🗡️🛡️⚔*شمشیرِ بے نیام*⚔️🛡️🗡️
🗡️ تذکرہ: حضرت خالد ابن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ 🗡️
✍🏻تحریر: عنایت اللّٰہ التمش
🌈 ترتیب و پیشکش : *میاں شاہد* : آئی ٹی درسگاہ کمیونٹی
قسط نمبر *38* ۔۔۔۔
خالدؓ نے کہا۔’’ہم شام جا رہے ہیں۔‘‘خالدؓ تو جیسے میدانِ جنگ کیلئے پیدا ہوئے تھے۔قلعے اور شہر میں بیٹھنا انہیں پسند نہ تھا۔انہوں نے سالاروں کو خط پڑھ کر سنایا اور تیاری کا حکم دیا۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے لشکرکو دوحصوں میں تقسیم کیا۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓ نے تمام صحابہ کرامؓ کو اپنے ساتھ رکھا۔صحابہ کرامؓ کو لشکر میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔’’ولید کے بیٹے!‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے کہا۔’’خدا کی قسم!میں اس تقسیم پر راضی نہیں ہوں جو تو نے کی ہے۔تو رسول اﷲﷺ کے تمام ساتھیوں کو اپنے ساتھ لے جا رہا ہے۔صحابہ کرام کو بھی صحیح تقسیم کر۔ آدھے صحابہ کرام تیرے ساتھ جائیں گے، آدھے میرے ساتھ رہیں گے۔کیا تو نہیں جانتا کہ انہی کی بدولت اﷲہمیں فتح عطا کرتا ہے۔‘‘خالدؓ نے مسکرا کر صحابہ کرامؓ کی تقسیم مثنیٰ بن حارثہ کی خواہش کے مطابق کردی اور اپنے لشکر کے سالاروں کو حکم دیاکہ جتنی جلدی ممکن ہو تیاری مکمل کریں۔’’اور یہ نہ بھولناکہ ہم اپنے ان بھائیوں کی مدد کو جا رہے ہیں جو وہاں مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ضائع کرنے کیلئے ہمارے پاس ایک سانس جتنا وقت بھی نہیں۔‘مسلمانوں کا وہ لشکر جو شام میں جاکر مشکل میں پھنس گیا تھا ،وہ ایک سالار کی جلد بازی کا اور حالات کو قبل از وقت نہ سمجھ سکنے کا نتیجہ تھا۔اس نے شام کے اندر جاکر رومیوں پر حملہ کرنے کی اجازت امیر المومنینؓ سے اس طرح مانگی کہ جس طرح وہ خود آگے کے احوال و کوائف کو نہیں سمجھ سکا تھا، اسی طرح اس نے امیر المومنینؓ کو بھی گمراہ کیا۔ امیرالمومنین ابو بکر صدیقؓ دانشمند انسان تھے۔انہوں نے اس سالار کو حملہ کرنے کی کھلی چھٹی نہ دی بلکہ یہ لکھا: ’’……رومیوں سے ٹکر لینے کی خواہش میرے دل میں بھی ہے۔ اور یہ ہماری دفاعی ضرورت بھی ہے۔ رومیوں کی جنگی طاقت کو اتنا کمزور کردینا ضروری ہے کہ وہ سلطنت اسلامیہ کی طرف دیکھنے کی جرات نہ کر سکیں لیکن ابھی ہم ان سے ٹکر نہیں لے سکتے۔ تم ان کے خلاف بڑے یپمانے کی جنگ نہ کرنا، محتاط ہو کر آگے بڑھنا تاکہ خطرہ زیادہ ہو تو پیچھے بھی ہٹ سکو، تم یہ جائزہ لینے کیلئے حملہ کرو کہ رومیوں کی فوج کس طرح لڑتی ہے اور اس کے سالار کیسے ہیں۔‘‘امیر المومنینؓ نے صاف الفاظ میں لکھا کہ اپنے لشکر کو ایسی صورت میں نہ ڈال دینا کہ پسپائی اختیار کرو اور تمہیں اپنے علاقے میں آکر بھی پناہ نہ ملے۔اس سالار کا نام بھی خالد تھا ، خالد بن سعید۔لیکن میدانِ جنگ میں وہ خالدؓ بن ولید کی گَردِ پا کو بھی نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اسے جن دستوں کا سالار بنایا گیا تھا وہ سرحدی فرائض انجام دینے والے دستے تھے۔ ان میں لڑنے کی اہلیت تھی اور ان میں لڑنے کا جذبہ بھی تھا لیکن انہیں جنگ کا ویسا تجربہ نہ تھا جیسا خالدؓ بن ولید کے دستوں نے حاصل کر لیا تھا۔امیرالمومنینؓ نے خالد بن سعید کو اپنی سرحدوں پر پہرہ دینے کیلئے بھیجا تھا۔ان دستوں کا ہیڈ کوارٹر تیما کے مقام پر بنایا گیا تھا۔
بعض مؤرخوں نے لکھا کہ خالدؓ کی پے در پے کامیابیاں دیکھ دیکھ کر خالدبن سعید کو خیال آیا کہ خالدؓ نے فارس کو شکستیں دی ہیں تو وہ رومیوں کو ایسی ہی شکستیں دے کر خالدؓ کی طرح نام پیدا کرے۔ ابنِ ہشام اور ایک یورپی مؤرخ ہنری سمتھ نے یہ بھی لکھا ہے کہ خلیفۃ المسلمینؓ خالد بن سعید کی قیادت اور صلاحیتوں سے واقف تھے اسی لیے انہوں نے اس سالار کو بڑی جنگوں سے دور رکھا تھا لیکن وہ اس کی باتوں میں آگئے۔خالدؓ نے بھی فراض کے مقام پر رومیوں سے ٹکرلی تھی، لیکن سرحد پر معرکہ لڑا تھا، انہوں نے آگے جانے کی غلطی نہیں کی تھی، خالد بن سعید نے امیرالمومنینؓ کا جواب ملتے ہی اپنے دستوں کو کوچ کا حکم دیا اور شام کی سرحد میں داخل ہو گئے ۔ اس وقت شام میں ہرقل رومی حکمران تھا۔ اسے جنگوں کا بہت تجربہ تھا، رومیوں کی اپنی جنگی تاریخ اور روایات تھیں،وہ اپنی فوج کو انہی کے مطابق ٹریننگ دیتے تھے۔یہ تقریباً انہی دنوں کا واقعہ ہے جب خالدؓ فراض کے مقام پر رومیوں ، فارسیوں اور عیسائیوں کے متحدہ لشکر کے خلاف لڑے اورانہیں شکست دی تھی۔ اس سے رومی محتاط ، مستعد اور چوکس ہو گئے تھے۔ انہوں نے اپنی فوج کو ہر لمحہ تیار رہنے کا حکم دے رکھا تھا۔ خالد بن سعید نے آگے کے احوال و کوائف معلوم نہ کیے، کوئی جاسوس آگے نہ بھیجا، اوراندھا دھند بڑھتے گئے۔ آگے رومی فوج کی کچھ نفری خیمہ زن تھی۔ خالد بن سعید نے دائیں بائیں دیکھے بغیر اس پر حملہ کردیا۔ رومیوں کا سالار باہان تھا، جو جنگی چالوں کے لحاظ سے خالدؓ بن ولید کے ہم پلّہ تھا ۔خالد بن سعید نہ سمجھ سکا کہ رومیوں کی جس نفری پر اس نے حملہ کیا ہے ، اس کی حیثیت جال میں دانے کی ہے، وہ انہی میں الجھ گیا۔تھوڑی ہی دیر بعد اسے پتا چلا کہ اس کے اپنے دستے رومیوں کے گھیرے میں آگئے ہیں اور عقب سے رومی ان پر ہلّہ بولنے کیلئے بڑھے آرہے ہیں۔ خالد بن سعید کیلئے اپنے دستوں کو بچانا ناممکن ہو گیا۔ اس نے یہ حرکت کی کہ اپنے محافظوں کو ساتھ لے کر میدانِ جنگ سے بھاگ گیا اور اپنے دستوں کو رومیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ گیا۔مسلمانوں کے ان دستوں میں مشہور جنگجو عکرمہؓ بن ابو جہل بھی تھے۔ اس ابتر صورتِ حال میں انہوں نے اپنے ہراساں دستوں کی کمان لے لی، اور ایسی چالیں چلیں کہ اپنے دستوں کو تباہی سے بچا لائے، جانی نقصان تو ہوا اور زخمیوں کی تعداد بھی خاصی تھی۔ خالدبن سعید کے بھاگ جانے سے تمام دستوں کے جنگی قیدی بننے کے حالات پیدا ہو گئے تھے، عکرمہؓ نے مسلمانوں کو اس ذلت سے بچالیا۔مدینہ اطلاع پہنچی تو خلیفۃ المسلمینؓ نے خالدبن سعید کو معزول کرکے مدینہ بلالیا۔ خلیفۃ المسلمینؓ کے غصے کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے خالد بن سعید کو بھری محفل میں بزدل اور نالائق کہا۔ خالد بن سعید خاموشی کی زندگی گزارنے لگا۔ اس سے زیادہ اور افسردہ آدمی اور کون ہو سکتا تھا ۔آخر خدا نے اس کی سن لی ، بہت عرصے بعد جب مسلمانوں نے شام کو میدانِ جنگ بنالیا تھا ۔خالد بن سعید کو وہاں ایک دستے کے ساتھ جانے کی اجازت مل گئی۔ اس نے اپنے نام سے شکست کا داغ یوں دھویا کہ بے جگری سے لڑتا ہوا شہید ہو گیا۔
امیرالمومنین ابو بکر صدیقؓ نے اپنی مجلسِ مشاورت کے سامنے یہ مسئلہ پیش کیا۔اس مجلس میں جو اکابرین شامل تھے ، ان میں عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ، طلحہؓ، زبیرؓ، عبدالرحمٰنؓ بن عوف، سعدؓ بن ابی وقاص، ابو عبیدہؓ بن الجراح، معاذؓ بن جبل، ابیؓ بن کعب، اور زیدؓ بن ثابت خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔’’میرے دوستو!‘‘خلیفہ ابو بکر صدیقؓ نے کہا۔’’ رسولِ کریم ﷺکا ارادہ تھا کہ شام کی طرف سے رومیوں کے حملہ کا سدّباب کیا جائے ۔آپﷺنے جو تدبیریں سوچی تھیں ،ان پر عمل کرنے کی آپﷺکو مہلت نہ ملی۔آپﷺانتقال فرما گئے۔اب تم نے سن لیا ہے کہ ہرقل جنگی تیاری مکمل کر چکا ہے، اور ہمارا ایک سالار شکست کھا کر واپس بھی آگیا ہے۔ اگر ہم نے رومیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی تو ایک تو اپنے لشکر کے حوصلے کمزور ہوں گے اور وہ رومیوں کو اپنے سے زیادہ بہادر سمجھنے لگیں گے۔ دوسرا نقصان یہ ہوگا کہ رومی آگے بڑھ آئیں گے اور ہمارے لیے خطرہ بن جائیں گے۔ اس صورتِ حال میں تم مجھے کیا مشورہ دو گے؟یہ بھی یاد رکھنا کہ ہمیں مزید فوج کی ضرورت ہے۔ ’’امیرالمومنین!‘‘عمرؓ نے کہا۔’’آپ کے عزم کو کون رد کر سکتا ہے۔ میں محسوس کر رہا ہوں کہ شام پر حملے کا اشارہ اﷲکی طرف سے ملا ہے۔ لشکر کیلئے مزید نفری بھرتی کریں ، اور جو کام رسول اﷲﷺنے کرنا چاہا تھا اسے ہم پورا کریں۔‘‘’’امیرالمومنین!‘‘عبدالرحمٰنؓ بن عوف نے کہا۔’’اﷲکی سلامتی ہو تم پر، غور کر لے، رومی ہم سے طاقتور ہیں۔ خالدبن سعید کاانجام دیکھ، ہم رسول اﷲﷺکے ارادوں کو ضرور پورا کریں گے لیکن ہم اس قابل نہیں کہ رومیوں پر بڑے پیمانے کا حملہ کریں۔کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ ہمارے دستے رومیوں کی سرحدی چوکیوں پو حملے کرتے رہیں اور ہر حملے کے بعد دور پیچھے آجائیں۔ اس طرح رومیوں کا آہستہ آہستہ نقصان ہوتا رہے گا اور اپنے مجاہدین کے حوصلے کھلتے جائیں گے،اس دوران ہم اپنے لشکر کیلئے لوگوں کو اکھٹا کرتے رہیں۔ امیرالمومنین !لشکر میں اضافہ کرکے تم خود جہاد پر روانہ ہو جاؤ اور چاہو تو قیادت کسی اور سردار کو دے دو۔‘‘مؤرخوں نے اس دور کی تحریروں کے حوالے سے لکھا ہے کہ تمام مجلس پر خاموشی طاری ہو گئی، عبدالرحمٰنؓ بن عوف نے بڑی جرات سے اپنا مشورہ پیش کیا تھا۔ ایسالگتا تھا جیسے اب کوئی اور بولے گا ہی نہیں۔’’خاموش کیوں ہو گئے ہو تم؟‘‘ امیرالمومنینؓ نے کہا۔’’اپنے مشورے دو۔‘‘’’کون شک کر سکتا ہے تمہاری دیانتداری پر!‘‘عثمانؓ بن عفان نے کہا۔’’بے شک تم مسلمانوں کی او ردین کی بھلائی چاہتے ہو۔ پھر کیوں نہیں تم حکم دیتے کہ شام پر حملہ کرو۔نتیجہ جو بھی ہوگا ہم سب بھگت لیں گے۔‘‘مجلس کے دوسرے شرکاء نے عثمانؓ بن عفان کی تائید کی اور متفقہ طور پر کہا کہ دین اور رسول اﷲ ﷺکی امت کے وقار کیلئے مسندِ خلافت سے جو حکم ملے گا سے سب قبول کریں گے۔’’تم سب پر اﷲکی رحمت ہو۔‘‘ خلیفۃ المسلمینؓ نے آخر میں کہا۔’’میں کچھ امیر مقرر کرتا ہوں۔ اﷲکی اور اس کے رسولﷺ کے بعد اپنے امیروں کی اطاعت کرو۔ اپنی نیتوں اور ارادوں کو صاف رکھو۔ بے شک اﷲانہی لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔‘‘ امیر المومنین ابو بکرؓ کا مطلب یہ تھا کہ شام پر حملہ ہوگا اور رومیوں کے ساتھ جنگ لڑی جائے گی ۔مجلس پر پھر خاموشی طاری ہو گئی۔ محمد حسین ہیکل لکھتا ہے کہ یہ خاموشی ایسی تھی کہ جیسے وہ رومیوں سے ڈر گئے ہوں یا انہیں امیرالمومنینؓ کا یہ فیصلہ پسند نہ آیا ہو۔ عمرؓ نے سب کی طرف دیکھا اور ان کی آنکھیں جذبات کی شدت سے سرخ ہو گئیں۔’’اے مومنین!‘‘عمرؓ نے گرج کر کہا۔’’ کیا ہو گیا ہے تمہیں؟ خلیفہ کی آواز پر لبیک کیوں نہیں کہتے؟ کیا خلیفہ نے اپنی بھلائی کیلئے کوئی حکم دیا ہے؟ کیا خلیفہ کے حکم میں تمہاری بھلائی شامل نہیں؟ امتِ رسول کی بھلائی نہیں؟……بولو……لبیک کہو اور آواز اپنے دلوں سے نکالو۔‘‘مجلس کا سکوت ٹوٹ گیا، لبیک لبیک کی آوازیں اٹھیں، اور سب نے متفقہ طور پر کہا کہ وہ رومیوں سے ٹکر لیں گے۔
حج سے واپس آکر خلیفۃ المسلمین ابوبکرؓ نے مدینہ میں گھوڑ دوڑ ، نیزہ بازی ، تیغ زنی، تیر اندازی، اور کُشتیوں کا مقابلہ منعقدکرایا۔اردگرد کے قبیلوں کو بھی اس مقابلے میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ تین دن مدینہ میں انسانوں کے ہجوم کا یہ عالم رہا کہ گلیوں میں چلنے کو رستہ نہیں ملتا تھا۔کوئی جگہ نہیں رہی تھی۔ جدھر نظر جاتی تھی گھوڑے اور اونٹ کھڑے نظر آتے تھے۔دف اور نفیریاں بجتی ہی رہتی تھیں۔قبیلے اپنے شہسواروں اور پہلوانوں کو جلوسوں کی شکل میں لا رہے تھے۔تین دن ہر طرح کے مقابلے ہوتے رہے۔ جن قبیلوں کے آدمی جیت جاتے وہ قبیلے میدان میں آکر ناچتے کودتے اور چلّا چلّا کر خوشی کا اظہار کرتے تھے۔ ان کی عورتیں اپنے جیتنے والے آدمیوں کی مدح میں گیت گاتی تھیں، مقابلے میں باہر کا کوئی گھوڑ سوار یا تیغ زن یا کوئی شتر سوارزخمی ہو جاتا تھا تو مدینہ کا ہر باشندہ اسے اٹھا کر اپنے گھر لے جانے کی کوشش کرتا تھا۔مدینہ والوں کی میزبانی نے قبیلوں کے دل موہ لیے۔مقابلوں اور میلے کا یہ اہتمام خلیفۃ المسلمین ابو بکرؓ نے کیا تھا،مقابلے کے آخری روز مدینہ کا اک آدمی گھوڑے پر سوار میدان میں آیا۔میدان کے اردگرد لوگوں ، گھوڑوں اور اونٹوں کا ہجوم جمع تھا۔’’اے رسول اﷲﷺکے امتیو!‘‘میدان میں اترنے والے سوار نے بڑی بلند سی آواز سے کہا۔’’خدا کی قسم!کوئی نہیں جوتمہیں نیچا دِکھا سکے ۔تم نے اس میدان میں اپنی طاقت اور اپنے جوہر دیکھ لیے ہیں۔کونسا دشمن ہے جو تمہارے سامنے اپنے پاؤں پرکھڑا رہ سکے گا، یہ طاقت جو تم نے اک دوسرے پر آزمائی ہے ، اب اسے دشمن پر آزمانے کا وقت آگیا ہے جو تمہاری طرف بڑھا آرہا ہے……‘‘’’اے مومنین!اپنی زمین کو دیکھو۔ اپنے اموال کو دیکھو، اپنی عور توں کو دیکھو جو تمہارے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں، اپنی جوان اور کنواری بیٹیوں کو دیکھو، جو تمہارے دامادوں کے انتظار میں بیٹھی ہیں کہ حلال بچے پیدا کریں۔ اپنے دین کودیکھو جو اﷲکا سچا دین ہے۔ خدا کی قسم!تم غیرت والے ہو۔ عزت والے ہو، اﷲنے تمہیں برتری دی ہے۔ تم پسند نہیں کرو گے کہ کوئی دشمن اس وقت تم پر آپڑے جب تم سوئے ہوئے ہو گے، اور تمہارے گھوڑے اور تمہارے اونٹ بغیر زینوں کے بندھے ہوئے ہوں گے اور تم نہیں بچا سکو گے اپنے اموال کو، اپنے بچوں کو، اپنی عورتوں کو، اور اپنی کنواری بیٹیوں کو اور دشمن تمہیں مجبور کر دے گا کہ سچے دین کو چھوڑ کر دشمن کے دیوتاؤں کی پوجا کرو۔‘‘’’بتا ہمیں وہ دشمن کون ہے؟ ‘‘ایک شتر سوار نے چلّا کر پوچھا۔ ’’کون ہے جو ہماری غیرت کو للکار رہا ہے۔‘‘’’رومی!‘‘گھوڑ سوار نے اعلان کرنے کے لہجے میں کہا۔’’وہ ملک شام پر قبضہ کیے بیٹھے ہیں، ان کی فوج ہم سے زیادہ ہے، بہت زیادہ ہے، ان کے ہتھیار ہم سے اچھے ہیں، لیکن وہ تمہارا وار نہیں سہہ سکتے، تم نے اس میدان میں اپنی طاقت اور اپنی ہمت دیکھ لی ہے، اب اُس میدان میں چلوجہاں تمہاری طاقت اور ہمت تمہارا دشمن دیکھے گا۔‘‘
’’ہمیں اس میدان میں کون لے جائے گا؟‘‘ ہجوم میں سے کسی نے پوچھا۔’’مدینہ والے تمہیں اپنے ساتھ لے جائیں گے۔‘‘مدینہ کے گھوڑ سوار نے کہا۔’’دیکھو انہیں جو برسوں سے محاذ پر لڑ رہے ہیں۔ کٹ رہے ہیں اور وہین دفن ہو رہے ہیں، انہیں اپنے بچوں کی یاد نہیں رہی، انہیں اپنے گھر یاد نہیں رہے، وہ بڑی تھوڑی تعداد میں ہیں اور اس دشمن کو شکست پہ شکست دے رہے ہیں جوتعداد میں ان سے بہت زیادہ ہے۔ وہ راتوں کو بھی جاگتے ہیں تمہاری عزتوں کیلئے……انہوں نے آتش پرست فارسیوں کا سر کچل ڈالا ہے۔ اب رومی رہ گئے ہیں لیکن ہمارے مجاہدین تھک گئے ہیں۔ محاذ ایک دوسرے سے دور ہیں، وہ ہر جگہ فوراً نہیں پہنچ سکتے……کیا تم جو غیرت اور عزت والے ہو، طاقت اور ہمت والے ہو، ان کی مدد کو نہیں پہنچوگے؟‘‘ہجوم جو پہلے ہی بے چین تھا، جوش و خروش سے پھٹنے لگا۔ امیرالمومنینؓ کا یہی منشاء تھا کہ لوگوں کو اسلامی لشکرمیں شامل کیا جائے۔ قبیلوں کی جو عورتیں مدینہ آئی تھیں۔ انہوں نے اپنے مردوں کو لشکر میں بھرتی ہونے پر اکسانا شروع کر دیا۔اس روز جو مقابلوں کا آخری روز تھا ، مقابلوں میں کچھ اور ہی جوش اور کچھ اور ہی شور تھا۔ مقابلوں میں اترنے والوں کا انداز ایسا ہی تھاجیسے وہ لشکر میں اچھی حیثیت حاصل کرنے کیلئے اپنے جوہر دِکھا رہے ہوں۔ اس کے بعد ان لوگوں میں سے کئی اسلامی لشکر میں شامل ہو گئے۔یمن میں اسلام مقبولِ عام مذہب بن چکا تھا۔ارتداد بھی ختم ہو گیا تھا اور یہاں کا غالب مذہب اسلام تھا۔ خلیفۃ المسلمینؓ نے اہلِ یمن کے نام ایک خط لکھا جو ایک قاصد لے کر گیا۔خط میں لکھا تھا:’’اہلِ یمن !تم پر اﷲکی رحمتیں برسیں۔تم مومنین ہو اور مومنین پر اس وقت جہاد فرض ہو جاتا ہے جب ایک طاقتور دشمن کا خطرہ موجود ہو۔ حکم رب العالمین ہے کہ تم تنگدستی میں ہو یا خوشحالی میں، تمہارے پاس سامان کم ہے یا زیادہ، تم جس حال میں بھی ہو ،دشمن کے مقابلے کیلئے نکل پڑو۔ اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے خدا کی راہ میں جہاد کیلئے نکلو۔ تمہارے جو بھائی مدینہ آئے تھے۔انہیں میں نے بغرضِ جہاد جانے کی ترغیب دی تو وہ بخوشی تیار ہوگئے اور اسلامی لشکر میں شامل ہو گئے۔میں یہی ترغیب تمہیں دیتا ہوں۔میری آواز تم تک پہنچ گئی ہے، اس میں اﷲکا حکم ہے وہ سنو اور جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اس کے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘اس دور کے رواج کے مطابق مدینہ کے قاصد نے یمن میں تین چار جگہوں پر لوگوں کو اکٹھا کیا اور امیرالمومنینؓ کا پیغام سنایا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ ایک سردار ذوالکلاع حمیری نے نہ صرف اپنے قبیلے کے جوان آدمیوں کو تیار کرلیا بلکہ اپنے زیرِاثر چند اور قبیلوں کے لڑنے والے آدمیوں کو ساتھ لیا اور مدینہ کو روانہ ہو گیا۔
مدینہ کا قاصد ہر قبیلے میں گیا تھا تین اور قبیلوں کے سرداروں قیس بن ھبیرمرادی، جندب بن عمرو الدوسی اور حابس بن سعد طائی۔ نے اپنے اپنے قبیلے کے جوانوں اور لڑنے کے قابل افراد کو ساتھ لیا اور شام کی جنگی مہم میں شریک ہونے کیلیئے عازمِ مدینہ ہوئے۔یہ ایک اچھا خاصہ لشکر بن گیا،ہر فرد گھوڑے یا اونٹ پر سوار اور ہر قسم کے ہتھیاروں سے مسلح ہوکر آیا، یہ لوگ تیروں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ بھی ساتھ لے آئے، مدینہ میں اس لشکرکا اجتماع ۶۳۴ء (محرم ۱۳ھ )میں ہوا تھا۔امیرالمومنین ابو بکرؓ نے خود اس اجتماع کے ہر آدمی کواچھی طرح سے دیکھاکہ وہ تندرست ہے اور وہ کسی کے مجبور کرنے پر نہیں بلکہ جہاد کا مطلب اور مقصد سمجھ کرخود آیا ہے۔ پھر اس لشکرکی چھان بین یہ معلوم کرنے کیلئے کی گئی کہ ان میں کئی افراد مرتدین کے ساتھ رہے اور مسلمانوں نے ارتداد کے خلاف جو جنگ لڑی تھی، اس میں وہ مسلمانوں کے خلاف لڑے تھے۔ انہوں نے اسلام تو قبو ل کرلیا تھا لیکن ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا تھا،مرتدین نے یہ عادت بنالی تھی کہ مرتد بنے رہے، جب مسلمانوں کے ہاتھوں میدانِ جنگ میں پِٹ گئے تو اسلام قبول کر لیا مگر مسلمان ان پر بھروسہ کرکے ان کی بستیوں سے ہٹے تو ان میں سے کئی ایک اسلام سے منحرف ہو کر پھر مرتد ہو گئے۔مدینہ میں چھان بین کی گئی تو ان میں سے بعض کو لشکر سے نکال دیا گیا۔باقی لشکر کو چار حصوں مین بانٹ کر ہر حصے کا سالار مقرر کیا گیا۔ ہر حصے میں سات ہزار آدمی تھے یعنی لشکر کی تعداد اٹھائیس ہزار تھی۔زیادہ تر مؤرخوں نے یہ تعداد تیس ہزار لکھی ہے، ایک حصے کے سالار تھے عمروؓ بن العاص، دوسرے کے یزید ؓبن ابی سفیان ، تیسرے کے شرجیلؓ بن حسنہ اور چوتھے حصے کے سالار ابو عبیدہؓ بن الجراح تھے۔ان سالاروں نے چند دن لشکر کو بڑے پیمانے کی جنگ لڑنے کی ٹریننگ دی جس میں معرکے کے دوران دستوں کا آپس میں رابطہ اور نظم و نسق قائم رکھنا شامل تھا۔اپریل ۶۳۴ء (صفر ۱۳ھ) کے پہلے ہفتے میں اس لشکر کو شام کی طرف کوچ کا حکم ملا۔ہر حصے کے الگ الگ مقامات پر پہنچنا اور ایک دوسرے سے الگ کوچ کرنا تھا۔ عمروؓ بن العاص کو اپنے دستوں کے ساتھ فلسطین تک جانا تھا، یزیدؓ بن ابی سفیان کی منزل دمشق تھی، انہیں تبوک کے راستے سے جانا تھا، شرجیلؓ بن حسنہ کو اردن کی طرف جانا تھا، انہیں کہا گیا تھا کہ یزیدؓ بن ابی سفیان کے دستوں کے پیچھے پیچھے جائیں، ابو عبیدہؓ بن الجراح کی منزل حمص تھی۔ انہیں بھی تبوک کے راستے سے ہی جانا تھا۔
’’اﷲتم سب کا حامی و ناصر ہو۔ ‘‘خلیفۃ المسلمینؓ نے آخری حکم یہ دیا۔’’سالار اپنے اپنے دستے ایک دوسرے سے الگ رکھیں گے۔ اگر رومیو ں کے ساتھ کہیں ٹکر ہو گئی تو سالار ایک دوسرے کو مدد کیلئے بلا سکتے ہیں۔ اگر لشکرکے چاروں حصوں کو مل کر لڑنا پڑا تو ابو عبیدہ بن الجراح تمام لشکر کے سپاہ سالار ہوں گے۔‘‘سب سے پہلے یزیدؓ بن ابی سفیان اپنے دستوں کو ساتھ لے کر مدینہ سے نکلے۔ مدینہ کی عورتیں اور بچے بھی باہر نکل آئے تھے۔چھتوں پر عورتیں کھڑی ہاتھ اوپر کرکے ہلا رہی تھیں۔بوڑھی عورتوں نے دعاکے لیے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے۔کئی بوڑھوں کی آنکھیں اس لیے اشکبار ہو گئی تھیں کہ وہ لڑنے کے قابل نہیں رہے تھے۔یزیدؓ بن ابی سفیان اپنے دستوں کے آگے آگے جا رہے تھے۔یزیدؓ کے ساتھ امیر المومنین ابو بکرؓ پیدل جا رہے تھے، یزیدؓ گھوڑے سے اتر آئے، امیرالمومنینؓ کے اصرار کے باوجود وہ گھواڑے پر سوار نہ ہوئے ، امیرالمومنینؓ ضعیف تھے پھر بھی وہ دستوں کی رفتار سے چلے جا رہے تھے۔ یزیدؓ نے انہیں کئی بار کہا کہ وہ واپس چلے جائیں لیکن ابو بکرؓ نہ مانے، مدینہ سے کچھ دور جاکر یزیدؓ رک گئے۔’’امیرالمومنین واپس نہیں جائیں گے تو میں ایک قدم آگے نہیں بڑھوں گا ۔‘‘ یزیدؓ بن ابی سفیان نے کہا۔’’خدا کی قسم ابو سفیان!‘‘امیرالمومنینؓ نے کہا۔’’تو مجھے سنتِ رسول اﷲﷺسے روک رہا ہے۔ کیا تجھے یاد نہیں کہ رسول اﷲﷺجہاد کو رخصت ہونے والے ہر لشکرکے ساتھ دور تک جاتے اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کرتے تھے؟ آپﷺفرمایا کرتے تھے، کہ پاؤں جو جہاد فی سبیل اﷲکے راستے پر گرد آلود ہو جاتے ہیں، دوزخ کی آگ ان سے دور رہتی ہے۔‘‘تاریخ کے مطابق امیر المومنینؓ کے لشکر کے اس حصے کے ساتھ مدینہ سے دو میل دور تک چلے گئے تھے۔’’یزید!‘‘امیرالمومنین ؓنے کہا۔’’اﷲتجھے فتح و نصرت عطا فرمائے، کوچ کے دوران اپنے آپ پر اور اپنے لشکر پر کوئی سختی نہ کرنا۔ فیصلہ اگر خود نہ کر سکو تو اپنے ماتحتوں سے مشورہ لے لینا، اور تلخ کلامی نہ کرنا ……عدل و انصاف کا دامن نہ چھوڑنا۔ ظلم سے باز رہنااور بے انصافی کرنے والی قوم کو اﷲپسند نہیں کرتا، اور ایسی قوم کبھی فاتح نہیں ہوتی……میدانِ جنگ میں پیٹھ نہ دکھانا، کہ جنگی ضرورت کے بغیر پیچھے ہٹنے والے پر اﷲکا قہر نازل ہوتا ہے……اور جب تم اپنے دشمن پر غالب آجاؤ تو عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں پر ہاتھ نہ اٹھانا، اور جو جانور تم کھانے کیلئے ذبح کرو ان کے سوا کسی جانور کو نہ مارنا۔ مؤرخین واقدی، ابو یوسف، ابنِ خلدون اور ابنِ اثیر نے امیرالمومنین ابو بکرؓ کے یہ الفاظ لکھے ہیں، ان مؤرخین کے مطابق امیرالمومنین ابو بکرؓ نے یزید ؓبن ابی سفیان سے کہا۔’’ تجھے خانقاہیں یا عبادت گاہیں سی نظر آئیں گی اور ان کے اندر راہب بیٹھے ہوں گے، وہ تارک الدنیا ہوں گے۔ انہیں اپنے حال میں مست رہنے دینا، نہ خانقاہوں اور عبادت گاہوں کو کوئی نقصان پہنچانا، نہ ان کے راہبوں کو پریشان کرنا……اور تمہیں صلیب کو پوجنے والے بھی ملیں گے۔ ان کی نشانی یہ ہوگی کہ ان کے سروں کے اوپر درمیان میں بال ہوتے ہی نہیں ، منڈوادیتے ہیں۔ ان پر اسی طرح حملہ کرنا جس طرح میدانِ جنگ میں دشمن پر حملہ کیا جاتا ہے۔ انہیں صرف اس صورت میں چھوڑنا کہ اسلام قبول کرلیں یا جزیہ ادا کرنے پر آمادہ ہو جائیں……اﷲکے نام پر لڑنا، اعتدال سے کام لینا۔ غداری نہ کرنا، اور جو ہتھیار ڈال دے اسے بلا وجہ قتل نہ کرنا نہ ایسے لوگوں کے اعضاء کاٹنا۔‘‘یہ رسولِ کریمﷺکا طریقہ تھا کہ رخصت ہونے والے ہر لشکر کے ساتھ کچھ دورتک جاتے، سالاروں کوان کے فرائض یاد دلاتے، اور لشکر کو دعاؤں سے رخصت کرتے تھے۔خلیفہ اول ابو بکرؓ نے رسول کریمﷺ کی پیروی کرتے ہوئے چاروں سالاروں کو آپﷺہی کی طرح رخصت کیا۔لشکر اور دستے تو محاذوں پر روانہ ہوتے ہی رہتے تھے لیکن یہ لشکر بڑے ہی خطرناک اور طاقتور دشمن سے نبرد آزما ہونے جا رہا تھا۔ شہنشاہ ہرقل جو حمص میں تھا، صرف شہنشاہ ہی نہیں تھا وہ میدانِ جنگ کا استاد اور جنگی چالوں کا ماہر تھا اس لشکر کو مدینہ سے روانہ کرکے مدینہ والوں پر خاموشی سی طاری ہو گئی تھی اور وہ خاموشی کی زبان میں ہر کسی کے سینے سے دعائیں پھوٹ رہی تھیں۔یہ تھی وہ جنگی مہم جس کیلئے امیر المومنینؓ نے فیصلہ کیا تھاکہ اس کی کمان اور قیادت کیلئے خالدؓ سے بہتر کئی سالار نہیں۔ مدینہ کا یہ اٹھائیس ہزار کا لشکر پندرہ دنوں میں شام کی سرحدوں پر اپنے بتائے ہوئے مقامات پر پہنچ چکا تھا۔حمص میں شہنشاہ ہرقل کے محل میں وہی شان و شوکت تھی جو شہنشاہوں کے محلات میں ہوا کرتی تھی۔مدائن کے محل کی طرح حمص کے محل میں بھی حسین اور نوجوان لڑکیاں ملازم تھیں۔ ناچنے اور گانے والیاں بھی تھیں، اور ایک ملکہ بھی تھی اور جس کی وہ ملکہ تھی اس کی ملکہ ہونے کی دعویدار چند ایک اور بھی تھیں۔
شہنشاہ ہرقل کے دربار میں ایک ملزم پیش تھا ،اس کا جرم یہ تھا کہ وہ شاہی خاندان سے تعلق نہیں رکھتا تھا، اس کا تعلق اس خاندان کے ساتھ تھا جوشہنشاہ کا نام سنتے ہی سجدے میں گر پڑتاتھا، یہ ملزم ان لوگوں میں سے تھا جو شہنشاہ کو روزی رساں سمجھا کرتے تھے۔ اس ملزم کا جرم یہ تھا کہ شاہی خاندان کی ایک شہزادی اس پر مر مٹی تھی۔ شہزادی غزال کے شکار کو گئی تھی، اور جنگل میں اسے کہیں یہ آدمی مل گیا تھا۔ شہزادی نے تیر سے ایک غزال کو معمولی سا زخمی کر دیا تھا، اور اس کے پیچھے گھوڑا ڈال دیا تھا، لیکن غزال معمولی زخمی تھا، وہ گھوڑے کی رفتار سے کہیں زیادہ تیز بھاگ رہا تھا۔اس ملزم نے دیکھ لیا، وہ گھوڑے پر سوار تھا اور اس کے ہاتھ میں برچھی تھی اس نے غزال کے پیچھے گھوڑا دوڑادیا۔ غزال مڑتا تھا تو سوار رستہ چھوٹا کرکے اس کے قریب پہنچ جاتا تھا، وہ غزال کو اس طرف لے جاتا جدھر شہزادی رُکی کھڑی تھی۔شہزادی نے تین چار تیر چلائے۔ سب خطا گئے۔ اس جوان اور خوبرو آدمی نے گھوڑے کو ایسا موڑا کہ غزال کے راستے میں آگیا، اس نے برچھی تاک کر پھینکی جو غزال کے پہلو میں اتر گئی اور وہ گر پڑا۔شہزادی اپنا گھوڑا وہاں لے آئی تو یہ آدمی اپنے گھوڑے سے کود کر اترا اور شہزادی کے گھوڑے کے قدموں میں سجدہ ریز ہو گیا۔’’میں اگر شہزادی کے شکار کو شکار کرنے کا مجرم ہوں تو مجھے معاف کیا جائے۔‘‘ اس نے ہاتھ جوڑکر کہا۔’’لیکن میں غزال کو شہزادی کے سامنے لے آیا تھاکہ شہزادی اسے شکار کرے۔ ’’تم شہسوار ہو۔‘‘ شہزادی نے مسکرا کر کہا۔’’کیا کام کرتے ہو؟‘‘’’ہر وہ کام کر لیتا ہوں جس سے دو وقت کی روٹی مل جائے۔‘‘ اس آدمی نے کہا۔’’میں تجھے محل کے محافظوں میں شامل کروں گی۔‘‘رعایا کے اس ناچیز بندے میں اتنی جرات نہیں تھی کہ انکار کرتا۔شہزادی اسے ساتھ لے آئی اور محافظوں میں رکھوادیا، اسے جب شاہی محافظوں کا لباس ملا اور جب وہ اس لباس میں شاہی اصطبل کے گھوڑے پر سوار ہوا تو اس کی مردانہ وجاہت نکھر آئی۔ وہ شہزادی کا منظورِ نظر بن گیا پھر شہزادی نے اسے اپنا دیوتا بنا لیا۔شہزادی کی شادی ہونے والی تھی لیکن اس نے اپنے منگیتر کے ساتھ بے رخی برتنا شروع کردی۔ منگیتر نے اپنے مخبروں سے کہا کہ وہ شہزادی کو دیکھتے رہا کریں کہ وہ کہاں جاتی ہے اور اس کے پاس کون آتا ہے۔ایک رات شہزادی کے منگیتر کو اطلاع ملی کہ شہزادی شاہی محل کے باغ میں بیٹھی ہوئی ہے۔ وہ محل سے تھوڑی ہی دور ایک بڑی خوبصورت جگہ تھی۔وہاں چشمہ تھا اور سبزہ زار تھا۔ درخت تھے اور پھولدار پودوں کی باڑیں تھیں۔ چاندنی رات تھی۔ شہزادی اور اس کا منظورِنظر ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے بیٹھے تھے کہ انہیں بھاری بھرکم قدموں کی دھمک سنائی دی ۔وہ شاہی محافظوں کے نرغے میں آگئے تھے۔ اس محافظ کو قید میں ڈال دیا گیا،شہنشاہ ہرقل کو صبح بتایا گیا اور محافظ کو زنجیروں میں باندھ کر دربار میں پیش کیا گیا۔اس پر الزام یہ تھا کہ اس نے ایک شہزادی کی شان میں گستاخی کی ہے۔ یہ الزام دربار میں بلند آواز سے سنایا گیا۔’’شہنشاہِ ہرقل کی شہنشاہی ساری دنیا میں پھیلے!‘‘ملزم نے کہا۔’’شہزادی کو دربار میں بلا کر پوچھا جائے کہ میں نے گستاخی کی ہے یا محبت کی ہے……اور محبت میں نے نہیں شہزادی نے کی ہے۔‘‘’’لے جاؤ اسے!‘‘شہنشاہ ہرقل نے گرج کر کہا۔’’رَتھ کے پیچھے باندھ دو اور رتھ اس وقت تک دوڑتی رہے جب تک اس کا گوشت اس کی ہڈیوں سے الگ نہیں ہوجاتا۔‘‘’’شہنشاہِ ہرقل!‘‘ملزم للکار کر بولا۔’’ تو ایک شہزادی کی محبت کا خون کر رہا ہے۔‘‘اُسے دربار سے گھسیٹ کر لے جا رہے تھے اور اس کی پکار اور للکار سنائی دے رہی تھی……وہ رحم کی بھیک نہیں مانگ رہا تھا۔’’تیرا انجام قریب آرہا ہے ہرقل!‘‘وہ چلّاتا جارہا تھا۔’’اپنے آپ کو دیوتا نہ سمجھ ہرقل!ذلت اور رسوائی تیری طرف آرہی ہے۔‘‘محبت کے اس مجرم کو ایک رتھ کے پیچھے باندھ دیاگیا اور دو گھوڑوں کی رتھ دوڑ پڑی، محل سے شور اٹھا۔ ’’شہزادی نے پیٹ میں تلوار اتار لی ہے۔‘‘یہ خبر شہنشاہ ہرقل تک پہنچی تو اس نے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔وہ تخت پر بیٹھا رہا،درباریوں پر سناٹا طاری تھا۔کچھ دیر بعد اٹھا اور اپنے خاص کمرے میں چلا گیا۔وہ سر جھکائے یوں کمرے میں ٹہل رہاتھا، ملکہ کمرے میں آئی،ہرقل نے اسے قہر کی نظروں سے دیکھا۔’’شگون اچھا نہیں۔‘‘ملکہ نے رُندھی ہوئی آواز میں کہا۔’’صبح ہی صبح دو خون ہو گئے ہیں۔‘‘’’یہاں سے چلی جاؤ۔‘‘ ہرقل نے کہا۔’’میں شاہی خاندان کی بے عزتی برداشت نہیں کر سکتا۔‘‘’’میں کچھ اور کہنے آئی ہوں۔‘‘ ملکہ نے کہا۔’’سرحد سے ایک عیسائی آیا ہے۔اس نے تمام رات سفر میں گھوڑے کی پیٹھ پر گزاری ہے۔اسے کسی نے دربار میں داخل ہونے نہیں دیا۔ مجھے اطلاع ملی تو……‘‘’’وہ کیوں آیا ہے؟‘‘ہرقل نے جھنجھلا کر پوچھا۔’’کیا وہ سرحد سے کوئی خبر لایا ہے؟‘‘’’مسلمانوںکی فوجیں آرہی ہیں۔‘‘ملکہ نے کہا۔’’اندر بھیجو اسے!‘‘ہرقل نے کہا۔ملکہ کے جانے کے بعد ایک ادھیڑ عمر آدمی کمرے میں آیا۔اس کے کپڑوں پر اور چہرے پر گرد کی تہہ جمی ہوئی تھی۔وہ سلام کیلئے جھکا۔’’تو نے محل تک آنے کی جرات کیسے کی؟‘‘ہرقل نے شاہانہ جلال سے پوچھا۔’’کیا تو یہ خبر کسی سالار یا ناظم کو نہیں دے سکتا تھا؟‘‘’’یہ جرم ہے تو مجھے بخش دیں۔‘‘ اس آدمی نے کہا۔’’مجھے ڈر تھا کہ اس خبرکو کوئی سچ نہیں مانے گا۔‘‘یہ تحریر آپ کے لئے آئی ٹی درسگاہ کمیونٹی کی جانب سے پیش کی جارہی ہے۔
’’تو نے مسلمانوں کا لشکر کہاں دیکھا ہے؟‘‘’’حمص سے تین روز کے فاصلے پر۔‘‘اس نے جواب دیا۔یہ ایک عیسائی عرب تھا۔جس نے ابو عبیدہؓ بن الجراح کے دستوں کو شام سے کچھ دور دیکھ لیا تھا ۔اسی شام دو اور جگہوں سے اطلاعیں آئیں کہ مسلمانوں کی فوج ان جگہوں پر پڑاؤڈالے ہوئے ہے ۔مسلمانوں کے لشکر کے چوتھے حصے کی اطلاع ابھی نہیں آئی تھی۔رات کو ہرقل نے اپنے جرنیلوں اور مشیروں کو بلایا۔’’کیا تمہیں معلوم ہے سرحد پر کیا ہو رہا ہے؟‘‘ہرقل نے پوچھا۔’’ مدینہ کی فوج تین جگہوں پر آگئی ہے۔اپنی کسی سرحدی چوکی نے کوئی اطلاع نہیں دی ۔کیا وہاں سب سوئے رہتے ہیں؟ کیا تم برداشت کر سکتے ہو کہ عرب کے چند ایک لٹیرے قبیلے تمہیں سرحدوں پر آکر للکاریں،کیا تم ان کے ایک سالار کو اپنی طاقت نہیں دکھا چکے۔وہ خوش قسمت تھا کہ نکل گیا اب وہ زیادہ تعداد میں آئے ہیں وہ مالِ غنیمت کے بھوکے ہیں۔ فوراً تیاری شروع کرو ان کا کوئی ایک آدمی اور کوئی گھوڑا یا اونٹ واپس نہ جائے ۔‘‘’’شہنشاہِ ہرقل!‘‘ شام کی فوجوں کے کمانڈر نے کہا۔’’آپ اتنے نا تجربہ کار تو نہیں جیسی آپ نے بات کی ہے۔ اگر یہ معاملہ کچھ اور ہوتا تو ہم آپ کی تائید کرتے لیکن یہ مسئلہ جنگی ہے آپ جانتے ہیں کہ شکست کے بعد کیا ہوتا ہے۔‘‘’’مجھے سبق نہیں مشورہ چاہیے۔‘‘ہرقل نے کہا۔’’وہ کیا ہے جو میں نہیں جانتا۔‘‘ ’’شہنشاہ سب کچھ جانتے ہوئے ایسی بات نہ کریں۔ جس نے فارس کے شہنشاہ اردشیر کی جان لے لی تھی۔‘‘رومی فوجوں کے کمانڈر نے کہا۔’’اس کی جنگی طاقت ہماری ٹکر کی تھی۔آپ بھی اس فوج سے لڑ چکے ہیں۔ اس کے بعد آپ کو بھی عراق پر فوج کشی کی جرات نہیں ہوئی۔ اب فراض کے میدان میں ہمیں مسلمانوں کے خلاف فارسیوں کو اتحادی بنانا پڑا اور ہم نے عیسائی قبیلوں کو ساتھ ملایا مگر خالد بن ولید ہمیں شکست دے گیا۔‘‘’’کیا تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ ہمیں مسلمانوں سے ڈرنا چاہیے؟‘‘ہرقل نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔ ’’نہیں شہنشاہ ۔‘‘کمانڈر نے کہا۔’’اردشیر بھی مدائن میں بیٹھا ایسی ہی باتیں کیا کرتا تھا۔جیسی آپ حمص میں بیٹھے کر رہے ہیں۔میں آپ کو یاد دلا رہا ہوں کہ فارسیوں کاانجام دیکھیں ،مدائن کے محل اب بھی کھڑے ہیں لیکن مقبروں کی طرح۔ اردشیر نے پہلے پہل مسلمانوں کو عرب کے بدو اور ڈاکو کہا تھا۔میں نے فارسیوں کی شکست کی چھان بین پوری تفصیل سے کی ہے۔اردشیر کے منہ سے یہی الفاظ نکلتے تھے۔کچل دو۔ مگر اس کا جو بھی جرنیل مسلمانوں کے مقابلے کو گیا وہ چلا گیا۔مسلمان ان کے علاقوں پہ علاقہ فتح کرتے آئے حتیٰ کہ ان کے تیر مدائن میں گرنے لگے۔‘‘ ’’اور شہنشاہِ ہرقل! مجھے معلوم ہوا ہے کہ مسلمان مذہبی جنون سے لڑتے ہیں۔ مالِ غنیمت کیلئے نہیں۔ہم زمین کیلئے لڑتے ہیں مسلمان جنگ کو ایک عقیدہ سمجھتے ہیں۔ہم ان کے عقیدے کو سچا سمجھیں یا نہ سمجھیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔شہنشاہ کو اس پر بھی غور کرنا پڑ ے گا کہ مسلمان ہر میدان میں تھوڑی تعداد میں ہوتے ہیں۔وہ جذبے اور جنگی چالوں کے زور پر لڑتے ہیں۔
فراض میں ہم نے اپنے فارسیوں کی اور عیسائیوں کی نفری کو اتنا زیادہ پھیلا دیا تھا کہ مسلمانوں کی تھوڑی سی نفری ہمارے پھیلاؤمیں آکر گم ہو جاتی، لیکن مسلمانوں نے ایسی چال چلی کہ ہمارا پھیلاؤ سکڑ گیا اور ہم پِٹ کر رہ گئے۔‘‘دوسرے جرنیلوں نے بھی اسی طرح کے مشورے دیئے اور ہرقل قائل ہو گیاکہ مسلمانوں کو طاقت ور اور خطرناک دشمن سمجھ کر جنگ کی تیاری کی جائے۔’’لیکن میں اسے اپنی توہین سمجھتا ہوں کہ مسلمان جو کچھ ہی سال پہلے وجود میں آئے ہیں، عظیم سلطنت روم کو للکاریں ۔‘‘ہرقل نے کہا۔’’ہمارے پاس ہماری صدیوں پرانی تاریخ ہے۔ رومیوں نے ساری دنیا پر دہشت طاری کیے رکھی ہے۔ ہمارا مذہب دیوتاؤں کا مذہب ہے۔ آسمانوں اور زمین پر ہمارے دیوتاؤں کی حکمرانی ہے۔ اسلام ایک انسان کا بنایا ہوا مذہب ہے جس کے پھیل جانے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔میں صرف یہ حکم دوں گاکہ اس مذہب کے پیروکاروں کو اس طرح ختم کرو کہ اسلام کا نام لینے والا کوئی زندہ نہ رہے۔‘‘اگلے ہی روز ہرقل کو اطلاع ملی کہ مسلمانوں کے ساتھ رومی فوج کی ٹکر ہوئی ہے اور رومی فوج بڑی بری طرح پسپا ہوئی ہے۔یہ عمروؓ بن العاص کے دستے تھے جو تبوک سے آگے بڑھے تو رومی فوج کے کچھ دستے ان کی راہ میں حائل ہو گئے۔یہ شام کے عیسائی عربوں کے دستے تھے۔جن کے ذمے سرحدوں کی دیکھ بھال کا کام تھا۔ عمروؓ بن العاص بڑے ہوشیار سالار تھے۔انہوں نے ایسی چال چلی کہ اپنے ہراول دستے کو دشمن سے ٹکر لینے کیلئے آگے بھیجا اور دشمن کو گھیرے میں لینے کی کوشش کی لیکن شام کے عیسائی عربوں کے دستے تھوڑا سا نقصان اٹھا کر پسپا ہو گئے۔عمروؓ بن العاص ایلہ کے مقام پرپہنچ گئے ۔یزیدؓ بن ابی سفیان بھی اپنے دستوں کے ساتھ ان سے آملے۔ جوں ہی مدینہ کے لشکر کے یہ دونوں حصے اکھٹے ہوئے روم کی فوج ان کا راستہ روکنے کیلئے سامنے آگئی۔مؤرخوں کے مطابق روم کی اس فوج کی نفری تقریباً اتنی ہی تھی جتنی کہ مسلمانوں کی تھی۔اب دو مسلمان سالار اکٹھے ہو گئے تھے انہوں نے رومیوں کے ساتھ آمنے سامنے کی ٹکر لی۔ رومیوں نے جم کر مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن قدم جما نہ سکے اور پسپا ہو گئے۔ یزیدؓ بن ابی سفیان نے ایک سوار دستے کو ان کے تعاقب میں بھیج دیا۔ رومیوں پر کچھ ایسی دہشت طاری ہو گئی تھی کہ وہ سوائے کٹ کٹ کر مرنے کہ اور کچھ بھی نہ کر سکے۔شہنشاہ ہرقل کو جب اپنے دستوں کی اس پسپائی کی اطلاع ملی تو وہ آگ بگولہ ہو گیا۔ اس نے اپنے جرنیلوں کو ایک بار پھر بلایا اور حکم دیا کہ زیادہ سے زیادہ فوج اکٹھی کرکے شام کی سرحد کے باہر کسی جگہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ لڑی جائے اور انہیں وہیں ختم کیا جائے۔
مسلمان سالاروں نے ان جگہوں سے جہاں وہ پڑاؤڈالے ہوئے تھے، چند آدمیوں کو اپنے زیرِ اثر لے لیا،اور انہیں بے انداز انعام و اکرام کا لالچ دیا جس کے عوض وہ مسلمانوں کیلئے جاسوسی کرنے پر آمادہ ہو گئے۔چند دنوں میں ہی وہ مطلوبہ خبریں لے آئے۔ ان کی رپورٹوں کے مطابق رومی جو فوج اکٹھی کر رہے تھے اس کی تعداد ایک لاکھ سے کچھ زیادہ تھی۔ اس فوج کا ایک حصہ اجنادین کی طرف کوچ کر رہا تھا جاسوسوں نے یہ اطلاع بھی دی کہ رومی فیصلہ کن جنگ کیلئے تیار ہو کر آرہے ہیں۔جاسوسوں نے تیاریوں کی پوری تفصیل بیان کی۔ ابو عبیدہؓ بن الجراح کو امیر المومنینؓ نے یہ حکم دیا تھا کہ لشکر کے چاروں حصوں کو اکٹھے لڑنا پڑا تو وہ یعنی ابو عبیدہؓ پورے لشکر کے سالارہوں گے ۔صورت ایسی پیدا ہو گئی تھی کہ لشکر کے چاروں حصوں کو اکٹھا ہونا پڑا۔ابو عبیدہؓ نے پورے لشکر کی کمان لے لی، لیکن لشکر کو مکمل طور پر ایک جگہ اکٹھا نہ ہونے دیا۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے امیرالمومنینؓ کو تیز رفتار قاصد کے ہاتھ پیغام بھیجا جس میں مکمل صورتِ حال لکھی اور یہ بھی کہ رومیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہو گی۔یہ تھے وہ حالات جن کے پیشِ نظر امیر المومنینؓ نے خا لدؓ کو حکم بھیجا تھا کہ وہ شام کی سرحد پر اس جگہ پہنچیں جہاں مدینہ کا لشکر خیمہ زن ہے۔اس حکم میں یہ بھی لکھاتھا کہ اپنا لشکر کچھ مشکلات میں الجھ گیا ہے ۔اس پیغام نے خالدؓ کو پریشان کر دیا تھا۔ یہ سنایا جا چکا تھا کہ انہوں نے امیر المومنینؓ کے حکم کے مطابق اپنے لشکر کو دو حصو ں میں تقسیم کیا، ایک حصہ مثنیٰ بن حارثہ کے حوالے کر دیا۔خالدؓنے فوج کو فوری کوچ کا حکم دے دیا۔انہوں نے جب فاصلے کا اندازہ کیا، تو وہ اتنا زیادہ تھا کہ خالدؓ کو وہاں پہنچتے بہت دن لگ جاتے ۔انہیں ڈر تھاکہ اتنے دن ضائع ہو گئے تو معلوم نہیں کیا ہو جائے گا۔انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ رومیوں کی فوج فارسیوں کی نسبت زیادہ طاقتور اور برتر ہے۔خالدؓان راستوں سے واقف تھے۔ سیدھا اور آسان راستہ بہت طویل تھا۔خالدؓ نے اپنے سالاروں کو بلایا اور انہیں بتایاکہ بہت جلد پہنچنے کیلئے انہیں کوئی راستہ معلوم نہیں۔سالارو ں میں سے کسی کو چھوٹا راستہ معلوم نہیں تھا۔ ’’ اگر کوئی راستہ چھوٹا ہوا بھی تو وہ سفرکے قابل نہیں ہوگا۔‘‘ایک سالار نے کہا۔’’اگر کسی ایسے راستے سے ایک دو مسافر گزرتے بھی ہوں تو ضروری نہیں کہ وہ راستہ ایک لشکر کیلئے گزرنے کے قابل ہو۔‘‘’’میں ایک آدمی کو جانتا ہوں ۔‘‘ایک اور سالار بولا۔’’ رافع بن عمیرہ۔ وہ ہمارے قبیلے کا زبردست جنگجو ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ خد انے اسے کوئی ایسی طاقت دی ہے کہ وہ زمین کے نیچے کے بھید بھی بتا دیتا ہے۔ وہ اس صحرا کا بھیدی ہے۔‘‘خالدؓ کے حکم سے رافع بن عمیرہ کو بلایا گیااور اس سے منزل بتا کر پوچھاگیا کہ چھوٹے سے چھوٹا راستہ کوئی ہے؟
’’زمین ہے تو راستے بھی ہیں۔‘‘رافع نے کہا۔’’یہ مسافر کی ہمت پر منحصر ہے کہ وہ ہر راستے پر چل سکتاہے یا نہیں۔تم منزل تک کسی بھی راستے سے پہنچ سکتے ہو لیکن بعض راستے ایسے ہوتے ہیں جن پر سانپ بھی نہیں رینگ سکتا۔ میں ایک راستہ بتا سکتا ہوں ، لیکن یہ نہیں بتا سکتا کہ اس سے لشکر کے کتنے آدمی منزل تک زندہ پہنچیں گے اور میں یہ بھی بتا سکتاہوں کہ گھوڑا اس صحرائی راستے سے نہیں گزر سکتا، گھوڑا اتنی پیاس برداشت نہیں کر سکتا، اور گھوڑوں کیلئے پانی ساتھ لے جایا نہیں جا سکتا۔‘‘ خالدؓنے اپنا بنایا ہوا نقشہ اس کے آگے رکھا اور پوچھا کہ وہ کون سا راستہ بتا رہا ہے؟’’یہ قراقر ہے۔‘‘ رافع بن عمیرہ نے نقشہ پر انگلی رکھتے ہوئے کہا۔’’یہاں ایک نخلستان ہے جو اتنا سر سبز و شاداب ہے کہ مسافروں پر اپنا جادو طاری کر دیتا ہے ،یہاں سے ایک راستہ نکلتاہے جو سویٰ کو جاتاہے۔ سویٰ میں پانی اتنا زیادہ ہے کہ سارا لشکر اور لشکر کے تمام جانور پانی پی سکتے ہیں لیکن یہ پانی اسے ملے گا جو سویٰ تک زندہ پہنچ جائے گا۔ اوپر سورج کی تپش دیکھو دن کو کتناچل سکو گے ، کتنی دور تک چل سکو گے؟یہ میں نہیں جانتا، اتنے اونٹ لاؤ کہ لشکر کا ہر فرد اونٹ پر سوار ہو۔ ابنِ ولید! تم صحرا کے بیٹے ہو مگر اس صحرا سے نہیں گزر سکو گے۔‘‘رافع بن عمیرہ نے جو راستہ بتایا یہ مؤرخوں کی تحریروں کے مطابق اک سو بیس میل تھا، یہ ایک سو بیس میل کا فاصلہ طے کرنے سے منزل تک کئی دن جلدی پہنچا جا سکتا تھا۔خالدؓ وہ سالار تھے جو مشکلات کی تفصیلات سن کر نہیں بلکہ مشکلات میں پڑ کر اندازہ کیا کرتے تھے کہ ان کی شدت کتنی کچھ ہے ، ان کے دماغ میں صرف یہ سمایا ہوا تھا کہ مدینہ کا لشکر مشکل میں ہے، اور اس کی مدد کو پہنچنا ہے ، سیدھے راستے سے فاصلہ چھ سے سات سو میل تک بنتا تھا۔ رافع کے بتائے ہوئے راستے سے جانے سے فاصلہ کم رہ جاتا تھا۔مگر رافع بتاتا تھا کہ اس خطرناک راستے سے جاؤ تو پانچ چھ دن ایسی دشواریوں سے گزرنا پڑتا ہے جو انسان کیا برداشت کرے گا گھوڑا بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ پانی تو مل ہی نہیں سکتا، اور سب سے بڑی مشکل یہ کہ مہینہ مئی کاتھا، جب ریگستان جل رہے ہوتے ہیں۔ ’’خدا کی قسم ابنِ ولید!‘‘ایک سالار نے کہا۔’’تو اتنے بڑے لشکر کو اس راستے پر نہیں لیجائے گا۔جو تباہی کا اور بہت بری موت کا رستہ ہوگا۔ ’’اور جس کا دماغ صحیح ہو گا وہ اس راستے پر نہیں جائے گا۔‘‘ایک اور سالار نے کہا۔’’ہم اسی راستے سے جائیں گے۔‘‘خالدؓنے ایسی مسکراہٹ سے کہا،جس میں عجیب سی سنجیدگی تھی۔
’’ہم پر فرض ہے کہ تیری اطاعت کریں۔‘‘ رافع بن عمیرہ نے کہا۔’’لیکن ایک بار پھر سوچ لو۔‘‘’’میں وہ حکم دیتا ہوں جو حکم اﷲمجھے ددیتا ہے۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ہارتے وہ ہیں جن کے ارادے کمزور ہوتے ہیں، اﷲکی خوشنودی ہمیں حاصل ہے اور پھر اﷲکی راہ میں جو مصیبتیں آئیں گی ہم کیوں نہ انہیں بھی برداشت کریں ۔‘‘یہ واقعہ اور یہ گفتگو طبری نے ذرا تفصیل سے بیان کی ہے، خالدؓ کے سالاروں نے ان کے عزم کی یہ پختگی دیکھی تو سب نے پر جوش لہجے میں لبیک کہی، ان میں سے کسی نے کہا۔’’ ابنِ ولید تجھ پر اﷲکا کرم! وہ کر جو تو بہتر سمجھتا ہے۔ ہم تیرے ساتھ ہیں۔‘‘خالدؓنے اس سفر پر روانگی سے پہلے ایک حکم یہ دیا کہ لشکر کا ہر فرد اونٹ پر سوار ہو گا۔ گھوڑے سواروں کے بغیر پیچھے پیچھے چلیں گے۔ دوسرا حکم یہ کہ عورتوں اور بچوں کو مدینہ بھیج دیا جائے۔ سالاروں کو خالدؓ نے کہا تھا کہ تمام لشکر کو اچھی طرح بتا دیں کہ وہ ایسے راستے پر جا رہے ہیں جس راستے پر پہلے کبھی کوئی لشکر نہیں گزرا۔ ہر کسی کو ذہنی طور پر تیار کیا جائے۔‘‘مئی کا مہینہ اونٹوں کی فراہمی میں گزر گیا۔ جون ۶۳۴ء (ربیع الآخر ۱۳ھ) کا مہینہ شروع ہو گیا۔اب تو صحرا جل رہا تھا۔خالدؓ نے کوچ کا حکم دے دیا۔ان کے ساتھ نو ہزار مجاہدین تھے جو اس خود کُش سفر پر جا رہے تھے۔قراقر تک سفر ویسا ہی تھا جیسا اس لشکر کا ہر سفر ہوا کرتا تھا۔وہ سفر قراقر سے شروع ہونا تھاجسے مسلمان مؤرخوں نے اور یورپی مؤرخوں نے بھی تاریخ کا سب سے خطرناک اور بھیانک سفر کہا ہے۔مثنیٰ بن حارثہ قراقرتک خالدؓ کے ساتھ گئے۔مثنیٰ کو حیرہ واپس آنا تھا۔قراقر سے جس قدر پانی ساتھ لے جایا جا سکتا تھا مشکیزوں میں بھر لیا گیا۔مٹکے بھی اکٹھے کر لیے گئے تھے۔ان میں بھی پانی بھر لیا گیا۔اگلی صبح جب لشکر روانہ ہونے لگا تو مثنیٰ بن حارثہ خالدؓسے اور اس کے سالاروں سے گلے لگ کے ملے۔یعقوبی اور ابنِ یوسف نے لکھا ہے کہ مثنیٰ بن حارثہ پر رقت طاری ہو گئی تھی۔ان کے منہ سے کوئی دعا نہ نکلی، آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ دعائیں ان کے دل میں تھیں۔ انہیں یقین نہیں تھا کہ وہ خالدؓ کو اور ان کے نو ہزار مجاہدین کوپھر کبھی دیکھ سکیں گے۔ خالدؓ اونٹ پر سوار ہونے لگے تو رافع بن عمیرہ دوڑتا آیا۔’’ابنِ ولید!‘‘رافع نے خالدؓ کے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کہا۔’’اب بھی سوچ لے، رستہ بدل لے، اتنی جانوں سے مت کھیل!‘‘’’ابنِ عمیرہ!‘‘خالدؓ نے غصے سے کہا۔’’اﷲتجھے غارت کرے، مجھے اﷲکی راہ سے مت روک یا مجھے وہ رستہ بتا جو مدینہ کے لشکر تک جلدی پہنچا دے۔ تو نہیں جانتا، توہٹ میرے سامنے سے، اور حکم مان جو میں نے دیا ہے۔‘‘رافع خالدؓ کے آگے سے ہٹ گیا۔خالدؓ اونٹ پر سوار ہوئے اور لشکر چل پڑا۔سب سے آگے رافع کا اونٹ تھا اسے رہبری کرنی تھی۔ مثنیٰ کھڑے دیکھتے رہے۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا۔’’ امیر المومنین نے ٹھیک کہا تھا کہ اب کوئی ماں خالدجیسا بیٹا پیدا نہیں کرے گی۔
وہی صحرا جو رات کو خنک تھا سورج نکلتے ہی تپنے لگا اورجب سورج اور اوپر آیا تو زمین سے پانی کے رنگ کے شعلے اٹھنے لگے۔پانی کے رنگ کا جھلمل کرتا ایک پردہ تھا جو آگے آگے چل رہا تھا۔ اسکے آگے کچھ پتا نہیں چلتا تھا کہ کیا ہے۔ جون کا سورج جب سر پر آیا تو لشکر کے افراد ایک دوسرے کو پہچان نہیں سکتے تھے۔ہرکوئی زمین سے اٹھتی ہوئی تپش کے لرزتے پردے میں لرزتا کانپتا یا لٹکے ہوئے باریک کپڑے کی طرح لہروں کی طرح ہلتا نظر آتا تھا۔مجاہدین نے ایک جنگی ترانہ مل کر گانہ شروع کر دیا، خالدؓنے انہیں روک دیا کیونکہ بولنے سے پیاس بڑھ جانے کا امکان تھا۔ اونٹ کئی کئی دنوں تک پیاسا سفر کر سکتا ہے لیکن انسان پیدل جا رہا ہو یا اونٹ یا گھوڑے پر سوار ہو وہ چند گھنٹوں سے زیادہ پیاس برداشت نہیں کر سکتا۔ پہلی شام جب پڑاؤ ہوا تو تمام لوگ پانی پر ٹوٹ پڑے، ان کے جسم جل رہے تھے۔ کھانے کی جگہ بھی انہوں نے پانی پی لیا۔دوسرے دن لشکر کا ہر آدمی محسوس کرنے لگا تھا کہ یہ وہ صحرا نہیں جس میں انہوں نے بے شمار بار سفر کیا ہے۔ یہ تو جہنم ہے جس میں وہ چلے جا رہے ہیں۔ایک تو تپش تھی جو جلا رہی تھی، دوسرے ریت کی چمک تھی جو آنکھیں نہیں کھولنے دیتی تھی۔ریت کا سمندر تھا بلکہ یہ آگ کا سمندر تھا اور لشکر شعلوں میں تیرتا جا رہا تھا۔تیسرے روز کا سفر اس طرح ہولناک اور اذیت ناک ہو گیاکہ ٹیلوں اور نشیب و فراز کا علاقہ شروع ہو گیاتھا۔یہ ریت اور مٹی کے ٹیلے تھے جو آگ کی دیواروں کی مانند تھے۔پہلے تو لشکر سیدھا جا رہا تھا اب تھوڑے تھوڑے فاصلے پر مڑنا پڑتا تھا۔دیواروں جیسے ٹیلے مجاہدین کو جلا رہے تھے یہاں سب سے زیادہ خطرہ بھٹک جانے کا تھا۔ بعض دیواروں جیسے ٹیلوں کے درمیان جگہ اتنی تنگ تھی کہ اونٹ دونوں طرف رگڑ کھا کر گزرتے تھے۔ اونٹ بدک جاتے تھے کہ ان کے جسموں کے ساتھ گرم لوہا لگایا گیاہے۔تیسری شام پڑاؤ ہوا تو سب کے منہ کھلے ہوئے تھے اور وہ آپس میں بات بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اس شام لشکر نے پانی پیا تو یہ ہولناک انکشاف ہوا کہ باقی سفر کیلئے پانی نہیں رہا۔ پانی کا ذخیرہ پانچ دنوں کیلئے کافی تھا مگر یہ تیسرے روز ہی ختم ہو گیا۔راستے میں بھی مجاہدین پانی پیتے تھے۔ چوتھا دن قیامت سے کم نہ تھا۔ پانی کی ایک بوند نہیں تھی۔ پیاس کا اثر جسمانی ہوتا ہے اور ایک اثر صحرا کا اپنا ہوتا ہے۔ جو ذہن کو بگاڑ دیتا ہے، یہ ہوتی ہے وہ کیفیت جب سراب نظر آتے ہیں،پانی اور نخلستان دکھائی دیتے ہیں، شہر اور سمندری جہاز نظر آتے ہیں اور مسافر انہیں حقیقت سمجھتے ہیں ۔ریت کی چمک کا اثر بھی بڑا ہی خوفناک تھا۔ لشکر میں کسی نے چلّا کر کہا ’’وہ پانی آگیا۔پہلے میں پیوں گا ۔‘‘وہ آدمی چلتے اونٹ سے کود کر ایک طرف دوڑ پڑا۔ تین چار مجاہدین اس کے پیچھے گئے۔ ’’اسے اﷲکے سپرد کرو۔‘‘ رافع بن عمیرہ نے دور سے کہا۔’’صحرا نے قربانیاں وصول کرنی شروع کر دی ہیں۔ اس کے پیچھے مت دوڑو، سب مرو گے۔‘‘تھوڑی دیر بعد ایک مجاہد بے ہوش ہو کر اونٹ سے گرا وہ اٹھا اور اونٹ کی طرف آنے کے بجائے دوسری طرف چل پڑا کوئی بھی اس کے پیچھے نہ گیا۔ پیچھے نہ جانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سب کی آنکھیں بند تھیں۔ایک ریت کی چمک اور تپش آنکھیں کھولنے ہی نہیں دیتی تھی۔چوتھا دن جو پانی کے بغیر گزر رہا تھا صحیح معنوں میں جہنم کے دنوں میں سے ایک تھا۔ایسے لگتا تھا جیسے سورج اور نیچے آگیا ہو ۔پہلے تو سب خود آنکھیں بند رکھتے تھے کیونکہ چمک اور تپش آنکھوں کو جلاتی تھی اب آنکھیں کھلتی ہی نہیں تھیں۔اونٹ تک ہارنے لگے تھے۔ کوئی اونٹ بڑی خوفناک آواز نکالتا بیٹھنے کیلئے اگلی ٹانگوں کو دوہری کرتا اور ایک پہلو پر لڑھک جاتا تھا۔سوار بھی گرتا مگر اس میں اٹھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔لشکر میں ہر کسی کی آنکھیں بند تھیں اور دماغ بیکار ہو گئے تھے۔ انہیں محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ ان کا کوئی ساتھی اونٹ سے گر پڑا ہے یا یہ کہ اس کا اونٹ بھی گر پڑ اہے اور اسے اٹھا کر اپنے ساتھ اونٹ پر بٹھالیں۔سراب کا شکار ہونے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی۔خود خالدؓکی حالت ایسی ہو گئی تھی کہ انہیں کچھ پتا نہیں چل رہا تھا کہ لشکر میں کیا ہو رہا ہے۔وہ تو عزم اور ایمان کی قوت تھی جو انہیں زندہ رکھے ہوئے تھی اور یہ اونٹ تھے جو چلے جا رہے تھے۔ اگر اونٹ رک جاتے تولشکر کا کوئی ایک بھی فرد ایک قدم نہ چل سکتا۔ گھوڑوں کے منہ کھل گئے تھے اور زبانیں لٹک آئی تھیں۔ مجاہدین کی زبانیں سوج گئی تھیں حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے۔ اس وجہ سے ان کے منہ بھی کھل گئے تھے۔ وہ تو اب لاشوں کی مانند ہو گئے تھے۔ اونٹوں کی پیٹھوں پر اپنے آپ کو سنبھال نہیں سکتے تھے اسی لیے ان میں سے کوئی نہ کوئی گر پڑتا تھا۔ اب وہ عالمِ نزع کے قریب پہنچ رہے تھے ،جسموں کی نمی خشک ہو چکی تھی ۔رات کو لشکر رکا ۔تمام رات مجاہدین نے جاگتے گزاری جسموں کے اندر سوئیاں چبھتی تھیں۔ زبانوں کی حالت ایسی تھی جیسے منہ میں کسی نے لکڑی کا ٹکڑا رکھ دیا ہو۔
💟 *جاری ہے ۔ ۔ ۔* 💟