⚔️▬▬▬๑👑 داستانِ ایمان فروشوں کی 👑๑▬▬▬⚔️
تذکرہ: سلطان صلاح الدین ایوبیؒ
✍🏻 عنایت اللّٰہ التمش
🌴⭐قسط نمبر 𝟡⭐🌴
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
چار روز علی بن سفیان دارالحکومت سے باہر مارا مارا پھرتا رہا اس کا دائرہ کار سوڈانی فوجی قیادت کے ارد گرد کا علاقہ تھا پانچویں رات وہ باہر کھلے آسمان تلے بیٹھا اپنے دو جاسوسوں سے رپورٹ لے رہا تھا اس کے تمام آدمیوں کو معلوم ہوتا تھا کہ کس وقت وہ کہاں ہوتا ہے اُس کے گروہ کا ایک آدمی ایک آدمی کو ساتھ لیے اُس کے پاس آیا اور کہا یہ اپنا نام فخری المصری بتاتا ہے جھاڑیوں میں ڈگمگاتا گرتا اور اُٹھتا تھا میں نے اس سے بات کی تو کہنے لگا کہ مجھے میری فوج تک پہنچا دو اس سے اچھی طرح بولا بھی نہیں جاتا اس دوران فخر المصری بیٹھ گیا تھا تم وہی کمان دار ہو جو محاذ سے ایک لڑکی کے ساتھ بھاگے ہو؟
علی بن سفیان نے اُس سے پوچھا میں سلطان کی فوج کا بھگوڑا ہوں فخر نے ہکلائی لڑکھڑاتی زبان میں کہا سزائے موت کا حق دار ہوں لیکن میری پوری بات سن لیں ورنہ تم سب کو سزائے موت ملے گی علی بن سفیان اُس کے لب و لہجے سے سمجھ گیا کہ یہ شخص نشے میں ہے یا نشے کی طلب نے اس کا یہ حال کر رکھا ہے وہ اسے اپنے دفتر میں لے گیا اور اسے وہ تھیلا دکھایا جو اسے راستے میں پڑا ملا تھا
پوچھا یہ تھیلا تمہارا ہے؟ ور تم اس سے یہ چیزیں کھاتے رہے ہو؟۔
ہاں فخر المصری نے جواب دیا وہ مجھے اسی سے کھلاتی تھی اس کے سامنے وہ تھیلا بھی پڑا تھا جو تھیلے کے اندر سے نکلا تھا علی نے اس میں سے چیزیں نکال کر سامنے رکھ لی تھیں فخر نے یہ چیزیں دیکھیں تو جھپٹ کر مٹھائی کی قسم کا ایک ٹکڑا اُٹھا لیا علی نے جھپٹ کر اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا فخر نے بے تابی سے کہا خدا کے لیے مجھے یہ کھانے دو میری جان اور روح اسی میں ہے مگر علی نے اُس سے وہ ٹکڑا چھین لیا اور اسے کہا مجھے ساری وار دات سناو پھر یہ ساری چیزیں اُٹھا لینا فخر المصری نڈھال اور بے جان ہوا جا رہا تھا علی بن سفیان نے اُسے ایک سفوف کھلا دیا جو حشیش کا توڑ تھا فخر نے اسے تمام تر واقعہ سنا دیا کہ وہ کیمپ سے لڑکی کے تعاقب میں کس طرح گیا تھا تاجروں نے اُسے قہوہ پلایا تھا جس کے اثر سے وہ کسی اور ہی دُنیا میں جا پہنچا تھا تاجروں (صلیبی جاسوسوں) نے اُس سے جو باتیں کی تھیں وہ بھی اس نے بتائیں اور پھر لڑکی کے ساتھ اس نے اونٹ پر جو سفر کیا تھا وہ اس طرح سنایا کہ وہ مسلسل چلتے رہے اونٹ نے بڑی اچھی طرح ساتھ دیا رات کو وہ تھوڑی دیر قیام کرتے تھے لڑکی اسے کھانے کو دوسرے تھیلے میں سے چیزیں دیتی تھی، وہ اپنے آپ کو بادشاہ سمجھتا تھا۔
لڑکی نے اسے اپنی محبت کا یقین دلایا اور شادی کا وعدہ کیا تھا اور شرط یہ رکھی تھی کہ وہ اسے سوڈانی کمان دار کے پاس پہنچا دے فخری نے محسوس تک نہ کیا کہ لڑکی اسے حشیش اور اپنے حسن و شباب کے قبضے میں لیے ہوئے ہے تیسرے پڑاؤ میں جب انہوں نے کھانے پینے کے لیے اونٹ روکا تو تھیلا غائب پایا جو اونٹ کے دوڑنے سے کہیں گر پڑا تھا لڑکی نے اسے کہا کہ واپس چل کر تھیلا ڈھونڈ لیتے ہیں لیکن فخر المصری نے کہا کہ وہ بھگوڑا فوجی ہے خدشہ ہے کہ اس کا تعاقب ہو رہا ہوگا لڑکی ضد کرنے لگی کہ تھیلا ضرور ڈھونڈیں گے فخر نے اسے یقین دلایا کہ بھوکا مرنے کا کوئی خطرہ نہیں راستے میں کسی آبادی سے کچھ لے لیں گے مگر لڑکی آبادی کے قریب جانا نہ چاہتی تھی اور کہتی تھی کہ واپس چلو فخر المصری نے اُسے زبردستی اونٹ پر بٹھا لیا اور اس کے پیچھے بیٹھ کر اونٹ کو اُٹھایا اور دوڑا دیا وہ سفر کی تیسری رات تھی اگلی شام وہ شہر سے باہر سوڈانیوں کے ایک کمان دار کے ہاں پہنچ گئے مگر فخر المصری اپنے سر کے اندر ایسی بے چینی محسوس کرنے لگا جیسے کھوپڑی میں کیڑے رینگ رہے ہوں آہستہ آہستہ وہ حقیقی دُنیا میں آگیا وہ سمجھ نہ سکا کہ یہ حشیش نہ ملنے کا اثر ہے اُس کی تصوراتی بادشاہی اور ذہہن میں بسائی ہوئی جنت تھیلے میں کہیں ریگزار میں گر گئی تھی لڑکی نے اُس کے سامنے کمان دار کو صلیبیوں کا پیغام دیا اور اسے بغاوت پر اُکسایا فخر پاس بیٹھا سنتا رہا اور اُس کے ذہہن میں کیڑے بڑے ہوکر تیزی سے رینگنے لگے نشہ اتر چکا تھا چناچہ اُس نے بے خوف و خطر کمان دار سے یہ بھی کہہ دیا کہ سلطان ایوبی اور علی بن سفیان کے درمیان یہ غلط فہمی پیدا کرنی ہے کہ وہ ظاہری طور پر نیک بنے پھرتے ہیں مگر عورت اور شراب کے دلدادہ ہیں اُن کی اس طویل گفتگو میں بغاوت کی باتیں بھی ہوئیں۔ اس وقت تو فخر المصری پوری طرح بیدار ہو چکا تھا لیکن سر کے اندر کی بے چینی اسے بہت پریشان کر رہی تھی لڑکی نے کمان دار سے کہا کہ اگر بغاوت کرنی ہے تو وقت ضائع نہ کریں سلطان ایوبی محاذ پر ہے اور اُلجھا ہوا ہے لڑکی نے یہ جھوٹ بولا کہ صلیبی تین چار دنوں بعد دوسرا حملہ کرنے والے ہیں سلطان ایوبی کو یہاں سے بھی فوج محاذ پر بلانی پڑے گی کمان دار نے لڑکی کو بتایا کہ چھ سات دنوں تک سوڈانی لشکر یہاں کی فوج پر حملہ کر دے گا فخر یہ ساری گفتگو سنتا رہا آدھی رات کے بعد اُسے الگ کمرے میں بھیج دیا گیا جہاں اُس کے سونے کا انتظام تھا لڑکی اور کمان دار دوسرے کمرے میں رہے درمیان میں دروازہ تھا جو بند کر دیا گیا اسے نیند نہیں آرہی تھی اُس نے دروازے کے ساتھ کان لگائے تو اُسے ہنسی کی آزوازیں سنائی دیں پھر لڑکی کے یہ الفاظ سنائی دئیے اسے حشیش کے زور پر یہاں تک لائی ہوں اور اس کی محبوبہ بنی رہی ہوں مجھے ایک محافظ کی ضرورت تھی حشیش کا تھیلا راستے میں گر پڑا ہے اگر صبح اسے ایک خوراک نہ ملی تو یہ پریشان کرے گا اس کے بعد فخر نے دوسرے کمرے سے جو آوازیں سنیں وہ اسے صاف بتا رہی تھیں کہ شراب پی جا رہی ہے اور بد کاری ہو رہی ہے بہت دیر بعد اُسے کمان دار کی آواز سنائی دی یہ آدمی اب ہمارے لیے بے کار ہے
اسے قید میں ڈال دیتے ہیں یا ختم کرا دیتے ہیں
لڑکی نے اس کی تائید کی فخر المصری پوری طرح بیدار ہوگیا اور وہاں سے نکل بھاگنے کی سوچنے لگا رات کا پچھلا پہر تھا وہ اس کمرے سے نکلا اس کا دماغ ساتھ نہیں دے رہا تھا کبھی تو دماغ صاف ہو جاتا مگر زیادہ دیر ماوف رہتا صبح کی روشنی پھیلنے تک وہ خطرے سے دُور نکل گیا تھا اسے اب دوہرے تعاقب کا خطرہ تھا دونوں طرف اسے موت نظر آرہی تھی اپنی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوجاتا تو بھی مجرم تھا اور اگر سوڈانی پکڑ لیتے تو فوراً قتل کر دیتے وہ دن بھر فرعونوں کے کھنڈروں میں چھپا رہا حشیش کی طلب خوف اور غصہ اُس کے جسم و دماغ کو بےکار کر رہا تھا رات تک وہ چلنے سے بھی معذور ہوا جا رہا تھا پھر اُسے یہ بھی احساس نہ رہا کہ دِن ہے یا رات اور وہ کہاں ہے اس کے دماغ میں یہ اِرادہ بھی آیا کہ اس عیسائی لڑکی کو جا کر قتل کر دے یہ سوچ بھی آئی کہ اونٹ یا گھوڑا مل جائے اور وہ محاز پر سلطان ایوبی کے قدموں میں جا گرے مگر جو بھی سوچ آتی تھی اس پر اندھیرا چھا جاتا تھا جو اُس کی آنکھوں کے سامنے ہر چیز تاریک کر دیتا تھا اسی حالت میں اسے یہ آدمی ملا وہ چونکہ جاسوس تھا اس لیے تربیت کے مطابق اُس نے فخرالمصری کے ساتھ دوستی اور ہمدردی کی باتیں کیں اور اسے علی بن سفیان کے پاس لے آیا
تصدیق ہو گئی کہ سوڈانی لشکر حملہ اور بغاوت کرے گا اور یہ کسی بھی لمحے ہو سکتا ہے علی بن سفیان سوچ رہا تھا کہ مقامی کمانڈروں کو فوراً چوکنا کرے اور سلطان ایوبی کو اطلاع دے، مگر وفت ضائع ہونے کا خطرہ تھا اتنے میں اسے پیغام ملا کہ صلاح الدین ایوبی بلا رہے ہیں وہ حیران ہو کر چل پڑا کہ سلطان کو تو وہ محاظ پر چھوڑ آیا تھا
وہ سلطان ایوبی سے ملا تو سلطان نے بتایا مجھے اطلاع مل گئی تھی کہ ساحل پر صلیبی جاسوسوں کا ایک گروہ موجود ہے اور اُن میں سے کچھ اِدھر بھی آگئے ہوں گے محاظ پر میرا کوئی کام نہیں رہ گیا تھا میں کمان اپنے رفیقوں کو دے کر یہاں آگیا دِل اس قدر بے چین تھا کہ میں یہاں بہت بڑا خطرہ محسوس کر رہا تھا یہاں کی کیا خبر ہے ؟علی بن سفیان نے اُسے ساری خبر سنا دی اور کہا اگر آپ چاہیں تو میں زبان کا ہتھیار استعمال کر کے بغاوت کو روکنے کی کوشش کروں یا سلطان زنگی کی مدد آنے تک ملتوی کرا دوں میں جاسوسوں کو ہی استعمال کر سکتا ہوں ہماری فوج بہت کم ہے حملے کو نہیں روک سکے گی سلطان ایوبی ٹہلنے لگا اُس کا سر جھکا ہوا تھا وہ گہری سوچ میں کھو گیا تھا اور علی بن سفیان اسے دیکھ رہا تھا سلطان نے رُک کر کہا ہاں علی تم اپنی زبان اور اپنے جاسوس استعمال کرو لیکن حملے کو روکنے کیلئے نہیں بلکہ حملے کے حق میں سوڈانیوں کو حملہ کرنا چاہیے مگر رات کے وقت جب ہماری فوج خیموں میں سوئی ہوئی ہوگی علی بن سفیان نے حیرت سے سلطان کو دیکھا سلطان نے کہا یہاں کے تمام کمانداروں کو بلوا لو اور تم بھی آجاؤ سلطان ایوبی نے علی بن سفیان کو یہ ہدایت بڑی سختی سے دی یہ سب کو بتا دینا کہ میرے متعلق اُس کے سوا کسی کو معلوم نہ ہو سکے کہ میں محاظ سے یہاں آگیا ہوں سوڈانیوں سے میری یہاں موجودگی کو پوشیدہ رکھنا بے حد ضروری ہے میں بڑی احتیاط سے خفیہ طریقے سے آیا ہوں
تین راتوں بعد قاہرہ تاریک رات کی آغوش میں گہری نیند میں سویا ہوا تھا ایک روز پہلے قاہرہ کے لوگوں نے دیکھا تھا کہ اُن کی فوج جو مصر سے تیار کی گئی تھی ، شہر سے باہر جا رہی تھی انہیں بتایا گیا تھا کہ فوج جنگی مشقوں کیلئے شہر سے باہر گئی ہے نیل کے کنارے جہاں ریتلی چٹانیں اور ٹیلے ہیں وہاں دریا اور ٹیلوں کے درمیان فوج نے جا کر خیمے گاڑ دئیے تھے فوج پیادہ بھی تھی سوار بھی رات کا پہلا نصف گزر رہا تھا کہ قاہرہ کے سوئے ہوئے باشندوں کو دُور قیامت کا شور سنائی دیا گھوڑوں کے سرپٹ بھاگنے کی آوازیں سنائی دیں سوئے ہوئے لوگ جاگ اُٹھے وہ سمجھے کہ فوج جنگی مشق کر رہی ہے مگر شور قریب آتا اور بلند ہوتا گیا لوگوں نے چھتوں پر چڑھ کر دیکھا آسمان لال سرخ ہو رہا تھا بعض نے دیکھا کہ دور دریائے نیل سے آگ کے شعلے اُٹھتے اور تاریک رات کا سینہ چاک کرتے خشکی پر کہیں گرتے تھے پھر شہر میں سینکڑوں سرپٹ دوڑتے گھوڑوں کے ٹاپ سنائی دئیے ۔
شہر والوں کو ابھی معلوم نہیں تھا کہ یہ جنگی مشق نہیں باقاعدہ جنگ ہے اور جو آگ لگی ہوئی ہے اس میں سوڈانی لشکر کا خاصا بڑا حصہ زندہ جل رہا ہے یہ سلطان صلاح الدین ایوبی کی ایک بے مثال چال تھی اس نے دارالحکومت میں مقیم قلیل فوج کو دریائے نیل جو ریتلے ٹیلوں کے درمیان وسیع میدان میں خیمہ زن کر دیا تھا علی بن سفیان نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا تھا اس نے سوڈانی لشکر میں اپنے آدمی بھیج کر بغاوت کی آگ بھڑکا دی تھی اور اس کے کمانداروں سے یہ فیصلہ کروا لیا تھا کہ رات کو جب سلطان کی فوج گہری نیند سوئی ہوئی ہوگی اس پر سوڈانی فوج حملہ کر دے گی اور صبح تک ایک ایک سپاہی کا صفایا کر کے دارالحکومت پر بے خوف و خطر قابض ہوجائے گی اور سوڈانی فوج کا دوسرا حصہ بحیرئہ روم کے ساحل پر مقیم فوج پر حملہ کرنے کیلئے روانہ کر دیا جائے گا اس فیصلے اور منصوبے کے مطابق سوڈانی فوج کا ایک حصہ نہایت خفیہ طریقے سے رات کو بحیرئہ روم کے محاظ کیطرف روانہ کر دیا گیا اور دوسرا حصہ دریائے نیل کے کنارے خیمہ زن فوج پر ٹوٹ پڑا اس فوج نے سیلاب کی طرح ایک میل میں پھیلی ہوئی خیمہ گاہ پر ہلا بول دیا اور بہت ہی تیزی سے اس علاقے میں پھیل گئی اچانک خیموں پر آگ اور تیل کے بھیگے ہوئے کپڑوں کے جلتے گولے برسنے لگے نیل بھی آگ برسانے لگا خیموں کو آگ لگ گئی اور شعلے آسمان تک پہنچنے لگے سوڈانی فوج کو خیموں میں سلطان ایوبی کی فوج کا نہ کوئی سپاہی ملا نہ گھوڑا نہ کوئی سوار اس فوج کو وہاں تمام خیمے خالی ملے کوئی مقابلے کیلئے نہ اُٹھا اور اچانک آگ ہی آگ پھیل گئی انہیں معلوم نہ تھا کہ سلطان ایوبی نے رات کے پہلے پہر خیموں سے اپنی فوج نکال کر ریتلے ٹیلوں کے پیچھے چھپا دیا تھا اور خیموں میں خشک گھاس کے ڈھیر لگوا دئیے تھے خیموں پر اور اندر بھی تیل چھڑک دیا تھا اس نے کشتیوں میں چھوٹی منجنیقیں رکھوا کر شام کے بعد ضرورت کی جگہ بجھوا دی تھیں جونہی سوڈانی فوج خیمہ گاہ میں آئی سلطان کی چھپی ہوئی فوج نے آگ والے تیر اور نیل سے کشتیوں میں رکھی ہوئی منجنیقوں نے آگ کے گولے پھینکنے شروع کر دئیے۔
خیموں کو آگ لگی تو گھاس اور تیل نے وہاں دوزخ کا منظر بنا دیا سوڈانیوں کے گھوڑے اپنے پیادہ سپاہیوں کو روندنے لگے سپاہیوں کے لیے آگ سے نکلنا ناممکن ہو گیا چیخوں نے آسمان کا جگر چاک کر دیا اس قدر آگ نے رات کو دِن بنا دیا سلطان ایوبی کی مٹھی بھر فوج نے آگ میں جلتی سوڈانیوں کی فوج کو گھیرے میں لے لیا جو آگ سے بچ کر نکلتا تھا وہ تیروں کا نشانہ بن جاتا تھا جو فوج بچ گئی وہ بھاگ نکلی اُدھر سوڈانیوں کی جو فوج محاظ کی طرف سلطان کی فوج پر حملہ کرنے جا رہی تھی اُس کا بھی صلاح الدین ایوبی نے انتظام کر رکھا تھا چند ایک دستے گھات لگائے بیٹھے تھے اِن دستوں نے اُس فوج کے پچھلے حصے پر حملہ کر کے ساری فوج میں بھگڈر مچادی یہ دستے ایک حملے میں جو نقصان کر سکتے تھے، کر کے اندھیرے میں غائب ہو گئے سوڈانی فوج سنبھل کر چلی تو پچھلے حصے پر پھر ایک اور حملہ ہوا یہ برق رفتار سوار تھے جو حملہ کر کے غائب ہو گئے صبح تک اس فوج کے پچھلے حصے پر تین حملے ہوئے سوڈانی سپاہی اسی سے بددل ہو گئے انہیں مقابلہ کرنے کا تو موقع ہی نہیں ملتا تھا دن کے وقت کمانداروں نے بڑی مشکل سے فوج کا حوصلہ بحال کیا مگر رات کو کوچ کے دوران اُن کا پھر وہی حشر ہوا دوسری رات تاریکی میں اُن پر تیر بھی برسے انہیں اندھیرے میں گھوڑے دوڑنے کی آوازیں سنائی دیتی تھیں جو اُن کی فوج کے عقب میں گشت و خون کرتی دور چلی جاتی تھیں ۔
تین چار یورپی مورخوں نے جن میں لین پول اور ولیم خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں لکھا ہے کہ دشمن کی کثیر نفری پر رات کے وقت چند ایک سواروں سے عقبی حصے پر شب خون مارنا اور غائب ہو جانا سلطان ایوبی کی ایسی جنگی چال تھی جس نے آگے چل کر صلیبیوں کو بہت نقصان پہنچایا اس طرح سلطان ایوبی دشمن کی پیش قدمی کی رفتار کو بہت سست کر دیتا تھا اور دشمن کو مجبور کر دیتا تھا کہ وہ اُس کی پسند کے میدان میں لڑیں جہاں سلطان ایوبی نے جنگ کا پانسہ پلٹنے کا انتظام کر رکھا ہوتا تھا ان مورخین نے سلطان ایوبی کے ان جانباز سواروں کی جرأت اور برق رفتاری کی بہت تعریف کی ہے آج کے جنگی مبصر جن کی نظر جنگوں کی تاریخ پر ہے رائے دیتے ہیں کہ آج کے کمانڈو اور گوریلا آپریشن کا موجد صلاح الدین ایوبی ہے وہ اس طریقہ جنگ سے دشمن کے منصوبے درہم برہم کر دیا کرتا تھا ۔
سوڈانیوں پر اس نے یہی طریقہ آزمایا اور صرف دو راتوں کے بار بار شب خون سے اس نے سوڈانی سپاہیوں کا لڑنے کا جذبہ ختم کر دیا ان کی قیادت میں کوئی دماغ نہ تھا ۔ یہ قیادت فوج کو سنبھال نہ سکی اس فوج میں علی بن سفیان کے بھی آدمی سوڈانی سپاہیوں کے بھیس میں موجود تھے انہوں نے یہ افواہ پھیلادی کہ عرب سے ایک لشکر آرہا ہے جو انہیں کاٹ کر رکھ دے گا ۔ انہوں نے بددلی اور فرار کا رحجان پیدا کرنے میں پوری کامیابی حاصل کی ۔ فوج غیر منظم ہو کر بکھر گئی۔ نیل کے کنارے اس فوج کا جو حشر ہوا ، وہ عبرت ناک تھا ……یہ افواہ غلط ثابت نہ ہوئی کہ عرب سے فوج آرہی ہے ۔ نورالدین زنگی کی فوج آگئی جس کی نفری بہت زیادہ نہیں تھی ۔
بعض مورخین نے دو ہزار سوار اور دو ہزار پیادہ لکھی ہے ۔ بغض کے اعدادو شمار اس سے کچھ زیادہ ہیں ۔ تاہم صلاح الدین ایوبی کو سہارا مل گیا اور اُس نے فوراً اس فوج کی قیادت سنبھال لی اس کیفیت میں جب کہ سوڈانیوں کا پچاس ہزار لشکر سلطان ایوبی کے آگ کے پھندے میں اور اُدھر صحرا میں شب خون کی وجہ سے بد نظمی کا شکار ہو گیا تھا ، یہ تھوڑی سی فوج بھی کافی تھی ۔ سلطان ایوبی اس فوج سے اور اپنی فوج سے سوڈانیوں کا قتلِ عام کر سکتا تھا لیکن اُس نے ڈپلومیسی سے کام لیا سوڈانی کمان کے کمانداروں کو پکڑا اور انہیں ذہن نشیں کرایا کہ اُن کے لیے تباہی کے سوا کچھ نہیں رہا لیکن وہ انہیں تباہ نہیں کرے گا کمانداروں نے اپنا حشر دیکھ لیا تھا وہ اب سلطان کے عتاب اور سزا سے خائف تھے لیکن سلطان نے انہیں بخش دیا اور سزا دینے کی بجائے سوڈانیوں کی بچی کچھی فوج کو سپاہیوں سے کاشت کاروں میں بدل دیا ۔انہیں زمینیں دیں اور کھیتی باڑی میں انہیں سرکاری طور پر مدد دی اور پھر انہیں یہ اجازت بھی دے دی کہ ان میں سے جو لوگ فوج میں بھرتی ہونا چاہتے ہیں، ہو سکتے ہیں ۔ سوڈانیوں کو یوں دانشمندی سے ٹھکانے لگا کر صلاح الدین ایوبی نے نورالدین زنگی کی بھیجی ہوئی فوج اور اپنی فوج کو یکجا کرکے اس میں وفادار سوڈانیوں کو بھی شامل کر کے ایک فوج منظم کی اور صلیبیوں پر حملے کے منصوبے بنانے لگا اس نے علی بن سفیان سے کہا کہ وہ اپنے جاسوسوں اور شب خون مارنے والے جانبازوں کے دستے فوراً تیار کرے اُدھر صلیبیوں نے بھی جاسوسی اور تخریب کاری کا انتظام مستحکم کرنا شروع کردیا ۔
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
یہ تحریر آپ کے لئے آئی ٹی درسگاہ کمیونٹی کی جانب سے پیش کی جارہی ہے۔
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
صلاح الدین ایوبی کے دور کے وقائع نگاروں کی تحریروں میں ایک شخص سیف اللہ کا ذکر ان الفاظ میں آتا ہے کہ اگر کسی انسان نے سلطان ایوبی کی اعطاعت کی ہے تو وہ سیف اللہ تھا سلطان ایوبی کے گہرے دوست اور دستِ راست بہاوالدین شداد کی اس ڈائری میں جو آج بھی عربی زبان میں محفوظ ہے سیف اللہ کا ذکر ذرا تفصیل سے ملتا ہے یہ شخص جس کا نام کسی باقاعدہ تاریخ میں نہیں ملتا صلاح الدین ایوبی کی وفات کے بعد سترہ سال زندہ رہا وقائع نگار لکھتے ہیں کہ اس نے عمر کے یہ آخری سترہ سال سلطان ایوبی کی قبر کی مجاوری میں گزارے تھے۔ اس نے وصیت کی تھی کہ وہ مر جائے تو اسے سلطان کے ساتھ دفن کیا جائے مگر سیف اللہ کی کوئی حیثیت نہیں تھی وہ ایک گمنام انسان تھا جسے عام قبرستان میں دفن کیا گیا اور وہ وقت جلدی ہی آگیا کہ اس قبرستان پر انسانوں نے بستی آباد کر لی اور قبرستان کا نام و نشان مٹا ڈالا ۔
تاریخی لحاظ سے سیف اللہ کی اہمیت یہ تھی کہ وہ سمندر پار سے صلاح الدین ایوبی کو قتل کرنے آیا تھا اُس وقت اس کا نام میگناناماریوس تھا اُس نے اسلام کا صرف نام سنا تھا اسے کچھ علم نہیں تھا کہ اسلام کیسا مذہب ہے صلیبیوں کے پروپیگنڈے کے مطابق اسے یقین تھا کہ اسلام ایک قابلِ نفرت مذہب اور مسلمان ایک قابلِ نفرت فرقہ ہے جو عورتوں کا شیدائی اور انسانی گوشت کھانے کا عادی ہے لہٰذا میگناناماریوس جب کبھی مسلمان کا لفظ سنتا تھا تو وہ نفرت سے تھوک دیا کرتا تھا، وہ بے مثال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جب صلاح الدین ایوبی تک پہنچا تو میگناناماریوس قتل ہو گیا اور اس کے مُردہ وجود سے سیف اللہ نے جنم لیا ۔
تاریخ میں ایسے حکمرانوں کی کمی نہیں جنہیں قتل کیا گیا یا جن پر قاتلانہ حملے ہوئے لیکن سلطان صلاح الدین ایوبی تاریخ کی اُن چند شخصیتوں میں سے ہے جسے قتل کرنے کی کوششیں دشمنوں نے بھی کیں اور اپنوں نے بھی بلکہ اپنوں نے اسے قتل کرنے کی غیروں سے زیادہ سازشیں کیں یہ امر افسوس ناک ہے کہ سلطان ایوبی کی داستانِ ایمان افروز کے ساتھ ساتھ ایمان فروشوں کی کہانی بھی چلتی ہے اسی لیے صلاح الدین ایوبی نے بارہا کہا تھا تاریخ اسلام وہ وقت جلدی دیکھے گی جب مسلمان رہیں گے تو مسلمان ہی لیکن اپنا ایمان بیچ ڈالیں گے اور صلیبی ان پر حکومت کریں گے اور آج ہم وہ وقت دیکھ رہے ہیں ۔
سیف اللہ کی کہانی اُس وقت سے شروع ہوتی ہے جب سلطان ایوبی نے صلیبیوں کا متحد بیڑہ بحیرئہ روم میں نذرِ آب و آتش کیا تھا ان کے کچھ بحری جہاز بچ کر نکل گئے تھے سلطان ایوبی بحیرئہ روم کے ساحل پر اپنی فوج کے ساتھ موجود رہا اور سمندر میں سے زندہ نکلنے والے صلیبیوں کو گرفتار کرتا رہا ان میں سات لڑکیاں بھی تھیں جن کا تفصیلی ذکر آپ پڑھ چکے ہیں مصر میں سلطان کی سوڈانی سپاہ نے بغاوت کر دی جسے سلطان نے دبا لیا اُسے سلطان زنگی کی بھیجی ہوئی فوج بھی مل گئی وہ اب صلیبیوں کے عزائم کو ختم کرنے کے منصوبے بنانے لگا
بحیرئہ روم کے پار روم شہر کے مضافات میں صلیبی سربراہوں کی کانفرنس ہو رہی تھی ان میں شاہ آگسٹس تھا شاہ ریمانڈ اور شہنشائی ہفتم کا بھائی رابرٹ بھی اس کانفرنس میں سب سے زیادہ قہر و غضب میں آیا ہوا ایک شخص تھا جس کا نام ایملرک تھا وہ صلیبیوں کے اس متحدہ بیڑے کا کمانڈر تھا جو مصر پر فوج کشی کے لیے گیا تھا مگر صلاح الدین ایوبی ان پر ناگہانی آفت کی طرح ٹوٹ پڑا اور اس بیڑے کے ایک بھی سپاہی کو مصر کے ساحل پر قدم نہ رکھنے دیا مصر کے ساحل پر جو صلیبی پہنچے وہ سلطان ایوبی کے ہاتھ میں جنگی قیدی تھے صلیبیوں کی کانفرنس میں ایملرک کے ہونٹ کانپ رہے تھے اس کا بیڑہ غرق ہوئے پندرہ دِن گزر گئے تھے وہ پندرہویں دن اٹلی کے ساحل پر پہنچا تھا سلطان ایوبی کے آتشیں تیر اندازوں نے اس کے جہاز کے بادبان اور مستول جلا ڈالے تھے یہ تو اس کی خوش قسمتی تھی کہ اس کے ملاحوں اور سپاہیوں نے آگ پر قابو پا لیا تھا اور وہ جہاز کو بچا لے گئے تھے مگر بادبانوں کے بغیر جہاز سمندر پر ڈولتا رہا پھر طوفان آگیا اس کے بچنے کی کوئی صورت نہیں رہی تھی بہت سے بچے کھچے جہاز اور کشتیاں اس طوفان میں غرق ہوگئی تھیں یہ ایک معجزہ تھا کہ ایملرک کا جہاز ڈولتا بھٹکتا ڈوب ڈوب کر اُبھرتا اٹلی کے ساحل سے جا لگا اس میں اس کے ملاحوں کا بھی کمال شامل تھا انہوں نے چپوؤں کے زور پر جہاز کو قابو میں رکھا تھا۔
ساحل پر پہنچتے ہی اس نے ان تمام ملاحوں اور سپاہیوں کو بے دریغ انعام دیا صلیبی سربراہ وہیں اس کے منتظر تھے وہ اس پر غور کرنا چاہتے تھے کہ انہیں دھوکہ کس نے دیا ہے ظاہر ہے کہ شک سوڈانی سالار ناجی پر ہی ہو سکتا تھا اسی کے خط کے مطابق انہوں نے حملے کے لیے بیڑہ روانہ کیا تھا مگر ان کے ساتھ ناجی کا تحریری رابطہ پہلے بھی موجود تھا انہوں نے ناجی کے اس خط کی تحریر پہلے دو خطوں سے ملائی تو انہیں شک ہوا کہ یہ کوئی گڑبڑ ہے انہوں نے قاہرہ میں جاسوس بھیج رکھے تھے مگر ان کی طرف سے بھی کوئی اطلاع نہیں ملی تھی انہیں یہ بتانے والا کوئی نہ تھا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے ناجی اور اس کے سازشی سالاروں کو خفیہ طریقے سے مروا دیا اور رات کی تاریکی میں گمنام قبروں میں دفن کر دیا تھا اور صلیبی سربراہوں اور بادشاہوں کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ جس خط پر انہوں نے بیڑہ روانہ کیا تھا ، وہ خط ناجی کا ہی تھا مگر حملے کی تاریخ سلطان ایوبی نے تبدیل کر کے لکھی تھی جاسوسوں کو ایسی معلومات کہیں سے بھی نہیں مل سکتی تھیں۔
یہ کانفرنس کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی ایملرک کے منہ سے بات نہیں نکلتی تھی وہ شکست خوردہ تھا غصے میں بھی تھا اور تھکا ہوا بھی تھا کانفرنس اگلے روز کے لیے ملتوی کر دی گئی تھی رات کے وقت یہ تمام سربراہ شکست کا غم شراب میں ڈبو رہے تھے ایک آدمی اس محفل میں آیا اسے صرف ریمانڈ جانتا تھا وہ ریمانڈ کا قابلِ اعتماد جاسوس تھا وہ حملے کی شام مصر کے ساحل پر اُترا تھا اس سے تھوڑی ہی دیر بعد صلیبیوں کا بیڑہ آیا اور اس کی آنکھوں کے سامنے یہ بیڑہ سلطان ایوبی کی قلیل فوج کے ہاتھوں تباہ ہوا تھا۔ یہ جاسوس مصر کے ساحل پر رہا اور اس نے بہت سی معلومات مہیا کر لی تھیں ریمانڈ نے اس کا تعارف کرایا تو سب اس کے گرد جمع ہو گئے اس جاسوس کو معلوم تھا کہ صلیبی سربراہوں نے سلطان ایوبی کو قتل کرانے کیلئے رابن نام کا ایک ماہر جاسوس سمندر پار بھیجا تھا اور اس کی مدد کے لیے پانچ آدمی اور سات جوان اور خوبصورت لڑکیاں بھیجی گئی تھیں اس جاسوس نے بتایا کہ رابن زخمی ہونے کا بہانہ کر کے صلاح الدین ایوبی کے کمیپ میں پہنچ گیا تھا ۔
اس کے پانچ آدمی تاجروں کے بھیس میں تھے ان میں کرسٹوفر نام کے ایک آدمی نے ایوبی پر تیر چلایا مگر تیر خطا گیا پانچوں آدمی پکڑے گئے اور ساتوں لڑکیاں بھی پکڑی گئیں انہوں نے کہانی تو اچھی گھڑلی تھی سلطان ایوبی نے لڑکیوں کو پناہ میں لے لیا اور پانچوں آدمیوں کو چھوڑ دیا تھا مگر ایوبی کا ایک ماہر سراغ رساں جس کا نام علی بن سفیان ہے اچانک آگیا اس نے سب کو گرفتار کر لیا اور پانچ میں سے ایک آدمی کو سب کے سامنے قتل کرا کے دوسروں سے اقبالِ جرم کروا لیا جاسوس نے کہا میں نے اپنے متعلق بتایا تھا کہ ڈاکٹر ہوں اس لیے سلطان نے مجھے زخمیوں کی مرہم پٹی کی ڈیوٹی دے دی وہیں مجھے یہ اطلاع ملی کہ سوڈانیوں نے بغاوت کی تھی جو دبالی گئی ہے اور سوڈانی افسروں اور لیڈروں کو ایوبی نے گرفتار کر لیا ہے رابن چار آدمی اور چھ لڑکیاں ایوبی کی قید میں ہیں لیکن ابھی تک ساحل پر ہیں ساتویں لڑکی جو سب سے زیادہ ہوشیار ہے لاپتہ ہے اُس کا نام موبینا ارتلاش ہے موبی کہلاتی ہے ایوبی بھی کیمپ میں نہیں ہے اور اس کا سراغ رساں علی بن سفیان بھی وہاں نہیں ہے میں بڑی مشکل سے نکل کر آیا ہوں بڑی زیادہ اُجرت پر تیز رفتار کشتی مل گئی تھی میں یہ خبر دینے آیا ہوں کہ رابن اس کے آدمی اور لڑکیاں موت کے خطرے میں ہیں مردوں کی فکر ہمیں نہیں کرنی چاہیے لڑکیوں کو بچانا لازمی ہے آپ جانتے ہیں کہ سب جوان ہیں اور چنی ہوئی خوبصورت ہیں ۔
مسلمان ان کا جو حال کر رہے ہوں گے اس کا آپ تصور کر سکتے ہیں ، ہمیں یہ قربانی دینی پڑے گی شاہ آگسٹس نے کہا، اگر مجھے یقین دلا دیا جائے کہ لڑکیوں کو جان سے مار دیا جائے گا تو میں یہ قربانی دینے کیلئے تیار ہوں ریمانڈ نے کہا مگر ایسا نہیں ہوگا مسلمان اس کے ساتھ وحشیوں کا سلوک کر رہے ہوں گے لڑکیاں ہم پر لعنت بھیج رہی ہوں گی میں انہیں بچانے کی کوشش کروں گا ، یہ بھی ہو سکتا ہے رابرٹ نے کہا کہ مسلمان ان لڑکیوں کے ساتھ اچھا سلوک کر کے ہمارے خلاف جاسوسی کیلئے استعمال کرنے لگیں بہر حال ہمارا یہ فرض ہے کہ انہیں قید سے آزاد کروائیں میں اس کے لیے اپنا آدھا خزانہ خرچ کرنے کے لیے تیار ہوں ۔
یہ لڑکیاں صرف اس لیے قیمتی نہیں کہ یہ لڑکیاں ہیں جاسوس نے کہا وہ دراصل تربیت یافتہ ہیں اتنے خطرناک کام کے لیے ایسی لڑکیاں ملتی ہی کہاں ہیں آپ کسی جوان لڑکی کو ایسے کام کیلئے تیار نہیں کر سکتے کہ وہ دشمن کے پاس جا کر اپنا آپ دشمن کے حوالے کر دے دشمن کی عیاشی کا ذریعہ بنے اور جاسوس اور تخریب کاری کرے اس کام میں عزت تو سب سے پہلے دینی پڑتی ہے اور یہ خطرہ تو ہر وقت لگا رہتا ہے کہ جوں ہی دشمن کو پتہ چلے گا کہ یہ لڑکی جاسوس ہے تو اسے اذیتیں دی جائیں گی پھر اسے جان سے مار دیا جائے گا ان لڑکیوں کو ہم نے زرِ کثیر صرف کرکے خاص کیا پھر ٹریننگ دی تھی اور انہیں بڑی محنت سے مصر اور عرب کی زبان سکھائی تھی ، ایک ہی بار تجربہ کار لڑکیوں کو ضائع کرنا عقل مندی نہیں۔
کیا تم کہہ سکتے ہو کہ لڑکیوں کو ایوبی کے کیمپ سے نکالا جا سکتا ہے ؟ آگسٹس نے پوچھا ، جی ہاں جاسوس نے کہا نکالا جاسکتا ہے ؟ اس کے لیے غیر معمولی طور پر دلیر اور پختہ کار آدمیوں کی ضرورت ہے مگر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ایک دو دنوں تک رابن اس کے چار آدمیوں اور لڑکیوں کو قاہرہ لے جائیں وہاں سے نکالنا بہت ہی مشکل ہوگا اگر ہم وقت ضائع نہ کریں تو ہم انہیں کیمپ میں ہی جا لیں گے آپ مجھے بیس آدمی دے دیں میں ان کی رہنمائی کروں گا لیکن آدمی ایسے ہوں جو جان پر کھیلنا جانتے ہوں، ہمیں ہر قیمت پر ان لڑکیوں کو واپس لانا ہے ایملرک نے گرج کر کہا اس پر بحیرئہ روم میں جو بیتی تھی اس کا وہ انتقام لینے کو پاگل ہوا جا رہا تھا وہ صلیبیوں کے متحدہ بیڑے اور اس بیڑے میں سوار لشکر کا سپریم کمانڈر بن کر اس اُمید پر گیا تھا کہ مصر کی فتح کا سہرا اس کے سر بندھے گا مگر صلاح الدین ایوبی نے اسے مصر کے ساحل کے قریب بھی نہ جانے دیا وہ جلتے ہوئے جہاز میں زندہ جل جانے سے بچا تو طوفان نے گھیر لیا اب بات کرتے اس کے ہونٹ کانپتے تھے اور وہ زیادہ تر باتیں میز پر مکے مار کر یا اپنی ران پر زور زور سے ہاتھ مار کر اپنے جذبات کا اظہار کر رہا تھا اس نے کہا میں لڑکیوں کو بھی لاؤں گا اور صلاح الدین ایوبی کو قتل بھی کرواؤں گا میں ان ہی لڑکیوں کو مسلمانوں کی سلطنت کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے لیے استعمال کروں گا...
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*