🗡️🛡️⚔*شمشیرِ بے نیام*⚔️🛡️🗡️ : *قسط 40*👇




🗡️🛡️⚔*شمشیرِ بے نیام*⚔️🛡️🗡️
🗡️ تذکرہ: حضرت خالد ابن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ 🗡️
✍🏻تحریر:  عنایت اللّٰہ التمش
🌈 ترتیب و پیشکش : *میاں شاہد*  : آئی ٹی درسگاہ کمیونٹی
قسط نمبر *40* ۔۔۔۔

خالدؓمرج راہط کے قریب پہنچ رہے تھے اور انہیں میلہ نظر آرہا تھا۔بہت بڑا میلہ تھا۔ یہ غسانیوں کا کوئی تہوار تھا۔ہزار ہا لوگ جمع تھے ، کھیل تماشے ہورہے تھے ، گھڑ دو ڑ اور شتر دوڑ بھی ہو رہی تھی،کہیں ناچ تھا کہیں گانے تھے، ایک وسیع میدان تھا جس میں آدمی ہی آدمی تھے ۔ان کی تعداد بیس ہزار کے لگ بھگ تھی۔خالدؓکا لشکر جب کچھ اور قریب گیا تو تہوار منانے والا یہ ہجوم دیکھتے ہی دیکھتے فوج کی صورت اختیار کرکے جنگی ترتیب میں آگیا۔گھوڑ سوار باقاعدہ رسالہ بن گئے۔ ہر آدمی تلوار یا برچھی سے مسلح تھا، عورتیں اور بچے بھاگ کر قصبے میں چلے گئے اور ہجوم جو فوج کی صورت اختیار کرگیا تھا ، اس طرح دائیں اور بائیں پھیلنے لگا جیسے مجاہدین کو گھیرے میں لینا چاہتا ہو۔مجاہدین کو اپنے پیچھے سر پٹ دوڑتے گھوڑوں کا قیامت خیز شور سنائی دیا۔اُدھر دیکھا ، غسانی سواروں کا ایک دستہ تلواریں اور برچھیاں تانے سمندر کی طوفانی لہروں کی طرح چلا آرہا تھا،یہ تھا وہ جال جو جبلہ بن الایہم نے خالدؓ کیلئے بچھایا تھا۔ممکن نظر نہیں آتا تھاکہ خالدؓ اپنے لشکر کو اس جال سے نکال سکیں گے،مجاہدین کی تعداد نو ہزار بھی نہیں رہ گئی تھی،اور جس دشمن نے انہیں اپنے جال میں لیا تھا اس کی تعداد تین گنا تھی۔مجاہدین تھکے ہوئے بھی تھے۔پانچ روزہ صحرائی سفر کے بعد وہ مسلسل پیش قدمی اور معرکہ آرائی کرتے آرہے تھے۔غسانیوں کے بادشاہ جبلہ نے ٹھیک سوچا تھا کہ مسلمان کوچ کی ترتیب میں آرہے ہوں گے اور انہیں جنگی ترتیب میں آتے کچھ وقت لگے گااور ان پر حملہ اس طرح ہوگا کہ انہیں سنبھلنے کا موقع نہیں ملے گا۔اس نے مسلمانوں کی قلیل تعداد کو بھی پیشِ نظر رکھا تھااور یہ کہ مسلمان میلے کو بے ضرر لوگوں کا میلہ ہی سمجھیں گے۔غسانیوں کو معلوم نہیں تھا کہ خالدؓمیلے پر نہیں آئے تھے۔وہ تجربہ کار سالار تھے۔انہیں اچانک حملوں کا تجربہ ہو چکا تھا،انہیں احساس تھا کہ جوں جوں وہ دشمن ملک کے اندر ہی اندر جا رہے ہیں ، حملوں اور چھاپوں کا خطرہ بڑھتا ہی جا رہا ہے، چنانچہ وہ لشکر کو ایسی ترتیب میں رکھتے تھے کہ اچانک اور غیر متوقع حملے کا فوراًمقابلہ کیا جائے۔ان کے عقب سے غسانیوں کے جو سوار طوفانی موجوں کی طرح آرہے تھے وہی مسلمانوں کو کچلنے کیلئے کافی تھے۔خالدؓ کی توجہ اس رسالے پر تھی اور وہ مطمئن تھے۔مجاہدین ایک مشین کی طرح اس صورتِ حال سے نمٹنے کی ترتیب میں آگئے۔خالدؓ نے خود نعرہ تکبیر بلند کیا جس کا مجاہدین نے رعد کی کڑک کی طرح جواب دیا۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے بلند آواز سے کچھ احکام دیئے۔’’خدا کی قسم!ہم انہیں سنبھال لیں گے۔‘‘خالدؓ نے بلند آواز سے کہا۔’’اﷲکے نام پر، محمد الرسول اﷲﷺ کے نام پر!‘‘

غسانیوں کا رسالہ بڑی تیزی سے قریب آرہا تھا۔اس کے پیچھے اور کچھ دائیں سے ایک اور رسالہ نکلا، سینکڑوں گھوڑے انتہائی رفتار سے دوڑے آرہے تھے۔ان کا رخ غسانی سواروں کی طرف تھا۔’’پیچھے دیکھو!‘‘کسی غسانی سوار نے چلّا کر کہا۔’’یہ مسلمان سوار معلوم ہوتے ہیں۔ پیچھے سے آنے والے سوار مسلمان ہی تھے ۔یہ مجاہدین کے لشکر کا عقبی حصہ (ریئر گارڈ)تھا۔ان سواروں نے غسانی سواروں کو آن لیا، غسانی سوار اس حملے کیلئے تیار نہیں تھے۔ان کا ہلّہ (چارج)بے ترتیب ہوتے ہوتے رک گیا۔ادھر سے خالدؓ نے اپنے سوار دستے کو تیز حملے کا حکم دے دیا۔غسانی سوار گھیرے میں آکر سکڑنے لگے، پھر وہ اتنے سکڑ گئے کہ ان کے گھوڑوں کو ایک قدم بھی دائیں بائیں اور آگے پیچھے ہلنے کی جگہ نہیں ملتی تھی۔اس کے ساتھ ہی خالدؓ نے شتر سوار تیر اندازوں کو میلے والے لشکر پر تیر برسانے کا حکم دے دیا اور دوسرے دستوں کو دشمن کے پہلوؤں پر حملے کیلئے بھیج دیا انہوں نے اپنے دستے کے سامنے سے حملہ کیا۔یہ عقل اور جذبے کی لڑائی تھی۔ غسانی پیادوں کو اپنے گھوڑ سواروں پر بھروسہ تھا جواَب مجاہدین کی تلواروں سے کٹ رہے تھے یا معرکے سے نکل کر بھاگ رہے تھے۔خالدؓکی کوشش یہ تھی کہ دشمن کے لشکر کے عقب میں چلے جائیں تاکہ دشمن شہر میں نہ جا سکے، خالدؓکے حکم سے غسانیوں کے خیموں کو آگ لگا دی گئی۔ یہ خیمے میلے کیلئے لگے ہوئے تھے۔شعلوں نے غسانیوں پر خوف طاری کر دیا۔ان کے حوصلے تو یہی دیکھ کر ٹوٹ گئے تھے کہ انہوں نے جو جال بچھایا تھا وہ بری طرح ناکام ہوگیا تھا۔غسانیوں کے پاؤں اکھڑنے لگے۔ان کا جانی نقصان اتنا زیادہ ہو رہا تھا کہ خون دیکھ کر وہ گھبراگئے۔آخر وہ بھاگنے لگے۔خالدؓ بار بار اعلان کرا رہے تھے کہ اپنے شہر کو تباہی سے بچانا چاہتے ہو تو باہر رہو۔شام تک خالدؓ اس شہر سے مالِ غنیمت اور بہت سے قیدی اکٹھے کر چکے تھے۔شہر میں ان عورتوں کے بَین سنائی دے رہے تھے جن کے خاوند بھائی باپ اور بیٹے مارے گئے تھے۔خالدؓنے رات کو ابو عبیدہؓ کے نام ایک پیغام بھیجا کہ وہ خالدؓ کو بصرہ کے قرب و جوار میں ملیں، بصرہ غسانی حکومت کا پایہ تخت تھا۔ غسانی اور رومی مل کر بصرہ کے دفاع کا انتظام کر رہے تھے۔ مجاہدین کا بڑا ہی سخت امتحان ابھی باقی تھا۔

