🗡️🛡️⚔*شمشیرِ بے نیام*⚔️🛡️🗡️ : *قسط 34*👇




🗡️🛡️⚔*شمشیرِ بے نیام*⚔️🛡️🗡️
🗡️ تذکرہ: حضرت خالد ابن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ 🗡️
✍🏻تحریر:  عنایت اللّٰہ التمش
🌈 ترتیب و پیشکش : *میاں شاہد*  : آئی ٹی درسگاہ کمیونٹی
قسط نمبر *34* ۔۔۔۔

اونٹوں کا یہ پل ہموار نہیں تھا۔ان کے ڈھیر پر چلنا خطرناک تھا۔پاؤں پھسلتے تھے لیکن گزرنا بڑی تیزی سے تھا۔اشارہ ملتے ہی پیادہ مجاہدین کودتے پھلانگتے س عجیب پُل سے گزرنے لگے۔چند ایک مجاہدین پھسلے اور گِرے اور وہ پانی میں سے نکل کر اونٹوں کی ٹانگیں گردنیں وغیرہ پکڑتے اوپرآگئے۔شہرِ پناہ سے دشمن کے تیر اندازوں نے تیروں کا مینہ برسا دیا۔ادھر ’’آنکھیں پھوڑنے والے‘‘مسلمان تیر اندازوں نے بڑی تیزی اور مہارت سے تیر اندازی جاری رکھی۔اب ان کی تعداد ایک ہزار نہیں خاصی زیادہ تھی۔ اونٹوں کے پل سے گزرنے والوں میں سے کئی مجاہدین تیروں سے زخمی ہو رہے تھے لیکن وہ رُکے ہوئے سیلاب کی طرح خندق سے پار جاتے اور پھیلتے رہے۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کا یہ اقدام غیر معمولی طور پر دلیرانہ تھا۔ وہ زخمی تو ہوئے، شہید بھی ہوئے ۔لیکن انبار کی فوج پر اس اقدام کا جو اثر ہوا وہ اس کے سپاہیوں کے لڑنے کے جذبے کیلئے مہلک ثابت ہو رہا تھا۔ان پر مسلمانوں کی دہشت پہلے ہی غالب تھی،اب انہوں نے مسلمانوں کا یہ عجیب طریقہ دیکھا کہ اپنے اونٹ ذبح کرکے پُل بنا دیا اور تیروں کی بوچھاڑوں میں اس پُل سے گزرنے لگے تو دیوار سے برسنے والے تیروں میں کمی آگئی۔دشمن کے تیر انداز زخمی ہو کر کم ہو رہے تھے اور ان میں بھگدڑ کی کیفیت بھی پیدا ہو گئی تھی۔خندق پھلانگنے والا صرف ایک دستہ تھا۔اس دستے کا جوش و خروش اس وجہ سے بھی زیادہ تھا کہ خود خالدؓ ان کے ساتھ تھے اور سب سے پہلے مرے ہوئے اونٹوں پر سے گزرنے والے خالدؓ تھے۔تیر ان کے دائیں بائیں سے گزر رہے تھے اور ان کے قدموں میں زمین میں لگ رہے تھے۔مگر خالدؓ یوں بے پرواہ تھے جیسے ان پر بارش کے قطرے گر رہے ہوں۔اﷲاکبر کے نعروں کی گرج الگ تھی اور اس کی گرج میں اﷲکی رجعت اور برکت تھی۔ شہر کے لوگوں کا یہ عالم تھا کہ بھاگتے دوڑتے پھر رہے تھے۔شہرِ پناہ سے ان کے زخمی سپاہیوں کو اتارتے تھے تو لوگ ان کی گردنوں میں ،چہروں میں اور سینوں میں ایک ایک ،دودو اور تین تین تیر اترے ہوئے دیکھتے تھے۔زخمیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی اور شہر میں خوف و ہراس زیادہ ہوتا جا رہا تھا۔لوگوں نے چلّانا شروع کر دیا ۔سمجھوتہ کرلو۔صلح کرلو،دروازے کھول دو۔شیرزاد کیلئے صورتِ حال بڑی تکلیف دہ تھی۔وہ دانشمند آدمی تھا۔اس نے جب لوگوں کی آہ و زاری سنی اور جب بچوں اورعورتوں کو خوف کی حالت میں پناہوں کی تلاش میں بھاگتے دوڑتے دیکھا تو اسے احساس ہوا کہ یہ معصوم بے گناہ مارے جائیں گے۔انہیں بچانے کا اس کے پاس ایک ہی ذریعہ تھا کہ ہتھیار ڈال دے۔اس نے اپنے سالارِ اعلیٰ کو بلا کر کہا کہ وہ مزید خون خرابہ روکنا چاہتا ہے۔’’نہیں!‘‘سالارِ اعلیٰ نے کہا۔’’ابھی کوئی فیصلہ نہ کریں ۔مجھے ایک کوشش کر لینے دیں۔‘‘شیرزاد خاموش رہا۔سالارِ اعلیٰ شہرِ پناہ کے اوپر اپنی سپاہ کی کیفیت دیکھ رہا تھاجو بڑی تیزی سے مخدوش ہوتی چلی جا رہی تھی۔اس نے یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ مسلمان خندق عبور کر آئے ہیں۔اس نے ایک جرات مندانہ فیصلہ کیا۔اس نے ایک دستہ چنے ہوئے سپاہیوں کا تیار کیا اور قلعے کا دروازہ کھول کر اس دستے کو باہر لے آیا۔اس دستے نے ان مسلمانوں پر ہلّہ بول دیا جو خندق عبور کر آئے تھے۔خندق کے دوسرے کنارے کھڑے مسلمانوں نے دشمن کے اس دستے پر تیر چلانے شروع کر دیئے ۔اس دستے کا مقابلہ مسلمانوں کے ایسے دستے کے ساتھ تھا جس کے قائد خالدؓ تھے۔مسلمانوں کے تیروں کی بوچھاڑوں سے آتش پرستوں کے دستے کی ترتیب اور یکسوئی ختم ہو گئی۔خالدؓ نے اس دستے کو اس طرح لیا کہ اپنے دستے کو دیوار کی طرف رکھا تاکہ خندق کی طرف سے مسلمان تیر اندازدشمن پر تیر برساتے رہیں۔

خالدؓ اس دستے کو خندق کی طرف دھکیلنا چاہتے تھے۔گھمسان کا معرکہ ہوا۔آتش پرستوں کے کئی سپاہی خندق میں گرے اور باقیوں کے قدم اکھڑ گئے۔اس دستے کے سالار نے اس ڈر سے دروازہ بند کرادیا کہ مسلمان اندر آجائیں گے۔دروازہ بند ہوتے ہوتے دشمن کے اس دستے کے بچے کھچے سپاہی بھاگ کر اندر چلے گئے۔خالدؓ شہرِ پناہ کا جائزہ لینے لگے۔وہ مجاہدین کو اس دیوار پر چڑھانا چاہتے تھے جو آسان نظر نہیں آتا تھا۔انہیں معلوم نہ تھا کہ دیوار کی دوسری طرف ایرانی فوج اور شہر کے لوگوں کی حالت کیا ہوچکی ہے۔قلعے کا دروازہ ایک بار کھلا۔اب دروازے میں صرف ایک آدمی نمودار ہوا۔اس کے پیچھے دروازہ بند ہو گیا۔اس نے ہاتھ اوپر کرکے بلند آواز سے کہا کہ وہ شہر کا ایلچی ہے اورصلح کی بات کرنے نکلا ہے۔اس کے ساتھ ہی شہرِ پناہ سے تیر برسنے بند ہو گئے۔’’اے آگ کے پوجنے والے!‘‘جب اسے خالدؓ کے سامنے لے گئے توخالدؓ نے اس سے پوچھا۔’’اب تو کیا خبر لایا ہے؟کیا زرتشت نے تم لوگوں سے نظریں پھیر نہیں لیں؟کیا اب بھی تم لوگ اﷲکو نہیں مانوگے؟‘‘’’اے اہلِ مدینہ !میں کسی اور سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔‘‘ایلچی نے کہا۔’’میں حاکم ِ ساباط شیرزاد کا ایلچی ہوں۔شیرزاد نے کہا ہے کہ تم لوگ اسے اور اہلِ فارس کو شہر سے چلے جانے کی اجازت دے دو تو شہر تمہارے حوالے کر دیا جائے گا۔‘‘طبری اور واقدی لکھتے ہیں کہ خالدؓ یہ شرط بھی ماننے کیلئے تیار نہیں تھے۔انہوں نے ایک بار پھر شہر کی دیوار کی بلندی دیکھی اور سوچا کہ اس پر کس طرح چڑھا جا سکتا ہے لیکن بہت مشکل تھا۔’’حاکمِ ساباط شیرزاد سے کہو کہ خالد بن ولید اس پر رحم کرتا ہے۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’اسے کہو کہ وہ فارس کے فوجیوں کو ساتھ لے کر شہر سے نکل جائے لیکن وہ ان گھوڑوں کے سوا جن پر وہ سوار ہوں گے،اپنے ساتھ کچھ نہیں لے جا سکیں گے۔وہ اپنا سب مال اموال پیچھے چھوڑ جائیں گے اور وہ ہماری فو ج کے سامنے سے گزریں گے……اگر اسے یہ شرط منظور نہ ہوتو اسے کہنا کہ تیار ہوجائے اسی تباہی کیلئے جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔‘‘ایلچی واپس چلا گیا۔خالدؓ نے شہر کے اردگرد اپنا حکم پہنچا دیا کہ تیر اندازی روک لی جائے۔کچھ دیر بعد شہر کا دروازہ ایک بار پھر کھلا۔بہت سے سپاہی بڑی موٹی لکڑی کا ایک پانچ چھ گز چوڑااور بہت لمبا تختہ اٹھائے باہر نکلے۔تختے کے ساتھ رسّے بندھے ہوئے تھے ،انہوں نے تختہ خندق کے کنارے پر کھڑا کیا اور رسّے پکڑ لیے۔پھر یہ رسّا آہستہ آہستہ خندق پر گرنے لگااور اس کا اوپر والا سرا خندق کے باہر والے کنارے پر جا پڑا۔یہ پُل تھا جو شیرزاد اور اس کی فوج کے گزرنے کیلئے خندق پر ڈالا گیا تھا۔سب سے پہلے جو گھوڑا باہر آیا اس کی سج دھج بتاتی تھی کہ شاہی اصطبل کا گھوڑا ہے۔اس کا سوار بلا شک و شبہ حاکمِ ساباط شیرزاد تھا۔اس کے پیچھے اس کی بچی کچھی فوج باہر نکلی۔پیادے بھی تھے سوار بھی۔ان میں زخمی بھی تھے جو اپنے ساتھیوں کے سہارے چل رہے تھے۔وہ اپنے مرے ہوئے ساتھیوں کی لاشیں جہاں تھیں وہیں چھوڑ گئے تھے ۔یہ شکست خوردہ فوج ماتمی جلوس کی طرح جارہی تھی اور مسلمان خاموشی سے اس جلوس کو دیکھ رہے تھے۔کسی نے ان کا مزاق نہ اڑایا،پھبتی نہ کسی،فتح کا نعرہ تک نہ لگایا۔

خالدؓگھوڑے پر سوار ایک طرف کھڑے دیکھ رہے تھے۔وہ تھکے ہوئے نظر آتے تھے لیکن چہرے پر فتح کی رونق اور زبان پر اﷲکے شکرانے کے کلمات تھے۔یہ جولائی ۶۳۳ء کا ایک دن تھا۔جب آخری سپاہی بھی نکل گیا تو خالدؓ مجاہدین کے آگے آگے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے ۔آگے شہر کے امراء اور روسا دست بستہ کھڑے تھے۔شہر کے لوگوں کا شوروغل سنائی دے رہا تھا ۔اس طرح کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔’’وہ آگئے ہیں……مسلمان آگئے ہیں……بھاگو……چھپ جاؤ۔‘‘خالدؓ گھوڑے سے اترے،انبار کے امراء وغیرہ نے انہیں تحفے پیش کیے۔’’شہر کے لوگ ہم سے ڈر کیوں رہے ہیں؟‘‘خالدؓنے امراء سے کہا۔’’انہیں کہوکہ ان پر کوئی الزام نہیں۔ہم نے اس شہر کو فتح کیا ہے۔شہر کے لوگوں کو نہیں۔انہیں کہو کہ ہم امن اور دوستی لے کر آئے ہیں۔ہم جزیہ ضرور لیں گے لیکن بلاوجہ کسی کی جان نہیں لیں گے۔ہم کسی کی بیٹی پر اپنا حق نہیں جتائیں گے۔کسی کے مال و دولت کو ہاتھ نہیں لگائیں گے۔ہم صرف ان کے مال اموال کو اپنے قبضے میں لیں گے جو ہم سے شکست کھا کر چلے گئے ہیں……جاؤ۔اپنے لوگوں کو ہماری طرف سے امن اور سکون کا پیغام دو۔‘‘خالدؓ نے اپنی فوج کو ایک حکم تو یہ دیا کہ جو لوگ ان کے خلاف لڑ کر چلے گئے ہیں۔ان کے گھروں سے قیمتی سامان اٹھا کر ایک جگہ اکٹھا کر لیا جائے اور دوسرا حکم یہ کہ شہر میں گھوم پھر کر یہیں کے لوگوں کو دوستی اور امن کا تاثر دیا جائے اور یہ بھی کہ لوٹ مار نہیں ہوگی۔شہر پناہ پر گدھ اتر رہے تھے۔وہاں آتش پرست سپاہیوں کی لاشیں پڑی تھیں۔شدید زخمی بیہوشی کی حالت میں اِدھر اُدھر پڑے ہوئے تھے۔شہر کی فضا میں موت کی بو تھی۔خالدؓ اس مکان میں گئے جس میں شیر زاد رہتا تھا۔وہ تو محل تھا،دنیا کی کون سی آسائش و زیبائش تھی جو اس محل میں نہیں تھی۔خالدؓجو زمین پر سونے کے عادی تھے ،حیران ہو رہے تھے کہ ایک انسان نے اپنے آپ کو دوسرے سے برتر سمجھنے کیلئے کتنی دولت خرچ کی ہے۔خالدؓ نے حکم دیا کہ بیش قیمت اشیاء کو مالِ غنیمت میں شامل کر لیا جائے اور خزانہ ڈھونڈا جائے۔خزانہ ملتے دیر نہ لگی۔اس میں سونے اور ہیرے جواہرات کے انبار لگے ہوئے تھے۔اردگرد کے قبیلوں کے سردار اطاعت قبول کرنے کیلئے خالدؓکے پاس آنے لگے۔خالدؓنے جزیہ کی رقم مقرر کرکے اس کی وصولی کا حکم دیا۔اسدوران جاسوس نے آکر بتایا کہ فارس کی فوج عین التمر میں اکٹھی ہوگئی ہے اور اب مقابلہ بڑا سخت ہوگا۔

مدائن میں آتش پرست شہنشاہت کا محل اسی طرح کھڑا تھا جس طرح اپنے شہنشاہوں کی زندگی میں کھڑا رہتا تھا۔یہ کسریٰ کا وہ محل تھا جسے جنگی طاقت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔اس کے باہر والے دروازے کے دائیں بائیں دو ببر شیر بیٹھے رہتے تھے۔یہ کسریٰ کی ہیبت اور دہشت کی علامت تھے لیکن یہ گوشت پوست کے نہیں پتھروں کے تراشے ہوئے مجسمے تھے۔ان مجسموں اور محل کے درمیان ایک مینار کھڑا تھا جو اوپر سے گول اور مینار کی گولائی سے زیادہ بڑا تھا ۔اس جگہ الاؤہر وقت دہکتا رہتا تھا ۔جب یہ مینار تعمیر ہوا تھا اس کے اوپرپروہتوں نے یہ آگ جلائی تھی ،کئی نسلیں پیدا ہوئیں اور اگلی نسلوں کو جنم دے کر دنیا سے رخصت ہو گئیں۔یہ الاؤ دہکتا رہا۔ اس سے اٹھتا ہوا دھواں محل کی فضاء میں یوں منڈلاتارہتا تھاجیسے زرتشت نے اس محل کو اپنی پناہ میں لے رکھا ہو۔الاؤ اب بھی دہک رہا تھا اس کا دھواں اب بھی کسریٰ کے محل کی فضا میں منڈلا رہاتھا۔لیکن ایسے لگتا تھا جیسے یہ دھواں محل کو پناہ میں لینے کے بجائے خود پناہ ڈھونڈ رہا ہو۔محل جو دوسروں کیلئے کبھی ہیبت کا نشان تھا ،اب خود اس پر ہیبت طاری تھی۔اس کی شان وشوکت پہلے جیسی ہی لگتی تھی، جاہ و جلال بھی پہلے جیسا تھا مگر اس کے مکین اب صاف طور پر محسوس کرنے لگے تھے کہ اس محل پر آسیب کا اثر ہو گیا ہے،موت کی دبی دبی ہنسی کی سِس سِس دن رات سنائی دیتی تھی۔ایک غیبی ہاتھ کسریٰ کے زوال کی داستان اس کے خاندان کے خون سے لکھ رہاتھا۔کہاں وہ وقت کہ اس تخت سے دوسروں کی موت کے پروانے جاری ہوتے تھے ۔کہاں یہ وقت کہ اردشیر کے مرنے کے بعد اس تخت پر جو بیٹھتا تھا وہ پراسرار طور پر قتل ہو جاتا تھا۔دو چار سالار تھے جو فارس کی لرزتی ہوئی ڈولتی ہوئی عمارت کو کچھ دیر اور تھامے رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ایران کی نو خیز حسینائیں اب بھی اس محل میں موجود تھیں مگر رقص کی ادائیں نہیں تھیں۔ساز خاموش تھے، نغمے چپ تھے، شراب کی بو پہلے کی طرح موجود تھی مگر اس میں خون کی بو شامل ہو گئی تھی۔پہلے یہاں عیش و عشرت کیلئے شراب پی جاتی تھی اب اپنے آپ کو فریب دینے کیلئے اور تلخ حقائق سے فرار کی خاطر جام پر جام چڑھائے جا رہے تھے۔اب مدائن کا محل تخت و تاج کے حصول کا میدانِ جنگ بن گیا تھا۔درپردہ جوڑ توڑ ہو رہے تھے۔اسی محل سے خالدؓ اور ان کی سپاہ پر طنز کے یہ تیر چلے تھے کہ عرب کے بدوؤں اور لٹیروں کو فارس کی شہنشاہی میں قدم رکھنے کی جرات کیسے ہوئی؟وہ کبھی واپس نہ جانے کیلئے آئے ہیں،انہیں موت یہاں لے آئی ہے،مگر اب فارسیوں کو خود اپنی شہنشاہی میں قدم جمائے رکھنے کی جرات نہیں ہو رہی تھی۔دوسروں پر دہشت طاری کرنے والے تخت و تاج پر خالدؓ کی اور مدینہ کے مجاہدین کی دہشت طاری ہو گئی تھی۔مدائن میں اب شکست اور پسپائی کے سوا کوئی خبر نہیں آتی تھی۔

جولائی ۶۳۳ء کے ایک روز مدائن میں آتش پرستوں کو اپنی ایک اور شکست کی خبر ملی۔خبر لانے والا کوئی قاصد نہیں بلکہ حاکم ساباط شیرزاد تھا اور اس کے ساتھ ا س کی شکست خوردہ فوج کے بے شمار سپاہی تھے،ان کے استقبال کسریٰ کے نامور سالار بہمن جاذویہ نے کیا۔ان کی حالت دیکھ کر ہی وہ جان گیا کہ وہ بہت بری شکست کھا کر آئے ہیں۔’’شیرزاد!‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’تمہارے پاس ہتھیار بھی نہیں،میں تم سے کیا پوچھوں؟‘‘، ’’تمہیں پوچھنا بھی نہیں چاہیے۔‘‘شیرزاد نے تھکی ہاری آواز میں کہا۔’’تم بھی تو ان سے لڑے تھے۔کیا تم پسپا نہیں ہوئے تھے؟‘‘’’کیا تم قلعہ بند نہیں تھے؟‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’قلعے کے اردگرد خندق تھی ۔مسلمان اُڑ تو نہیں سکتے ۔اتنی چوڑی خندق انہوں نے کیسے عبور کرلی؟‘‘، شیرزاد نے اسے تفصیل سے بتایا کہ مسلمانوں نے اسے کس طرح شکست دی ہے۔’’میرے سالار نا اہل اور بزدل نکلے۔‘‘شیرزاد نے کہا۔’’اور مجھ سے یہ غلطی ہوئی کہ میں نے عیسائیوں پر بھروسہ کیا۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ زبردست لڑاکے ہیں۔لیکن انہیں معلوم ہی نہیں کہ لڑائی ہوتی کیا ہے۔‘‘’’تم شاید یہ نہیں دیکھ رہے کہ تم پسپا ہو کر مسلمانوں کو اپنے پیچھے لا رہے ہو۔‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’اور تمہیں یہ نہیں معلوم کہ مدائن میں کیا ہو رہا ہے……شاہی خاندان تخت کی وراثت پر آپس میں لہولہان ہو رہا ہے،فارس کی آبرو کے محافظ ہم چار سالار رہ گئے ہیں۔‘‘’’اور جب تخت سالاروں کی تحویل میں آ جائے گا تو وہ شاہی خاندان کی طرح ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے۔‘‘شیرزاد نے کہ۔اور رازداری کے لہجے میں کہنے لگا ۔’’کیا تم ابھی تک محسوس نہیں کر سکے کہ فارس کی شہنشاہی کا زوال شروع ہو چکا ہے؟کیا ہمارا سورج ڈوب نہیں رہا؟‘‘’’شیرزاد!‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’اس حلف کو نہ بھولو جو ہم نے زرتشت کے نام پر اٹھایا تھا کہ ہم فارس کو دشمن سے بچانے کیلئے اپنی جانیں قربان کر دیں گے……تم نے غلطی کی ہے جو یہاں چلے آئے ہو۔‘‘’’کہاں جاتا؟‘‘’’عین التمر!‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’عین التمر ابھی محفوظ ہے۔بلکہ یہ ہمارا ایک محفوظ اڈا ہے۔قلعہ دار مہراں بن بہرام لڑنا اور لڑانا جانتا ہے۔اطلاع ملی ہے کہ اس نے چند ایک بدوی قبیلوں کو بھی عین التمر میں اکٹھا کر لیا ہے ۔اگر مسلمانوں نے اُدھر رخ کیا تو ایسے ہی ہوگا جیسے وہ پہاڑ سے ٹکرائے ہوں۔ان میں پسپا ہونے کی بھی ہمت نہیں ہوگی۔وہ مسلسل لڑتے آرہے ہیں۔وہ جنات تو نہیں،آخر انسان ہیں۔ان میں پہلے والا دم خم نہیں رہا۔‘‘’’لیکن میں نے انہیں تازہ دم پایا ہے۔‘‘شیرزاد نے کہا۔’’میں نے ان میں تھکن اور کم ہمتی کے کوئی آثارنہیں دیکھے……اور بہمن!مجھے شک ہوتا ہے جیسے وہ نشے میں بد مست تھے ۔ایسی بے جگری سے وہی لڑ سکتا ہے جس نے کوئی نشہ پی رکھا ہو۔‘‘’’میں یہ نہیں کہوں گا کہ ان کا عقیدہ صحیح ہے۔‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ ان پر اپنے عقیدے کا نشہ طاری ہے۔ہم اپنی سپاہ میں یہ ذہنی کیفیت پیدا نہیں کر سکتے۔‘‘’’تم کہہ رہے تھے کہ مجھے عین التمر چلے جانا چاہیے تھا۔‘‘شیر زاد نے کہا۔’’کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ میں تمہارے ساتھ رہوں اور اپنی سپاہ کو منظم کرلیں۔پھر مسلمانوں پر جوابی حملے کی تیاری کریں؟‘‘، ’’اب تمہارا عین التمر جانا بھی ٹھیک نہیں۔‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’ہمیں سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا پڑے گا۔‘‘عین التمر انبار کے جنوب میں فرات کے مشرقی کنارے سے کئی میل دور ہٹ کر انبار کی طرح ایک بڑا تجارتی مرکز ہوا کرتا تھا۔آج صرف ایک چشمہ اس کی نشانی رہ گئی ہے۔اس زمانے میں اس شہر کا تجارتی رابطہ دنیا کے چند ایک دوسرے ملکوں کے ساتھ بھی تھا۔قلعہ مضبوط اور شاندار تھا۔وہاں کا حاکم اور قلعہ دار ایک فارسی سالار مہراں بن بہرام چوبین تھا۔مہراں دیکھ رہا تھا کہ مسلمان فارس کی فوج کو ہر میدان میں شکست دیتے آ رہے ہیں اور جو قلعہ ان کے راستے میں آتا ہے وہ ریت کا گھروندا ثابت ہوتا ہے۔اس نے تہیہ کر لیا تھا کہ مسلمانوں کو شکست دے کر فارس کی تاریخ میں نام پیدا کرے گا۔

اس نے یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ فارس کی فوج مسلمانوں کو روکنے میں نہ صرف ناکام رہی ہے بلکہ سپاہیوں نے اپنے اوپر مسلمانوں کی دہشت طاری کرلی ہے۔اس خطرے کو ختم کرنے اور اپنی نفری بڑھانے کیلئے اس نے عیسائی اور دیگر عقیدوں کے قبیلوں کو عین التمر میں اکٹھا کرلیاتھا۔ ان میں بنی تغلب ،نمر اور ایاد کے قبیلے خاص طور پر قابلِ ذکر تھے ۔یہ سب عرب کے بدو تھے۔ان کے سردار عقہ بن ابی عقہ اور ہذیل تھے۔یہ دونوں اس وقت کے مانے ہوئے جنگجو تھے،یہ قبیلے کسریٰ کی رعایا تھے۔ایک تو وہ خود اپنے آقاؤں کو خوش کرنا چاہتے تھے ،دوسرے یہ کہ مہراں بن بہرام نے انہیں بہت زیادہ مراعات اور انعامات دینے کا وعدہ کیا تھا اور فارس سے وفاداری کی تیسری وجہ یہ تھی کہ ان قبیلوں کے سرداروں اور دیگر بڑوں کو احساس تھا کہ مسلمان صرف ملک فتح کرنے نہیں آئے بلکہ وہ ان کے عقیدوں پر حملہ کرنے آئے ہیں اور ان پر اپنا عقیدہ مسلط کریں گے۔اس رات عین التمر میں بہت بڑی ضیافت دی گئی،یہ جشن کا سماں تھا،ایران کی بڑی حسین ناچنے اور گانے والیاں اپنے فن کا مظاہرہ کر رہی تھیں۔یہ ضیافت ان بدوی قبیلوں کے سرداروں اور سرکردہ افراد کے اعزاز میں دی گئی تھی۔شراب پانی کی طرح بہہ رہی تھی۔ان بدوؤں نے ایسی ضیافت اور ایسی عیاشی کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھی تھی۔بڑی خوبصورت اور جوان عورتیں انہیں شراب پلا رہی تھیں اور ان کے ساتھ فحش حرکتیں بھی کر رہی تھیں۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ اس کیفیت میں جب ان پر شراب اور عورت کا نشہ طاری تھا ،بدوی قبیلوں کے ایک سردار عقہ بن ابی عقہ نے مہراں بن بہرام سے کہا کہ وہ اپنی فوج کو پیچھے رکھے اور بدوی قبیلے آگے جا کر مسلمانوں کو عین التمر سے دور جا کر روکیں گے۔’’اگر تم ایسا ہی بہتر سمجھتے ہو تو میں اعتراض نہیں کروں گا۔‘‘مہراں بن بہرام نے کہا۔’’لیکن مجھے ڈر ہے کہ تمہارے قبیلے ہماری فوج کے بغیر نہیں لڑ سکیں گے۔‘‘’’ہم عربی ہیں۔‘‘عقہ نے کہا۔’’عربوں سے لڑنا صرف ہم جانتے ہیں۔عرب کے ان مسلمانوں سے ہمیں لڑنے دو۔فارسیوں نے ان کے مقابلے میں آکر دیکھ لیا ہے۔‘‘مشہور مؤرخ طبری نے مہراں اور عقہ کی یہ گفتگو ان ہی کے الفاظ میں اپنی تاریخ میں شامل کی ہے۔’’میں تسلیم کرتا ہوں۔‘‘مہراں بن بہرام نے کہا۔’’تمہاری بہادری کو میں تسلیم کرتا ہوں عقہ!جس طرح ہم عجمیوں کے خلاف لڑنے کے ماہر ہیں اسی طرح تم عربوں کے خلاف لڑنے میں مہارت رکھتے ہو۔تم ان عربی مسلمانوں کو کاٹ پھینکنے کیلئے آگے چلے جاؤ۔میری فوج تمہارے قریب ہی کہیں موجود ہوگی۔جوں ہی ضرورت پڑی ہم تمہاری مدد کو پہنچ جائیں گے۔‘‘رات گزر گئی۔صبح فارس کی فوج کے دو سالار مہراں بن بہرام کے پاس گئے۔’’رات کو ہم نے آپ کی اور عقہ کی بات چیت میں دخل دینا مناسب نہ سمجھا۔‘‘ایک سالار نے کہا۔’’ہم نے بولنے کی ضرورت اس لئے بھی نہ سمجھی کہ رات کی یہ بات چیت نشے کی حالت میں ہو رہی تھی۔‘‘

’’میں پوری طرح ہوش میں تھا۔‘‘مہراں نے کہا۔’’کہو،کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘’’آپ نے جو انبدوی قبیلوں کو اہمیت دی ہے یہ ہمارے لیے اچھی نہیں۔‘‘سالار نے کہا۔’’کیوں اچھی نہیں؟‘‘’’اس سے ان قبیلوں کو یہ تاثر ملا ہے کہ ہم مسلمانوں سے ڈرتے ہیں۔‘‘سالار نے جواب دیا۔’’یا یہ کہ ہم کمزور ہیں۔یہ لوگ اتنی اہمیت کے قابل نہیں۔‘‘’’اگر بدوی قبیلوں نے مسلمانوں کو شکست دے دی۔‘‘دوسرے سالار نے کہا۔’’تو کہا جائے گا کہ یہ فتح ان قبیلوں کی ہے اور اگر یہ نہ ہوتے تو ہم ایک اور شکست سے دوچار ہوتے۔‘‘’’میں نے انہیں جو اہمیت دی ہے یہ آخر تمہیں ملے گی۔‘‘مہراں نے کہا۔’’کیا تم تسلیم نہیں کرتے کہ ہم پر حملہ کرنے وہ شخص آرہا ہے جس نے ہمارے نامور سالاروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے،اور اُس (خالدؓ)نے فارس کی شہنشاہی کی بنیادیں ہلاڈالی ہیں؟میں اس اعتراف سے نہیں شرماؤں گا کہ تم خالد کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔میں نے کچھ سوچ کر ان بدوی قبیلوں کو آگے جانے کی اجازت دی ہے۔اگر انہوں نے مسلمانوں کو شکست دے دی تو یہ تمہاری فتح ہوگی۔یہ بدوی قبیلے ہماری رعایا ہیں،اگر یہ مسلمانوں کو شکست نہ دے سکے اور پسپا ہو گئے تو ہم مسلمانوں پر اس حالت میں حملہ کریں گے کہ وہ تھک کر چور ہو چکے ہوں گے اور ہماری فوج تازہ دم ہوگی۔‘‘دونوں سالاروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔ان کے چہروں پر رونق آگئی تھی۔اپنے حاکم کی یہ چال انہیں بہت پسند آئی تھی۔خالدؓ مجاہدین کے لشکر کو لے کر عین التمر کی طرف جا رہے تھے۔انہوں نے دریائے فرات عبور کیا اور بڑی تیزرفتار سے دریا کے کنارے پیشقدمی جاری رکھی۔انہوں نے دیکھ بھال کیلئے جوآدمی آگے بھیج رکھے تھے ،وہ اپنی اطلاعیں قاصدوں کے ذریعے بھیج رہے تھے۔انبار میں خالدؓ اپنے ایک نائب سالار زبرقان بن بدر کو چھوڑ آئے تھے۔عین التمر دس میل دور رہ گیا تھا ۔جب جاسوس اور دیکھ بھال کرنے والے دوسرے آدمی پیچھے آگئے۔انہوں نے خالدؓ کو اطلاع دی کہ ذرا ہی آگے ایک بہت بڑا لشکر پڑاؤڈالے ہوئے ہے اور یہ لشکر فارس کانہیں بلکہ بدوی قبیلوں کا ہے۔اس لشکر کا سالارِ اعلیٰ عقہ بن ابی عقہ اور اس کا نائب ہذیل ہے۔خالدؓ نے اپنے لشکر کو روک لیااور خود آگے دیکھنے گئے۔انہوں نے چھپ کر دیکھا۔انہیں کسریٰ کی فوج کہیں بھی نظر نہیں آئی۔یہ لشکر بدوی قبیلوں کا تھا ۔خالدؓ کا لشکر ابھی کوچ کی ترتیب میں تھا۔جو دراصل ترتیب نہیں تھی ۔منزل ابھی دس میل دور تھی۔ابھی لشکر قافلے کی صورت میں چلا آرہا تھا،عین التمر پہنچ کر شہرکو محاصرے میں لینا تھا لیکن راستے میں ایک انسانی دیوار آگئی جو مسلمانوں کیلئے غیر متوقع تھی۔مؤرخوں نے ان قبیلوں کی تعداد نہیں لکھی سوائے اس کے کہ وہ تعداد میں مدینہ کے مجاہدین سے خاصے زیادہ تھے۔عین التمر کی اپنی فوج اس تعداد کے علاوہ تھی۔اس طرح مسلمانوں کا مقابلہ کم از کم تین گناطاقتور دشمن سے تھا۔خالدؓ نے فوراً اپنے لشکر کو تین حصوں میں تقسیم کیا۔پہلے کی طرح وہ خود قلب میں رہے اور اپنے دونوں تجربہ کار سالاروں عاصم بن عمرو اور عدی بن حاتم کو دائیں اور بائیں پہلوؤں میں رکھا۔خالدؓ نے تمام سالاروں کو اپنے پاس بلایا۔’’ہماری ترتیب وہی ہے جو آمنے سامنے کے ہر معرکے میں ہواکرتی ہے۔‘‘خالدؓ نے سالاروں سے کہا۔’’لیکن لڑنے کا طریقہ مختلف ہوگا۔اب قلب سے حملہ نہیں ہوگا۔میرا اشارہ ملتے ہی دونوں پہلو دشمن کے پہلوؤں پر ہلّہ بول دیں اور وہاں دشمن کو پوری طرح الجھا لیں۔تھوڑی دیر بعد اس طرح پیچھے ہٹیں کہ دشمن کو یہ تاثر ملے کہ تم پسپا ہو رہے ہو۔تھوڑا سا پیچھے آکر پھر آگے بڑھواور پھر پیچھے ہٹو،اس طرح دشمن کے پہلوؤں کو آپس میں الجھائے رکھنا کہ اپنے قلب کی انہیں ہوش نہ رہے۔میں سیدھا دشمن کے قلب پر حملہ کروں گا لیکن کچھ دیر بعد۔تم دونوں اس کوشش میں رہنا کہ دشمن کے پہلوؤں سے اس کے قلب کو مدد نہ مل سکے۔یہ تحریر آپ کے لئے آئی ٹی درسگاہ کمیونٹی کی جانب سے پیش کی جارہی ہے

 ‘‘’’ولید کے بیٹے!‘‘دشمن کی طرف سے للکار سنائی دی۔’’آنکھیں کھول……دیکھ تیری موت تجھے کس کے سامنے لے آئی ہے……میں عقہ ہوں ……عقہ بن ابی عقہ!‘‘’’ولید کا بیٹا دیکھ چکا ہے!‘‘خالدؓنے گھوڑے پر سوار ہو کر اور رکابوں میں کھڑے ہوکر للکار کاجواب دیا۔’’تیری مکروہ آواز سنے بغیر دیکھ لیا ہے……کیا کسریٰ کے سالاروں نے محل میں ناچنا اور گانا شروع کر دیا ہے کہ ان کی لڑائی تم لڑنے آگئے ہو؟‘‘’’ابن ولید!‘‘عقہ کی للکار بلند ہوئی۔’’کیا توزندہ واپس جانے کا خواہش مند نہیں؟‘‘’’میں زندہ واپس جاؤں گا۔‘‘خالدؓنے گلا پھاڑ کر کہا۔’’خدا کی قسم!تیرے سر کو تیرے جسم سے الگ کرکے جاؤں گا۔‘‘خالدؓ اپنے سالاروں کی طرف متوجہ ہوئے۔’’ربِ کعبہ کی قسم!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’میں عقہ کو زندہ پکڑوں گا پھر اسے زندہ نہیں رہنے دں گا……تم سب اپنے اپنے دستوں تک پہنچو اور سب کو بتاؤ کہ آج تمہارا مقابلہ دو فوجوں کے ساتھ ہے۔ایک یہ فوج ہے جو تمہارے سامنے سیاہ پہاڑ کی مانند کھڑی ہے اور ایک وہ فوج ہے جو شہر کے اندر ہے یا کہیں روپوش ہے اور نہ جانے کی طرف سے تم پر حملہ کر دے گی۔سب کو بتا دو کہ آج جس نے پیٹھ دکھائی وہ اﷲ کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا۔‘‘مؤرخ لکھتے ہیں کہ مدینہ کے مجاہدین مسلسل لڑ رہے تھے اور کوچ کر رہے تھے،اور ان کی تعداد بھی کم تھی۔عین التمر میں دشمن کو للکار کر خالدؓ بظاہر غلطی کر رہے تھے لیکن خالدؓکے چہرے پرسنجیدگی ضرور تھی،پریشانی کی ہلکی سی بھی جھلک نہیں تھی۔انہیں دشمن للکار رہا تھا۔خالدؓ نے اشارہ دے دیا۔ایک پہلو سے سالار عاصم بن عدی اور دوسرے پہلو سے سالار عدی بن حاتم نے بدوی قبیلوں لے لشکر کے پہلوؤں پر حملہ کر دیا۔عقہ بن ابی عقہ اپنے لشکر کے قلب میں تھا اور اس کی نظر مسلمانوں کے قلب پر تھی جہاں خالدؓ تھے ،اسے توقع تھی کہ دستور کے مطابق سامنے سے قلب کے دستے حملہ کریں گے مگر خالدؓ دستور سے ہٹ گئے تھے،دونوں فوجوں کے پہلو جب گتھم گتھا ہوئے تو تھوڑی دیر میں اپنی اڑائی ہوئی گرد میں چھپ گئے تھے۔اس گرد سے گھوڑوں کے ہنہنانے ،تلوار اور ڈھالوں کے ٹکرانے کی مہیب آوازیں اور زخمیوں کی کرب ناک صدائیں اٹھ رہی تھیں۔ایک قیامت تھی جو گرد کے اندر بپا تھی۔پہلوؤں کے دونوں سالاروں نے خالدؓ کی ہدایت کے مطابق اپنے دستے پیچھے ہٹائے ۔بدوی قبیلے اس خوش فہمی میں مسلمانوں کے پیچھے گئے کہ مسلمان پسپا ہو رہے ہیں۔وہ جوش و خروش سے نعرے لگا رہے تھے لیکن مسلمان رک گئے اور انہوں نے دشمن پر ایسا دباؤ ڈالا کہ وہ پیچھے ہٹنے لگے۔مسلمان ایک بار پھر پیچھے ہٹنے لگے۔بدوی پھر ان کے پیچھے آگئے۔اس طرح مسلمانوں نے دشمن کے پہلوؤں کو ایسا الجھایا کہ انہیں اپنے قلب کی ہوش نہ رہی،گرد اتنی زیادہ ہو گئی تھی کہ پتا ہی نہیں چلتا تھا کہ اس کے اندر کیا ہو رہا ہے۔خالدؓ بڑی غور سے دیکھ رہے تھے ۔ان کی نظر عقہ پر تھی جو(مؤرخ بلاذری اور طبری کے مطابق)یہ دیکھ دیکھ کر پریشان ہو رہا تھا کہ مسلمانوں کا قلب کیوں آگے نہیں بڑھتا۔مسلمانوں کے قلب کے دستوں کا انداز کچھ ایسا ڈھیلا ڈھالا سا تھا جیسے وہ حملہ نہیں کرنا چاہتے۔عقہ بن ابی عقہ نے جب مسلمانوں کے قلب کے دستوں کو اس لاتعلقی کی سی حالت میں دیکھا تو اس نے مسلمانوں کے پہلوؤں کے دستوں کو کچلنے کیلئے قلب سے خاصی نفری اپنے پہلوؤں کی مدد کیلئے بھیج دی۔خالدؓ اسے اسی دھوکے میں لانا چاہتے تھے جس میں وہ آگیا۔خالدؓ نے اپنے محافظوں کو ساتھ رکھا۔انہیں وہ بتا چکے تھے کہ عقہ کو زندہ پکڑنا ہے۔خالدؓ نے قلب کے دستوں کو دشمن کے قلب پر حملے کا اشارہ دے دیا۔عقہ کیلئے حملہ اچانک اور غیر متوقع تھا۔خالدؓ نے اپنے محافظوں سے عقہ اور اس کے محافظوں کو گھیرے میں لے لیا،عقہ کے محافظ بے جگری سے لڑ رہے تھے ۔مسلمانوں کو وہ قریب نہیں آنے دے رہے تھے۔عقہ ان کے درمیان میں تھا،مسلمانوں کے دستوں نے بدوی قبائلیوں کے پاؤں اکھاڑ دیئے۔عقہ بھاگ نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔’’سامنے آ عقہ!‘‘خالدؓ نے اسے للکارا۔’’تو مجھے قتل کرنا چاہتا تھا۔‘‘بعض مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓنے کمند پھینک کر عقہ کو پکڑ لیا۔لیکن مؤرخوں کی اکثریت کی تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ عقہ خالدؓ کی للکار پر مقابلے میں آگیا۔دونوں گھوڑوں پر سوار تھے۔عقہ کو تاریخ نے ماہر جنگجو اور تیغ زن قرار دیا ہے۔مستند یہی ہے کہ خالدؓ اور عقہ کے درمیان بڑا سخت مقابلہ ہوا۔خالدؓ کو اﷲکے رسولﷺ نے اﷲکی تلوار کا خطاب عطا کیا تھا۔انہوں نے عقہ کا ہر وار بچایااور موقع کی تلاش میں رہے۔انہیں جوں ہی موقع ملا،عقہ کو گھوڑے سے گرادیا۔خالدؓ اپنے گھوڑے سے کود کر اترے۔عقہ ابھی سنبھل ہی رہا تھا کہ خالدؓکی تلوار کی نوک عقہ کے پہلو کے ساتھ لگ چکی تھی۔اس کے ساتھ ہی خالدؓ کے تین چار محافظوں نے برچھیوں کی انّیاں عقہ کے جسم کے ساتھ لگا دیں۔عقہ نے ہتھیار ڈال دیئے۔اس کے کئی محافظ ہلاک اور زخمی ہو چکے تھے۔جو بچ گئے وہ بھاگ اٹھے۔فوراًیہ خبر بدوی قبائل تک پہنچ گئی کہ ان کا سردارِ عالیٰ ہتھیار ڈال چکا ہے۔یہ افواہ بھی پھیل گئی کہ عقہ مارا گیا ہے۔اِدھر مسلمانوں کے سالار عاصم اورعدی دشمن کے پہلوؤں کے دستوں کا بہت نقصان کر چکے تھے۔اس خبر کے ساتھ ہی کہ عقہ مارا گیا یا پکڑا گیا ہے ،پہلوؤں کے سپاہی پسپا ہونے لگے۔تھوڑی دیر تک صورتِ حال یہ ہو گئی کہ بدوی ایک ایک دو دو،عین التمر کی طرف بھاگے جا رہے تھے۔

عقہ خالدؓ کا قیدی تھا لیکن وہ پریشان نہیں تھا۔اسے توقع تھی کہ عین التمرکی فارسی فوج اس کی مدد کیلئے پا بہ رکاب ہوگی،اور آہی رہی ہوگی۔وہ مسلمانوں کی حالت دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہاتھا،مسلمان تھک کر نڈھال ہو چکے تھے،خالدؓ نے اپنے قاصدوں کو بلایا۔ ’’تمام سالاروں اور کمانداروں کو پیغام دو کہ بدوی لشکر کی پسپائی کو ابھی اپنی فتح نہ سمجھیں۔‘‘خالدؓ نے قاصدوں سے کہا۔’’ابھی مالِ غنیمت کی طرف بھی نہ دیکھیں،ایک اور فوج آرہی ہے۔وہ تازہ دم ہوگی۔اس کے مقابلے کیلئے تیار رہو۔‘‘یہ تو معلوم ہی نہیں تھا کہ مہراں بن بہرام کی فوج کس طرف سے آئے گی یا وہ عین التمر میں قلعہ بند ہو کر لڑے گی۔اس فوج پر نظر رکھنے کیلئے مثنیٰ بن حارثہ اپنے چھاپہ مار دستے کے ساتھ عین التمر تک کے علاقے میں موجود اور متحرک تھا،اس نے خالدؓ کو بار بار یہی پیغام بھیجا تھا کہ آتش پرستوں کی فوج کہیں بھی نظر نہیں آرہی۔پھر اس کا یہ پیغام خالدؓ تک پہنچا کہ عقہ کے قبائلی خوف و ہراس کی حالت میں بھاگ بھاگ کر عین التمر میں پناہ لے رہے ہیں۔مثنیٰ بن حارثہ کے چھاپہ مار بھاگنے والے بدوی قبیلوں کا تعاقب کرکے انہیں مار رہے تھے۔جب عقہ کے پہلے چند ایک آدمی عین التمر میں داخل ہوئے تو انہیں مہراں کے پاس لے گئے۔’’تم موت سے بھاگ کر آئے ہو۔‘‘مہراں نے انہیں کہا۔’’کیا تم نہیں جانتے کہ یہاں بھی تمہارے لیے موت ہے؟اس نے حکم دیا۔لے جاؤان بزدلوں کو اور انہیں قتل کر دو۔‘‘’’کس کس کو قتل کرو گے؟‘‘ایک بدوی نے پوچھا۔’’پہلے عقہ کو قتل کرو۔‘‘جس نے ہتھیار ڈال کر سارے لشکر میں بزدلی پھیلائی۔‘‘دوسرےنے کہا۔’’مسلمانوں نے جس طرح حملے کیے انہیں ہمارے سردار سمجھ ہی نہ سکے۔‘‘ایک اور نے کہا۔انہوں نے میدانِ جنگ کی صورتِ حال ایسے رنگ میں پیش کی کہ مہراں گھبرا گیا۔مسلمانوں کے لڑنے کے جذبے اور جوش و خروش کو انہوں نے مبالغے سے بیان کیا اور بتایا کہ اپنا جو لشکر مسلمانوں کے ہاتھوں کٹنے سے بچ گیا ہے ،شہر کی طرف بھاگا آرہا ہے۔ ’’تو کیا ہمارے لیے یہ بہتر نہیں ہو گا کہ ہم مسلمانوں کو وہاں لے جا کر کاٹیں جہاں ان کا دم ختم ہو چکا ہو؟‘‘مہراں بن بہرام نے اپنے سالارں سے کہا۔’’پھر وہ پسپا ہونے کے بھی قابل نہیں رہیں گے۔‘‘’’کیا سوچ کر آپ نے یہ بات کہی ہے؟‘‘ایک سالار نے کہا۔’’اتنا بڑا شہر چھوڑ کر ہم چلے جائیں گے تو یہ پسپائی ہوگی،یہ کہیں کہ آپ پر مسلمانوں کا خوف طاری ہو گیا ہے اور آپ یہاں سے بھاگنا چاہتے ہیں۔‘‘’’جو میں سوچ سکتا ہوں وہ تم نہیں سوچ سکتے۔‘‘مہراں نے شاہانہ رعب سے کہا۔’’میں یہاں کا حاکم ہوں۔جاؤ،میرے اگلے حکم کا انتظار کرو۔‘

سالار خاموشی سے چلے گئے۔وہ سالار تھے۔شہر کا دفاع ان کی ذمہ داری تھی۔وہ مسلمانوں کو شہر پیش کرنے کے بجائے لڑ کر مرنا بہتر سمجھتے تھے۔انہوں نے آپس میں طے کر لیا کہ وہ مہراں کا یہ حکم نہیں مانیں گے ،لیکن میدانِ جنگ سے بھاگ کر آنے والے بنی تغلب،نمر اور ایادکے آدمی ٹولیوں میں شہر کے دروازے میں داخل ہو رہے تھے ،وہ دس میل کی مسافت طے کر کے آئے تھے جو انہوں نے خوف اور بھگدڑ کی کیفیت میں طے کی تھی۔ان میں بعض زخمی تھے۔’’کاٹ دیا……سب کو کاٹ دیا۔‘‘وہ گھبراہٹ کے عالم میں کہہ رہے تھے۔’’ان کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا۔بڑے زبردست ہیں۔‘‘’’عقہ بن ابی عقہ مارا گیا ہے۔‘‘وہ شہر پر خوف طاری کر رہے تھے۔’’ھذیل لا پتہ ہے۔‘‘’’دروازے بند کر دو۔‘‘بعض چلّا رہے تھے۔’’وہ آرہے ہیں۔‘‘مؤرخوں نے لکھا ہے کہ زرتشت کے پجاریوں پر پہلے ہی مسلمانوں کی دہشت طاری تھی۔مسلمانوں نے ان کے بڑے نامور سالار مار ڈالے تھے،اب عین التمر والے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے کہ یہ جنگجو قبیلے کس حالت میں واپس آرہے ہیں۔دیکھتے ہی دیکھتے اس شہر پر خوف و ہراس طاری ہو گیا۔شہر میں جو فوج تھی اس کی ذہنی حالت ایسے کمزور بزدل کتے جیسی ہوگئی تھی جو دُم پچھلی ٹانگوں میں دبا لیا کرتا ہے۔ان کے سالا روں نے جب اپنی فوج کو اس ذہنی کیفیت میں دیکھا تو انہیں شہر کے حاکم اور سالارِ اعلیٰ مہراں کے اگلے حکم کی ضرورت نہ پڑی۔انہیں یہ اطلاع بھی ملی کہ مہراں خزانہ مدائن بھجوا رہا ہے اور شہر کے لوگ بھی اپنے اموال چھپا رہے تھے یا ساتھ لے کر شہر سے نکل رہے تھے۔خالدؓ کے فن ِ حرب و ضرب کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے میدانِ جنگ میں تو دشمن کو شکست دی ہی تھی ۔دشمن کو انہوں نے نفسیاتی لحاظ سے اتنا کمزور کر دیا تھا کہ اس کے لڑنے کا جذبہ مجروح ہو گیا تھا۔آتش پرستوں کی نفسیاتی کیفیت تو یوں ہو گئی تھی کہ خالدؓ کا یا مسلمانوں کا نام سن کر ہی وہ پیچھے دیکھنے لگتے تھے کہ کمک آ رہی ہے یا نہیں۔یا پسپائی کا راستہ صاف ہے یا نہیں۔پھر وہ وقت جلدی آگیا جب میدانِ جنگ میں لاشیں اور بے ہوش زخمی رہ گئے اور انہیں کچلنے کیلئے وہ گھوڑے رہ گئے جو سواروں کے بغیر بے لگام دوڑتے پھر رہے تھے۔بدوی قبیلے اپنے سرداروں کے بغیر عین التمر جا پہنچے اور شہر کے دروازے بند کر لیے۔انہوں نے شہر میں واویلا بپا کیا کہ مہراں کی فوج وعدے کے مطابق ان کی مدد کو نہیں آئی لیکن وہاں ان کا واویلا سننے والا کوئی نہ تھا۔خوف و ہراس کے مارے ہوئے شہری تھے جو بھاگ نہیں سکتے تھے۔مہراں بن بہرام اپنی فوج سمیت شہر سے جا چکا تھا۔وہ فوج کو مدائن لے کر جا رہا تھا۔وہ عقہ اور ھذیل اور دوسرے قبائلی سرداروں کو کوس رہا تھا۔

’’دشمن کا تعاقب کرو۔‘‘خالدؓ نے اپنی سپاہ کو حکم دیا۔’’زخمیوں کو سنبھالنے کیلئے کچھ آدمی یہیں رہنے دو اور بہت تیزی سے عین التمر کا محاصرہ کرلو۔‘‘عین اس وقت مثنیٰ بن حارثہ گھوڑا سر پٹ دوڑاتا آیا اور خالدؓ کے پاس گھوڑا روک کر اترا۔وہ خالدؓسے بغلگیر ہو گیا۔ ’’ولید کے بیٹے!‘‘مثنیٰ نے کہا۔’’قسم رب العالمین کی!دشمن عین التمر سے بھاگ گیا ہے۔‘‘’’کیا تیرا دماغ اپنی جگہ سے ہِل تو نہیں گیا؟‘‘خالدؓ نے پوچھا۔’’یوں کہہ کہ دشمن میدان چھوڑ کر بھاگ گیا ہے۔‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے خالدؓکو بتایا کہ اس نے جو جاسوس عین التمر کے اردگرد بھیج رکھے تھے ،انہوں نے اطلاع دی ہے کہ فارس کی جو فوج شہر میں تھی ،شہر سے نکل گئی ہے۔’’کیا تو نہیں سمجھ سکتا کہ یہ فوج ہمارے عقب پر اس وقت حملہ کرے گی جب ہم عین التمر کو محاصرے میں لیے ہوئے ہوں گے؟‘‘خالدؓنے کہا۔’’ابنِ ولید!‘‘مثنیٰ نے کہا۔’’مہراں اپنی فوج کے ساتھ جا چکا ہے۔اگر وہ فوج یہاں کہیں چھپی ہوئی ہوتی تو میرے چھاپہ مار اسے چَین سے نہ بیٹھنے دیتے۔آگے بڑھ اور اپنی آنکھوں سے دیکھ۔عین التمر تیرے قدموں میں پڑا ہے۔‘‘یہ خبرجب مجاہدین کے لشکر کو ملی تو ان کے جسم جو تھکن سے ٹوٹ رہے تھے تروتازہ ہوگئے۔انہوں نے فتح و نصرت کے نعروں کی گرج میں عین التمر تک کے دس میل طے کر لیے۔مثنیٰ کے جو آدمی پہلے ہی وہاں موجودتھے ،انہوں نے بتایا کہ شہر کے تمام دروازے بند ہیں۔خالدؓکے حکم سے شہر کا محاصرہ کر لیا گیا۔بدوی عیسائی اور ان کے دیگر ساتھی جو شہر میں پناہ لینے آئے تھے، مقابلے پر اتر آئے۔انہوں نے شہرِ پناہ کے اوپر جا کر مسلمانوں پر تیر برسانے شروع کر دیئے۔’’عقہ بن ابی عقہ کو اور تمام جنگی قیدیوں کو آگے لاؤ۔‘‘خالدؓ نے حکم دیا۔ذرا سی دیر میں تام بدوی قیدیوں کو سامنے لے آئے۔خالدؓ نے عقہ کو بازو سے پکڑ ا اور اسے اتنی آگے لے گئے جہاں وہ شہرِ پناہ سے آنے والے تیروں کے زد میں تھے۔’’یہ ہے تمہارا سردار!‘‘خالدؓنےبڑی بلند آوازسے کہا۔’’تم اسے بہادروں کا بہادر سمجھتے تھے،اسی نے تمہاری دوستی فارس والوں سے کرائی تھی۔کہاں ہیں تمہارے دوست؟‘‘خالدؓ نے عقہ کو آگے کرکے کہا۔’’اس سے پوچھومہراں اپنی فوج کو بچا کر کہاں لے گیا ہے؟‘‘پھر بے شمار قیدیوں کو آگے کر دیاگیا۔’’یہ ہیں تمہارے بھائی!‘‘خالدؓنے­کہا۔’’چلاؤتیر!سب ان کے سینوں میں اتریں گے۔‘‘یہ خبر کسی طرح شہر میں پھیل گئی کہ قلعے کے باہر مسلمان بنی تغلب اور دیگر قبیلوں کے قیدیوں کو لائے ہیں۔ان قیدیوں میں سے کئی ایک کے بیوی بچے اور لواحقین شہر میں تھے۔ان کی بستیاں تو کہیں اور تھیں لیکن ان کی سلامتی کیلئے انہیں عین التمر میں لے آئے تھے ۔جنگ کی صورت میں وہ انہیں اپنی بستیوں میں محفوظ نہیں سمجھتے تھے۔ان عورتوں اور بچوں کو جب پتا چلا کہ ان کے قبیلوں کے قیدی باہر آئے ہیں تو مائیں اپنے بچوں کو اٹھائے شہر کی دیوار پر آگئیں۔میدانِ جنگ میں جانے والوں میں سے جو واپس نہیں آئے تھے ،ان کی بیویاں ،بہنیں،مائیں اور بیٹیاں اس امید پر دیوار پر آئی تھیں کہ ان کے آدمی قیدیوں میں ہوں گے۔

ان عورتوں نے دیوار کے اوپر ہنگامہ بپا کر دیا۔وہ اپنے آدمیوں کر پکار رہی تھیں۔جنہیں اپنے آدمی قیدیوں میں نظر نہیں آرہے تھے ،وہ آہ و زاری کر رہی تھیں،تیر انداز انہیں پیچھے ہٹا رہے تھے مگر عورتیں پیچھے نہیں ہٹ رہی تھیں۔’’ہم تمہیں زیادہ مہلت نہیں دیں گے۔‘‘خالدؓ کے حکم سے ان کے ایک محافظ نے بلند آواز سے کہا۔’’ہتھیار ڈال دو اور دروازے کھول دو۔اگر ہمارے مقابلے میں تم ہار گئے اور دروازوں میں ہم خود داخل ہوئے تو تم سب کا انجام بہت برا ہوگا۔‘‘’’ہم اپنی دو شرطوں پر دروازہ کھولنے پر آمادہ ہیں۔‘‘دیوار کے اوپر سے آواز آئی۔’’تمہاری کوئی شرط نہیں مانی جائے گی۔‘‘خالدؓ کی طرف سے جواب گیا۔’’ہتھیار ڈال دو۔دروازے کھول دو،تمہاری سلامتی اسی میں ہے۔‘‘بنی تغلب اور ان کے اتحادی قبیلے جانتے تھے کہ ان کی سلامتی اسی میں ہے کہ ہتھیار ڈال دیں اور مسلمانوں سے رحم کی درخواست کریں چنانچہ انہوں نے دروازے کھول دیئے اور مسلمان شہر میں داخل ہوئے۔اس وقت کی تحریروں سے پتہ چلتاہے کہ مسلمانوں نے کسی شہری کو پریشان نہیں کیا ،البتہ مسلمانوں کے خلاف جو بدوی لڑے تھے،ان سب کو قیدی بنا لیا گیا۔یہ ان قیدیوں کے لواحقین پر منحصر تھا کہ وہ خالدؓ کا مقرر کیا ہوا فدیہ ادا کرکے اپنے قیدیوں کو رہا کرالیں۔تمام شہر کی تلاشی لی گئی۔شہر میں ایک عبادت گاہ یا درس گاہ تھی جس میں پادری بننے کی تعلیم دی جاتی تھی۔اس وقت چالیس نو عمر لڑکے زیرِ تعلیم تھے۔ان سب کو پکڑ لیا گیا۔ان میں سے اکثر نے بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا اور ان میں سے ایک کو تاریخ ِ اسلام کی ایک نامور شخصیت کا باپ ہونے کا شرف حاصل ہوا۔اس لڑکے کا نام نصیر تھا۔ا س نے اسلام قبول کیااور ایک مسلمان عورت کے ساتھ شادی کی جس نے موسیٰ بن نصیر کو جنم دیا۔یہ موسیٰ بن نصیر شمالی افریقہ کے امیر مقرر ہوئے۔انہوں نے ہی طارق بن زیاد کو اندلس فتح کرنے کو بھیجا تھا۔دو تین متعصب مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓ نے بنی تغلب ،نمر اور ایاد کے ان تمام آدمیوں کو قتل کر دیا جو ان کے خلاف لڑے تھے ۔یہ ایک مفروضہ ہے جو خا لدؓکو بدنام کرنے کیلئے گھڑا گیا تھا۔مؤرخوں کی اکثریت نے ایسے قتلِ عام کا ہلکا سا بھی اشارہ نہیں دیا۔محمد حسین ہیکل نے متعدد تاریخوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ عقہ بن ابی عقہ کو کھلے میدان میں لا کر خالدؓنے اپناعہد پورا کرتے ہوئے اس کا سر تن سے کاٹ ڈالا۔خالدؓنے اعلان کیا تھا کہ بدوی غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیں تو وہ بڑے برے انجام سے محفوظ رہیں گے ۔دشمن نے مسلمانوں کی شرائط پر ہتھیا ر ڈالے تھے۔ان کے قتلِ عام کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

عین التمر کی فتح کے بعد خالدؓ نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ انبار اورعین التمر کا مالِ غنیمت اکٹھا کرکے مجاہدین میں تقسیم کیا اور خلافت کا حصہ الگ کرکے ولید بن عقبہ کے سپرد کیا کہ وہ مدینہ امیرالمومنینؓ کو پیش کریں۔انہوں نے امیر المومنینؓ کیلئے ایک پیغام بھی بھیجا۔ولید بن عقبہ نے مدینہ پہنچ کر امیرالمومنین ابوبکرؓ کو انبار اور عین التمر کی لڑائی اور فتح کی تفصیل سنائی ،مالِ غنیمت پیش کیا پھرخالدؓ کا پیغام دیا۔پہلے سنایا جا چکا ہے کہ خلیفۃ المسلمین ابوبکرؓ نے خالدؓ کے لیے حکم بھیجا تھا کہ وہ عیاضؓ بن غنم کے انتظار میں حیرہ میں رُکے رہیں۔اس وقت عیاضؓ دومۃ الجندل میں لڑ رہے تھے لیکن لڑائی کی صورتِ حال عیاضؓ کیلئے اچھی نہ تھی۔خالدؓ نے خلافت کے حکم کو نظر انداز کر دیا اور حیرہ سے کوچ کرکے انبار کو محاصرے میں لے لیا۔فتح پائی پھر عین التمر کا معرکہ لڑا اور کامیابی حاصل کی۔خالدؓنے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ وہ حیرہ میں بیٹھے رہتے تو فارس والوں کو اپنی شکستوں سے سنبھلنے کا اور جوابی حملے کی تیاری کا موقع مل جاتا۔خالدؓکی کوشش یہ تھی کہ دشمن کو کہیں بھی قدم جمانے کا اور جوابی وار کرنے کا موقع نہ مل سکے۔انہوں نے آتش پرستوں کی فوج کو نفسیاتی لحاظ سے کمزور کر دیا۔خالدؓنے امیر المومنینؓ کی حکم عدولی تو کی تھی لیکن عملاًثابت کر دیا تھا کہ یہ حکم عدولی کتنی ضروری تھی۔عیاضؓ بن غنم ابھی تک دومۃ الجندل میں پھنسے ہوئے تھے اور ان کی کامیابی کی توقع بہت کم تھی۔خالدؓ نے جو مناسب سمجھا وہ کیا۔خیفہ ابو بکرؓ نے ولیدبن عقبہ سے کہا۔’’اس نے جو سوچا تھا وہی ہوا۔عیاض کی طرف سے اطلاعیں آرہی ہیں وہ امید افزاء نہیں ۔دومۃ الجندل پر ہمارا قبضہ بہت ضروری تھا لیکن اب مجھے عیاض کے متعلق تشویش ہونے لگی ہے……ابنِ عقبہ!تم عین التمرواپس نہ جاؤ۔دومۃ الجندل چلے جاؤاور وہاں کی صورتِ حال دیکھ کہ خالد کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ عیاض کی مدد کو پہنچے۔‘‘ولید بن عقبہ روانہ ہو گئے۔عیاضؓ بن غنم خود بھی پریشان تھے۔اس کے ساتھ جو سالار تھے ،وہ انہیں کہہ رہے تھے کہ اس صورتِ حال سے نکلنے کیلئے مدد کی ضرورت ہے ورنہ شکست کا خطرہ صاف نظر آرہا تھا۔آخر(مؤرخ طبری اور ابو یوسف کی تحریروں کے مطابق)عیاضؓ بن غنم نے خالدؓ کو ایک تحریری پیغام بھیجا جس میں انہوں نے اپنی مخدوش صورتِحال اور اپنی ضرورت لکھی۔ولید بن عقبہ بھی عیاضؓ کے پاس پہنچ گئے۔ان کا جلدی پہنچنا آسان نہ تھا۔مدینہ سے دومۃ الجندل کافاصلہ تین سو میل سے کچھ کم تھااور زیادہ ترعلاقہ صحرائی تھا۔پہنچنا جلد تھا۔ولید جب عیاضؓ کے پاس پہنچے تو وہ جیسے ہوش و حواس میں نہیں تھے۔انہوں نے آرام کی نہ سوچی،عیاضؓ کی صورتِ حال دیکھی۔’’میں نے خالدکو مدد کیلئے کل ہی پیغام بھیجا ہے۔‘‘عیاضؓ بن غنم نے ولید بن عقبہ سے کہا۔’’معلوم نہیں وہ خود کس حال میں ہے،لیکن میرے لیے اور کوئی چارا نہیں،تم دیکھ رہے ہو۔‘‘

’’الحمدﷲ!‘‘ولیدنے کہا۔’’خالد نے آتش پرستوں کی شہنشاہی اور ان کی جنگی طاقت کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا ہے۔امیر المومنین نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے کہ تمہاری ضرورت کا جائزہ لے کر انہیں بتاؤں لیکن تمہیں فوری مدد کی ضرورت ہے۔میں مدینہ جانے کے بجائے عین التمر چلا جاتا ہوں ۔خالدتمہاری مدد کو آئے گا۔‘‘یہ اس دور کی فرض شناسی اور جذبہ تھا جس میں خوشامد، دکھاوے اور کام چوری کا ذرا سا بھی عمل دخل نہ تھا،ولید بن عقبہ نے یہ نہ سوچا کہ وہ واپس مدینہ جائیں اور خلیفہ کے حکم کے مطابق انہیں اپنی کار گزاری بڑھا چڑھا کر سنائیں اور ساتھ یہ کہیں کہ حضور عیاض تو بڑا نالائق سالار ہے۔اگر اس کی جگہ میں ہوتا تو یوں کرتا مگرولید نے دیکھا کہ صورتِ حال مخدوش ہے تو وہ اپنے حاکم خود بن گئے اور مدینہ کے بجائے عین التمر کو گھوڑا دوڑادیا۔ان کے سامنے پورے تین سو میل صحرائی مسافت تھی۔عراق اور شام کے صحرا اسی علاقے میں ملتے اور مسافروں کیلئے جان کا خطرہ بن جاتے۔ولید نے اپنے گھوڑے پر ،اپنے آپ پر،اپنے چار محافظوں اور ان کے گھوڑوں پر یہ ظلم کیا کہ کم سے کم آرام کیلئے کہیں رُکے۔وہ موسم گرمی کے عروج کا تھا۔ مہینہ اگست ۶۳۳ء تھا۔دومۃ الجندل بہت بڑا تجارتی شہر تھا،دور دراز ممالک کے تاجر یہاں آیاکرتے تھے،تجارت کے علاوہ یا تجارت کی بدولت ،اس شہر کو دولت اور زروجواہرات کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔رسولِ اکرمﷺ نے اس شہر اور اس سے ملنے والی شاہراہوں کی جغرافیائی پوزیشن دیکھ کر اس پر فوج کشی کی تھی۔یہ مہم غزوہ تبوک کے نام سے مشہور ہوئی،اس وقت دومۃ الجندل کا حاکم اور قلعہ دار اُکیدر بن عبدالملک تھا۔ اس نے مسلمانوں کا مقابلہ بے جگری سے کیا تھا۔خالدؓبھی اس معرکے میں شریک تھے۔انہوں نے اُکیدر کو غیر معمولی شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے زندہ پکڑ لیا تھا اور اس کی سپاہ نے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔اُکیدر بن عبدالملک نے رسولِ کریم ﷺ کی اطاعت قبول کرلی اور وفاداری کا حلف اٹھایا۔اس نے اسلام بھی قبول کرلیا تھا،اس طرح یہ اتنا بڑا شہر مسلمانوں کے زیرِ نگیں آگیا تھا۔رسول اﷲﷺکی وفات کے ساتھ ہی ارتداد کا فتنہ طوفان کی طرح اٹھاتھا۔ اُکیدر بھی مدینہ سے منحرف ہو گیااور اس نے اطاعت اور وفاداری کے معاہدے کو الگ پھینک دیا۔اس نے دومۃ الجندل کو ایک ریاست بنالیا جس کے باشندے بھی عیسائی تھے اور بت پرست بھی۔عیسائیوں کا سب سے بڑا اور طاقتور قبیلہ کلب تھا۔امیرالمومنینؓ نے اُکیدر بن عبدالملک کی سرکوبی کیلئے اور اسے اپنی اطاعت میں لانے کیلئے عیاضؓ بن غنم کو ایک لشکر دے کر بھیجا تھا۔وہاں جا کر عیاضؓ نے دیکھا کہ ان کا لشکر تو بہت تھوڑا ہے،اور دشمن کئی گنا طاقتور ہے لیکن مدینہ سے تقریباًتین سو میل دور آکر واپس چل پڑنا تو مناسب نہ تھا۔دومۃ الجندل کی دیوار اونچی اور مضبوط تھی۔پورا شہر بڑا مضبوط قلعہ تھا۔
💟 *جاری ہے ۔ ۔ ۔* 💟

Mian Muhammad Shahid Sharif

Accounting & Finance, Blogging, Coder & Developer, Administration & Management, Stores & Warehouse Management, an IT Professional.

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی