھائیں بلکہ انہیں اپنے ساتھ لڑائی میں مصروف رکھیں، وہ خود بڑا حملہ بابِ توما سے کر رہا تھا۔دوسرے دروازوں سے حملے کرانے سے اسکا مطلب یہ تھا کہ شرجیلؓ کو کسی طرف سے مدد نہ مل سکے۔’’تمہارا دشمن اس وقت حملے کی توقع نہیں رکھتا ہوگا۔‘‘توما نے اپنے نائب سالاروں سے کہا۔’’تم انہیں سوتے میں دبوچ لو گے۔‘‘توما کی فوج چار دروازوں سے باہر نکلی۔وقت آدھی رات کا تھا۔چاندنی اتنی صاف تھی کہ اپنے پرائے کو پہچانا جا سکتا تھا، مسلمانوں پر چار جگہوں سے حملے ہوئے،ایک دروازے کے سامنے سالار ابو عبیدہؓ تھے، دوسرے کے سامنے یزیدؓ بن ابو سفیان تھے، ابو عبیدہؓ نے رومیوں کو جلدی بھگا دیا اور رومی قلعے میں واپس چلے گئے۔یزیدؓ بن ابو سفیان کی حالت کمزور سی ہو گئی۔رومیوں نے ان پر بڑا ہی شدید ہلہ بولا تھا۔یزیدؓ نے مقابلہ تو کیا لیکن رومی ان پر حاوی ہوتے جا رہے تھے ۔ضرار بن الازور مدد دینے کے کام پر معمور تھے ۔انہیں پتا چلا کہ یزیدؓ کو مدد کی ضرورت ہے تو وہ دو ہزار سوار اور پیادہ مجاہدین کے ساتھ یزیدؓ کے پاس پہنچ گئے۔ضرار کی جسمانی حالت لڑنے کے قابل نہیں تھی،ان کے بازو میں تیر لگا تھا اور جسم پر دو تین اور گہرے زخم تھے۔پھر بھی وہ میدانِ جنگ میں موجود تھے اور ان کی برچھی پورا کام کر رہی تھی۔ضرار نے اپنی اور یزیدؓ کی فوج کو ملا کر حملے کا حکم دیا۔یہ بڑا ہی شدید حملہ تھا،رومیوں پر ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ قلعے میں واپس چلے گئے۔ان کی لاشیں اور زخمی پیچھے رہ گئے۔تیسرے دروازے کے سامنے رافع بن عمیرہ کے دستے تھے۔ان پر بھی رومیوں نے شدید حملہ کیا اور رافع کے پاؤں اکھاڑ دیئے۔مسلمان بڑی بے خوفی سے لڑرہے تھے لیکن رومیوں کا دباؤ بڑا سخت تھا۔اتفاق سے خالدؓ نے دیکھ لیا اور وہ چار سو سواروں کو ساتھ لے کر رافع کے پاس پہنچے۔’’میں فارس جلیل ہوں!‘‘خالدؓ نے نعرہ لگایا۔’’میں خالد ابنِ ولید ہوں۔‘‘خالدؓ نے رومیوں پر صرف چار سو سواروں سے حملہ کر دیا۔رومی جو رافع کے دستوں پر غلبہ پا رہے تھے ، پیچھے کو دوڑ پڑے، اور دروازے میں داخل ہو کر دروازہ بند کر دیا۔

اصل لڑائی تو بابِ توماکے سامنے ہو رہی تھی۔توما نے خود وہاں حملہ کیا تھا۔شرجیلؓ کی نفری تھوڑی تھی۔مجاہدین کی تعداد کم رہ گئی تھی،اور وہ دن کی لڑائی کے تھکے ہوئے بھی تھے ۔شرجیلؓ نے اب بھی پہلوؤں کے تیر اندازوں کو استعمال کیا ۔رومی تیر کھا کھاکر گرتے تھے لیکن حملے کیلئے آگے بڑھے آرہے تھے۔شرجیلؓ نے دن کے حملے میں توما کی گرجدار آواز سنی تھی، انہوں نے رات کو بھی اسی آواز کی للکار سنی تو وہ حیران رہ گئے کہ توما حملے کی قیادت کر رہا ہے۔یہی وجہ تھی کہ رومی تیروں کی بوچھاڑوں میں بھی آگے بڑھے آرہے تھے۔چاندنی رات میں دونوں فوجوں کی بڑی سخت ٹکر ہوئی۔شرجیلؓ کے مجاہدین نے حملہ روک لیا اور بڑی خونریز لڑائی ہوتی رہی۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ یہ لڑائی کم و بیش دو گھنٹے جاری رہی اور وہ دونوں فوجوں کے آدمی گرتے رہے۔شرجیلؓ کو کسی طرف سے بھی مدد ملنے کی توقع نہیں تھی۔ لڑائی شدت اختیار کرتی گئی۔شرجیلؓ کو توما کی آواز حیران کر رہی تھی، اور توما شرجیلؓ کو ڈھونڈ رہا تھا۔اس کی دلیری غیر معمولی تھی۔اسے چاندنی میں مسلمانوں کا پرچم نظر آگیا، اور وہ شرجیلؓ کو للکار کر ان کی طرف بڑھا۔شرجیلؓ اس کے مقابلے کیلئے تیار ہو گئے۔ ’’ایک آنکھ کے بدلے ایک ہزار آنکھیں لوں گا۔‘‘توما نے کہا۔’’خدا کی قسم!تو دوسری آنکھ بھی دینے آیا ہے۔‘‘شرجیلؓ نے کہا۔دونوں آمنے سامنے آگئے،اور دونوں گھوڑوں سے اترآئے۔دونوں کے ہاتھوں میں تلواریں اور ڈھالیں تھیں اور دونوں تیغ زنی کے ماہر تھے۔شرجیلؓ کو توقع تھی کہ توما کی ایک ہی آنکھ ہے اور اس کی دوسری آنکھ بھی زخمی ہے اس لیے وہ لڑ نہیں سکے گالیکن وہ پوری مہارت سے لڑ رہا تھا۔شرجیلؓ کو یہ تو معلوم ہی نہیں تھا کہ تیر ابھی توما کی آنکھ میں ہی ہے۔شرجیلؓ کا ہر وار توما بچا جاتا تھا، اور توما کا ہر وار شرجیلؓ بچا رہے تھے۔شرجیلؓ نے ایک وار بڑا ہی زور دار کیا، ان کی تلوار پہلے توما کی آہنی خود پر لگی، اور وہاں سے پھسل کر کندھے پر لگی جہاں آہنی زرہ تھی۔اتنا زور دار وار لوہے پر پڑا تو تلوار ٹوٹ گئی۔توما نے للکار کر وار کیا، جو شرجیلؓ نے ڈھال پر لیا۔وہ اب تلوار کے بغیر تھے ،وار صرف روک سکتے تھے۔توما بڑھ بڑھ کر وار کر رہا تھا۔شرجیلؓ کے دو مجاہدین نے دیکھ لیا کہ شرجیلؓ تلوار کے بغیر خطرے میں ہیں تو وہ شرجیلؓ اور توما کے درمیان آگئے۔شرجیلؓ نے اِدھر اُدھر دیکھا،وہ کسی کی تلوار ڈھونڈ رہے تھے ۔کچھ دور انہیں اپنے ایک شہید مجاہد کی لاش کے قریب اس کی تلوار پڑی نظر آئی۔انہوں نے دوڑ کر تلوار اٹھا لی اور واپس آئے لیکن توما وہاں نہیں تھا،شرجیلؓ نے اپنے دونوں مجاہدین سے پوچھا کہ توما کہاں ہے؟انہوں نے بتایا کہ وہ پیچھے ہٹتے ہٹتے لڑائی کے ہنگامے میں گم ہو گیا ہے۔انہوں نے اسے گھوڑے پر سوارہوتے دیکھا تھا۔

شرجیلؓ کے اعصاب پر بڑا تکلیف دہ دباؤتھا۔انہیں پوری طرح یقین نہیں تھا کہ وہ رومیوںکو شکست دے سکیں گے۔لڑنے میں شرجیلؓ اور ان کے دستے نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔انہوں نے چند سو سواروں کو الگ کرکے پہلو سے رومیوں پر ایک زور دار ہلّہ بولا۔کچھ تو اس ہلّے نے کام کیا،کچھ رومی مایوس ہو گئے اور وہ پیچھے ہٹنے لگے،رومیوں میں یہ خوبی تھی کہ وہ بے ترتیب ہو کر نہیں بھاگتے تھے بلکہ ترتیب اور تنظیم سے پیچھے ہٹتے تھے۔شرجیلؓ نے انہیں پیچھے ہٹتے دیکھا تو ان کے پیچھے نہ گئے کیونکہ مسلمانوں کی نفری تھوڑی رہ گئی تھی۔شرجیلؓ خطرہ مول لینا نہیں چاہتے تھے،پیچھے جانے کے بجائے انہوں نے تیراندازوں کو آگے کرکے پیچھے ہٹتے ہوئے رومیوں پر تیروں کا مینہ برسا دیا۔رومی اپنی لاشوں اور زخمیوں کو پیچھے چھوڑتے،دروازے میں جا کر غائب ہو گئے۔رومی جس دروازے سے بھی باہرآئے تھے وہ لاشیں اور زخمی پھینک کر اُسی دروازے سے اندر چلے گئے۔سب سے بڑا حملہ توما نے کیا تھا وہ بھی ناکام رہا۔اگر بات ناکامی تک ہوتی تو رومی ایسے حملے پھر بھی کر سکتے تھے لیکن انہیں جو جانی نقصان اٹھانا پڑاوہ ان کی برداشت سے باہر تھا۔ان کی نفری پہلے ہی کچھ اتنی زیادہ نہیں تھی اور اب تو آدھی رہ گئی تھی،توما کیلئے ایک دشواری یہ پیدا ہو گئی کہ جب شہر پناہ کے دروازے بند ہو گئے اور توما شہر میں آکر رکا تو کئی شہریوں نے اسے گھیر لیا۔’’سالارِ معظم!‘‘ایک آدمی نے کہا۔’’ہم سلطنتِ روم کے وفادار ہیں۔ہم نہیں چاہتے کہ روم کی شہنشاہی کو مزید نقصان پہنچے۔ہم پہلے ہی عرض کر چکے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ صلح کی بات کی جائے۔‘‘’’شہریوںمیں جو بے چینی اور بد امنی پھیل چکی ہے اسے آپ نہیں دیکھ رہے۔‘‘ایک اور نے کہا۔’’فوج جو نقصان اٹھا چکی ہے وہ آپ کے سامنے ہے اور آپ خود بھی زخمی ہیں، خطرہ ہی ہے کہ شہری جو اب نیم فاقہ کشی تک پہنچ گئے ہیں اپنی ہی فوج کیلئے نقصان کا باعث بن جائیں گے۔‘‘توما جابر قسم کا سالار تھا۔اس کی دلیری اور عزم کی پختگی میں کوئی شک نہیں تھا لیکن اس کی حالت یہ ہو گئی تھی کہ جو شہری اس کے ساتھ بات کرتا تھا وہ اس شہری کی طرف دیکھنے لگتا تھا۔یہ وہ توما تھا جو کسی کی بات برداشت نہیں کرتا تھا۔اس کے چہرے کے تاثرات میں شکست صاف نظر آرہی تھی۔اس نے اپنی اس آنکھ پر ہاتھ رکھ لیا جس کے اندر تیر کا ایک ٹکڑا موجود تھااور اوپر پٹی بندھی ہوئی تھی۔صاف پتا چلتا تھا کہ اسے یہ زخم پریشان کر رہا ہے۔’’مجھے سوچنے دو۔‘‘اس نے ہاری ہوئی آواز میں کہا۔’’میں صلح کر لوں گا لیکن کوئی ایسی شرط نہیں مانوں گا جو روم کی شہنشاہی کی تذلیل کا باعث بنے۔‘‘

دراصل توما ذہنی طور پر شکست تسلیم کر چکا تھا۔اس کے سامنے اب یہی ایک مسئلہ رہ گیا تھا کہ کوئی ایسی صورت پیدا ہو کہ مسلمانوں کے ساتھ باعزت سمجھوتہ ہوجائے۔مؤرخوں کے بیانات کے مطابق اسے کسی نے یہ بتایا تھا کہ مسلمانوں کے نائب سالار ابوعبیدہؓ نرم مزاج اور صلح جو انسان ہیں۔اگر ان تک رسائی ہوجائے تو باعزت سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔خالدؓ کے متعلق وہ جانتا تھا کہ وہ مکمل شکست اور ہتھیار ڈالنے سے کم بات نہیں کرتے۔توما نے اپنے مشیروں کو بلایا۔باہر مسلمانوں کی کیفیت یہ تھی کہ ان کے حوصلے بڑھ گئے تھے اور وہ للکار ہے تھے کہ رومیو!شہر ہمارے حوالے کردو۔ لیکن شہر میں داخل ہونے کا کوئی ذریعہ نظر نہیں آتاتھا۔خالدؓ نے فیصلہ کرلیا کہ مجاہدین کو ایک دو دن آرام کیلئے دے کر شہر کے دروازے توڑنے کی یا دیوار میں سرنگ لگانے کی کوشش کریں گے۔صبح طلوع ہوئی تو اﷲنے ایک غیر مسلم کو خالدؓ کے سامنے کھڑا کردیا۔یہ ایک یونانی تھا جس کا نام یونس ابن مرقس تھا۔وہ رات کے وقت جب رومی اندر بیٹھے اپنے زخم چاٹ رہے تھے، شہر کی دیوار سے ایک رسّے کے ذریعے اترا تھا۔اس نے کہا کہ وہ ایک لڑکی کو حاصل کرنے کیلئے اپنی جان کا خطرہ مول لے کر آیا ہے۔یہ لڑکی بھی یونانی تھی اور یہ ۱۸ ستمبر ۶۳۴ء (۱۹ رجب ۱۳ھ) کا واقعہ ہے۔۱۸ ستمبر ۶۳۴ء کی رات تھی۔خالدؓ کو بتایا گیا کہ قلعے کے اندر سے ایک آدمی آیا ہے جو اپنا نام یونس ابن مرقس بتاتا ہے۔’’وہ قلعے سے نہیں آیا۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’اگر قلعے کے اندر ہی سے آیا ہے تو صاف نیت سے نہیں آیا،اگر باہر سے آیا ہے تو بھی اس کی نیت ٹھیک نہیں ہو سکتی۔وہ رومیوں کا جاسوس ہوگا……اسے میرے پاس بھیج دو۔‘‘وہ ایک جواں سال آدمی تھا۔خوبرو اور پھرتیلا تھا۔خالدؓ کے دو محافظوں نے اس کی تلاشی لی۔اس نے کمر بند میں ایک خنجر اڑسا ہوا تھا جو اس نے چھپا کر نہیں رکھا تھا۔یہ اس سے لے کر اسے خالدؓ کے خیمے میں بھیج دیا گیا۔خالدؓ نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا پھر اس پر نظریں جما دیں۔’’سالارِ اعلیٰ مجھے شک کی نگاہوں سے دیکھ سکتے ہیں۔‘‘اس جواں سال آدمی نے کہا۔’’میں آپ کے دشمن کے قلعے سے آیا ہوں۔آپ کو مجھ پر شک کرنا چاہیے……میرا نام یونس ابن مرقس ہے اور میں یونانی ہوں۔آپ کی اور رومیوں کی جنگ کے ساتھ مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔‘‘’’یونان کے جوان!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ اپنے آنے کا مقصدفوراً بتا دو؟‘‘’’مقصد میرا ذاتی ہے۔‘‘یونس ابن مرقس نے کہا۔’’اگر آپ یہ پورا کردیں تو میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں۔‘‘’’تُو میری کیا مدد کر سکتا ہے؟‘‘’’میں آپ کو قلعے کے اندر پہنچا سکتا ہوں۔‘‘یونس ابن مرقس نے کہا۔’’پھر دمشق آپ کا ہوگا۔ ’’تو قلعے سے نکلاکیسے؟‘‘خالدؓ نے کہا۔’’میں کیسے یقین کروں کہ تو جھوٹ نہیں بول رہا؟‘‘’’میں باب الشرق کے قریب فصیل سے رسہ لٹکا کر اترا ہوں۔‘‘یونس ابن مرقس نے کہا۔’’میرے آنے کا مقصد بھی سن لیں سالارِ اعلیٰ!دمشق میں یونانیوں کے تین چار خاندان آبادہیں۔ایک یونانی لڑکی کے ساتھ میری محبت ہے۔میں آپ کونہیں بتا سکتا کہ ہم ایک دوسرے کو کس قدر چاہتے ہیں۔آپ کی فوج نے دمشق کا محاصرہ کیا تو اس سے تھوڑی ہی دیر پہلے اس لڑکی کے ساتھ میری شادی ہو گئی۔اتنے میں شور اٹھا کہ مسلمانوں نے شہر کا محاصرہ کر لیا ہے۔لڑکی کے والدین نے لڑکی کو میرے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔کہتے ہیں کہ محاصرہ ٹوٹ جانے کے بعد ہی لڑکی کو میرے حوالے کریں گے……‘‘

’’سالارِ اعلیٰ !میں محبت کے ہاتھوں اتنا مجبور ہوں کہ انتظار نہیں کر سکتا۔دراصل لڑکی کی ماں کی نیت ٹھیک نہیں۔وہ اپنی بیٹی کی شادی ایک بڑے ہی مالدار تاجر کے ساتھ کرنا چاہتی تھی لیکن اس کی بیٹی نے میری محبت کی خاطر اسے مجبور کر دیا کہ اس کی شادی میرے ساتھ کردے۔آپ کی فوج نے شہر کو محاصرے میں لے لیا تو اسے بہانہ مل گیا۔اس نے کہا کہ ہر کوئی شہرکے دفاع میں لگا ہوا ہے اچھا نہیں لگتا کہ تم دونوں شادی کی تقریب مناؤ۔‘‘’’لیکن میں کیا کر سکتا ہوں؟‘‘خالدؓ نے کہا۔’’کیا میں یہاں محبت کی داستانیں سننے آیا ہوں؟تو وہ بات فوراً کیوں نہیں کہہ دیتا جو تو کہنے آیا ہے۔اگر تو یہاں کسی اورنیت سے آیا ہے تو تو یہاں سے زندہ کس طرح جائے گا۔‘‘’’آہ ابنِ ولید!‘‘یونس ابن مرقس نے آہ لے کر کہا۔’’کون ہے جو تیرے خیمے میں بری نیت سے آنے کی جرات کر سکتا ہے۔جس نے سلطنت روم جیسے عظیم اور جابر سلطنت کی بنیادوں تک کو ہلا ڈالا ہے اسے مجھ جیسے معمولی آدمی سے نہیں ڈرنا چاہیے……اور یہ بھی سوچ کہ میں رومی نہیں یونانی ہوں۔مجھے صرف اپنی بیوی چاہیے اور تجھے دمشق……راز کی بات یہ ہے کہ تین چار دن لڑائی نہیں ہوگی۔‘‘’’کیوں نہیں ہوگی؟‘‘’’دمشق کا سالار توما زخمی ہے۔‘‘یونس ابن مرقس نے جوا ب دیا۔’’لیکن لڑائی نہ ہونے کی صرف یہ وجہ نہیں۔ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شہر کے لوگ سالار توما کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ بندی اور صلح کی بات کرے۔شہر میں اناج کی قلت قحط کی حد تک پہنچ گئی ہے،اور سب سے بڑی وجہ لڑائی نہ ہونے کی یہ ہے کہ کل رات دمشق کے لوگوں کا ایک جشن ہے جس میں روم کی فوج بھی شریک ہوگی۔کسی کو کسی کا ہوش نہیں ہوگا۔میں آپ کی یہ مدد کروں گا کہ فصیل پر کمند پھینکنے کی موزوں جگہ بتا دوں گا۔آپ کے چند ایک آدمی فصیل پر چڑھ آئیں اور اندر سے ایک دروازہ کھول دیں پھر آپ کی فوج شہر میں داخل ہو جائے۔‘‘

بعض مؤرخوں نے لکھا ہے کہ اہلِ دمشق اپنا کوئی سالانہ جشن منا رہے تھے۔ایسے جشن میں وہ اتنی زیادہ شراب پیتے اور رنگ رلیوں میں ایسے مگن ہوتے تھے کہ انہیں اپنے پرائے کی ہوش نہیں رہتی تھی،اور فوج بھی اس میں شریک ہوتی تھی لیکن اب ایسی حالت میں دمشق والوں کا ایسا جشن منانا کہ وہ اپنے ہوش و حواس بھی کھو بیٹھیں قابلِ یقین نہیں لگتا تھا۔دمشق کے اندر کی حالت بیان کی جا چکی ہے۔وہاں تو قحط اور خوف و ہراس کی کیفیت تھی۔روم کی فوج کی بے شمار نفری ماری جا چکی تھی۔لاشیں باہر گل سڑرہی تھیں اور زخمی اندر کراہ رہے تھے۔ان حالات میں جشن کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ایک یورپی مؤرخ ہنری سمتھ نے اس واقعہ کو یوں بیان کیا ہے وہ حقیقی لگتا ہے۔اس نے شام سے رومیوں کی پسپائی کے بیان میں لکھا ہے کہ دمشق کے محاصرے میں رومیوں کی حالت اتنی بری ہو گئی تھی کہ وہ ہتھیار ڈالنے پر آگئے تھے۔ان کے مذہبی پیشواؤں نے رومی سالار توما سے کہا تھا کہ ان سے خدا ناراض ہے۔خدا کو راضی کرنے کیلئے مذہبی قسم کے جشن کا اہتمام کیا گیا تھا۔دمشق میں دوسرے عقیدوں کے لوگ بھی تھے جو اپنے انداز سے مذہبی تقریب منعقد کر رہے تھے۔چونکہ یہ مذہب کا اور فتح کیلئے دعا کا معاملہ تھا اس لیے ا س میں ہرکسی کی شرکت لازمی تھی۔فوج کو بھی اس میں شامل ہونا تھا۔اس یورپی مؤرخ نے یہ بھی لکھا ہے کہ ایسا کوئی خطرہ نہیں تھا کہ مسلمان قلعے پر چڑھائی کردیں گے،یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔مسلمانوں کی اپنی حالت ایسی مضبوط نہیں رہی تھی کہ وہ ہلہ بول دیتے۔یہ تو خالدؓ کا عزم تھا اور انہیں اپنے تمام سالاروں کا بھرپور تعاون حاصل تھا کہ دمشق کو چند دنوں میں سر کرنا ہے۔یونس ابن مرقس کے متعلق تمام مؤرخ متفق ہیں۔اس نے خالدؓ کو قائل کر دیا کہ وہ انہیں قلعے میں داخل کر دے گا اور اس کے عوض وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کی بیوی اسے دلا دی جائے۔خالدؓنے اس یونانی پر اعتبار کر لیااور اسے سب سے پہلے اسلام کی دعوت دی۔’’میں نے اسلام کے متعلق بہت کچھ سنا ہے۔‘‘یونس ابن مرقس نے کہا۔’’لیکن مجھے کوئی بتانے والا نہیں تھا اور میرا ہاتھ تھامنے والا کوئی نہ تھا۔مجھے اپنے پاس رکھیں، میں اسلام قبول کرتا ہوں۔کیا مجھے اپنا نام بدلنا پڑے گا؟‘‘’’نہیں !‘‘خالدؓ نے کہا۔’’تمہارا نام پہلے ہی اسلامی ہے۔‘‘خالدؓ نے اسے مسلمان کر لیا اور اس سے پوچھنے لگے کہ کمند کہاں اور کس طرح لگائی جائے،اور اندر کی طرف دروازے کی حفاظت کا کیا انتظام ہے؟

یونس ابن مرقس نے انہیں پوری تفصیل سے سب کچھ بتایا۔یونس ابن مرقس کو اتنا ہی معلوم تھا کہ دو تین دن لڑائی نہیں ہو گی،اور کل رات لوگ ایک جشن یا تقریب منائیں گے۔اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ رومی سالار توماہمت ہار چکا ہے،اور وہ کوئی اور چال چل رہا ہے۔یہ چال توما اور اس کے مشیروں نے مل کر سوچی تھی۔جس طرح مسلمانوں کے پاس اسی علاقے کے جاسوس موجود تھے ۔اسی طرح رومیوں کے پاس ایسے جاسوس موجود تھے جو خالدؓ اور اس کے تمام سالاروں کے کردار اور عادات کے تعلق پوری واقفیت رکھتے تھے۔یہ عرب کے عیسائی تھے اور مکہ ،مدینہ اور انہی علاقوں کے رہنے والے یہودی بھی تھے۔یہ سب صرف جاسوس ہی نہیں تھے بلکہ ان میں سے دو چار توما کے مشیر بھی بنے ہوئے تھے۔توما نے باہر نکل کر مسلمانوں پر حملے کیے تھے پورا زور لگا لیا تھا مگر صرف جانی نقصان کے اسے کچھ بھی حاصل نہ ہو اتھا۔شہریوں نے اسے الگ پریشان کر رکھا تھا۔ شہر میں خوراک ختم تھی اور اس کی اپنی حالت یہ تھی کہ ایک تیر کا اگلا حصہ اس کی آنکھ میں اترا ہوا تھا اور اوپر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ ’’پھر بھی میں شہر کو تباہی اور لوٹ مار سے اور لوگوں کے قتلِ عام سے بچانا چاہتا ہوں۔‘‘ توما نے اپنے سلاروں اور مشیروں کو بلاکر انہیں اپنی صورتِ حال بتائی اور کہا کہ ہم لڑ نہیں سکتے۔مسلمان آسانی سے اندر نہیں آسکتے لیکن اناج اور رسد کا جو حال ہے وہ تم سب جانتے ہو مسلمانوں نے صرف محاصرہ ہی جاری رکھا تو لوگ بھوک سے مرنے لگیں گے۔‘‘’’اور وہ بغاوت بھی کر سکتے ہیں۔‘‘ایک مشیر نے کہا۔’’بغاوت کریں یا نہ کریں۔‘‘توما نے کہا۔’’ یہ میرافرض ہے کہ انہیں ہر تکلیف سے بچائے رکھوں۔مجھے تمہارے مشوروں کی ضرورت ہے ۔کیا کوئی ایسی صورت ہو سکتی ہے کہ ہم شہر خالی کرنا چاہیں تو مسلمان ہمیں اجازت دید یں اور ہمیں کوئی نقصان نہ اٹھانا پڑے۔‘‘’’خالدابنِ ولید بڑا جابر سالار ہے ۔‘‘ایک یہودی مشیر نے کہا۔’’وہ ہمیں پر امن طریقہ سے نہیں نکلنے دے گا۔ا س کی فوج کا جو نقصان ہو چکا ہے وہ بھی نہیں بخشے گا۔ ہمیں کہے گا اسلام قبول کرو۔‘‘’’یہ میں کبھی نہیں کروں گا۔‘‘توما نے کہا۔’’اگر آپ نہیں کریں گے تو وہ آپ سے اتنا تاوان مانگے گا جو آپ اپنے خزانے کے علاوہ لوگوں کے گھروں سے اکٹھا کریں تو بھی مشکل سے پورا ہوگا۔‘‘یہودی مشیر نے کہا۔ توما گہری سوچ میں پڑ گیا۔

’’ان میں کوئی سالار ایسا ہے جو نرم مزاج ہو ؟‘‘اس نے پوچھا۔’’ابو عبیدہ!‘‘یہو دی نے جواب دیا۔’’بڑا ہی قابل بڑا ہی دلیر سالار ہے۔مگر رحم دل ہے۔‘‘’’اپنی فوج میں اس کی حیثیت کیا ہے؟‘‘’’ابنِ ولید کے بعد حیثیت ابو عبیدہ کی ہے۔‘‘دوسرے یہودی نے کہا۔’’ان کی خلافت میں جو قدرومنزلت ابو عبیدہ کی ہے وہ ابنِ ولید کی نہیں۔ابنِ ولید کا درجہ اس کے بعد کا ہے۔تمام مسلمان خود خلیفہ اور ابنِ ولید ابو عبیدہ کا احترام کرتے ہیں۔‘‘یہاں سے توما کے دماغ میں ایک فریب کاری آگئی۔یہودی اور عیسائی عرب مشیروں اور دانشوروں نے اس کی رہنمائی اور مدد کی،اور ایک منصوبہ تیار ہو گیا۔جو مختصراً اس طرح تھا کہ توما ابو عبیدہ کے آگے اس شرط پر ہتھیار ڈالے گا کہ اسے اس کی فوج اور شہر کے ہر اس باشندے کو جو شہر چھوڑ کر جانا چاہے اسے اس کے مال و اسباب وعورتوں اور بچوں سمیت نکل جانے دیا جائے۔شہر میں لوٹ مار نہ ہو۔تومانے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ جزیہ اداکرے گا یہ بھی طے پایا کہ خالدؓ کو قبل از وقت پتا نہ چلے۔یہ منصوبہ اس بنیاد پر بنایا گیا تھا کہ ابو عبیدہ شہر کے اس دروازے (باب جابیہ)کے سامنے اپنے دستوں کے ساتھ تھے۔جو اس دروازے (باب الشرق)کے بالمقابل تھا۔دونوں دروازوں کے درمیان پورا شہر حائل تھا اور فاصلہ ایک میل سے کچھ زیادہ تھا توما آسانی سے اپنے ایلچی ابو عبیدہ کے پاس بھیج سکتا تھا۔توما نے یہ کانفرنس اس رات سے دو تین راتیں پہلے منعقد کی تھی جس رات یونس ابن مرقس خالدؓ کے پاس آیاتھا۔اگلی رات کا واقعہ ہے ،خالدؓ ،قعقاعؓ اور ایک بڑے بہادر مجاہد مذعور بن عدی شہرِ پناہ کے دروازے بابِ الشرق سے کچھ دور کھڑے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں رسے تھے، دیوار کے ساتھ لگے ایک سو مجاہدین کھڑے تھے۔ یہ سارے لشکر میں سے چنے ہوئے نڈر اور ذہین مجاہدین تھے۔ یونس ابن مرقس خالدؓ کے ساتھ تھا۔اسی نے خالدؓکو یہ جگہ بتائی تھی وہ رسے کے ذریعے یہیں سے اترا تھا۔ خالدؓ اپنی زندگی کا بہت بڑا خطرہ مول لے رہے تھے، وہ سپہ سالار تھے انہیں اوپر نہیں جانا چاہیے تھا۔ پکڑے جانے کا امکان تھا۔مارے جانے کا خطرہ تھا، لیکن اس خطرے میں وہ کسی اور کو نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔ انہیں اعتماد تھا کہ ان کے ناہونے سے مجاہدین میں بد دلی نہیں پھیلے گی اور ابو عبیدہؓ ان کی جگہ لے لیں گے،یہ فیصلہ پہلے ہی ہو چکا تھاکہ خالدؓکی غیر حاضری میں سالارِ اعلیٰ ابو عبیدہؓ ہوں گے۔خالدؓ نے اپنے ہاتھ سے کمند اوپر پھینکی دیوار کی بلندی تیرہ چودہ گز تھی۔کمند دیوار کے اوپراٹک گئی۔انہوں نے کچھ دیر انتظار کیا، دیوار پر کوئی حرکت نہ ہوئی،جس کا مطلب یہ تھا کہ اوپر کوئی نہیں تھا۔اگر کوئی تھا بھی تو اسے پتا نہیں چلا تھا کہ دیوار پر کمند پھینکی گئی ہے۔یہ تحریر آپ کے لئے آئی ٹی درسگاہ کمیونٹی کی جانب سے پیش کی جارہی ہے۔

خالدؓنے اپنے آپ کو مزید خطرے میں یوں ڈالا کہ سب سے پہلے خود کمند کے ذریعے اوپر گئے۔ ان کے پیچھے قعقاعؓ اور مذعور اوپر گئے۔اوپرکوئی بھی نہیں تھا، دیوار کا یہ حصہ شہر سے کچھ دور تھا۔شہر کی آوازوں سے پتا چلتا تھا کہ لوگ جاگ رہے ہیں، اور کسی تقریب میں مصروف ہیں۔ خالدؓ کو یقین آگیا کہ یونس ابن مرقس انہیں دھوکا نہیں دے رہا۔انہوں نے دیوار یعنی شہر کی فصیل کے ساتھ دو تین رسے باندھ کر نیچے لٹکا دیئے۔ جو وہ اسی مقصد کیلئے ساتھ لے گئے تھے۔ان کے ایک سو مجاہدین میں سے پچاس ان رسوں سے اوپر چلے گئے۔ یونس ابن مرقس بھی ان کے ساتھ گیا۔وہ خالدؓکا گائیڈ تھا۔ خالدؓنے ان جانبازوں میں سے کچھ کو اس کام کیلئے دیوار پر بٹھا دیا کہ رومی فوج کے آدمی اگر اوپر آجائیں تو انہیں ختم کر دیں،لیکن خاموشی سے تاکہ شہر میں کسی کو کچھ پتا نہ چلے۔ ہر کام خاموشی سے کرنا تھا۔خالدؓ نے قعقاعؓ اور مذعور کو اپنے ساتھ رکھا اور پچاس جانبازوں میں سے باقی کو اپنے ساتھ فصیل سے اتار کر لے گئے۔ جوں ہی وہ دیوار سے اترے انہیں کسی کی باتیں سنائی دیں۔’’رومی سپاہی۔‘‘یونس ابن مرقس نے خالدؓ کے کان میں سرگوشی کی۔’’میں ان کی زبان سمجھتا ہوں، انہیں ان کی زبان میں رعب سے کہو کہ جلدی چلو۔‘‘خالدؓ نے یونس ابن مرقس سے کہا اور اپنے جانبازوں سے کہا ۔’’تلواریں نکال لو اور اتنی تیزی سے وار کرنے ہیں کہ رومیوں کو منہ سے کوئی آواز نکالنے کی مہلت نہ ملے۔‘‘یونس ابن مرقس نے فوجی افسروں کی طرح بڑے رعب سے رومی سپاہیوں کو بلایا۔ ان کے آنے تک خالدؓ کے جانباز گھیرے کی ترتیب میں ہو گئے۔ رومی سپاہی کم و بیش چالیس تھے۔ وہ دوڑے آئے، رات کا وقت تھا، چاند آدھی رات کے لگ بھگ افق سے اٹھتا تھا۔جب رومی سپاہی آرہے تھے اس وقت چاند شہر کی فصیل سے اوپر آگیاتھا۔رومی سپاہی خالدؓ کے جانبازوں کو اپنے آدمی سمجھے ہوں گے وہ قریب آئے تو مسلمان جانباز سواروں سے ان پر ٹوٹ پڑے، ان میں سے سات آٹھ نے تلواریں نکالیں اور مقابلے کی کوشش کی لیکن مارے گئے،مگر خاموشی ٹوٹ گئی۔ دو تین رومی سپاہیوں نے زخمی ہوتے ہی بڑی اونچی آوازوں میں شور بپا کیا کہ مسلمان قلعے میں داخل ہو گئے ہیں۔’’اب دروازہ فوراً کھلنا چاہیے۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’رومی فوج کو آنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔میرے پیچھے آؤ۔‘‘ جہاں دروازہ تھا وہاں ڈیوڑھی تھی۔خالدؓ اپنے جانبازوں سے آگے تھے ،وہ دوڑتے ہوئے دروازے والی ڈیوڑھی میں گئے وہاں صرف دو رومی سپاہی تھے جن کے ہاتھوں میں برچھیاں تھیں وہ شور سن چکے تھے۔ اس لئے مقابلے کیلئے تیار تھے۔لیکن خالدؓ نے انہیں مقابلے کی زیادہ مہلت نہ دی۔ ایک کو خالدؓنے اور دوسرے کو قعقاعؓ نے مار ڈالا۔

دروازہ کھولا خالدؓنے حکم دیااور زیادہ آدمی باہر تیار رہو۔رومی آرہے ہیں۔‘‘دروازے کے اند رکی طرف بڑے وزنی تالے لگے ہوئے تھے اوربڑی زنجیریں باندھ کر دروازے کو مستحکم کیا ہوا تھا۔بڑی مشکل سے تالے توڑے گئے اور زنجیریں بھی اتار لی گئیں۔خالدؓدروازہ کھول کر باہر نکلے ان کے باقی پچاس جانباز باہر کھڑے تھے۔ خالدؓنے انہیں اندر بلایا اور کہا کہ وہ دروازے کے باہر پھیل کر مقابلے کیلئے تیار رہیں۔رومی فوج آرہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس دروازے کے سامنے جو دستے تھے انہیں خالدؓ تیاری کا حکم دے آئے تھے ،اور یہ حکم بھی کہ دروازہ کھلتے ہی طوفان کی طرح دروازے میں داخل ہوجائیں۔دروازہ کھلتے ہی یہ دستے طوفان کی طرح دروازے میں داخل ہونے لگے۔ چاند اب اور اوپر آگیا تھا۔ اپنے پرائے کی پہچان میں سہولت پیدا ہو گئی تھی۔ادھر سے رومی فوج کا ایک دستہ باب الشرق کی طرف آرہا تھا۔یہ مسلمانوں کی طوفانی لپیٹ میں آگیا۔ذرا سی دیر میں یہ دستہ لاشوں میں تبدیل ہو گیا۔ دمشق کی تمام تر رومی فوج فصیل کی طرف دوڑی،اور جن دستوں کو جن دروازوں کی ذمہ داری دی گئی تھی، وہ تقسیم ہو کر ان دروازوں کے سامنے چلے گئے۔سارے شہر میں بھگدڑ مچ گئی۔ شہری پہلے ہی ڈرے ہوئے تھے وہ بھاگ نہیں سکتے تھے۔دروازے بند تھے وہ اپنی قیمتی چیزیں اِدھر اُدھر چھپا رہے تھے۔ عورتوں کا یہ عالم تھا کہ چیختی چلاتی تھیں۔’’ہمارے آدمی بے غیرت ہیں۔‘‘عورتوں کی چیخ نما آوازیں سنائی دینے لگیں۔’’ہمارے آدمی ہمیں مسلمانوں سے نہیں بچا سکتے ۔ہمارے آدمی بزدل ہیں اپنی جانیں بچاتے پھر رہے ہیں۔‘‘عورتوں کی اس طعنہ زنی نے دمشق کے جوانوں کو گرما دیا وہ تلواریں اور برچھیاں لے کر نکل آئے،اس طرح رومی فوج کو سہارا مل گیا لیکن خالدؓ کے دستے رومیوں پر حاوی ہو چکے تھے۔ مسلمان محاصرے سے تنگ آئے ہوئے تھے۔ وہ دمشق کو فتح کرنے کیلئے قہر اور غضب سے لڑرہے تھے۔ تقریباً تمام مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓ نے ایسا دانستہ طور پر کیا تھا یا ان کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ انہوں نے دوسرے دروازوں پر جو سالار متعین کیے تھے انہیں نہ بتایا،کہ آج رات وہ کیا کرنے والے ہیں۔خالدؓ نے ابو عبیدہؓ تک کو اطلاع نہ دی کہ وہ بہت بڑا خطرہ مول لے رہے ہیں۔کسی بھی تاریخ میں اس سوال کا جواب نہیں ملتا کہ خالدؓ نے ایسی غلطی کیوں کی تھی؟ابو عبیدہؓ وہاں سے بہت دور تھے۔ انہوں نے شہر میں شور سنا تو کہنے لگے کہ رومیوں نے کسی دروازے سے باہر جاکر اس دروازے والے مسلمان دستوں پر حملہ کیا ہے۔رومی ایسے حملے پہلے بھی کر چکے تھے ،دوسرے دروازوں والے مسلمان سالار بھی غلط فہمی میں رہے۔ خالدؓ شہر کے اندر اتنے الجھ گئے تھے کہ دوسرے سالاروں کو اندر نہ بلاسکے انہوں نے شاید یہ بھی سوچا ہو گا کہ دوسرے سالار دروازوں کے باہر اپنے دستوں کو تیار رکھیں تاکہ رومی فوج کسی دروازے سے بھاگ نہ سکے۔’’یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ مسلمان دستے شہر کی فصیل اور دروازوں سے قریب نہیں تھے وہ فصیل سے کم از کم ایک ایک میل دور تھے۔

قریب ہو کر وہ تیروں کی زَد میں آتے تھے، اتنی دور سے وہ شہر کے اندر کا شور اچھی طرح سن نہیں سکتے تھے۔ توما کو جب اطلاع ملی، کہ مسلمان شہر میں داخل ہو گئے ہیں تو اس نے اپنے مشیروں کو بلایا۔ ’’کون کون سے دروازے سے مسلمان اندر آئے ہیں؟‘‘توما نے پوچھا۔’’صرف ایک دروازے سے۔‘‘ اسے کسی نے جواب دیا۔’’شرقی دروازے سے۔باقی سب دروازے بند ہیں۔‘‘’’کیا کسی نے فصیل پر جا کردیکھا ہے؟‘‘توما نے پوچھا۔’’کیا مسلمانوں کی باقی فوج بھی قریب آگئی ہے؟‘‘’’دیکھاہے۔¬‘‘اسے جواب ملا۔’’ان کے باقی دستے جہاں پہلے تھے وہیں ہیں۔‘‘’’بابِ جابیہ کو دیکھا ہے؟‘‘تومانے پوچھا۔’’کیا ابو عبیدہ کے دستے بھی آگے نہیں آئے؟‘‘’’نہیں!‘‘اسے بتایا گیا۔’’وہ دستے بھی آگے نہیں آئے۔یہ صرف ان کے سپہ سالار خالد ابنِ ولید کے دستے ہیں۔‘‘توما کے مشیر اور سالار آگئے۔’’ہم شہر کو نہیں بچا سکیں گے۔‘‘توما نے ان سے کہا۔’’مجھے ابھی تک کسی نے نہیں بتایا کہ مسلمانوں نے دروازہ کس طرح کھول لیا ہے؟انہیں اندر سے کوئی مدد نہیں مل سکتی تھی۔‘‘’’کیا فائدہ یہ سوچنے کا کہ مسلمان شہر میں کس طرح داخل ہو گئے ہیں۔‘‘ایک مشیر نے کہا۔’’وہ اندر آگئے ہیں۔اب یہ سوچنا ہے کہ کیا کیا جائے؟‘‘’’اسی منصوبے پر عمل کیا جائے جو ہم نے پہلے سوچا تھا۔‘‘ایک اور مشیر نے کہا۔’’ابو عبیدہ کو صلح کا پیغام بھیجیں۔‘‘اس مسئلے پر کچھ تبادلہ خیالات ہوتا رہا۔ آخر طے پایا کہ ابو عبیدہؓ کی طرف ایک ایلچی بھیجاجائے۔’’ اور میں نے جو دستے محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔انہیں ادھر بھیج دیا جائے۔جدھر مسلمان اندر آگئے ہیں۔‘‘توما نے حکم دیا۔’’انہیں میرا پیغام دیاجائے کہ دمشق شہر کی نہیں بلکہ سلطنت روم کی آبرو اور آن ان کے ہاتھ میں ہے۔وہ جانیں قربان کر دیں اور مسلمانوں کے سالار ابنِ ولید کو زندہ یا مردہ میرے پاس لے کر آئیں۔‘‘ہنری سمتھ ، ابو سعید ، واقدی اور طبری نے لکھا ہے کہ توما ذہنی طور پر ہتھیار ڈال چکا تھا وہ اپنے محفوظہ کے دستوں کو اس لئے شہر کی لڑائی میں جھونک رہا تھا کہ خالدؓ کو اپنے فریب کارانہ منصوبے کی کامیابی تک روکا جا سکے۔اس کے یہودی اور عیسائی مشیر معمولی دماغوں کے آدمی نہیں تھے۔

رات گزرتی جا رہی تھی، اور شہر کے اندر کی لڑائی بڑھتی جارہی تھی۔اب گلیوں میں لڑائی ہو رہی تھی۔پلہ خالدؓ کے دستوں کا بھاری تھا، رومیوں کے محفوظہ کے دستوں نے خالدؓ کیلئے مشکل پیدا کر دی۔ لیکن خالدؓ ہمت ہارنے والے نہیں تھے۔ان کے آگے بڑھنے کی رفتار کم ہو گئی تھی۔ادھر ابو عبیدہؓ فجر کی نماز پڑھ چکے تو انہیں بتایا گیا کہ رومی سپہ سالار کے دو ایلچی آئے ہیں۔ ابو عبیدہؓ نے انہیں بلا لیا۔’’کیا تمہارے سالار کے ابھی ہوش ٹھکانے نہیں آئے؟‘‘ابو عبیدہؓ نے ایلچیوں سے کہا۔’’کہو تم کیوں آئے ہو؟‘‘’’سپہ سالار توما کا پیغام لائے ہیں۔‘‘ایک ایلچی نے کہا۔’’جب تک ہتھیار نہیں ڈالو گے میں صلح کیلئے تیار نہیں ہو سکتا۔‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔ ’’اے عرب کے رحم دل سالار!‘‘دوسرے ایلچی نے کہا۔’’ہم لڑائی اور خونریزی ختم کرنے آئے ہیں۔سپہ سالار توما نے ہمیں پیغام دیا ہے کہ وہ ہتھیار ڈالنے پر ر ضا مند ہے۔ہم صرف یہی چاہتے ہیں کہ ہمیں شہر سے نکل جانے دیا جائے۔شہر میں لوٹ مار نہ ہو، کسی کو قتل نہ کیا جائے ،ہر شہری اور فوجی اپنے ساتھ اپنا جو مال و اموال لے جا سکتا ہے لے جانے کی اجازت دی جائے۔‘‘’’ہم ناحق خون بہانے نہیں آئے اے رومیو!‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’خدا کی قسم! میں اپنے ان ساتھیوں کا خون تمہیں معاف نہیں کر سکتاجو تم نے بہایا ہے۔‘‘’’شہنشاہِ ہرقل کے داماد سپہ سالار توما نے کہا ہے کہ ہم تاوان ادا کریں گے ۔‘‘ایک ایلچی نے کہا۔’’آپ اسے شاید جزیہ کہتے ہیں یا جو کچھ بھی کہتے ہیں۔‘‘’’ہمارا شہنشاہ اﷲہے۔‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’تم نے ہرقل کواس طرح شہنشاہ کہا ہے جیسے وہ ہمارا بھی شہنشاہ ہو، اور وہ ہمیں خیرات دے رہا ہو۔‘‘ ’’ہرقل ہتھیار ڈال دے گا، تو بھی ہم اسے شہنشاہ ہی کہیں گے۔‘‘ایلچی نے کہا۔’’ہم اس کے نوکر ہیں اور اس کا حکم بجا لاتے ہیں۔کیا آپ ہم پر اور دمشق کی عورتوں اور بچوں پر رحم نہیں کریں گے؟‘‘’’اے سالارِ مدینہ!‘‘دوسرے ایلچی نے کہا۔’’دمشق کے شہری تو لڑا ئی نہیں چاہتے تھے ،وہ تو بہت پہلے سے سپہ سالار توما کو کہہ رہے تھے کہ مدینہ والوں کے ساتھ صلح کر لو، اگر اسلام کے متعلق ہم نے جوسنا ہے وہ درست ہے تو آپ کو زیادہ نہیں سوچنا چاہیے۔‘‘ ’’خدا کی قسم!‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’تم میرے سپہ سالار خالد بن ولید کے پاس جاتے تووہ بھی وہی کہتا جو میں کہوں گا۔ہمارے آگے جو جھک جاتا ہے اور ہم سے جو صلح کی بھیک مانگتا ہے، اسے ہم بخش دیتے ہیں کہ اسلام کا حکم یہی ہے۔اگر کوئی آخر دم تک لڑے اور ہم بزورِ شمشیر اس سے ہتھیار ڈلوائیں تو پھر ہم اسے رحم کے قابل نہیں سمجھتے۔‘‘

اس وقت خالدؓ شہر کے مشرقی حصے میں لڑ رہے تھے اور وہ رومی فوجیوں کا اور ان شہری جوانوں کا جو اپنی فوج کے دوش بدوش لڑ رہے تھے صفایا کرتے جا رہے تھے۔رومیوں کی فوج دوسرے دروازوں کے آگے بھی چلی گئی تھی اس طرح یہ فوج تقسیم ہو کر کمزور ہو گئی تھی۔اس سے خالدؓنے بہت فائدہ اٹھایا۔ادھر بابِ جابیہ کھل گیا اور ابو عبیدہؓ اپنے دستوں کے ساتھ توما کے ایلچیوں کی رہنمائی میں شہر میں داخل ہوئے۔ توما نے تین اور دروازے کھول کر اعلان کرادیا کہ صلح ہو گئی ہے اور رومی دمشق سے جا رہے ہیں۔معاہدہ ہو گیا ہے کہ لوٹ مار نہیں ہو گی، مسلمان کسی شہری کو قتل نہیں کریں گے اور کسی عورت کو مسلمان اپنے قبضے میں نہیں لیں گے۔غروبِ آفتاب میں کچھ وقت ابھی باقی تھا،جب ابو عبیدہؓ شہر میں داخل ہوئے تھے، خود توما نے آگے بڑھ کر ابو عبیدہؓ کا استقبال کیا۔ توما کے ساتھ اس کا ایک سالار ہربیس بھی تھا،دمشق کا بڑا پادری بھی تھا۔ ’’اے رومیو!‘‘ابو عبیدہؓ نے توما اور ہربیس سے کہا۔’’تم خوش قسمت ہو کہ تم نے خود ہی شہر ہمارے حوالے کر دیا ہے اس سے تم نےاپنے آپ کو اپنی فوج اور اپنے شہریوں کو بہت بڑی ذلت سے بچالیا ہے اور تم نے اپنے مال و اموال کو بھی بچا لیا ہے،اور یہ شور کیسا ہے؟کیا کہیں لڑائی ہو رہی ہے؟‘‘’’لوگ صلح کی خوشی میں شوروغل مچا رہے ہیں۔‘‘توما نے جھوٹ بولا۔’’وہ دیکھیں ۔میری فوج دیوار کے ساتھ کھڑی ہے۔ سب کے ہتھیار زمین پر پڑے ہیں۔‘‘اس وقت خالدؓ شہر کے اس حصے پر غالب آچکے تھے جس میں رومی فوج کے دو تین دستوں نے ان کا مقابل کیا تھا ، اب خالدؓ بچ بچ کر آگے بڑھ رہے تھے، وہ حیران تھے کہ شہر کی باقی فوج ان کے مقابلے کیلئے کیوں نہیں آرہی۔اسے خالدؓ پھندہ سمجھ رہے تھے۔اسی خطرے کے پیشِ نظر وہ محتاط ہو کر آگے بڑھ رہے تھے۔ باہر سے ان کا رابطہ ٹوٹ گیا تھا۔انہیں ایسی توقع نہیں تھی کہ دروازے کھل جائیں گے اور ان کی باقی فوج بھی اندر آجائے گی۔خالدؓ اپنے آپ کو بڑی ہی خطرناک صورتِ حال میں پھنسا ہوا محسوس کر رہے تھے۔دمشق کے وسطی حصے میں شہر کا بڑا گرجا تھا۔جو کلیسائے مریم کہلاتا تھا۔ابو عبیدہؓ کو وہاں لے جایا جا رہا تھا، وہ گرجے کے قریب پہنچے ہی تھے کہ خالدؓ اپنے محافظوں کے ساتھ ادھر آنکلے ۔انہوں نے ابو عبیدہؓ کو ایسے پر امن انداز سے توما وغیرہ کے ساتھ دیکھا کہ ان کی تلواریں نیاموں میں تھیں تو خالدؓ بن ولید پریشان ہو گئے۔ابو عبیدہؓ نے خالدؓ اور ان کے محافظوں کو دیکھا، خالدؓ کے ہاتھ میں تلوار اور ڈھال تھی۔تلوار خون سے لال تھی ، دستے تک خون گیا ہوا تھا۔خالدؓ پسینے میں نہائے ہوئے تھے اور ان کے کپڑوں پر خون کے بے شمار چھینٹے اور دھبے تھے۔ان کا سانس پھولا ہو اتھا۔خالدؓ کے محافظوں کی بھی حالت ویسی ہی تھی۔اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ خالدؓ لڑتے ہوئے یہاں تک پہنچے تھے۔محافظوں کے پاس برچھیاں تھیں جن کی انیاں جیسے خون میں سے نکالی گئی تھیں۔خالدؓ اور ابو عبیدہؓ ایک دوسرے کو حیرت زدگی کے عالم میں دیکھتے رہے۔

’’ابو سلیمان!‘‘ابو عبیدہؓ نے آخر سکوت توڑا اور خالدؓسے کہا۔’’کیا تو اﷲکا شکر ادا نہیں کرے گا کہ اس کی ذاتِ باری نے یہ شہر ہمیں عطا کر دیا ہے۔اﷲنے صلح منظور کرنے کی سعادت مجھے عطا فرمائی ہے۔ ان لوگوں نے بغیر لڑے میرے آگے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔پھر تو کیوں خون ٹپکاتی تلوار اپنے ہاتھ میں لیے پھرتا ہے؟ میں نے انہیں شہر سے اپنے مال و اموال لے جانے کی اجازت دے دی ہے۔‘‘’’ابو عبیدہ!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’کون سی صلح کی بات کرتے ہو؟کیا تو دیکھ نہیں رہا کہ میں نے لڑ کر یہ شہر حاصل کیا ہے؟خدا کی قسم!رومیوں نے مجھے امن اور صلح کا پیغام دے کر اندر نہیں بلایا۔میرے لیے انہوں نے دروازہ نہیں کھولا تھا۔ میں خود شہر میں داخل ہوا ہوں، میں نے خون بہایا ہے اور میرے آدمیوں کا خون بہایا گیا ہے۔میں رومیوں کو یہ حق نہیں دے سکتا کہ یہ خیر و عافیت سے شہر سے نکل جائیں۔ ان کے شہرکے خزانے اور جو کچھ بھی شہر میں ہے وہ ہمارا مالِ غنیمت ہے اور میں نہیں سمجھ سکا کہ یہ صلح کس نے کی ہے اور کیوں کی ہے؟ ’’ابو سلیمان!‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’میں اور میرے دستے پر امن طریقے سے شہر میں داخل ہوئے ہیں۔ دیکھ، شہر کے دروازے کھل گئے ہیں اگر تو میرے فیصلے کو رد کرنا چاہے تو کردے لیکن یہ سوچ کہ میں دشمن کے ہتھیار ڈالنے پر اسے بخشش کا وعدہ دے چکا ہوں۔ اگر یہ وعدہ پورا نہ ہوا، تو رومی کہیں گے کہ مسلمان وعدوں کے کچے ہیں۔اس کی زد اسلام پر بھی پڑے گی۔‘‘خالدؓکی حالت یہ تھی کہ غصے سے ان کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ سالارِ اعلیٰ وہ ہوں اور صلح کے معاہدے کوئی اور کرتا پھرے۔ابو عبیدہؓ اپنی بات پر اس طرح اڑے ہوئے تھے کہ انہیں پرواہ ہی نہیں تھی کہ خالدؓ خلیفہؓ کی طرف سے سالارِ اعلیٰ مقرر کیے گئے ہیں۔توما ،اس کا نائب سالار ہربیس ،پادری اور مشیر وغیرہ الگ کھڑے تماشہ دیکھ رہے تھے۔ انہیں اپنی چال کامیاب ہوتی نظر آرہی تھی۔بلکہ چال ضرورت سے زیادہ کامیاب ہو رہی تھی۔ وہ اس طرح کہ مسلمانوں کا سپہ سالار اور اس کا قائم مقام سالار آپس میں لڑنے پر آگئے تھے۔ابو عبیدہؓ کی جگہ کوئی اور سالار ہوتا تو خالدؓ اسے سالاری سے معزول کرکے سپاہی بنا دیتے، یا اسے واپس مدینہ بھیج دیتے لیکن وہ ابو عبیدہؓ تھے۔ جنہیں رسولِ اکرمﷺ نے امین الامت کا خطاب دیا تھا۔انہیں الاثرم بھی کہتے تھے کیونکہ ان کے سامنے کے دانت احد کی جنگ میں شہید ہوئے تھے۔ مشہور مؤرخ ابنِ قتیبہ اور واقدی نے لکھا ہے کہ رسول اﷲﷺکو ابو عبیدہؓ سے خاص محبت تھی۔یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ابو عبیدہؓ دانت والوں سے زیادہ خوبرو لگتے تھے ۔ان کا ذہد و تقویٰ ضرب المثل تھا۔خلیفۃ المسلمین ابو بکرؓ ان کا بہت احترام کرتے تھے اور مجاہدین ان کے اشارے پر جانیں قربان کرنے کو تیار رہتے تھے۔خالدؓ کے دل میں ابو عبیدہؓ کا اتنا احترام تھا کہ میدانِ جنگ میں دونوں کی پہلی ملاقات ہوئی تو خا لدؓگھوڑے پر سوار نہیں تھے۔ ابو عبیدہؓ گھوڑے پر سوار تھے۔خالدؓ چونکہ سالارِ اعلیٰ تھے اس لئے ابوعبیدہؓ نے اتر کر خالدؓ سے ملنا چاہا لیکن خالدؓ نے انہیں روک دیا اور کہا کہ میرے دل میں اپنے احترام کو قائم رکھیں۔وہ ابو عبیدہؓ اب خالدؓ سے پوچھے بغیر دشمن کے متعلق بڑا اہم فیصلہ کر بیٹھے، اور اسے بدلنے پر آمادہ نہیں ہو رہے تھے۔ابو عبیدہؓ عشرہ مبشرہ میں سے بھی تھے۔ابو عبیدہؓ کی تمام خوبیوں اور اسلامی معاشرے میں ان کی قدرومنزلت کو تسلیم کرتے ہوئے اس دور کے وقائع نگار اور مؤرخ لکھتے ہیں کہ جنگی امور کی جو سوجھ بوجھ خالدؓ میں تھی وہ ابو عبیدہؓ میں نہیں تھی۔وہ باریکیوں کو نہیں سمجھتے تھے۔ البتہ حرب و ضرب میں مہارت رکھتے تھے۔’’میں تجھے امیر مانتا ہوں ابو سلیمان!‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’لیکن یہ سوچ کہ میں اپنے دستوں کے ساتھ پر امن طریقے سے شہر میں لایا گیا ہوں۔‘‘’’ابنِ الجراح!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’آتجھے دکھاؤں کہ میں شہر میں کس طرح داخل ہوا ہوں، اور رات سے اب تک مجھے کیسی لڑائی لڑنی پڑی ہے، ان رومیوں نے دیکھا کہ یہ لڑ نہیں سکتے اور میں شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا تو یہ تیرے پاس جا پہنچے۔میں انہیں معاف نہیں کروں گا۔‘‘’’ابو سلیمان!‘‘ابو عبیدہؓ نے دبدبے سے کہا۔’’کیا تو اﷲسے نہیں ڈرتا؟میں نے انہیں اپنی پناہ میں لے لیا ہے۔ان سے حفاظت کا وعدہ کر چکا ہوں۔‘‘لیکن خالدؓ ابو عبیدہؓ کی بات ماننے پر آمادہ نہیں تھے۔

’’آہ ابو سلیمان!‘‘ابو عبیدہؓ نے افسوس کے لہجے میں کہا۔’’میں نے جب ان کی شرطیں سن کر انہیں حفاظت کا وعدہ دیا تھا، اس وقت مجھے گمان تک نہ ہو اتھا کہ تو میرے فیصلے پر اعتراض کرے گا۔میں یہ بھی نہیں جانتا تھاکہ تو لڑ رہا ہے۔میں نے اپنے اﷲاور رسولﷺ کے احکام کے مطابق اور انہی کے نام پر رومیوں کو بخش دیا ہے……سمجھ لے ابو سلیمان! میری بات سمجھ لے۔مجھے بد عہدی کا ارتکاب نہ کرنے دے۔‘‘دونوں کے درمیان بحث چلتی رہی۔خالدؓ کے محافظوں کو بھی غصہ آگیا۔وہ تلواریں سونت کر توما اور اس کے ساتھیوں پر جھپٹے۔ وہ انہیں قتل کر دینا چاہتے تھے۔انہیں کسی طرح شک ہو گیا تھا کہ یہ رومیوں کی چال ہے جو دو سالاروں کو لڑا رہی ہے۔محافظوں نے توما وغیرہ پر ہلہ بولا توابو عبیدہؓ دوڑ کر ان کے آگے ہو گئے۔’’خبردار !‘‘ ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’پہلے کچھ فیصلہ ہونے دو،یہ ابھی میری پناہ میں ہیں اور تمہیں جب تک کوئی حکم نہیں ملتا تم کوئی حرکت نہیں کر سکتے۔‘‘خالدؓ نے ابو عبیدہؓ کے اس حکم کو بھی برداشت کیا۔خالدؓ کی موجودگی میں ابو عبیدہؓ کوئی حکم نہیں دے سکتے تھے۔یہ صورتِ حال مسلمانوں کیلئے اچھی نہیں تھی۔ایک غلطی تو خالدؓ سے ہوئی تھی کہ کمند پھینک کر شہر میں داخل ہونے جیسا خطرناک کام کر رہے تھے،مگر ابو عبیدہؓ کو اطلاع نہ دی۔حالانکہ وہ خالدؓ کے قائم مقام سالار تھے۔خالدؓ نے تو ان سالاروں میں سے بھی کسی کو نہ بتایا جو شہر کے دوسرے دروازوں کے سامنے اپنے دستوں کے ساتھ موجود تھے۔اس کے بعد غلطی ابو عبیدہؓ کی تھی۔جنہوں نے وہ فیصلہ کیا جو صرف سالارِ اعلیٰ کو کرنا چاہیے تھا۔خالدؓ اور ابو عبیدہؓ کے درمیان یہ جھگڑا ان کی انا کا مسئلہ بن کر کوئی ناگوار صورت اختیار کر سکتا تھا لیکن یہ اس دور کا واقعہ ہے جب مسلمان آپس کے کسی جھگڑے کو ذاتی مسئلہ نہیں بنایا کرتے تھے اور ان کا حاکم اپنے آپ کو آج کل کے حاکموں کی طرح نہیں سمجھا کرتے تھے۔خالدؓنے دوسرے سالاروں کو بلایا۔اس وقت تک دوسرے دستے بھی شہر میں آچکے تھے۔سالار جب خالدؓ کے پاس آئے توخالدؓ نے اپنا اور ابو عبیدہؓ کا جھگڑا ان کے آگے رکھ دیا۔’’ابنِ ولید!‘‘ سالاروں نے آپس میں بحث و مباحثہ کرکے خالدؓ سے کہا۔’’ابو عبیدہ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن وہ جو فیصلہ کر چکے ہیں ہمیں اسی پر عمل کرنا چاہیے۔ورنہ یہ خبر دور دور تک پھیل جائے گی کہ مسلمان دھوکے باز ہیں، صلح اور عام معافی کا وعدہ کرتے ہیں پھر لوٹ مار اور قتلِ عام کرتے ہیں۔‘‘’’ابنِ ولید!‘‘سالار شرجیلؓ بن حسنہ نے کہا۔’’ہم نے پہلے دیکھا ہے کہ بعض شہر ہمیں مزاحمت کے بغیر مل گئے تھے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ان شہروں میں ہماری وہاں آمد سے آگے آگے یہ خبر مشہور ہو گئی تھی کہ مسلمانوں کی شرطیں سخت نہیں ہوتیں اور اپنی شرطوں پر قائم رہتے ہیں اور رحم دلی سے ہر کسی کے ساتھ پیش آتے ہیں……ابنِ ولید!ہمیں اس روایت کو برقرار رکھنا چاہیے۔ورنہ پھر ہمیں کوئی شہر آسانی سے نہیں ملے گا-
💟 *جاری ہے ۔ ۔ ۔* 💟

Mian Muhammad Shahid Sharif

Accounting & Finance, Blogging, Coder & Developer, Administration & Management, Stores & Warehouse Management, an IT Professional.

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی