🗡️🛡️⚔*شمشیرِ بے نیام*⚔️🛡️🗡️
🗡️ تذکرہ: حضرت خالد ابن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ 🗡️
✍🏻تحریر: عنایت اللّٰہ التمش
🌈 ترتیب و پیشکش : *میاں شاہد* : آئی ٹی درسگاہ کمیونٹی
قسط نمبر *35* ۔۔۔۔
عیاضؓ نے شہر کا محاصرہ کیا جو مکمل نہ تھا۔ایک طرف راستہ کھلا تھا،اکیدر کی سپاہ کی کچھ نفری خالی طرف سے باہر آتی اور مسلمانوں پر حملہ کرتی،کچھ دیر لڑائی ہوتی ،اور یہ نفری بھاگ کر قلعے میں چلی جاتی،ان حملوں کے علاوہ قلعے کی دیواروں سے مسلمانوں پر تیروں کا مینہ برستا رہتا اور اس کے جواب میں مسلمان تیر اندازدیواروں پر تیر پھینکتے رہتے۔انہوں نے قلعے کے دروازوں پربھی ہلّے بولے مگر قلعے کا دفاع توقع سے زیادہ مضبوط تھا۔مسلمانوں کے خلاف جنگ کا پانسہ اس طرح پلٹ گیا کہ قبیلہ کلب کے عیسائیوں نے عقب سے آکر مسلمانوں کو گھیرے میں لے لیا۔وہ مسلمانوں پر بڑھ بڑھ کر حملے کرتے تھے اور مسلمان جان کی بازی لگا کر حملوں کو روکتے اور پسپا کرتے تھے،مسلمانوں کی اس بے خوفی کو دیکھ کر عیسائیوں نے حملے کم کر دیئے۔مگر مسلمانوں کو گھیرے میں رکھا تاکہ وہ پسپا نہ ہو سکیں،اور رسد وغیرہ کی کمی سے پریشان ہوکر ہتھیار ڈال دیں۔عیاضؓ نے یہ انتظام کر رکھا تھا کہ ایک جگہ راستہ کھلا رکھا اور اس کی حفاظت کیلئے آدمی مقرر کر دیئے تھے،یہ صورتِحال مسلمانوں کیلئے بڑی خطرناک تھی۔ان کا جانی نقصان خاصہ ہو چکا تھا۔زخمیوں اور شہیدوں کی تعداد بڑھتی جارہی تھی۔مسلمان زندہ رہنے کیلئے لڑ رہے تھے ،صاف نظر آرہاتھا کہ شکست انہی کی ہوگی۔دن پہ دن گزرتے جا رہے تھے۔خالدؓعین التمرکو اپنے انتظام میں لانے کے کام سے فارغ ہو چکے تھے ۔انہوں نے عمال مقرر کر دیئے تھے۔دوچار دنوں میں ہی وہاں کے شہریوں کو یقین ہو گیا تھا کہ مسلمان نہ انہیں زبردستی مسلمان بنا رہے ہیں نہ ان کے حقوق پامال کر رہے ہیں،نہ ان کی عورتوں پر بُری نظر رکھتے ہیں اور ان کے گھر اور اموال بھی محفوظ ہیں۔اس لیے وہ اسلامی حکومت کے وفادار بن گئے۔خالدؓکے پاس عیاضؓ بن غنم کا قاصد پہنچااور ان کا تحریری پیغام دیا۔عیاضؓ جس مصیبت میں پھنس گئے تھے وہ لکھی تھی۔تفصیل قاصد نے بیان کی۔دوسرے ہی دن ولید بن عقبہ پہنچ گئے۔انہوں نے خالدؓ سے کہا کہ ایک گھڑی جو گزرتی ہے وہ عیاض اور اس کے مجاہدین کو شکست اور موت کے قریب دھکیل جاتی ہے۔’’شکست؟‘‘خالدؓ نے پُر جوش لہجے میں کہا۔’’خدا کی قسم!اسلام کی تاریخ میں شکست کا لفظ نہیں آنا چاہیے……کیا اُکیدر بن عبدالملک مجھے بھول گیا ہے؟ کیا وہ ہمارے رسولﷺکو بھول گیا ہے جنہوں نے اسے اطاعت پر مجبور کیا تھا؟کیا وہ ہمارے اﷲکو بھول گیا ہے جس نے ہمیں اس پر فتح عطا کی تھی؟‘‘تاریخ شاہد ہے کہ بدلے ہیں تو انسان بدلے ہیں۔اﷲنہیں بدلا۔اﷲنے فتوحات کو شکستوں میں اس وقت بدلا تھا جب مسلمان بدل گئے تھے اور خدا کے بندوں کے ’’خدا‘‘بن گئے تھے۔خالدؓ نے عیاضؓ بن غنم کو پیغام کا تحریری جواب دیا۔اُس دور میں عربوں کی تحریروں کاانداز شاعرانہ ہوا کرتا تھا۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓکا جواب منظوم انداز کا تھا۔انہوں نے لکھا: ’’منجانب خالد بن ولیدبنام عیاض بن غنم۔میں تیرے پاس بہت تیز پہنچ رہا ہوں۔تیرے پاس اونٹنیاں آ رہی ہیں جن پر کالے اور زہریلے ناگ سوارہیں۔فوج کے دستے ہیں جن کے پیچھے بھی دستے آگے بھی دستے ہیں۔ذرا صبر کرو۔گھوڑے ہوا کی رفتار سے آرہے ہیں۔ان پر تلواریں لہرانے والے شیر سوار ہیں۔دستوں کے پیچھے دستے آرہے ہیں۔‘‘پیغام کا جواب قاصد کو دے کر خالدؓنے اسے کہا کہ وہ جتنی تیزی سے آیا تھا اس سے زیادہ تیز دومۃ الجندل پہنچے اور عیاض ؓکو تسلی دے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے ایک نائب سالار عویم بن کاہل اسلمی کو بلایا۔
’’ابنِ کاہل اسلمی!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’کیا تو جانتا ہے کہ میں تجھے کتنی بڑی ذمہ داری سونپ رہا ہوں؟‘‘’’اﷲمجھے ہر اس ذمہ داری کو نبھانے کی ہمت و عقل عطافرمائے جو مجھے سونپی جائے۔‘‘عویم نے کہا۔’’میری ذمہ داری کیا ہوگی ابنِ ولید؟‘‘’’عین التمر!‘‘خالدؓنےکہا۔’’اس کا انتظام اوراس کی حفاظت۔اندر سے بغاوت اٹھ سکتی ہے،باہر سے حملہ ہو سکتا ہے۔میں تجھے اپنا نائب بنا کر دومۃ الجندل جا رہاہوں۔عیاض بن غنم مشکل میں ہے۔‘‘’’اﷲتجھے سلامتی عطا کرے۔‘‘عویم نے کہا۔’’عین التمر کو اﷲکی امان میں سمجھ۔‘‘خالدؓ کے ساتھ ابتداء میں جو سپاہ تھی وہ جانی نقصان کے علاوہ اس وجہ سے بھی کم ہو گئی کہ ہر مفتوحہ جگہ ایک دو دستے چھوڑ دیئے گئے تھے۔عین التمر تک پہنچتے نفری اور کم ہو گئی تھی۔اس علاقے کے مسلمان باشندوں سے نفری بڑھانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن ان کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔کچھ نو مسلم بھی سپاہ میں شامل ہو گئے تھے لیکن ابھی ان پر پوری طرح اعتماد نہیں کیاجا سکتاتھا۔خالدؓنےکچھ دستے عین التمر میں چھوڑے ،چھ ہزار سوار اپنے ساتھ لیے اور دومۃ الجندل کو روانہ ہو گئے ۔فاصلہ تین سو میل تھا۔خالدؓنے تین سو میل کی یہ صحرائی مسافت صرف دس دنوں میں طَے کرلی۔وہ ابھی رستے میں تھے کہ جب اُکیدر کے آدمیوں نے اس لشکر کو دیکھ لیا۔وہ مسافر ہوں گے۔انہوں نے خالدؓکے پہنچنے سے پہلے دومۃ الجندل میں اطلاع دے دی کہ مسلمانوں کا ایک لشکر آرہا ہے۔بعض مؤرخوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ دومۃ الجندل والوں کو یہ بھی پتہ چل گیا تھا کہ اس اسلامی لشکر کے سالارِ اعلیٰ خالدؓہیں۔اس وقت تک عیسائیوں کے تین بڑے قبیلے،بنو کلب، بنو بہراء اور بنو غسان۔جنگ میں شریک تھے۔اُکیدر بن عبدالملک کو اطلاع ملی تو اس نے بڑی عجلت سے عیسائیوں اور بت پرستوں کے چھوٹے چھوٹے قبیلوں کو بھی جنگ میں شریک ہونے کیلئے بلاوا بھیج دیا۔خالدؓکے پہنچنے تک ان چھوٹے قبیلوں نے اپنے آدمی بھیجنے شروع کردیئے تھے۔ خالدؓ طوفان کی مانند پہنچے۔مجاہدین نے خالدؓکے کہنے پر جوش و خروش سے نعرے لگانے شروع کر دیئے۔عیاضؓ بن غنم کے لشکرنے یہ نعرے سنے تو سارے لشکر نے نعرے لگائے۔ان کے ہارے ہوئے حوصلے تروتازہ ہو گئے۔خالدذؓ نے میدانِ جنگ کا جائزہ لیا پھر قلعے کے اردگرد گھوڑا دوڑا کر قلعے کی دیواروں کا جائزہ لیا اور قلعے کی دیوارون پر کھڑے دشمن کو دیکھا۔دشمن کی فوج کے دو حصے تھے۔ایک کا سالارِ اعلیٰ اُکیدر بن عبدالملک اور دوسرے کا جودی بن ربیعہ تھا جوقلعے کے باہر تھا۔ قلعے کے باہر ان چھوٹے چھوٹے قبیلوں کے آدمی بھی جمع ہو گئے تھے جو اُکیدر کے بلاوے پر ابھی ابھی آئے تھے۔ان کیلئے قلعے کاکوئی دروازہ نہ کھلا کیونکہ خالدؓ کی آمد قلعے کیلئے بڑی خطرناک تھی۔خالدؓ ایک دہشت کا دوسرا نام تھا۔خالدؓ دشمن پر جو نفسیاتی وار کرتے تھے اس کا اثر مستقل ہوتا تھا۔ایسا ہی ایک زخم اُکیدر بن عبدالملک پہلے ہی خالدؓ کے ہاتھوں کھا چکا تھا۔خالدؓ تو سوچ رہے تھے کہ وہ قلعے میں کس طرح داخل ہو سکتے ہیں لیکن ان کی دہشت قلعے کئے اندر پہنچ چکی تھی۔اُکیدر نے عیسائی سرداروں کو بلا رکھا تھا اور انہیں کہہ رہا تھا کہ وہ خالدؓسے ٹکر نہ لیں اور صلح کر لیں۔عیسائی سردار اس کامشورہ نہیں مان رہے تھے۔’’میرے دوستو!‘‘تقریباًتمام مؤرخوں نے اس کے یہ الفاظ لکھے ہیں۔’’ خالد سے جتنا میں واقف ہوں اتنا تم نہیں ہو۔میں نہیں بتا سکتا کہ اس میں کیسی طاقت ہے۔میں اتنا جانتا ہوں کہ قسمت ہر میدان میں اس کے ساتھ ہوتی ہے۔میدانِ جنگ کا اور قلعوں کی تسخیر کا جو کمال اس میں ہے وہ کسی اور میں نہیں۔تم سوچ رہے ہوگے اور وہ تمہارے سر پر کھڑا ہوگا۔خالد کے مقابلے میں جوقوم آتی ہے ،خواہ طاقتور خواہ کمزور، وہ خالد کے ہاتھوں پِٹ جاتی ہے۔میرا مشورہ تسلیم کرو اور خالد سے صلح کرلو۔‘‘عیسائیوں نے خالدؓسے شکستیں کھائی تھیں ۔وہ انتقام لینا چاہتے تھے۔’’تم اس سے لڑو گے تو ہار جاؤ گے۔‘‘اُکیدر نے کہا۔’’پھر وہ تم پر رحم نہیں کرے گا۔اگر لڑے بغیر صلح کرلو گے تو وہ تمہاری جان، تمہاری عورتوں اور تمہارے اموال کی حفاظت کرے گا مگر تم اس کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتے کیونکہ تم اس کی چالیں نہیں سمجھتے۔’’ہم لڑے بغیر شکست تسلیم نہیں کریں گے۔‘‘عیسائی سرداروں نے متفقہ فیصلہ دے دیا۔’’پھر تم میرے بغیر لڑو گے۔‘‘اُکیدر نے کہا۔’’میں اتنا بڑا شہر تباہ نہیں کراؤں گا۔‘‘، عیسائی سردار لڑنے کے ارادے سے چلے گئے۔انہیں اُکیدر کے ارادوں کا اس کے سوا کچھ علم نہیں تھا کہ وہ لڑنا نہیں چاہتا۔رات کا پہلا پہر تھا۔خالدؓکا سالار عاصم بن عمرو قلعے کے اس طرف گشت پر پھر رہا تھا،جدھر علاقہ خالی تھا۔اسے چار پانچ آدمی قلعے سے نکل کر اس کھُلے علاقے میں آتے دکھائی دیئے۔وہ سائے سے لگتے تھے ۔عاصم بن عمرو کے ساتھ چند ایک محافظ تھے انہیں عاصم نے کہا کہ ان آدمیوں کو گھیرے میں لے کر روک لیں۔محافظوں کو معلوم تھا کہ کس طرح بکھر کر گھیرا ڈالا جاتا ہے،وہ آدمی خود ہی رک گئے۔سالار عاصم ان تک پہنچے۔
’’میں دومۃ الجندل کا حاکم اُکیدر بن عبدالملک ہوں۔‘‘ان میں سے ایک نے کہا۔’’اپنے اور اپنے آدمیوں کے ہتھیار میرے آدمیوں کے حوالے کردو۔‘‘عاصم نے کہا۔’’مجھے خالد کے پاس لے چلو۔‘‘اُکیدر نے اپنی تلوار ایک محافظ کے حوالے کرتے ہوئے کہا۔’’میں نہیں لڑوں گا۔خالدکے ساتھ صلح کی بات کروں گا۔‘‘’’میں تمہیں معاف نہیں کرسکتا ابنِ عبدالملک!‘‘خالدؓ نے اپنے خیمے میں اس کی بات کو سن کر کہا۔’’تو میرا مجرم نہیں میرے رسولﷺ کا مجرم ہے۔تو نے اﷲکے رسول ﷺسے بد عہدی کی تھی۔تو نے اسلام قبول کیا پھر ارتداد کے سرداروں کے ساتھ جا ملا۔‘‘اُکیدر نے اپنی صفائی میں بہت کچھ کہا۔بہت کچھ پیش کیا۔عیسائی قبیلوں سے لا تعلق ہو جانے کا عہد کیا۔’’اگر یہ لڑائی میری اور تیری ہوتی،یہ دشمنی میری اور تیری ہوتی،توتجھے بخش دینے سے کوئی نہ روک سکتا۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’مگر تو میرے رسولﷺ کا ،میرے مذہب کا دشمن تھا۔خدا کی قسم!میں تجھے بخش نہیں سکتا۔تجھے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں دے سکتا۔‘‘خالدؓ نے حکم دیا۔’’لے جاؤ اسے،کل کا سورج اسے زندہ نہ دیکھے۔‘‘رات کو ہی اُکیدر بن عبدالملک کا سر قلم کر دیا گیا۔صبح طلوع ہوتے ہی خالدؓ نے عیاضؓ بن غنم کو بلایااور اسے بتایا کہ اب وہ اپنی سپاہ کا خود مختار سالار نہیں،اس حکم کے ساتھ ہی خالدؓ نے عیاضؓ کی سپاہ اپنی کمان میں لے لی۔’’اب لڑائی قلعے کے باہر ہوگی۔‘‘خالدؓنے اپنے سالاروں سے کہا۔’’اتنے مضبوط قلعے پر وقت اور طاقت خرچ کرنا محض بیکار ہوگا۔پہلے اس دشمن کو ختم کرنا ہے جو قلعے کے باہر ہے۔‘‘خالدؓنے اپنی تمام سپاہ کو ترتیب میں کیا۔عیاض کی سپاہ میں جو مجاہدین نوجوان اور جوان تھے، انہیں الگ کرکے اس طرف بھیج دیاجدھر ایک راستہ عرب کی سمت جاتا تھا۔خالدؓ نے ان جوانوں سے کہا کہ دشمن اِدھر سے بھاگنے کی کوشش کرے گا ،اُسے زندہ نہ نکلنے دیا جائے۔خالدؓ نے کچھ دستے اپنی زیرِ کمان لے کر ایک عیسائی سردار جودی بن ربیعہ کے مقابل رکھے اور عیاضؓ کو کچھ دستے دے کر دشمن کے دو سرداروں ابنِ حدر جان اور الایہم کے دستوں کے سامنے کھڑا کر دیا۔اپنے دونوں سالاروں عاصم بن عمرو اور عدی بن حاتم کو حسبِ معمول پہلوؤں پررکھا۔ عیسائی اور بت پرست سالار قلعے کے اندر سے بھی فوج کی خاصی نفری باہر لے آئے۔اس طرح ان کی تعداد مسلمانوں کی نسبت کئی گنا زیادہ ہو گئی۔خالدؓنے ایک ایسی چال چلی جس سے دشمن پریشان ہو گیا۔چال یہ چلی کہ ذرا بھی حرکت نہ کی۔دشمن اس انتظار میں تھا کہ مسلمان حملے میں پہل کریں گے لیکن مسلمان تو جیسے بت بن گئے تھے۔عیسائی سردار لڑائی کیلئے بے تاب ہو رہے تھے۔جب بہت سا وقت گزر گیا اور مسلمانوں نے دشمن کی للکار کا بھی کوئی جواب نہ دیا تو دشمن نے عیاضؓ کے دستوں پر ہلّہ بول دیا،اس کے ساتھ ہی جودی نے خالدؓ کے دستوں پر حملہ کردیا۔خالدؓنے اپنے سالاروں کو جو ہدایات دے رکھی تھیں ان کے مطابق مجاہدین کے دستوں میں دشمن کو اپنی طرف آتا دیکھ کر بھی کوئی حرکت نہ ہوئی۔دشمن اور زیادہ جوش میں آگیا۔جب دشمن کے سپاہی مسلمانوں کی صفوں میں آئے تو مسلمانوں نے انہیں رستہ دے دیا۔یہ ایسے ہی تھا جیسے گھونسا کسی کو مارو اور وہ آگے سے ہٹ جائے۔فوراً ہی عیسائیوں اور بت پرستوں کو احساس ہو گیا کہ وہ تو مسلمانوں کے پھندے میں آگئے ہیں۔خالدؓ نے اپنے محافظوں کے ساتھ عیسائیوں اور بت پرستوں کے سب سے بڑے سالار جودی بن ربیعہ کو گھیرے میں لے لیا۔اس کے خاندان کے چند ایک جوان اس کے ساتھ تھے۔وہ تو کٹ گئے اور جودی کو زندہ پکڑ لیا گیا۔خالدؓنے اپنے لشکر کو ایسی ترتیب میں رکھاتھا جو دشمن کیلئے پھندہ تھا۔دشمن کے سپاہی جدھر کو بھاگتے تھے ادھر مسلمانوں کی تلواریں اور برچھیاں ان کا راستہ روکتی تھیں ۔آخر وہ قلعے کی طرف بھاگے مگر دروازہ بند تھا۔مسلمان اوپر آگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے دروازے کے سامنے عیسائیوں اور بت پرستوں کی لاشوں کا انبار لگ گیا۔ایک دروازہ اور بھی تھا۔اپنے آدمیوں کو پناہ میں لینے کیلئے قلعے والوں نے دروازہ کھول دیا۔عیسائی اور بت پرست بھاگ کر دروازے میں داخل ہونے لگے لیکن مسلمان تو جیسے ان کے ساتھ چپکے ہوئے تھے۔اس طرح صورت یہ پیدا ہو گئی تھی کہ دشمن کا ایک آدمی اندر جاتا تو دو مسلمان اس کے اندر چلے جاتے تھے۔عیسائیوں اور بت پرستوں کا شیرازہ بکھر چکا تھا۔مسلمان قلعے میں داخل ہو گئے تھے۔اب جو کچھ ہو رہا تھاوہ لڑائی نہیں تھی۔وہ عیسائیوں اور بت پرستوں کا قتلِ عام تھا۔خالدؓچاہتے تھے کہ قتلِ عام کا یہ سلسلہ جاری رہے۔یہ اگست ۶۳۳ء کے آخری (جمادی الآخر ۱۲ھجری کے وسط کے)دن تھے۔خالدؓ نے جودی بن ربیعہ اور اس کے تمام ساتھی سالاروں اور سرداروں کو سزائے موت دے دی تھی۔دومۃ الجندل مسلمانوں کے زیرِ نگیں آگیا۔
اسلام دشمن طاقتیں ختم ہونے میں نہیں آتی تھیں۔ایران کے آتش پرستوں کو جس طرح اسلام کے علمبرداروں نے شکست پہ شکست دی اور جتنا جانی نقصان انہیں پہنچایا تھا،اتنا کوئی قوم برداشت نہیں کر سکتی تھی۔لیکن وہاں صرف آتش پرست نہیں تھے۔تمام غیر مسلم قبیلے جن میں اکثریت عربی عیسائیوں کی تھی،ان کے ساتھ تھے۔آتش پرستوں نے اب ان قبیلوں کو آگے کرنا شروع کر دیا تھا۔جیسا مہراں بن بہرام نے عین التمر میں کیا تھا۔آتش پرستوں کے سالار میدانِ جنگ سے بھاگ بھاگ کر مدائن میں اکھٹے ہوتے جا رہے تھے۔ان کے نامور سالار بہمن جاذویہ نے جب مہراں بن بہرام کو اپنی فوج کے ساتھ واپس آتے دیکھا تو اسے اتنا صدمہ ہوا تھا کہ اس پر خاموشی طاری ہو گئی تھی۔’’مت گھبرا بہمن!‘‘مہراں نے اسے کہا تھا۔’’دل چھوٹا نہ کر۔آخر فتح ہماری ہو گی۔میں شکست کھا کر نہیں آیا۔شکست بدوی قبیلوں کو ہوئی ہے۔‘‘’’اور تو لڑے بغیر واپس آگیا ہے؟‘‘سالار بہمن جاذویہ نے کہا تھا۔’’تو اتنا بڑا شہر اپنے دشمن کی جھولی میں ڈال آیا ہے تو خوش قسمت ہے کہ تجھے یہاں سزا دینے والا کوئی نہیں۔سزا دینے والے آپس میں لڑ رہے ہیں۔وہ جانشینی پر ایک دوسرے کے خون بہا رہے ہیں۔‘‘، ’’بہمن!‘‘مہراں نے طنزیہ لہجے میں کہا۔’’کیا تومجھے سرزنش کر رہا ہے؟کیا تو مسلمانوں سے شکست کھانے والوں میں سے نہیں؟اگر تو میدان میں جم جاتا تو آج مدینہ والے یوں ہمارے سر پر نہ آبیٹھتے۔شکستوں کی ابتداء تجھ سے ہوئی ہے۔میری تعریف کر کہ میں اپنے لشکر کو بچا کر لے آیا ہوں۔میں اسی لشکر سے مسلمانوں کو شکست دوں گا۔مدائن میں اس وقت جو لشکر جمع ہو چکا ہے اسے ہم ایک فیصلہ کن جنگ کیلئے تیار کریں گے۔‘‘اس وقت مدائن میں فارس کے جتنے بھی نامور سالار تھے وہ سب خالدؓ سے شکست کھا کر آئے تھے۔انہوں نے اسے ذاتی مسئلہ بنالیا تھا،ورنہ وہاں حکم دینے والا کوئی نہ تھا،حکم دینے والے شاہی خاندان کے افراد تھے جو تخت کی وراثت کیلئے جوڑ توڑ میں لگے ہوئے تھے ۔وہ سالاروں کو بھی اپنی سازشوں میں استعمال کرنا چاہتے تھے لیکن سالار فارس کی شہنشاہی کے تحفظ کو اپنا فرض سمجھتے تھے۔یہ چند ایک سالار ہی تھے جنہوں نے مدائن کا بھرم رکھا ہوا تھا ورنہ کسریٰ کی بنیادیں ہِل چکی تھیں اور یہ عمارت زمین بوس ہوا ہی چاہتی تھی۔اس وقت خالدؓ مدائن سے کم و بیش چار سو میل دور دومۃ الجندل میں تھے۔آتش پرستوں اور عیسائیوں کو ابھی معلوم نہ تھا۔وہ سمجھتے تھے کہ خالدؓعین التمر میں ہیں۔خالدؓ کو دراصل حیرہ واپس آنا تھا۔ایک تو وہ مفتوحہ علاقوں کے انتظامات وغیرہ کو بہتر بنانا چاہتے تھے،دوسرے یہ کہ فوج کو کچھ آرام دینا تھااور تیسرا کام یہ تھا کہ فوج کو از سر نو نظم کرنا تھا۔ایک تو یہ مجاہدین تھے جو میدانِ جنگ میں دشمن کے آمنے سامنے آکر لڑتے تھے، دوسرے مجاہدین وہ تھے جو دشمن کے مختلف شہروں میں بہروپ دھار کر خفیہ سرگرمیوں میں مصروف تھے۔وہ جاسوس تھے۔وہ ہر لمحہ جان کے خطرے میں رہتے تھے۔وہ دشمن کی نقل و حرکت اور عزائم معلوم کرتے اور پیچھے اطلاع بھجواتے یا خود اطلاع لے کر آتے تھے۔تاریخ میں ان میں سے کسی کا بھی نام نہیں آیا۔(دوچار سے دنیا واقف ہے گمنام نہ جانیے کتنے ہیں)ان میں بعض پکڑ لیے گئے اور دشمن کے جلادوں کے حوالے ہوئے۔ان جاسوسوں کی بروقت اطلاعوں پر خالدؓ کئی بار دشمن کے اچانک حملے اور شکست سے بچے۔خالدؓ جب دومۃ الجندل میں تھے تو مفتوحہ علاقوں کیلئے ایک خطرناک صورتِ حال پیدا ہوگئی۔مدائن پر کسریٰ کی شکست اور زوال کی سیاہ کالی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔لوگوں پر خوف و ہراس طاری تھا۔کسریٰ کی اس تلوار پر زنگ لگ چکا تھا جس کا خوف بڑی دور تک پہنچا ہوا تھا مگر دو چار سالار تھے جو اس ڈوبتی کشتی کو طوفان سے نکال لے جانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔
ان حالات میں ایک گھوڑا مدائن میں داخل ہوا اور بہمن جاذویہ تک پہنچا۔’’اب اور کیا بُری خبر رہ گئی تھی جو تو لایا ہے؟‘‘بہمن نے پوچھا۔’’کہاں سے آیا ہے تو؟کیا مسلمانوں کا لشکر مدائن کی طرف آرہا ہے؟‘‘’’نہیں۔‘‘اس آدمی نے کہا۔’’مسلمانوں کا لشکر چلا گیا ہے۔‘‘، ’’چلا گیا ہے؟‘‘بہمن جاذویہ نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔’’تو ان لشکریوں میں سے معلوم ہوتا ہے جنہیں مسلمانوں کی دہشت نے پاگل پن تک پہنچا دیا ہے۔کیا تو نہیں جانتا تیرے جرم کی سزا موت ہے؟‘‘یہ آدمی گھوڑے سے اتر چکا تھا۔اس کی اطلاع پر بہمن جاذویہ باہر آگیاتھا۔اس نے اس آدمی کو اندر لے جا کر عزت سے بٹھانے کے قابل نہیں سمجھا تھا۔سزائے موت کانام سنتے ہی اس آدمی نے گھوڑے کی باگ چھوڑدی اور تیزی سے آگے ہوکر سالار بہمن جاذویہ کے قدموں میں بیٹھ گیا۔’’میں عین التمر سے آیا ہوں۔‘‘اس نے گھبرائی ہوئی ملتجی آواز میں کہا۔’’بے شک میں شکست کھانے والوں میں سے ہوں۔لیکن ان میں سے بھی ہوں جو شکست کو فتح میں بدلنا چاہتے ہیں۔پہلے وہ بات سن لیں جو میں بتانے آیا ہوں پھر میرا سر کاٹ دینا لیکن میری بات کو ٹالو گے تو یہ نہ بھولنا کہ تم میں سے کسی کا بھی سر مسلمانوں کے ہاتھوں سلامت نہیں رہے گا۔‘‘’’بول،جلدی بول!‘‘ بہمن نے کہا۔’’کیا بات ہے جو مجھے اتنی دور سے سنانے آیا ہے؟‘‘بہمن جاذویہ کی ایک بیٹی جو جوان تھی ،ایک آدمی کو اپنے باپ کے قدموں میں بیٹھا دیکھ کر قریب آگئی۔وہ دیکھ رہی تھی کہ جب سے اس کا باپ شکست کھا کر آیا ہے وہ غصے سے بھرا رہتا ہے اور سزائے موت کے سوا اور کوئی بات نہیں کرتا۔لڑکی تماشہ دیکھنے آئی تھی کہ اس کا باپ آج ایک اور سپاہی کو جلاد کے حوالے کرے گا۔’’خالدعراق سے چلا گیا ہے۔‘‘عین التمر سے آئے ہوئے آدمی نے کہا۔’’میں خود نہیں آیا۔ مجھے شمشیر بن قیس نے بھیجاہے۔آپ اسے جانتے ہوں گے۔مسلمانوں کے سالار خالدنے عین التمر پر قبضہ کرکے وہیں کے سرکردہ افراد کو عمال مقرر کر دیا ہے۔اس کا اور باقی سب حملہ آور مسلمانوں کا سلوک مقامی لوگوں کے ساتھ اتنا اچھا ہے کہ سب ان کے وفادار ہو گئے ہیں۔لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس موقع کی تلاش میں ہیں کہ مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں۔میں خود دیکھ رہا تھا کہ مسلمانوں کی فوج اچانک عین التمر سے نکل گئی۔‘‘’’زرتشت کی قسم!‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’خالدان شکاریوں میں سے نہیں جو پنجوں میں آئے ہوئے شکار کو چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں……کیا اس کی ساری فوج ہمارے علاقے سے نکل گئی ہے؟‘ ’’میں پوری خبر لایا ہوں سالار!‘‘اس آدمی نے کہا۔’’عین التمر ،حیرہ اور دوسرے شہروں میں جن پر مسلمانوں کا قبضہ ہے ،مسلمانوں کی بہت تھوڑی فوج رہ گئی ہے اورایک ایک سالار ہے۔معلوم ہوا ہے کہ مسلمانوں کا بڑا لشکر دومۃ الجندل چلا گیا ہے جہاں ان کی کسی کے ساتھ لڑائی ہو رہی ہے۔شمشیر بن قیس نے مجھے آپ کے پاس اس پیغام کے ساتھ بھیجا ہے کہ یہ وقت پھر نہیں آئے گا۔اس وقت اپنے مفتوحہ علاقے مسلمانوں سے چھڑائے جا سکتے ہیں۔‘‘کچھ اور سوال و جواب کے بعد بہمن جاذویہ کو یقین ہو گیا کہ یہ آدمی غلط خبر نہیں لایا ہے۔بہمن کو معلوم تھا کہ دومۃ الجندل کتنی دور ہے اور وہاں تک پہنچنے اور واپس آنے میں کتنا وقت لگتا ہے۔
’’تم واپس چلے جاؤ۔‘‘بہمن جاذویہ نے اس آدمی سے کہا۔’’اور شمشیر بن قیس سے کہنا کہ اتنا بڑا انعام تمہارے نام لکھ دیا گیا ہے جسے تم تصور میں بھی نہیں لا سکتے۔ایک آدمی تمہارے پاس تاجر کے روپ میں آئے گا ،اس کے ساتھ تمہاری بات ہوگی۔وہ تمہارا سائل ہوگا۔ہم بہت جلد حملے کیلئے آرہے ہیں۔اندر سے دروازے کھولنا تمہارا کام ہوگا۔‘‘’’کیا ہو گیا ہے محترم باپ؟‘‘بہمن کی بیٹی نے عین التمر کے سوار کے جانے کے بعد بہمن سے پوچھا۔’’مسلمان کہاں چلے گئے ہیں؟‘‘’’اوہ میری پیاری بیٹی!‘‘بہمن نے بیٹی کو فرطِ مسرت سے گلے لگا لیا اور پر جوش اور پر عزم آواز میں بولا۔’’مسلمان وہیں چلے گئے ہیں جہاں سے آئے تھے۔میں نے کہا تھا کہ وہ مدائن تک پہنچنے کی جرات نہیں کریں گے۔انہوں نے جو فتح حاصل کرنی تھی وہ کر چکے ہیں۔اب ہماری باری ہے۔اب میں اپنی بیٹی کو مسلمانوں کی لاشیں دِکھاؤں گا۔‘‘’’کب؟‘‘بیٹی نے بچوں کے سے اشتیاق سے پوچھا۔’’مجھے خالدکی لاش دِکھانا محترم پدر!یہاں سب کہتے ہیں کہ وہ انسانوں کے روپ میں آیا ہوا جن ہے۔‘‘بہمن جاذویہ نے بڑی زور کا قہقہہ لگایا۔بہمن جاذویہ کا یہ فاتحانہ اور طنزیہ قہقہہ پہلے کسریٰ کے محلات میں پہنچا،وہاں سے سالاروں تک گیا پھر مدائن کی ہزیمت خوردہ فوج نے سنا اور پھر یہ احکام او رہدایت کی صورت اختیار کر گیا۔بہمن جاذویہ کی بیٹی نے اپنی تمام سہیلیوں اور شاہی محل کی عورتوں کو اور جس کے ساتھ بھی اس نے بات کی،یہ الفاظ کہے۔’’میں تمہیں خالد کی لاش دِکھاؤں گی۔‘‘’’خالد کی لاش؟‘‘تقریبٍاًہر لڑکی اور ہر عورت کا رد عمل یہی تھا۔’’کہتے ہیں خالدکو کوئی نہیں مار سکتا۔وہ انسان نہیں۔اسے دیکھ کر فوجیں بھاگ جاتی ہیں۔‘‘شاہی اصطبل میں جہاں شاہی خاندان اور سالاروں کے گھوڑے ہوتے تھے گہما گہمی بڑھ گئی تھی۔سائیسوں کو حکم ملا تھا کہ گھوڑے میں ذرا سا بھی نقص یا کزوری دیکھیں تو اسے ٹھیک کریں یا اسے الگ کر دیں۔بہمن جاذویہ کی بیٹی اس طرح ہر طرف پھدکتی پھر رہی تھی جس طرح عید کاچاند دیکھ کر نئے کپڑوں کی خوشی میں ناچتے کودتے ہیں۔وہ اصطبل میں گئی ۔وہاں اس کے باپ کے گھوڑوں کے ساتھ اس کا اپنا گھوڑا بھی تھا جو باپ نے اسے تحفے کے طور پر دیا تھا۔ ’’میرے گھوڑے کا بہت سا را خیال رکھنا۔‘‘اس نے اپنے خاندان کے سائیس سے کہا۔ایک ادھیڑ عمر سائیس جو تین چار مہینے پہلے اس اصطبل میں آیا تھا۔دوڑا آیا اور لڑکی سے پوچھا کہ اپنی فوج کہیں جا رہی ہے یا مدینہ کے لشکر کے حملے کا خطرہ ہے؟’’اب تم مدینہ والوں کی لاشیں دیکھو گے۔‘‘لڑکی نے کہا۔باقی گھوڑوں کے سائیس بھی اس کے اردگرد اکھٹے ہو گئے تھے۔وہ بھی تازہ خبر سننا چاہتے تھے۔لڑکی نے انہیں بتایا کہ خالد تھوڑی سی فوج پیچھے چھوڑ کر زیادہ تر فوج اپنے ساتھ لے گیا ہے اور وہ عراق سے دور نکل گیاہے۔(یہ تمام تر علاقہ جو خالدنے فارس والوں سے چھینا تھا،عراق تھا)لڑکی نے سائیسوں کو بتایا کہ اب اپنی فوج پہلے عین التمرپر پھر دوسرے شہروں پر حملے کرکے انہیں دوبارہ اپنے قبضے میں لے لے گی۔اگر خالد واپس آیابھی تو اسے اپنی شکست اور موت کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔’’کیا اسے زندہ پکڑا جائے گا؟‘‘ادھیڑ عمر سائیس نے مسرور سے لہجے میں پوچھا۔’’زندہ یا مردہ!‘‘بہمن کی بیٹی نے کہا۔’’اسے مدائن لایا جائے گا۔اگر زندہ ہوا تو تم اس کا سر قلم ہوتا دیکھو گے۔‘‘تین چار روز گزرے تو یہ ادھیڑ عمر سائیس لا پتا ہو گیا۔اسے سب عیسائی عرب سمجھتے تھے۔ہنس مکھ اور ملنسار آدمی تھا۔صرف ایک سائیس نے اس کے متعلق بتایا تھا کہ وہ کہتا تھا کہ وہ اپنے قبیلے میں واپس جانا چاہتا ہے جہاں وہ قبیلے کی فوج میں شامل ہوکر مسلمانوں کے خلاف لڑے گا۔وہ اپنے خاندان کے ان مقتولین کا انتقام لیناچاہتا تھا جو دو جنگوں میں مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔جس وقت شاہی اصطبل میں اس سائیس کی غیر حاضری کے متعلق باتیں ہو رہی تھیں ،اس وقت وہ مدائن سے دور نکل گیا تھا۔مدائن سے وہ شام کو نکلا تھا،جب شہر کے دروازے ابھی کھلے تھے۔اس کے پاس اپنا گھوڑا تھا۔کسی کو بھی نہیں معلوم تھاکہ وہ عیسائی نہیں مسلمان تھا اور وہ اسی علاقے کا رہنے والا تھا جس پر ایران کے آتش پرستوں کا قبضہ رہا تھا۔وہ مثنیٰ بن حارثہ کا چھاپہ مار جاسوس تھا،اس نے مدائن میں جاکر شاہی اصطبل کی نوکری حاصل کرلی تھی۔بہمن جاذویہ کی بیٹی سے اس نے عراق سے خالدؓاور ان کے لشکر کی روانگی اور مدائن کے سالاروں کے عزائم کی تفصیل سنی تو وہ اسی شام مدائن سے نکل آیا،یہ اطلاع بہت قیمتی تھی۔سورج نے غروب ہوکر جب اس کے اور مدائن کی شہر پناہ کے درمیان سیاہ پردہ ڈال دیا تو اس مسلمان جاسوس نے گھوڑے کو ایڑھ لگا دی۔اس کی منزل انبار تھی جہاں تک وہ اڑ کر پہنچنے کی کوشش میں تھا۔جہاں گھوڑا تھکتا محسوس ہوتا۔وہ اس کی رفتار کم کر دیتا ۔صرف ایک جگہ اس نے گھوڑے کو پانی پلایا۔اگلے روز کا سورج افق سے اٹھ آیا تھا جب وہ انبار میں داخل ہوااور کچھ دیر بعد وہ سالار زبرقان بن بدر کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔وہ ہانپ رہا تھا۔اس نے ہانپتے ہوئے سنایا کہ مدائن میں کیا ہو رہا ہے۔’’میں اسی روز آجاتا جس روز مجھے بہمن کی بیٹی سے یہ خبر ملی تھی۔‘‘اس نے سالار زبرقان سے کہا۔’’لیکن میں وہاں تین دن یہ دیکھنے کیلئے رُکا رہا کہ دشمن کیا کیا تیاریں کر رہا ہے،اور وہ سب سے پہلے کہاں حملہ کرے گا۔‘‘یہ تحریر آپ کے لئے آئی ٹی درسگاہ کمیونٹی کی جانب سے پیش کی جارہی ہے۔
اس جاسوس نے جسے تاریخ نے ’’ایک جاسوس‘‘لکھا ہے،مدینہ کی فوج کے سالار زبرقان بن بدر کوجو تفصیلی رپورٹ دی ،وہ تاریخ کا حصہ ہے اور تقریباً ہر مؤرخ نے بیان کیا ہے۔خالد ؓجب عین التمر سے عیاضؓ بن غنم کی مدد کیلئے دومۃ الجندل کیلئے روانہ ہوئے تو عین التمر سے ایک عیسائی عرب نے مدائن اطلاع بھیج دی کہ خالدؓعراق سے چلے گئے ہیں۔ان کی منزل دومۃ الجندل بتائی گئی،اس سے مدائن کے تجربہ کار سالار بہمن جاذویہ نے یہ رائے قائم کی کہ مسلمان تخت و تاراج اور لوٹ مار کرنے آئے تھے اور اپنے کچھ دستے برائے نام قبضہ برقرار رکھنے کیلئے پیچھے چھوڑ کر چلے گئے اور یہ دستے ذرا سے دباؤ سے بھاگ اٹھیں گے۔اس زمانے میں اکثر یوں ہوتا تھا کہ کوئی بادشاہ بہت بڑی فوج تیار کرکے طوفان کی مانند یکے بعد دیگرے کئی ملکوں پر چڑھائی کرتا اور قتلِ عام اور لوٹ مار کرتا اپنے پیچھے کھنڈر اور لاشوں کے انبار چھوڑ جاتا تھا۔وہ کسی بھی ملک پر مستقل طور پر قبضہ نہیں کرتا تھا۔مدائن کے محل میں خالدؓ کے کوچ کے متعلق یہی رائے قائم کی گئی لیکن خالدؓ نے عراق میں فارس کے جو مقبوضہ شہر اور بڑے قلعے فتح کیے تھے ،وہاں وہ ایک ایک سالار اور کچھ دستے چھوڑ گئے تھے ۔یہ صورتِ حال کسریٰ کے سالاروں کو کچھ پریشان کر رہی تھی۔’’فوج کو مدائن سے نکالواور حملے پہ حملہ کرو۔‘‘کسریٰ کے دربار سے حکم جاری ہوا۔’’ہم تیار ہیں۔‘‘شیر زاد نے کہا۔جو حاکم ساباط تھا اور انبار سے مسلمانوں سے شکست کھا کر بھاگا تھا ۔’’ہم بالکل تیار ہیں۔‘‘مہراں بن بہرام نے کہا جو عین التمر کا بھگوڑا تھا۔’’مگر لشکر تیار نہیں۔‘‘بہمن جاذویہ نے کہا جو تجربہ کار سالار تھا ۔شکست تو اس نے بھی کھائی تھی لیکن اس نے کچھ تجربہ حاصل کیا تھا۔’’کیا کہہ رہے ہو بہمن؟‘‘کسریٰ کے اس وقت کے جانشین نے کہا۔’’کیا ہم نے اس لشکر کو اس لئے پالا تھا کہ شکست کھا کر ہمارے پاس بھاگ آئے اور ہم ان سپاہیوں اور کمانداروں کو سانڈوں کی طرح پالتے رہیں؟‘‘’’اگر ان سپاہیوں اور کمانداروں کو سزا دینی ہے تو آج ہی کوچ کا حکم دے دیں۔‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’اپنے لشکر کی حالت مجھ سے سنیں۔‘‘اس نے اپنے لشکر کی جو کیفیت بیان کی وہ،مؤرخوں اور بعد کے جنگی مبصروں کے الفاظ میں یوں تھی کہ ’’فارس کی اس جنگی طاقت کے پرانے اور تجربہ کار سپاہیوں کی بیشتر نفری مسلمانوں کے ہاتھوں چار پانچ جنگوں میں ماری جا چکی تھی یا جسمانی لحاظ سے معذور بلکہ اپاہج ہوگئی تھی۔خاصی تعداد جنگی قیدی تھی اور لشکر کے جو سپاہی اور ان کے کمانڈر بچ گئے تھے وہ ذہنی معذور نظر آتے تھے ۔تین الفاظ مدینہ،خالد بن ولید،اور مسلمان۔ان کیلئے خوف کا باعث بن گئے تھے۔وہ فوری طور پر میدانِ جنگ میں جانے اور لڑنے کے قابل نہیں رہے تھے۔ان کا جوش اور جذبہ بُری طرح مجروح ہوا تھا۔گھوڑوں کی بھی کمی واقع ہو گئی تھی۔‘‘
بہمن جاذویہ نے دربارِ خاص میں بتایا کہ جو عیسائی قبیلے ان کے اتحادی بن کر لڑے تھے،ان کی بھی یہی کیفیت ہے۔مہراں بن بہرام نے انہیں عین التمر میں جو دھوکا دیا تھا اس کی وجہ سے وہ فارس والوں کے ساتھ ملنے سے انکار کر سکتے تھے۔’’پھر بھی انہیں ساتھ ملا لیا جائے گا۔‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’لیکن اپنے لشکر کیلئے ہزار ہا جوان آدمیوں کی بھرتی کی ضرورت ہے۔ہمیں اپنے لشکر میں نیا خون شامل کرنا پڑے گا۔ان جوانوں کو ہم بتائیں گے کہ مسلمانوں نے ان کی شہنشاہی کو ،ان کی غیرت کو اور ان کے مذہب کو للکارا ہے۔اگر انہوں نے مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا نہ دیا تو ان پر زرتشت کا قہرنازل ہوگا۔ان کی جوان اور کنواری بہنوں کو مسلمان اپنی لونڈیاں بنا لیں گے۔‘‘’’اتنے زیادہ لشکر کی کیا ضرورت ہے؟‘‘مہراں بن بہرام نے کہا۔’’اطلاع تو یہ ملی ہے کہ ہر جگہ مسلمانوں کی نفری برائے نام ہے۔‘‘’’ہر شہر اور ہر قلعے میں ہمارے اپنے آدمی موجود ہیں۔‘‘شیرزاد نے کہا۔’’اس وقت وہ مسلمانوں کی ملازمت میں ہیں لیکن انہیں جب پتہ چلے گا کہ فارس کی فوج نے شہر کا محاصرہ کیا ہے تو……‘‘’’تو وہ اندر سے قلعے کے دروازے کھول دیں گے۔‘‘بہمن جاذویہ نے شیرزاد کی بات پوری کرتے ہوئے کہا۔’’تم جھوٹی امیدوں کے سہارے لڑائی لڑنا چاہتے ہو؟مجھے اطلاعیں ملتی رہتی ہیں ،مسلمان اپنے مفتوح اور محکوم لوگوں کے ساتھ اتنا اچھا سلوک کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی آدمی بے وفائی نہیں کرتا۔اگر فاتح اپنے مفتوح کی جوان اور حسین بیٹیوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھے اور اس کی عزت اور اموال کو تحفظ دے تو مفتوح ایسے فاتح کے ساتھ کبھی بے وفائی نہیں کرے گا۔‘‘’’نہ سہی!‘‘شاہی خاندان کے کسی فرد نے کہا۔’’اتنے زیادہ لشکر کی پھر بھی ضرورت نہیں۔‘‘’’یہ ان سالاروں سے پوچھیں جو مسلمانوں سے شکست کھا کر آئے ہیں۔‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’میں تو کہتا ہوں کہ مسلمان جتنے تھوڑے ہوتے ہیں اتنے ہی زیادہ طاقتور ہوتے ہیں ،میں کوئی خطرہ مول نہیں لیناچاہتا۔یہ بھی خیال رکھیں کہ مسلمان قلعہ بند ہوں گے۔انہیں زیر کرنے کیلئے ہمارے پاس دس گنا نفری ہونی چاہیے۔میں اپنی جوابی کارروائی کو فیصلہ کن بنانا چاہتا ہوں۔یہ خیال بھی رکھو کہ ہم ایک دن میں مقبوضہ شہر مسلمانوں سے واپس نہیں لے سکتے،مسلمان جہاں مقابلے میں جم گئے وہاں ہمیں مہینوں تک باندھ لیں گے۔اس عرصے میں خالد اپنے لشکرکے ساتھ واپس آ سکتا ہے۔اس کے واپس آجانے سے صورتِحال بالکل ہی بدل جائے گی۔اگر ہمارے لشکر کی نفری کم ہوئی تو اس جنگ کا پانسہ پلٹ سکتا ہے۔ہم لشکر تیار کرکے اسے کئی حصوں میں تقسیم کریں گے اور ایک ہی وقت ہر جگہ حملہ کریں گے۔‘‘’’کیا خالد کے خاتمے کاکوئی انتظام نہیں ہو سکتا؟‘‘کسریٰ کے جانشین نے پوچھا۔’’یہ انتظام بھی میرے پیشِ نظر ہے۔‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’دیکھ بھال کیلئے میں تیز رفتار گھوڑ سوار ہر طر ف پھیلا دوں گا۔خالدجدھر سے بھی آئے گا،مجھے اطلاع مل جائے گی۔میں اسے عراق سے دور روک لوں گا۔‘‘
بہمن جاذویہ کو وسیع اختیارات مل گئے۔اس نے اپنےلشکر میں ان سپاہیوں کو زیادہ ترجیح دی جو مسلمانوں سے لڑ چکے تھے۔اس کے ساتھ ہی نئی بھرتی شروع کر دی۔نوجوانوں کو ایسا بھڑکایا گیا کہ وہ ہتھیاروں اور گھوڑوں سمیت لشکر میں آنے لگے۔عیسائیوں کو زیادہ مراعات دے کر فوج میں شامل کیا گیا۔عیسائی قبیلوں کے سرداروں کو مدائن بلایا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ خالدؓ اپنے لشکر کو عراق سے نکال کرلے گیا ہے،اور جو مسلمان فوج پیچھے رہ گئی ہے اسے یہیں ختم کرنا ہے اور زندہ بچے رہنے والے مسلمانوں کو صحرا میں بھٹک بھٹک کر مرنے کیلئے چھوڑ دینا ہے۔’’بنی تغلب سے اب یہ توقع نہ رکھو کہ وہ تمہاری لڑائی لڑیں گے۔‘‘عیسائی قبیلے بنی تغلب کے ایک سالار نے فارس کے سالاروں سے کہا۔’’ہم ایک بار پھر وہ دھوکا نہیں کھانا چاہتے جو ایک بار کھا چکے ہیں۔عین التمر سے مہراں بن بہرام اپنی ساری فوج لے کر نہ بھاگتا تو مسلمان وہیں ختم ہو جاتے۔ہم اپنی لڑائی لڑیں گے ۔ہمیں مسلمانوں سے اپنے سردار عقہ بن ابی عقہ کے خون کا انتقام لینا ہے ۔ہم تمہاری مدد اور تمہارے ساتھ کے بغیر مسلمانوں کو شکست دے سکتے ہیں۔‘‘’’کیا تم اپنی لڑائی الگ لڑو گے؟‘‘بہمن جاذویہ نے پوچھا۔’’کیا ایسا نہیں ہوگا کہ مسلمان ہم دونوں کو الگ الگ شکست دے دیں؟‘‘’’لڑیں گے تمہارے دوش بدوش ہی۔‘‘بنی تغلب کے سردار نے کہا۔’’میری عقل میرے قابو میں ہے۔ہمارا دشمن مشترک ہے۔ہم تمہارے ساتھ ہوں گے لیکن تم پر بھروسہ نہیں کریں گے۔ہمیں خالد کا سر چاہیے۔‘‘’’خالد یہاں نہیں۔‘‘مہراں بن بہرام نے کہا۔’’وہ جا چکا ہے۔‘‘’’جہاں کہیں بھی ہے۔‘‘عیسائی سردار نے کہا۔’’زندہ تو ہے۔ہم پہلے ان کے ان دستوں کو ختم کریں گے جو یہاں ہیں۔پھر ہم خالدبن ولید کے پیچھے جائیں گے……وہ خود آجائے گا۔وہ دستوں کی مدد کو ضرور آئے گا۔لیکن یہاں موت اس کی منتظر ہوگی۔‘‘، یہ مسلمان جاسوس مدائن میں عیسائی بن کرشاہی اصطبل میں نوکری کرتا رہا تھا۔اس لیے وہ عیسائیوں میں گھل مل گیا تھا۔اس نے سالار زبرقان بن بدر کو بتایا کہ آتش پرستوں کی نسبت عیسائی قبیلے خالدؓکے زیادہ دشمن بنے ہوئے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے فارس کے سالاروں سے کہا کہ وہ پیچھے رہیں،مسلمانوں پر پہلا وار عیسائی قبیلے بنی تغلب،نمر اور ایاد ہی کریں گے۔سالار زبرقان بن بدر نے مدائن کی یہ رپورٹ سنی اور اسی وقت دو قاصد بلائے۔انہیں کہا کہ دو بہترین گھوڑے لیں اور اُڑتے ہوئے دومۃ الجندل پہنچیں۔زبرقان نے انہیں خالدؓ کے نام زبانی پیغام دیا۔
’’……اور سالارِ اعلیٰ ابن ِ ولید سے یہ بھی کہنا کہ جب تک انبار میں آخری مسلمان کی سانسیں چل رہی ہوں گی ،دشمن شہر کے اندر نہیں آسکے گا۔‘‘زبر قان بن بدر نے قاصدوں سے کہا۔’’تو آجائے گا تو ہمیں سہولت ہو جائے گی ،نہیں آسکو گے تو وہ اﷲہمارے ساتھ ہے جس کے رسولﷺ کا پیغام ہم اپنے سینوں میں لیے یہاں تک آئے ہیں……اور ابنِ ولید سے کہنا کہ دومۃ الجندل کی صورتِ حال تجھے آنے دیتی ہے تو آ،اور اگر تووہاں مشکل میں پھنسا ہو اہے تو ہمیں اﷲکے سپرد کر،ہم اسی طرح لڑیں گے جس طرح تیری شمشیر کے سائے تلے لڑتے رہے ہیں۔‘‘، ان قاصدوں کو روانہ کرکے سالار زبرقان نے چند ایک اور قاصدوں کو بلایا اورہر ایک کو اس کی منزل بتائی۔ان قاصدوں کو ان شہروں میں جانا اور وہاں کے سالاروں کو بتانا تھا کہ خالدؓ کی غیر حاضری سے آتش پرستوں نے کیا تاثر لیا ہے اور وہ حملے کی تیاری کر رہے ہیں،پیغام میں زبرقان نے یہ بھی کہا کہ اس نے دومۃ الجندل کو قاصد بھیج دیا ہے،اگر وہاں سے مدد نہیں آئی تو ہم ایک دوسرے کی مدد کو پہنچنے کی کوشش کریں گے۔مسلمانوں کیلئے بڑی خطرناک صورتِ حال پیدا ہو گئی تھی۔دشمن کے مقابلے میں نفری پہلے ہی تھوڑی تھی۔وہ بھی بکھری ہوئی تھی۔اس صورت میں کہ دشمن بیک وقت تمام اُن شہروں کو جن پر مسلمانوں کا قبضہ تھا،محاصرے میں لے لیتا تو مسلمان ایک دوسرے کی مدد کو نہیں پہنچ سکتے تھے۔دونوں طرف بے پناہ سرگرمی شروع ہو گئی۔عیسائی قبیلوں کے سرداروں نے بستی بستی جاکر لوگوں کو اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔وہ ان چھوٹے چھوٹے قبیلوں کو بھی اپنے سالتھ ملا رہے تھے جو عیسائی نہیں تھے۔وہ بت پرست تھے۔عیسائیوں کی جوان لڑکیاں بھی غیر مسلم بستیوں میں چلی گئیں۔وہ عورتوں کومسلمانوں کے خلاف بھڑکاتی تھیں کہ وہ اپنے مردوں کو،جوان بھائیوں اور بیٹوں کو باہر نکالیں ورنہ تمام جوان لڑکیوں کو مسلمان اپنے ساتھ لے جا کر لونڈیاں بنالیں گے۔ایسے نعرے بھی ان لڑکیوں نے لگائے ’’ہم مسلمانوں کی لونڈیاں بننے جا رہی ہیں۔‘‘اور دوسرا نعرہ جو بستی میں لگ رہا تھاوہ یہ تھا’’اپنے مقتولوں کے انتقام کا وقت آگیا ہے……باہر آؤ۔انتقام لو۔‘‘اُدھر مدائن میں فارس کے لشکر کی تعداد بڑی تیزی سے بڑھتی جا رہی تھی۔اب لشکر میں شامل ہونے والوں میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی تھی جو جوش سے پھٹے جا رہے تھے ۔انہیں میدانِ جنگ میں لڑنے کی تربیت دی جا رہی تھی۔گھوڑ سواری،تیر اندازی، تیغ زنی اور نیزہ بازی تو وہ جانتے تھے، ان میں انہیں مزید طاق کیا جا رہا تھا۔بہمن جاذویہ تو جیسے پاگل ہوا جا رہا تھا۔وہ خود مشقوں کی تربیت اور مشقوں کی نگرانی کرتا تھا۔اس کے ساتھی سالار اسے کہتے تھے کہ حملہ جلدی ہونا چاہیے لیکن وہ نہیں مانتا تھا۔کہتا تھا کہ خالد واپس نہیں آئے گا۔اگر اسے واپس آنا ہی ہوا تو وہ لشکر کے ساتھ اس وقت یہاں پہنچے گا جب عراق کی زمین پر کھڑا ہونے کیلئے اسے ایک بالشت بھر بھی زمین نہیں ملے گی۔مسلمان جن شہروں پر قابض تھے،وہاں کی سرگرمی اپنی نوعیت کی تھی۔ہر شہر میں مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی،انہوں نے کم تعداد سے قلعوں کے دفاع کی مشقیں شروع کر دی تھیں۔لاکھوں کے حساب سے تیر اور پھینکنے والے برچھے تیارہو رہے تھے۔سالاروں نے مجاہدین کا ایک چھاپہ مار جیش تیار کر لیا تھا۔انہیں زیادہ وقت قلعوں کے باہر گزارنا اور عام راستوں سے دور رہنا تھا۔ان کا کام یہ تھا کہ دشمن شہر کا محاصرہ کر لے تو عقب سے اس پر ’’ضرب لگاؤاور بھاگو‘‘ُکے اصول پر چھاپے اور شبخون مارتے رہیں۔
خالدؓ کی غیر حاضری میں سالار عاصم بن عمرو کے بھائی قعقاع بن عمرو مفتوحہ علاقوں میں مختلف شہروں میں مقیم دستوں کے سالار تھے۔اس کا ہیڈ کوارٹر حیرہ میں تھا۔اس کی ذمہ داری صرف حیرہ کے دفاع تک محدود نہیں تھی۔عراق کے تمام تر مفتوحہ علاقے کا دفاع اس کی ذمہ داری میں تھا۔اس نے اس علاقے میں بکھرے ہوئے تمام سالاروں کو ہدایات بھیج دی تھیں۔اس نے سب کو زور دے کر کہا تھا کہ دومۃ الجندل سے خالدؓ اور اپنے لشکر کے انتظار میں نہ بیٹھے رہیں،اپنے اﷲپر بھروسہ رکھیں اور یہ سمجھ کر لڑنے کی تیاری کریں کہ ان کی مدد کو کوئی نہیں آئے گا۔قعقاع نے ایک کارروائی یہ کی کہ خالدؓنے جو دستے دریائے فرات کے پار خیمہ زن کئے تھے، ان میں سے زیادہ تر نفری کو حیرہ میں بلالیا تاکہ اس شہر کے دفاع کو مضبوط کیا جاسکے۔قعقاع کا اپنا جاسوسی نظام تھا۔اس کے ذریعے قعقاع کو اطلاع ملی کہ فارس کا لشکر کہاں کہاں جمع ہو گا۔یہ دو جگہیں تھیں۔ایک حُصید اور دوسری خنافس۔یہ دونوں مقام انبار اور عین التمر کے درمیان تھے ۔قعقاع نے اپنے ایک دستے کو حصید کو اور دوسرے کو خنافس اس ہدایت کے ساتھ بھیج دیا کہ فارس کی فوج وہاں آئے تو اس پر نظر رکھیں اور فوج کسی طرف پیشقدمی کرے تو اس پر چھاپے ماریں اور اس پیشقدمی میں رکاوٹ ڈالتے رہیں۔شبخون بھی ماریں۔یہ دونوں دستے جب ان مقامات پر پہنچے تو دونوں جگہوں پر فارس کے ہراول دستے آئے ہوئے تھے۔وہ جو خیمے گاڑھ رہے تھے ،ان سے پتا چلتا تھا کہ یہ خیمے کسی بہت بڑے لشکر کیلئے گاڑے جا رہے ہیں۔مسلمان دستوں نے ان کے سامنے اسی انداز سے خیمے گاڑنے شروع کر دیئے جیسے وہ بھی بہت بڑے لشکر کا ہراول ہوں۔اِدھر یہ تیاریاں ہو رہی تھیں۔مجاہدینِ اسلام کو خس و خاشاک کی مانند اُڑالے جانے کیلئے بڑا ہی تُند طوفان اُٹھ کھڑا ہوا تھا،اُدھر سالار زبرقان بن بدرکے روانہ کیے ہوئے دونوں قاصد دومۃ الجندل خالدؓ کے پاس پہنچ گئے۔انہوں نے ساڑھے تین سو میل فاصلہ صرف پانچ دنوں میں طے کیا تھا۔خالدؓ جب دومۃ الجندل گئے تھے تو انہوں نے تین سو میل کا فاصلہ دس دنوں میں طے کیا تھا۔اب دو قاصدوں نے ساڑھے تین سو میل سے زیادہ صحرائی اور دشوارمسافت پانچ دنوں میں طے کی۔بھوک او رپیاس سے ان کی زبانیں باہر نکلی ہوئی تھیں ،ان کے چہروں پر باریک ریت کی تہہ جم گئی تھی۔ان کی زبانیں اکڑ گئی تھیں۔انہوں نے پھر بھی بولنے کی کوشش کی۔’’تم پر اﷲکی رحمت ہو۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’خشک جسموں سے تم کیسے بول سکو گے؟‘‘، انہیں کھلایا پلایا گیا تو وہ کچھ بولنے کے قابل ہوئے۔’’سالارِ اعلیٰ کو انبار کے سالار زبرقان بن بدر کا سلام پہنچے۔‘‘ایک قاصد نے کہا۔ ’’وعلیکم السلام!‘‘خالدؓ نے پوچھا۔’’اور وہ پیغام کیا ہے جو لائے ہو؟‘‘’’مدائن میں بہت بڑا لشکر تیار ہو رہا ہے۔‘‘قاصد نے کہا۔’’اور ایک لشکر عیسائیوں کا تیار ہو رہا ہے۔وہ کہتے ہیں ابنِ ولید ان کے علاقوں سے چلاگیا ہے اور وہ تھوڑے سے جو دستے چھوڑ گیا ہے انہیں ایک ہی حملے میں ختم کرکے اپنے علاقے واپس لیں گے۔‘‘دونوں قاصدوں نے خالدؓ کو تمام تر تفصیل بتائی اور کہا کہ خالدؓ کے دومۃ الجندل کے حالات اجازت نہ دیں تو نہ آئیں۔دستے جو فارس کی شہنشاہی کے علاقے میں ہیں وہ اسی طرح لڑیں گے جس طرح خالدؓ کی قیادت میں لڑے تھے۔
خالدؓ دومۃ الجندل پر قبضہ مکمل کرچکے تھے۔انہوں نے وہاں کا انتظام ایک نائب سالار کے حوالے کیا اور فوری طور پر کوچ کا حکم دے دیا۔’’خدا کی قسم!‘‘مؤرخوں کے مطابق خالدؓنے ان الفاظ میں قسم کھائی۔’’بنی تغلب پر اس طرح جھپٹوں گا کہ پھر کبھی وہ اسلام کے خلاف اٹھنے کے قابل نہیں رہیں گے۔‘‘مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓنے مجاہدین سے کہا کہ اتنی تیز چلو کہ صحرا کی ہوائیں پیچھے رہ جائیں ،پیادے گھوڑوں سے آگے نکل جائیں۔یہ ایک امتحان ہے جوبڑا ہی سخت ہے۔یہ ایک دوڑ تھی آتش پرستوں اور حق پرستوں کی۔آتش پرستوں کو اپنے ہی علاقے میں پہنچنا تھا اور یہ مسافت کچھ بھی نہیں تھی۔حق پرست بڑی دور سے چلے تھے۔ان کے سامنے سینکڑوں میلوں کی مسافت ہی نہیں تھی ،بڑا ظالم صحرا تھا۔میل ہا میل کی وسعت میں صحرائی ٹیلے تھے اور باقی سب ریت کا سمندر تھا۔سب سے بڑا مسئلہ پانی کا اور اس سے بڑا مسئلہ رفتار کا تھا جو کم نہیں کی جا سکتی تھی۔نا ممکن کو ممکن کر دکھانا تھا۔چاند اور ستاروں نے انہیں چلتے دیکھا۔سورج نے انہیں چلتے دیکھا۔صحرا کی آندھی بھی انہیں نہ روک سکی۔آندھی،سورج ،پیاس اور بھوک جسموں کو معذور کیا کرتی ہے۔وہ جو تپتے صحراؤں میں پیاس سے مر جاتے ہیں وہ جسم ہوتے ہیں،اور وہ جو خالدؓکی قیادت میں دومۃ الجندل سے چلے تھے وہ اپنے جسموں سے دستبردار ہو گئے۔ان کی قوت ارادی کا اور قوت ایمانی کا کرشمہ یہ تھا کہ انہوں نے جسمانی ضروریات سے نگاہیں پھیر لیں اور روحانی قوتوں کو بیدار کر لیا تھا۔ان کی زبان پر اﷲکا نام تھا۔دلوں میں ایمان اور یقین محکم تھا۔اپنی ہی آواز ان پر وجد طاری کر رہی تھی۔جنگی ترانے گانے والے لشکر کے وسط میں اونٹوں پر سوار تھے۔ان کی آوا زآگے بھی اور پیچھے بھی جاتی تھی۔لشکر کے قدم دفوں اور نفیریوں کی تال پر اٹھتے تھے اور یہ تال بڑی تیز تھی۔کچھ فاصلہ طے کرکے ترانے اور دف خاموش ہو جاتے اور تمام لشکر کلمہ طیبہ کا ورد بلند آواز میں شروع کر دیتا۔ہزار ہا حق پرستوں کی آواز ایک ہو جاتی،پھر یہ آواز ایک گونج بن جاتی اور یوں لگتا جیسے صحرا اور صحرائی ٹیلوں پر وجد طاری ہو گیا ہو۔اسلام کے شیدائیوں کا لشکر اپنی ہی آواز سے مسحور ہوتا چلا جا رہا تھا۔
💟 *جاری ہے ۔ ۔ ۔* 💟