وہ جو محمد ﷺکو اﷲکا بھیجا ہوا رسول نہیں مانتے تھے، اور اﷲکو واحدہ لا شریک نہیں سمجھتے تھے۔ وہ ابھی تک جنگی طاقت کو افراد کی کمی بیشی سے اور ہتھیاروں کی برتری اورکمتری سے ناپ تول رہے تھے۔حیران تو وہ ہوتے تھے کہ مسلمان کس طرح اور کس طاقت کے بل بوتے پر فتح حاصل کرتے آرہے ہیں، لیکن اپنی فوجوں اور گھوڑوں کی افراط اور اپنے ہتھیاروں کی برتری کا ان کو ایسا گھمنڈتھا کہ وہ سوچتے ہی نہیں تھے کہ انسان میں کوئی اور طاقت بھی ہو سکتی ہے اور یہ طاقت عقیدے اور مذہب کی سچائی ہوتی ہے۔غسانیوں کا بادشاہ جبلہ بن الایہم بصرہ میں اس خبر کا انتظار بڑی بے تابی سے کر رہا تھا کہ مرج راہط میں اس کا دھوکا کامیاب رہا ہے اور مسلمانوں کو کاٹ دیا گیا ہے۔اس نے فرض کر لیا تھا کہ مسلمانوں کو شکست دی جا چکی ہے۔اسے آخری اطلاع یہ ملی تھی کہ مسلمانوں کیلئے میلے کی صورت میں پھندا تیار ہوچکا ہے اور مسلمان تیزی سے اس پھندے میں آرہے ہیں۔جبلہ کے طور اور انداز ہی بدل گئے تھے ۔گذشتہ رات اس نے اپنے ہاں جشن کا سماں بنا دیاتھا۔شراب کے مٹکے خالی ہو گئے تھے۔جبلہ بن الایہم شراب میں تیرتا اور نشے میں اڑتا جوان ہو گیا تھا۔اس نے بڑھاپے کا مذاق اڑایا تھا۔اس نے یہ بھی نہیں دیکھا تھا کہ اس کے حرم کی جوان عورتیں من مانی کر رہی ہیں اور ان میں سے بعض اس کی قیدوبند سے آزاد ہو کر اپنی پسند کے آدمیوں کے ساتھ محل کے باغیچوں میں غائب ہو گئی ہیں۔خود جبلہ کی بدمستی کا یہ عالم تھا کہ اس جشنِ مے نوشی میں ایک بڑی حسین اور نوجوان لڑکی اس کے سامنے سے گزری تو اس نے لپک کر لڑکی کو پکڑ لیا اور اسے اپنے بازوؤں میں جکڑ کر بے ہودہ حرکتیں کرنے لگا۔لڑکی اس کے بازوؤں سے آزاد ہونے کو تڑپنے لگی۔’’تیری یہ جرات؟‘‘اس نے لڑکی کو الگ کرکے ایک جھٹکے سے اپنے سامنے کھڑا کیا اور بڑے سخت غصے میں بولا۔’’کون ہے تو جو میرے جسم کو ناپسند کر رہی ہے؟‘‘’’تیری بھانجی!‘‘لڑکی نے روتے ہوئے چلّا کر کہا۔’’تیرے باپ کی بیٹی کی بیٹی!‘‘جبلہ بن الایہم نے بڑی زور سے قہقہہ لگایا۔ ’’فتح کی خوشی کا نشہ شراب کے نشے سے تیز ہوتاہے۔‘‘جبلہ نے کہا۔اس کی آواز لڑکھڑا رہی تھی۔’’کل جب مجھے خبر ملے گی کہ مسلمانوں کو کچل دیا گیا ہے اور ان میں سے کوئی بھی بھاگ نہیں سکا تو میری حالت اور زیادہ بری ہو جائے گی۔‘‘اس کی بھانجی روتی ہوئی جشن سے نکل گئی۔پھر وہ وقت آگیا جب وہ مسلمانوں پر اپنی فتح کی خبر کا منتظر تھا۔اب تک خبر آجانی چاہیے تھی۔ وہ باغ میں جا بیٹھا تھا۔ایک جواں سال خادمہ طشتری میں شراب کی صراحی اور پیالہ رکھے اس کی طرف جا رہی تھی۔اُدھر سے دربان بڑا تیز چلتا اس تک پہنچا۔’’آیا ہے کوئی؟‘‘جبلہ نے بیتاب ہو کر دربان سے پوچھا۔’’کوئی مرج الراہط سے آیا ہے؟ ’’قاصد آیا ہے۔‘‘دربان سے دبے دبے سے لہجے میں کہا۔’’زخمی ہے۔‘‘’’بھیجو اسے!‘‘جبلہ نے جوش سے اٹھتے ہوئے کہا۔’’وہ فتح کی خبر لایا ہے۔اسے جلدی میرے پاس بھیجو۔‘‘خادمہ طشتری اٹھائے اس کے قریب کھڑی تھی۔ادھر سے ایک زخمی چلا آرہا تھا۔’’وہیں سے کہو کہ تم فتح کی خبر لائے ہو۔‘‘جبلہ بن الایہم نے کہا۔زخمی قاصد نے کچھ نہ کہا۔وہ چلتا آیا۔اس کے کپڑے اپنے زخموں کے خون سے لال تھے۔اس کا سر کپڑے میں لپٹا ہو اتھا۔

’’کیا تم اتنے زخمی ہو کہ بول نہیں سکتے؟‘‘جبلہ نے بلند آواز سے پوچھا۔’’بول سکتا ہوں۔‘‘قاصد نے کہا۔’’لیکن جو خبر لایا ہوں وہ اپنی زبان سے سنانے کی جرات نہیں۔‘‘’’کیا کہہ رہے ہو؟‘‘جبلہ کی آواز دب سی گئی۔’’کیا مسلمان پھندے میں نہیں آئے؟……آکر نکل گئے ہیں؟‘‘’’ہاں!‘‘قاصد نے شکست خوردہ آواز میں کہا۔’’وہ نکل گئے……انہوں نے ایسی چال چلی کہ ہم ان کے پھندے میں آگئے۔اپنی فوج کٹ گئی ہے۔مرج راہط کو انہوں نے لوٹ لیا ہے۔‘‘جبلہ بن الایہم نے طشتری سے شراب کی صراحی اٹھائی ۔خادمہ نے پیالہ اٹھا کر اس کے آگے کیا۔جبلہ نے صراحی بڑی زور سے قاصد پر پھینکی۔ قاصد بہت قریب کھڑا تھا۔صراحی ا س کے ماتھے پر لگی۔وہ تیورا کر گرا۔جبلہ نے خادمہ کے ہاتھ سے پیالہ چھین کر اس کے منہ پر مارا، اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلاگیا۔غسانیوں کے بادشاہ کامحل ماتمی فضاء میں ڈوب گیا، مرج راہط کے بھگوڑے غسانی بصرہ میں آگئے اور بصرہ ماتمی شہر بن گیا۔اصل ماتم تو ان کے یہاں تھا جن کے بیٹے بھائی خاوند اور باپ اس پھندے میں آکر مارے گئے تھے جو انہوں نے خالدؓ کے مجاہدین کیلئے تیار کیا تھا۔اس ماتم کے ساتھ ایک دہشت بھی آئی تھی اور یہ دہشت ہر گھر میں پہنچ گئی تھی۔’’ان کے تیر زہر میں بجھے ہوئے ہوتے ہیں۔کسی کو اس تیر سے خراش بھی آجائے تو وہ مر جاتا ہے۔‘‘’’ان کے گھوڑے پروں والے ہیں، کہتے ہیں ہوا سے باتیں کرتے ہیں۔‘‘’’ان مسلمانوں کا رسول ﷺجادوگر تھا۔اس کا جادو چل رہا ہے۔‘‘’’ان کے سامنے لاکھوں کی فوج بھی نہیں ٹھہر سکتی۔‘‘’’سنا ہے دل کے بڑے نرم ہیں، جو ان کے آگے ہتھیار ڈال دیتے ہیں انہیں وہ گلے لگا لیتے ہیں۔‘‘’’جس شہر میں ان کا مقابلہ ہوتا ہے اس شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے ہیں۔‘‘’’کسی کو زندہ نہیں چھوڑتے، لڑنے والوں کو پکڑ کر لے جاتے ہیں۔‘‘دبی دبی ایسی آواز بھی سنائی دیتی تھی ۔’’مذہب ان کا سچا معلوم ہوتا ہے۔وہ اﷲاور اس کے رسولﷺکومانتے ہیں، یہی ان کی طاقت ہے ،جنون سے لڑتے ہیں۔‘‘ان لوگوں پر جو حیرت اور دہشت طاری ہو گئی تھی اس میں وہ حق بجانب تھے۔ ’’تم لوگ بصرہ کو بھی نہیں بچا سکو گے۔‘‘جبلہ بن الایہم قہر بھرے لہجے میں اپنے سالاروں سے کہہ رہا تھا ۔’’تمہاری بزدلی کو دیکھ کر میں نے رومیوں کو مدد کیلئے پکارا ہے،اگر تم مسلمانوں کو شکست دے دیتے تو میں رومیوں کے سینے پر کودتا۔ان پر میری دھاک بیٹھ جاتی۔مگر تم نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا۔رومی ہمارے پایہ تخت کی حفاظت کرنے آئے ہیں۔‘‘وہ اپنے سالاروں کوکوس ہی رہا تھا کہ اسے اطلاع ملی کہ مسلمانوں کی ایک فوج بصرہ کی طرف بڑھ رہی ہے۔’’اتنی جلدی؟‘‘اس نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔’’مرج راہط سے وہ اتنی جلدی بصرہ تک کس طرح آگئے ہیں؟رومی سالار کو اطلاع دو۔‘‘رومی فوج جو خالدؓ کی کامیابیوں کی خبریں سن کر جبلہ بن الایہم کی مددکو آئی تھی وہ بصرہ کے باہر خیمہ زن تھی، اس کے سالار کو اطلاع ملی کہ مسلمانوں کی فوج آرہی ہے توسالار نے فوج کو تیاری کا حکم دے دیا،اس فوج میں عرب عیسائی بھی تھے۔فوج جو بصرہ کی طرف بڑھ رہی تھی وہ خالدؓ کی نہیں تھی۔یہ ایک مسلمان سالار شرجیلؓ بن حسنہ کا لشکر تھا، جس کی نفری چار ہزار تھی۔مسلمان لشکر جو شام کی فتح کیلئے بھیجا گیا تھایہ اس کا حصہ تھا۔خلیفۃ المسلمینؓ کے احکام کے مطابق سالار ابو عبیدہؓ نے لشکر کے دوسرے حصوں کو بھی یکجا کرکے اپنی کمان میں لے لیا تھا۔بصرہ پر شرجیلؓ بن حسنہ کے حملے کا پس منظر یہ تھا کہ خلیفۃ المسلمینؓ نے ابو عبیدہؓ کو ایک خط لکھا تھا:’’میں نے خالد بن ولید کو یہ کام سونپاہے کہ رومیوں پر چڑھائی کرے۔تم پر اس کی اطاعت فرض ہے۔کوئی کام اس کے حکم کے خلاف نہ کرنا۔ میں نے اسے تمہارا امیر مقررکیا ہے۔مجھے احساس ہے کہ دین کے باقی معاملات میں تم خالد سے برترہو اور تمہارا رتبہ اونچا ہے لیکن جنگ کی جو مہارت خالد کو ہے وہ تمہیں نہیں۔اﷲہم سب کو صراط المستقیم پر چلنے کی توفیق دے۔‘‘خالدؓ کو اس لشکر کا سالارِ اعلیٰ مقرر کیا گیا۔جس وقت خالدؓ اپنے رستے میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو کچلتے جا رہے تھے، اس وقت ابو عبیدہؓ فارغ بیٹھے تھے۔خالدؓنے جب مرج راہط کے مقام پر بھی دشمن کو شکست دے دی تو ابو عبیدہؓ نے اپنے سالاروں کو بلایا، اس وقت ابو عبیدہؓ کے دستے دریائے یرموک کے شمال مشرق میں ایک مقام حوران میں تھے۔ان کے ماتحت دو سالار تھے ایک شرجیلؓ بن حسنہ اور دوسرے یزیدؓ بن ابی سفیان۔

’’رفیقو!‘‘ابو عبیدہؓ نے دونوں سالاروں سے کہا۔’’ہم کس طرح شکر ادا کریں اﷲتبارک وتعالیٰ کا جو ابنِ ولید کو راستے میں آنے والے ہر دشمن پر حاوی کرتا آ رہا ہے۔ کیا تم نےنہیں سوچا کہ ہم ابنِ ولید کے کسی کام نہیں آرہے؟وہ جوں جوں آگے بڑھتا جا رہا ہے ، اس کی مشکلات خطرناک ہوتی جا رہی ہیں۔اس کا لشکر تھک کر بے حال ہو چکا ہو گا،آگے دمشق ہے،بصرہ ہے۔ غسانی ہیں، عیسائی اوررومی ہیں، کیا یہ تینوں یہ نہیں سوچ رہے ہوں گے کہ مسلمانوں کو آگے آنے دیں اور جب وہ مسلسل کوچ اورلڑائیوں سے شل ہو جائیں اور ان کی نفری کم ہو جائے تو انہیں کسی مقام پر گھیر کر ختم کر دیا جائے؟‘‘’’رومیونے ایسا ضرور سوچا ہوگا۔‘‘سالار یزیدؓ نے کہا۔’’رومی لڑنے والی قوم ہے،اور اس کے سالار عقل والے ہیں۔ ’’خدا کی قسم!میں رومیوں کو ایسا موقع نہیں دوں گا۔‘‘ ابو عبیدہؓ نے پر جوش لہجے میں کہا۔’’کیا ہم اتنی دور سے ابنِ ولید کی کوئی مدد نہیں کر سکتے؟……بے شک کر سکتے ہیں۔‘‘’’تو نے جو سوچا ہے وہ ہمیں بتا ابو عبیدہ!‘‘شرجیلؓ بن حسنہ نے کہا ۔’’ اﷲاس کا مددگار ہے۔‘‘’’ابنِ ولید کے آگے دمشق اور بصرہ دو ایسے مقام ہیں جہاں رومیوں اور غسانیوں نے اپنی فوجیں جمع کر رکھی ہوں گی۔‘‘ابوعبیدہؓ نے کہا۔’’اس سے پہلے کہ سالارِ اعلیٰ ابنِ ولید بصرہ پہنچے ہم بصرہ پر حملہ کردیتے ہیں۔اس سے یہ ہوگا کہ رومی اور غسانی بھی تازہ دم نہیں رہیں گے……ابنِ حسنہ!‘‘ابو عبیدہؓ نے شرجیلؓ سے کہا۔’’میں یہ کام تمہیں سونپتا ہوں۔چار ہزار نفری کافی ہوگی۔‘‘ابو عبیدہؓ نے سالار شرجیلؓ بن حسنہ کو ہدایات دیں اور بصرہ کو روانہ کر دیا۔اس وقت خالدؓ مرج راہط سے فارغ ہو چکے تھے ،اور انہوں نے ابو عبیدہؓ کے نام یہ پیغام دے کر قاصد روانہ کر دیا تھا کہ ابو عبیدہؓ اپنے دستوں کے ساتھ انہیں بصرہ کے قریب کہیں ملیں، خالدؓ نے مرج راہط کے قصبے کے باہر دو چار روز قیام کیا تھا،۔ شرجیلؓ چار ہزار مجاہدین کے ساتھ بصرہ پہنچ گئے……رومی بصرہ کے باہر خیمہ زن تھے ، وہ سمجھے یہ خالدؓکی فوج ہے۔ان کے جاسوسوں نے انہیں بتایا کہ اس فوج کا سالار کوئی اور ہے۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ رومی سالار یہ سمجھے کہ یہ مسلمانوں کی فوج کا ہراول ہے اور پوری فوج پیچھے آرہی ہے……وہ مان نہیں سکتے تھے کہ اتنی فوج اتنے بڑے لشکر کو محاصرے میں لینے آئی ہوگی۔رومی فوج جس کی تعداد بارہ ہزار تھی قلعے کے اندر چلی گئی ۔بصرہ قلعہ بند شہر تھا۔شرجیلؓ نے قلعے کے قریب مغرب کی طرف کیمپ کیا اور اپنے لشکر کو کئی دستوں میں تقسیم کرکے قلعے کے ہر طرف متعین کر دیا۔دودن گزر گئے۔رومی اور غسانی قلعے کی دیواروں کے اوپر سے مسلمانوں کو دیکھتے رہے۔شرجیلؓ نے قلعے کے اردگرد کچھ نہ کچھ حرکت جاری رکھی۔ دشمن قلعے سے دور دور بھی دیکھتا تھا ۔اسے توقع تھی کہ مسلمانوں کی پوری فوج آرہی ہے۔اسے اب اپنے جاسوسوں کے ذریعے کوئی خبر نہیں مل سکتی تھی کیونکہ قلعہ محاصرے میں تھا۔

سالار شرجیلؓ بن حسنہ کے متعلق یہ بتانا ضروری ہے کہ وہ رسولِ کریمﷺکے قریبی صحابیؓ تھے۔جو صحابہ کرامؓ وحی لکھتے تھے ، ان میں شرجیلؓ بن حسنہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔اسی حوالے سے انہیں کاتبِ رسول کہا جاتا تھا۔شرجیلؓ کا زہدوتقویٰ تو مشہور تھا ہی ، وہ فن حرب و ضرب اور میدانِ جنگ میں قیادت کی مہارت رکھتے اور کہا کرتے تھے کہ انہوں نے یہ فن خالدؓ سے یمامہ کی جنگ میں پھر آتش پرستوں کے خلاف لڑائیوں میں سیکھا ہے۔محاصرہ بصرہ کے وقت ان کی عمر ستر سال سے کچھ ہی کم تھی، جذبے اور جوش و خروش کے لحاظ سے وہ جوان تھے اور ان کی شہسواری اور تیغ زنی جوانوں جیسی ہی تھی۔محاصرے کا تیسرا دن تھا، رومیوں کو یقین ہو گیا کہ مسلمانوں کی نفری اتنی ہی ہے جس نے محاصرہ کررکھا ہے۔اگر مزید فوج نے آنا ہوتا تو اب تک آچکی ہوتی۔چنانچہ انہوں نے اپنی بارہ ہزار نفری کی فوج باہر نکال لی۔نفری کی افراط کے بل پر وہ ایسی دلیرانہ کارروائی کر سکتے تھے۔مسلمان کل چار ہزار تھے۔شرجیلؓ نے بڑی تیزی سے اپنے دستوں کو اکٹھاکرکے جنگی ترتیب میں کرلیا۔اس طرح دونوں فوجیں آمنے سامنے آ گئیں۔’’اے رومیو!‘‘شرجیلؓ نے آگے آکر بلند آواز سے کہا۔’’خدا کی قسم!ہم بھاگنے کیلئے نہیں آئے۔اپنی پہلی شکستوں کو یاد کرو، تم ہر میدان میں ہم سے زیادہ تھے۔خون خرابے سے تم بچتے کیوں نہیں؟ہماری شرطیں سن لو اور اپنے شہر اور اپنی آبادی کو تباہی سے بچالو۔‘‘’’ہم شکست کھانے کیلئے باہر نہیں آئے۔‘‘رومی سالارنے آگے آکر کہا۔’’واپس چلے جاؤ اور زندہ رہو، وہ کوئی اور تھے جنہوں نے تم سے شکستیں کھائی ہیں۔‘‘’’خدا کی قسم!ہم لڑائی سے منہ نہیں موڑیں گے۔‘‘شرجیلؓ نے اعلان کیا۔’’لیکن تمہیں ایک موقع دیں گے کہ سوچ لو، آگے آؤاور ہماری شرطیں سن لو۔‘‘مکالموں اور للکار کا تبادلہ ہوا، اور رومی سالاروں نے شرائط پر بات چیت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ان کا سپہ سالار آگے گیا۔ادھر سے شرجیلؓ بن حسنہ آگے گئے۔’’بول اے مسلمان سالار!‘‘رومی سالار نے کہا۔’’اپنی شرائط بتا۔‘‘’’اسلام قبول کرلو۔‘‘ شرجیلؓ نے کہا۔’’یہ منظور نہیں تو جزیہ ادا کرو۔یہ بھی منظور نہیں تو لڑائی کیلئے تیار ہو جاؤ۔ ’’ہم اپنا مذہب نہیں چھوڑیں گے اور ہم جزیہ نہیں دیں گے ۔لڑائی کیلئے ہم تیار ہیں۔‘‘اس کے ساتھ ہی رومی سالار نے مسلمانوں پر حملے کا حکم دے دیا۔رومیوں کی تعداد تین گنا تھی۔شرجیلؓ نے اپنے چار ہزار مجاہدین کو جنگی ترتیب میں صف آراء کررکھا تھا۔انہیں اپنی نفری کی قلت کا احساس بھی تھا۔انہون نے اپنے دونوں پہلوؤں کو پھیلا دیا تھا تاکہ دشمن گھیرے میں نہ لے سکے۔رومی جنگجو تھے اور ان کے سالار تجربہ کار تھے۔وہ مسلمانوں کو گھیرے میں لینے کی ہی کوشش کر رہے تھے ،لڑائی گھمسان کی تھی ، شرجیلؓ قاصدوں کو دائیں بائیں دوڑا رہے تھے اور مجاہدین کو للکار بھی رہے تھے ، مجاہدین اپنی روایت کے مطابق بے جگری سے لڑ رہے تھے لیکن رومی بارہ ہزار تھے ۔ ان کے سالار انہیں دائیں بائیں پھیلاتے جا رہے تھے ۔شرجیلؓ نے اپنے دائیں اور بائیں دیکھا تو انہیں اپنے دستوں کی صورتِ حال بڑی تشویشناک دکھائی دی۔ایسی صورت حال پسپائی کا مطالبہ کیا کرتی ہے لیکن شرجیلؓ کی للکار پر مجاہدین کا جوش اور جذبہ بڑھ گیا۔وہ پسپائی کے نام سے ناواقف تھے ، ان پر جنونی کیفیت طاری ہو گئی اور چارپانچ گھنٹے گزر گئے۔پھر وہ صورت پیدا ہو گئی جس سے شرجیلؓ بچنے کی کوشش کر رہے تھے ، دشمن کے پہلو پھیل کر مسلمانوں کے پہلوؤں سے آگے نکل گئے تھے۔وہ گھیرے میں آچکے تھے۔’’اندر کی طرف نہیں سکڑنا۔‘‘شرجیلؓ نے اپنے دونوں پہلوؤں کے کمانداروں کو پیغام بھیجے۔’’ باہر کی طرف ہونے کی کوشش کرو۔‘‘شرجیلؓ کی چالیں بے کار ہونے لگیں۔بے شک مسلمانوں کا جذبہ رومیوں کی نسبت زیادہ تھا لیکن رومی تعداد میں اتنے زیادہ تھے کہ مسلمانوں پر غالب آسکتے تھے۔

’’اﷲکے پرستارو!‘‘شرجیل نے للکار کر کہا۔’’فتح یا موت……فتح یا موت……فتح یا موت……اﷲسے مددمانگو۔ اﷲکی راہ میں جانیں دیدو۔اﷲکی مدد آئے گی۔‘‘مسلمانوں کیلئے یہ زندگی اور موت کا معرکہ بن گیا تھا۔شرجیلؓ کی پکار اور للکار پر مجاہدین نے بلند آواز سے کلمہ طیبہ کا ورد شروع کر دیا جس سے انہیں تقویت ملی لیکن رومی ان پر حاوی ہو گئے تھے،مسلمانوں کے جوش اور جذبے میں قہر پیدا ہو گیاتھا۔رومی فوج مسلمانوں کے عقب میں چلی گئی ، اب مسلمانوں کا کچلا جانا یقینی ہو گیا تھا۔رومی جو مسلمانوں کے عقب میں چلے گئے تھے ،انہیں اپنے عقب میں گھوڑے سر پٹ دوڑنے کا طوفانی شور سنائی دیا۔انہوں نے پیچھے دیکھا تو سینکڑوں گھوڑے ان کی طرف دوڑے آرہے تھے۔ان کے آگے دو سوار تھے جن کے ہاتھوں میں تلواریں تھیں۔ان میں سے ایک کے سر پر جو عمامہ تھا اس کا رنگ سرخ تھا……وہ خالدؓ تھے۔خالدؓ اپنے لشکر کے ساتھ بصرہ کی طرف آرہے تھے۔ان کے راستے میں دمشق آیا تھا لیکن وہ دمشق سے ہٹ کر گزر آئے تھے، پہلے وہ بصرہ کو فتح کرنا چاہتے تھے۔یہ اﷲکے اشارے پر ہوا تھا۔اﷲنے کاتبِ رسولﷺ کی پکار اور دعا سن لی تھی۔ خالدؓ جب کوچ کرتے تھے تو اپنے جاسوسوں کو بہت آگے بھیج دیا کرتے تھے۔ بصرہ کی طرف آتے وقت بھی انہوں نے جاسوسوں کو بہت آگے بھیج دیا تھا۔ؒخالدؓ بصرہ سے تقریباًایک میل دور تھے۔جب ان کا ایک شتر سوار جاسوس اونٹ کو بہت تیز دوڑاتا واپس خالدؓ کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ مسلمانوں کا کوئی لشکر بصرہ کے باہر رومیوں کے گھیرے میں آرہا ہے۔ ‘ ‘کون ہے وہ سالار؟‘‘خالدؓ نے کہا اور سوار دستوں کو ایڑھ لگانے اور برچھیاں اور تلواریں نکال لینے کا حکم دے دیا۔خالدؓکے ساتھ جو دوسرا سوار گھوڑ سواروں کے آگے آگے آرہا تھا وہ خلیفۃ المسلمینؓ کا بیٹا عبدالرحمٰنؓ تھا۔ اس نے اﷲاکبر کا نعرہ لگایا۔رومیوں نے مقابلے کی نہ سوچی۔ان کے سالاروں نے تیزی دکھائی، اپنے پہلوؤں کے دستوں کو پیچھے ہٹا لیا اور اپنے تمام دستوں کو قلعے کے اندر لے گئے۔ ان کا مسلمانوں کی تلواروں سے کٹ جانا یقینی تھا۔قلعے میں داخل ہوتے ہوتے مسلمانوں نے ان کا تعاقب کیا اور کئی رومیوں کو ختم کردیا۔قلعے کے دروازے بند ہو گئے۔خالدؓغصے میں تھے۔انہوں نے ایک حکم یہ دیا کہ زخمیوں اور لاشوں کو سنبھالو، اور دوسرا حکم یہ کہ تمام لشکر اکٹھا کیا جائے، انہوں نے سالار شرجیلؓ بن حسنہ کو بلایا۔’’ولیدکے بیٹے!‘‘شرجیلؓ نے آتے ہی خالدؓ سے کہا۔’’خدا کی قسم!تو اﷲکی تلوار ہے۔تو اﷲکی مدد بن کر آیا ہے۔‘‘’’لیکن تو نے یہ کیا کیا ابنِ حسنہ!‘‘خالدؓ نے غصے سے کہا۔’’کیا تو یہ نہیں جانتا کہ یہ قصبہ دشمن کا مضبوط قلعہ ہے اور یہاں بے شمار فوج ہوگی؟کیا اتنی تھوڑی نفری سے تو یہ قلعہ سر کر سکتا تھا؟‘‘’’میں نے ابو عبیدہ کے حکم کی تعمیل کی ہے ابنِ ولید!‘‘شرجیلؓ نے کہا- ’’آہ ابوعبیدہ!‘‘خالدؓنے آہ لے کر کہا۔’’میں اس کا احترام کرتا ہوں۔ وہ متقی و پرہیزگارہے۔لیکن میدانِ جنگ کو وہ اچھی طرح نہیں سمجھتا۔‘‘مؤرخ واقدی لکھتا ہے کہ ابوعبیدہؓ کو سب خصوصاًخالدؓ بزرگ و برتر سمجھتے تھے۔لیکن جس نوعیت کی لڑائیاں جاری تھیں ان کیلئے ابو عبیدہؓ موزوں نہیں تھے لیکن جہاں نفری کی کمی تھی وہاں سالاروں کی بھی کمی تھی۔بہرحال،مؤرخ لکھتے ہیں کہ ابو عبیدہؓ جذبے اور حوصلے میں کسی سے پیچھے نہیں تھے اور وہ بڑی تیزی سے تجربہ حاصل کرتے جا رہے تھے۔بصرہ پر ان کا حملہ جرات مندانہ اقدام تھا۔خالدؓ قلعے کے باہر اپنی اور شرجیلؓ کی نفری کا حساب کر رہے تھے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش بھی کر رہے تھے کہ قلعے کے اندر کتنی نفری ہے۔ مسلمانوں کے ہاتھ میں چند ایک رومی سپاہی آگئے تھے جو زخمی تھے۔خالدؓ کے لشکرکے آجانے سے مسلمانوں کی نفری تیرہ ہزار کے قریب ہو گئی تھی ،لیکن رومیوں غسانیوں اور عیسائیوں کی تعداد دگنی سے بھی زیادہ تھی۔’’کیا تم بھی ڈر کر بھاگ آئے ہو؟‘‘قلعے کے اندر جبلہ بن الایہم رومی فوج کے سپہ سالار پر غصہ جھاڑ رہا تھا۔’’ کیا تم نے اس فوج کا جو قلعے کے اندر تھی اور شہر کے لوگوں کا حوصلہ توڑ نہیں دیا؟‘‘یہ تحریر آپ کے لئے آئی ٹی درسگاہ کمیونٹی کی جانب سے پیش کی جارہی ہے۔

’’نہیں!‘‘رومی سالار نے کہا۔’’میں مسلمانوں پر باہر نکل کر حملہ کر رہا ہوں،اگر میں ان کے عقب میں گئے ہوئے دستوں کوپیچھے نہ ہٹا لیتا تو ان کے عقب سے مسلمان سالار انہیں بری طرح کاٹ دیتے۔مجھے ان کی نفری کا اندازہ نہیں تھا۔میں صرف ایک دن انتظار کروں گا،ہو سکتا ہے کہ ان کی مز ید فوج آرہی ہو، میں انہیں آرام کرنے کی مہلت نہیں دوں گا۔ ’’پھر انہیں قلعے کا محاصرہ کرلینے دو۔‘‘ جبلہ نے کہا۔’’انہیں قلعے کے ا ردگرد پھیل جانے دو، پھر تم قلعے سے اتنی تیزی سے نکلنا کہ انہیں اپنے دستے اکٹھے کرلینے کی مہلت نہ ملے……اور شہر میں اعلان کر دو کہ گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں ، دشمن کو قلعے کے باہر ہی ختم کر دیا جائے گا۔‘‘قلعے کے اندر ہڑبونگ بپا تھی، شہریوں میں بھگدڑ اور افراتفری مچی ہوئی تھی۔رومی فوج کا باہر جاکر لڑنا اور اندر آجانا شہریوں کیلئے دہشت ناک تھا۔ مسلمان فوج کی ڈراؤنی ڈراؤنی سی باتیں تو شہر میں پہلے ہی پہنچی ہوئی تھیں۔مؤرخوں کے مطابق رومیوں نے یہ سوچا تھا کہ مسلمانوں کو آرام کی مہلت ہی نہ دی جائے لیکن انہیں معلوم نہ تھا کہ مسلمان آرام کر نے کے عادی ہی نہیں ، انہیں اتنی ہی مہلت کی ضرورت تھی کہ زخمیوں کو سنبھال لیں اور شہیدوں کی لاشیں دفن کر لیں۔اگلے روز کا سورج طلوع ہونے تک رومی فوج قلعے سے باہر آگئی اور دروزے بند ہو گئے۔خالدؓ نے اپنے لشکر کو جنگی ترتیب میں کر لیا ۔قلعے کے باہر میدان کھلا تھا۔خالدؓنے حسبِ معمول اپنے لشکر کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا۔ قلب کی کمان اپنے پاس رکھی، اب چونکہ انہیں شرجیلؓ کے چار ہزار مجاہدین مل جانے سے ان کے پاس نفری کچھ زیادہ ہو گئی تھی اس لیے انہوں نے قلب کو محفوظ کرنے کیلئے ایک دستہ قلب کے آگے رکھا، اس دستے کی کمان خلیفۃ المسلمینؓ کے بیٹے عبدالرحمٰن بن ابو بکرؓ کے پاس تھی۔ایک پہلو کے دستوں کے سالار رافع بن عمیرہ اور دوسرے پہلو کے سالار ضرار بن الازور تھے۔ جنگ کا آغاز مسلمانوں کے نعرہ تکبیر سے ہوا۔ رومی سپہ سالار اپنے قلب کے آگے آگے آرہا تھا۔عبدالرحمٰنؓ بن ابو بکر جوان تھے۔خالدؓ نے جوں ہی ان کے دستے کو آگے بڑھنے کا حکم دیا، عبدالرحمٰنؓ سیدھے رومی سالار کی طرف گئے۔ لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہی ان کی نظریں اس رومی سالار پر لگی ہوئی تھیں۔عبدالرحمٰنؓ نے گھوڑے کو ایڑلگائی اور تلوار سونت کر اس کی طرف گئے مگر اس کی طرف گئے تو وہ بڑی پھرتی سے آگے سے ہٹ گیا۔ عبدالرحمٰنؓ آگے نکل گئے۔رومی سالار نے گھوڑا موڑا اور عبدالرحمٰنؓ کے پیچھے گیا۔عبدالرحمٰن ؓنے گھوڑا موڑتے موڑتے دیکھ لیا، رومی نے وار کر دیا جو عبدالرحمٰنؓ بچاگئے۔ تلوار کا زنّاٹہ ان کے سر کے قریب سے گزرا۔اب عبدالرحمٰنؓ اس کے پیچھے تھے۔رومی گھوڑا موڑ رہا تھا، عبدالرحمٰنؓ نے تلوار کا زورداروار کیا جس سے رومی تو بچ گیا لیکن اس کے گھوڑے کی زین کا تنگ کٹ گیا، اور ضرب گھوڑے کو بھی لگی۔ گھوڑے کا خون پھوٹ آیا اور وہ رومی کے قابو سے نکلنے لگا۔رومی تجربہ کار جنگجو تھا۔اس نے بڑی مہارت سے گھوڑے کو قابو میں رکھا، اور اس نے وار بھی کیے۔ عبدالرحمٰنؓ نے ہر وار بچایا، اور انہوں نے رکابوں میں کھڑے ہوکر وار کیے تو رومی گھبراگیا۔اس کے آہنی خود اور زرہ نے اسے بچالیا لیکن اپنی ایک ٹانگ کو نہ بچا سکا، گھٹنے کے اوپر سے اس کی ٹانگ زخمی ہو گئی۔تابڑ توڑ وار اسے مجبور کرنے لگے کہ وہ بھاگے اور وہ بھاگ اٹھا۔ اسے اپنی جان کا غم تھا یا نہیں ، اسے خطرہ یہ نظر آرہا تھا کہ وہ گر پڑا تو اس کا سارا لشکر بھاگ اٹھے گا۔ یہ سوچ کر کو وہ اپنے لشکر میں غائب ہونے کی کوشش کرنے لگا۔ عبدالرحمٰنؓ اس کے تعاقب سے نہ ہٹے، وہ ان کے ہاتھ تو نہ آیا لیکن اپنے لشکر کی نظروں سے بھی اوجھل ہو گیا۔ خالدؓ نے رومیوں پر اس طرح حملہ کیا کہ سالار رافع بن عمیرہ اور سالار ضرار بن الازور کو حکم دیاکہ وہ باہر کو ہو کر رومیوں پر دائیں اور بائیں سے تیز اور شدید ہلہ بولیں۔ مجاہدین شدید کا مطلب سمجھتے تھے۔ مؤرخوں کی تحریروں کے مطابق یہ حملہ اتنا تیز اور اتنا سخت تھا جیسے مجاہدین تازہ دم ہوں اور ان کی تعداد دشمن سے دگنی ہو۔

دونوں سالاروں کے دستے دیوانگی کے عالم میں حملہ آور ہوئے۔مؤرخ واقدی اور ابنِ قتیبہ لکھتے ہیں کہ سالار ضرار بن الازور نے جوش میں آکر اپنی زرہ اتار پھینکی۔یہ ہلکی سی تھی لیکن جولائی کا آغاز تھا، اور گرمی عروج پر تھی۔ ضرار نے گرمی سے تنگ آکر اور لڑائی میں آسانی پیدا کرنے کیلئے زرہ اتاری تھی۔انہوں نے اپنے دستوں کو حملے کا حکم دیا۔ان کا گھوڑا ابھی دشمن کے قریب نہیں پہنچا تھا کہ انہوں نے قمیض بھی اتار پھینکی، اس طرح ان کا اوپر کا دھڑ بالکل ننگا ہو گیا۔ایسی خونریز لڑائی میں زرہ ضروری تھی، اور سَر کی حفاظت تو اور زیادہ ضروری تھی، لیکن ضرار بن الازور نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ لی تھی۔انہیں اس حالت میں دیکھ کر ان دستوں میں کوئی اور ہی جوش پیدا ہو گیا ۔ضرار دشمن کو للکارتے اور ٹوٹ ٹوٹ پڑتے تھے۔ان کے سامنے جو آیا ان کی تلوار سے کٹ گیا۔وہ سالار سے سپاہی بن گئے تھے۔رافع بن عمیرہ نے رومیوں کے دوسرے پہلو پر ہلہ بولا تھا، ان کا انداز ایسا غضب ناک تھا کہ دشمن پر خوف طاری ہو گیا۔خالدؓ نے جب دیکھا کہ ضرار اور رافع نے دونوں پہلوؤں سے ویسا ہی ہلہ بولا ہے جیسا وہ چاہتے تھے اور دشمن کے پہلو عقب کی طرف سکڑ رہے ہیں تو خالدؓ نے سامنے سے ہلہ بول دیا۔رومی پیچھے ہٹنے لگے لیکن پیچھے قلعے کی دیوار تھی جو دراصل شہر کی پناہ تھی، ان کیلئے پیچھے ہٹنے کو جگہ نہ رہی۔ مجاہدین انہیں دباتے چلے گئے۔’’دروازے کھول دو۔‘‘ دیوار کے اوپر سے کوئی چلایا۔قلعے کے اس طرف کے دروازے کھل گئے اور رومی سپاہی قلعے کے اندر جانے لگے۔انہیں قلعے میں ہی پناہ مل سکتی تھی، مسلمانوں نے دباؤ جاری رکھا، اور رومی جم کر مقابلہ کرتے رہے۔ ان میں سے جسے موقع مل جاتا وہ قلعے کے اندر چلا جاتا۔ جو رومی قلعے میں پناہ لینے کو جا رہے تھے وہ ان کی تمام نفری نہیں تھی،ان کی آدھی نفری بھی نہیں تھی۔ان کی آدھی نفری خالدؓ کے دستوں سے نبرد آزما تھی، خالدؓ نے جب دیکھ لیا تھا کہ ان کے پہلوؤں کے سالار وں نے ویسا ہی حملہ کیا ہے جیسا کہ وہ چاہتے تھے تو انہوں نے دشمن کے قلب پر حملہ کر دیا۔رومی بڑے اچھے سپاہی تھے،وہ پسپا ہونے کی نہیں سوچ رہے تھے اور خالدؓانہیں پسپائی کے مقام تک پہنچانے کی سر توڑ کوششیں کررہے تھے۔خالدؓنے شجاعت اور بے خوف قیادت کا یہ مظاہرہ کیا کہ گھوڑے سے اتر آئے اور سپاہیوں کی طرح پا پیادہ لڑنے لگے۔اس کا اثر مجاہدین پر ایساہوا کہ وہ بجلیوں کی مانند کوندنے لگے۔یہ ان کے ایمان کا اور عشقِ رسولﷺ کا کرشمہ تھا کہ مسلسل کوچ اور معرکوں کے تھکے ہوئے جسموں میں جان اور تازگی پیدا ہو گئی تھی ۔یہ مبالغہ نہیں کہ وہ روحانی قوت سے لڑ رہے تھے۔خالدؓ اس کوشش میں تھے کہ رومیوں کو گھیرے میں لے لیں لیکن رومی زندگی اور موت کا معرکہ لڑ رہے تھے۔وہ اب وار اور ہلے روکتے اور پیچھے یادائیں بائیں ہٹتے جاتے تھے۔وہ محاصرے سے بچنے کیلئے پھیلتے بھی جا رہے تھے۔آخر وہ بھی بھاگ بھاگ کر قلعے کے ایک اور کھلے دروازے میں غائب ہونے لگے۔خالدؓ نے بلند آواز سے حکم دیا۔’’ان کے پیچھے قلعے میں داخل ہو جاؤ۔ ‘‘لیکن دیوار کے اوپر سے تیروں کی بوچھاڑیں آنے لگیں۔ برچھیاں بھی آئیں۔مجاہدین کو مجبوراً پیچھے ہٹنا پڑا، اور رومی جو بچ گئے تھے وہ قلعے میں چلے گئے اور قلعے کا دروازہ بندہو گیا۔باہر رومیوں اور ان کے اتحادی عیسائیوں کی لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔زخمی تڑپ رہے تھے۔زخمی گھوڑے بِدکے اور ڈرے ہوئے بے لگام اور منہ زور ہو کر دوڑتے پھر رہے تھے۔چند ایک گھوڑ سواروں کے پاؤں رکابوں میں پھنسے ہوئے تھے اور گھوڑے انہیں گھسیٹتے پھر رہے تھے ۔سوار خون میں نہائی لاشیں بن چکے تھے۔لڑائی ختم ہو چکی تھی۔مجاہدین کے فاتحانہ نعرے گرج رہے تھے۔فتح ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی،دشمن کا نقصان تو بہت ہوا تھا لیکن وہ قلعہ بند ہو گیا تھا۔فتح مکمل کرنے کیلئے قلعے سر کرنا ضروری تھا۔خالدؓ نے اپنے زخمیوں کو اٹھانے کا حکم دیا اور قاصد سے کہا کہ تمام سالاروں کو بلا لائے۔خالدؓنے ایک سوار کو دیکھا جو ان کی طرف آرہا تھا۔وہ دوسروں سے کچھ الگ تھلگ لگتا تھا۔ایک اس لیے کہ اس کا قد لمبا تھا اور جسم دبلا پتلا تھا۔عرب ایسے دبلے پتلے نہیں ہوتے تھے،یہ سوار کچھ آگے کو جھکا ہوا بھی تھا۔اس کی داڑھی گھنی نہیں تھی،اور لمبی بھی نہیں تھی۔اس داڑھی کو اس شخص نے مصنوعی طریقے سے کالا کر رکھا تھا۔وہ اس لیے بھی الگ تھلگ تھا کہ خالدؓ نے اسے لڑتے دیکھا تھا اور اس کاانداز کچھ مختلف سا تھا۔سب کی توجہ اس شخص کی طرف اس وجہ سے بھی ہوئی تھی کہ اس کے ہاتھ میں پیلے رنگ کا پرچم تھا۔یہ وہ پرچم تھاجو خیبر کی لڑائی میں رسولِ اکرمﷺنے اپنے ساتھ رکھا تھا۔خالدؓ اسے پہچان نہ سکے، دھوپ بہت تیز تھی۔اس نے سر پر کپڑا ڈال رکھا تھا جس سے اس کا آدھا چہرہ ڈھکا ہوا تھا،خالدؓ کے قریب آکر وہ شخص مسکرایا تو خالدؓ نے دیکھا کہ اس آدمی کے سامنے کے دو تین دانت ٹوٹے ہوئے ہیں-

’’ابو عبیدہ!‘‘خالدؓنےمسرت سے کہا اور اس کی طرف دوڑے۔وہ ابو عبیدہؓ تھے۔مرج راہط سے خالدؓ نے انہیں پیغام بھیجا تھا کہ وہ انہیں بصرہ کے باہر ملیں۔ابو عبیدہؓ حواریں کے مقام پر پراؤ ڈالے ہوئے تھے جہاں سے انہوں نے شرجیلؓ بن حسنہ کو چار ہزار مجاہدین دے کو بصرہ پر حملہ کرایا تھا۔ان کے پاس خالدؓ کا قاصد بعد میں پہنچا تھا۔ابو عبیدہؓ پیغام پر اس وقت بصرہ پہنچے جب خالدؓ رومیوں کے ساتھ بڑے سخت معرکے میں الجھے ہوئے تھے۔انہوں نے تلوار نکالی اور معرکے میں شامل ہو گئے۔ابوعبیدہؓ کی اس وقت عمر پچپن سال کے لگ بھگ تھی۔وہ رسولِ کریمﷺکے خاص ساتھیوں میں سے تھے۔ان کے دادا اپنے وقتوں کے مشہور جراح تھے۔اسی نسبت سے انہوں نے اپنا نام ابو عبیدہ بن الجراح رکھ لیا تھا۔ان کا نام عامر بن عبداﷲبن الجراح تھا۔لیکن انہوں نے ابو عبیدہ کے نام سے شہرت حاصل کی۔دبلا پتلا اور کچھ جھکا ہونے کے باوجود ان کے چہرے پر جلال جیسی رونق رہتی تھی۔وہ دانشمند تھے۔میدانِ جنگ میں بھی ان کی اپنی شان تھی اور ذہانت اور عقلمندی میں بھی ان کا مقام اونچا تھا۔ابو عبیدہؓ کے سامنے کے دانت جنگِ احد میں ٹوٹے تھے۔اس معرکے میں رسولِ اکرمﷺ زخمی ہو گئے تھے۔آپﷺ کے خود کی زنجیروں کی دو کڑیاں آپﷺکے رخسار میں ایسی گہری اتری تھیں کہ ہاتھ سے نکلتی نہیں تھیں۔ابو عبیدہؓ نے یہ دونوں اپنے دانتوں سے نکالی تھیں اور اس کامیاب کوشش میں ان کے سامنے کے دو یا تین دانت ٹوٹ گئے تھے۔ابنِ قتیبہ نے لکھا کہ رسولﷺ ابو عبیدہؓ سے بہت محبت کرتے تھے اور حضورﷺنے ایک بار فرمایا تھا کہ ’’ابو عبیدہ میری امت کا امین ہے ۔‘‘ اس حوالے سے ابو عبیدہ ؓکو لوگ امین الامت کہنے لگے۔اس دور کی تحریروں سے پتا چلتا ہے کہ خالدؓ نے جب ابو عبیدہؓ کو بصرہ کے میدان میں دیکھا تو انہیں خدشہ محسوس ہوا کہ ابو عبیدہؓ ان کی سپہ سالاری کو قبول نہیں کریں گے،گو خلیفۃ المسلمینؓ نے ابو عبیدہؓ کو تحریری حکم بھیجا تھا کہ جب خالدؓ شام کے محاذ پر پہنچ جائیں تو تمام لشکر کے سالارِ اعلیٰ خالدؓ ہوں گے لیکن خالد ؓکو احساس تھا کہ معاشرے میں جو مقام اور رتبہ ابو عبیدہؓ کو حاصل تھا وہ انہیں حاصل نہیں تھا۔خالدؓ خود بھی ابو عبیدہؓ کا بہت احترام کرتے تھے۔یہ احترام ہی تھا کہ بصرہ کے میدانِ جنگ میں خالدؓنے انہیں اپنی طرف آتے دیکھا تو خالدؓ دوڑ کر ان تک پہنچے ۔ابو عبیدہؓ گھوڑے سے اترنے لگے۔’’نہیں ابنِ عبداﷲ!‘‘خالدؓ نے ابو عبیدہؓ سے کہا۔’’گھوڑے سے مت اتر۔میں اس قابل نہیں ہوں کہ امین الامت میرے لیے گھوڑے سے اترے۔‘‘ابو عبیدہؓ گھوڑے پر سوار رہے اور جھک کر دونوں ہاتھ خالدؓکی طرف بڑھائے۔خالدؓ نے احترام سے مصافحہ کیا۔’’ابو سلیمان!‘‘ابو عبیدہؓ نے خالدؓ نے سے کہا۔’’ امیر المومنین کا پیغام مجھے مل گیا تھا جس میں انہوں نے تمہیں ہم سب کا سالارِ اعلیٰ مقرر کیا ہے ۔میں اس پر بہت خوش ہوں۔کوئی شک نہیں کہ جنگ کے معاملات میں جتنی عقل تجھ میں ہے وہ مجھ میں نہیں۔ ’’خدا کی قسم ابنِ عبداﷲ!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’امیرالمومنین کے حکم کی تعمیل مجھ پر فرض ہے ورنہ میں تم پر سپہ سالار کبھی نہ بنتا۔ رتبہ جوتمہیں حاصل ہے وہ مجھے نہیں۔‘‘’’ایسی بات نہ کر ابو سلیمان!‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’ابو بکر نے بالکل صحیح فیصلہ کیا ہے۔ میں تیرے ماتحت ہوں،تیرے حکم پر آیا ہوں ، اﷲتجھے غسانیوں اور رومیوں پر فتح عطا فرمائے۔‘‘خالدؓ نے بصرہ کومحاصرے میں لینے کا حکم دیا۔رومیوں اور عیسائیوں کی لاشیں جہاں پڑی تھیں۔وہیں پڑی رہیں۔اوپر گِدّھوں کے غول اڑ رہے تھے اور درختوں پر اتر رہے تھے۔مجاہدین اپنے شہیدوں کی لاشیں اٹھا رہے تھے ان کی تعداد ایک سو تیس تھی۔خالدؓنے شہر پناہ کے اردگرد گھوڑا دوڑا کر جائزہ لیا کہ دیوار کہیں سے توڑی جاسکتی ہے یا نہیں۔دیوار کے اوپر سے تیر آرہے تھے لیکن مسلمان ان کی زد سے دورتھے۔

قلعے کے اندر مایوسی چھائی ہوئی تھی۔جبلہ بن الایہم اور رومی سپہ سالار خاموشی سے ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے۔’’کیا تم بالکل ہمت ہار بیٹھے ہو؟‘‘جبلہ بن الایہم نے رومی سالار سے پوچھا۔’’تم نے کہاں کہاں ہمت نہیں ہاری!‘‘رومی سالار نے شکست کا غصہ جبلہ پر نکالا اور کہا۔’’مسلمانوں کے راستے میں سب سے پہلے تم اور عیسائی آئے تھے اور مسلمانوں کو نہ روک سکے۔مرج راہط میں بھی تمہاری فوج ناکام رہی۔کیا تو مجھے اور میری فوج کو مروانا چاہتا ہے؟باہر نکل کے دیکھ۔ فوج کی نفری کتنی رہ گئی ہے ہمارے ساتھ۔ کچھ نفری میدانِ جنگ میں ماری گئی ہے، اور مجھے بتایا گیا ہے کہ ہمارے بہت سے سپاہی اور کماندار اجنادین کی طرف بھاگ گئے ہیں۔قلعے میں تھوڑی سی نفری آئی ہے۔دیوار پر جاکر باہر دیکھ اور لاشوں سے حساب کر کہ ہمارے پاس کیا رہ گیا ہے؟‘‘باہر سے مسلمانوں کی للکار سنائی دے رہی تھی:’’رومی سالار باہر آکر صلح کی بات کرے۔‘‘’’رومیو!قلعہ ہمارے حوالے کر دو۔‘‘’’ہم نے خود قلعہ سر کیا تو ہم سے رحم کی امید نہ رکھنا۔‘‘اس کے ساتھ ہی خالدؓ کے حکم سے مجاہدین دروازے توڑنے کیلئے آگے جاتے رہے، مگر اوپر کے تیروں نے انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا۔انہوں نے ایک جگہ سے دیوار توڑنے کی کوشش بھی کی۔لیکن کامیابی نہ ہوئی۔شہر کے لوگوں پر خوف طاری تھا،وہ مسلمانوں کی للکار سن رہے تھے۔وہ جانتے تھے کہ فاتح فوجیں شہر کے لوگوں کو کس طرح تباہ کیا کرتی ہیں۔مسلمان کہہ رہے تھے کہ قلعے خود دے دو گے تو شہری اور ان کے گھر محفوظ رہیں گے۔جبلہ بن الایہم اور رومی سالار کمرے سے باہر نہیں آتے تھے۔شہر کے لوگ ایک ایک لمحہ خوف و ہراس میں گزار رہے تھے۔وہ تنگ آکر جبلہ کے محل کے سامنے اکٹھے ہو گئے۔’’مسلمانوں سے صلح کر لو۔‘‘ وہ کہہ رہے تھے۔’’ہمیں بچاؤ، قلعہ انہیں دے دو۔ ہمارا قتلِ عام نہ کراؤ۔ جبلہ اور رومی سالار نے تین چار دنوں تک کوئی فیصلہ نہ کیا۔

 خالدؓ نے محاصرے کے بہانے اپنے لشکر کو آرام کی مہلت دے دی۔ انہوں نے شہیدوں کا جنازہ پڑھ کر اسے دفن کر دیا۔آخر ایک روز قلعے پر سفید جھنڈا نظر آیا،قلعے کا دروازہ کھلا اور رومی سالار باہر آیا۔ اس نے صلح کی بھیک مانگی۔ خالدؓ نے ان پر یہ شرط عائد کی وہ جزیہ ادا کریں۔رومی سالار نے قلعہ خالدؓ کے حوالے کردیا۔ یہ جولائی ۶۳۴ء (جمادی الاول)کا وسط تھا۔رومی اور غسانی قلعے سے نکلنے لگے۔شرجیلؓ بن حسنہ نے دیکھا تھا کہ رومی سپاہی اجنادین کی طرف بھاگ رہے تھے۔شرجیلؓ نے اپنا ایک جاسوس اجنادین بھیج دیا۔اس جاسوس نے آکر اطلاع دی کہ رومی فوج اجنادین میں جمع ہو رہی ہے اور توقع ہے کہ وہاں نوے ہزار فوج تیار ہو جائے گی۔’’ہماری اگلی منزل اجنادین ہو گی۔‘‘خالدؓ نے کہا۔نپولین ان جرنیلوں میں سے تھا جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ کا پانسہ پلٹا اور کرہ ارض کو ہلا دیا تھا۔فرانس کے تاریخ ساز جرنیل نپولین نے خالدؓبن ولید کے متعلق کہا تھا،اگر مسلمانوں کی فوج کا سپہ سالار کوئی اور ہوتا تو یہ فوج اجنادین کی طرف پیش قد می ہی نہ کرتی۔نپولین کا دور خالدؓکے دور کے تقریباً بارہ سو سال بعد کا تھا۔تاریخ کے اس نامور جرنیل نے ان کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا اور ان کی فوجوں کی کیفیت اور کارکردگی کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ جولائی ۶۳۴ء میں بصرہ کی فتح کے بعد خالدؓ نے اپنی فوج کو اجنادین کی طرف پیش قدمی کا جو حکم دیا تھا وہ مسلمانوں کی فوج کی جسمانی کیفیت اور تعداد کے بالکل خلاف تھا۔ انہیں جاسوس نے صحیح رپورٹ دی تھی، کہ اجنادین میں رومیوں نے جو فوج مسلمانوں کو کچلنے کیلئے اکٹھی کر رکھی ہے، اس کی تعداد نوے ہزار سے زیادہ ہو سکتی ہے کم نہیں۔ یہ فوج تازہ دم تھی۔اس کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد تیس ہزار کے لگ بھگ تھی اور یہ فوج مسلسل لڑتی چلی جاتی تھی۔صرف بصرہ کی لڑائی میں ایک سو تیس مجاہدین شہید اور بہت سے زخمی ہوئے تھے۔یہاں موزوں معلوم ہوتا ہے کہ اس دور کی اسلامی فوج کے متعلق کچھ تفصیل پیش کی جائے۔اسلامی فوج کی کوئی وردی نہیں تھی۔جس کسی کو جیسے کپڑے میسر آتے تھے وہ پہن لیتا تھا۔ایسا تو اکثر دیکھنے میں آتا تھا کہ کئی سپاہیوں نے بڑے قیمتی کپڑے پہن رکھے ہیں اور سالار، نائب سالار وغیرہ بالکل معمولی لباس میں ہیں۔ وجہ تھی کہ سپاہی مالِ غنیمت میں ملے ہوئے کپڑے پہن لیتے تھے۔اسلامی فوج کی ایک خوبی یہ تھی کہ سالاروں کمانداروں یعنی افسروں کا کوئی امتیازی نشان نہ تھا۔افسری کا یہ تصور تھا ہی نہیں جو آج کل ہے۔بعض قبیلوں کے سردار سپاہی تھے اور انہی قبیلوں کے بعض ادنیٰ سے آدمی کماندار تھے۔عہدے اور ترقیاں نہیں تھیں۔آج ایک آدمی جذبے کے تحت فوج میں سپاہی کی حیثیت سے شامل ہواہے تو ایک دو روز بعد وہ ایک دستے کاکماندار بن گیا ہے۔جذبہ اور جنگی اہلیت دیکھی جاتی تھی،ایسے بھی ہوتا تھا کہ ایک معرکے کا افسر اگلے معرکے میں سپاہی ہو۔ اسلام کی تعلیمات کے مطابق افسری اور ماتحتی کا تصور کچھ اور تھا۔ جس کسی کو افسر بنایا جاتا تھا وہ فرائض کی حد تک افسر ہوتا تھا۔ اس کا کوئی حکم ذاتی نوعیت کا نہیں ہوتا تھا۔چونکہ افسر کے انتخاب کا معیار کچھ اور تھا اس لیے اس وقت کا معاشرہ خوشامد اور سفارش سے آشنا ہی نہیں ہوا تھا۔اتنی وسیع اسلامی سلطنت کا زوال اس وقت شروع ہوا تھا جب مسلمان افسر اور ماتحت میں تقسیم ہو گئے تھے اور حاکموں نے ماتحتوں کو محکوم سمجھنا شروع کر دیا تھااور وہ خوشامد پسند ہو گئے تھے۔ہتھیارون کا بھی کوئی معیار نہ تھا۔ فوج میں شامل ہونے والے اپنے ہتھیار خود لاتے تھے۔زِرہ اور خود ہر کسی کے پاس نہیں ہوتی تھی۔مسلمان سپاہی جو زرہ اور خودپہنتے تھے وہ دشمن سے چھینی ہوئی ہوتی تھیں۔ ان میں اس قسم کی یکسانیت نہیں ہوتی تھی جیسی فوجوں میں ہوا کرتی ہے۔اسلامی فوج کا کوچ منظم فوج جیسا نہیں ہوتا تھا۔یہ فوج غیر منظم قافلے کی مانند چلتی تھی۔ان کی خوراک اور رسد ان کے ساتھ ہوتی تھی۔بیل گائیں، دنبے اور بھیڑ بکریاں جو فوج کی خوراک بنتی تھیں، فوج کے ساتھ ہوا کرتی تھیں، رسد کا باقاعدہ انتظام بہت بعد میں کیا گیا تھا۔گھوڑ سوار کوچ کے وقت پیدل چلا کرتے تھے تاکہ گھوڑے سواروں کے وزن سے تھک نہ جائیں۔سامان اونٹوں پر لدا ہوتا تھا، عورتیں اور بچے ساتھ ہوتے تھے انہیں اونٹوں پر سوار کرایاجاتا تھا۔اس وقت کی اسلامی فوج کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ فوج ہے،اس کوقافلہ سمجھا جاتا تھا لیکن اس فوج کی ایک تنظیم تھی۔آگے ہراول دستہ ہوتا تھا جسے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کا پورا احساس ہوتا تھا، اس کے پیچھے فوج کا ایک بڑا حصہ، اس کے پیچھے عورتیں اور بچے اور اس کے پیچھے عقب کی حفاظت کیلئے ایک دستہ ہوتا تھا۔اسی طرح پہلوؤں کی حفاظت کا بھی انتظام ہوتا تھا۔

یہ فوج عموماً دشوار رستہ اختیار کیا کرتی تھی۔ اس سے ایک فائدہ یہ ہوتا تھا کہ منزل تک کا راستہ چھوٹا ہو جاتا تھا، دوسرا فائدہ یہ کہ راستے میں دشمن کے حملے کا خطرہ نہیں رہتا تھا، اگر دشمن حملہ کر بھی دیتا تو اسلامی فوج فوراً علاقے کی دشواریوں یعنی نشیب و فراز وغیرہ میں روپوش ہو جاتی تھی، دشمن ایسے علاقے میں لڑنے کی جرات نہیں کرتا تھا۔جولائی ۶۳۴ء کے آخری ہفتے میں خالدؓ کی فوج اسی طرح اجنادین کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی ۔ پہلے سنایا جا چکا ہے کہ مدینہ کی فوج کے چار حصے مختلف مقامات پر تھے ۔خالدؓ نے ان کے سالاروں کو پیغام دیئے تھے کہ سب اجنادین پہنچ جائیں۔ خالدؓنے بصرہ پر قبضہ کر لیا تھا، رومیوں اور غسانیوں کیلئے یہ چوٹ معمولی نہیں تھی۔بصرہ شام کا بڑا اہم شہر تھا،یہ مسلمانوں کا اڈہ بن گیا تھا۔سب سے بڑا نقصان رومیوں کو یہ ہوا تھا کہ لوگوں پر اور ان کی فوج پر مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی تھی۔مسلمانوں نے بصرہ تک شکستیں دی تھیں، کہیں بھی شکست کھائی نہیں تھی،کہیں ایک سالار کو پسپا ہونا پڑا تو فوراً دوسرے سالار نے شکست کو فتح میں بدل دیا۔قیصر روم کی تو نیندیں حرام ہو گئی تھیں،خالدؓنے جب بصرہ کو محاصرہ میں لے رکھا تھا اور صورتِ حال بتا رہی تھی کہ بصرہ رومیوں کے ہاتھ سے جارہا ہے تو شہنشاہِ ہرقل رومی نے حمص کے حاکم وِردان کو ایک پیغام بھیجا تھا:’’کیا تم شراب میں ڈوب گئے ہو یا تم ان عورتوں جیسی عورت بن گئے ہو جن کے ساتھ تمہاری راتیں گزرتی ہیں؟‘‘ہرقل نے لکھا تھا۔’’اور اس میں کوئی شک نہیں کہ تمہارا دن اونگھتے گزرتا ہے ۔کیا ہے ان مسلمانوں کے پاس جو تمہارے پا س نہیں؟اگر میں کہوں کہ قیصرِ روم کی ذلت کے ذمہ دار تم جیسے حاکم ہیں تو کیا جواب دو گے؟تم شاید یہ بھی نہیں سوچ رہے کہ مسلمانوں کی اتنی تیز پیش قدمی اور فتح پہ فتح حاصل کرتے چلے آنے کو کس طرح روکا جا سکتا ہے ۔کیا تمہاری تلواروں کو زنگ نے کھا لیا ہے؟ کیا تمہارے گھوڑے مر گئے ہیں؟لوگوں کو تم بتاتے کیوں نہیں کہ مسلمان تمہارے مال و اموال لوٹ لیں گے۔ تمہاری بیٹیوں کو ، تمہاری بیویوں اور تمہاری بہنوں کو اپنے قبضے میں لے لیں گے!……مجھے بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کی تعداد تیس ہزار سے ذرا کم یا زیادہ ہے۔تم زیادہ سے زیادہ فوج اکٹھی کرو اور اجنادین کے علاقے میں پہنچ جاؤ ۔محاذ کو اتنا پھیلا دو کہ مسلمان اس کے مطابق پھیلیں تو ان کی حالت کچے دھاگے کی سی ہو جائے……انہیں اپنی تعداد میں جذب کرلو۔انہیں اپنی تعداد میں گم کر دو۔‘‘رومیوں کی بادشاہی میں ہنگامہ بپا ہو گیا تھا۔رومیوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں میں پادریوں اور پروہتوں نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز وعظ شروع کر دیئے تھے،وہ کہتے تھے کہ اسلام ان کے مذہبوں کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دے گااور انہیں مجبوراًاسلام قبول کرنا پڑے گا،اور یہ ایسا گناہ ہوگا جس کی سزا بڑی بھیانک ہوگی۔رومیوں کی فوج ایک منظم لشکر تھا۔ان کے پاس گھوڑوں کی تعداد زیادہ تھی اور ان کے پاس گاڑیاں بھی تھیں جو گھوڑے اور بیل کھینچتے تھے۔رسد کا انتظام بہت اچھا تھا۔عبادت گاہوں میں لوگوں نے وعظ سنے تو وہ فوج میں شامل ہونے لگے۔اس طرح ان کی فوج کی تعداد بڑھ گئی۔حمص کا حاکم وردان جب فوج کے ساتھ اجنادین کو روانہ ہوا اس وقت فوج کی تعداد نوے ہزار تھی۔ مسلمانوں کے جاسوسوں نے اس لشکر کو اجنادین کے علاقے میں خیمہ زن ہوتے دیکھا تھا۔اتنے بڑے اور ایسے منظم لشکر کے مقابلے کیلئے جانا ہی بہت بڑی جرات تھی، مقابلہ تو بعد کا مسئلہ تھا۔
💟 *جاری ہے ۔ ۔ ۔* 💟

Mian Muhammad Shahid Sharif

Accounting & Finance, Blogging, Coder & Developer, Administration & Management, Stores & Warehouse Management, an IT Professional.

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی