👑 داستانِ ایمان فروشوں کی 👑🌴⭐قسط نمبر 𝟝⭐🌴



⚔️▬▬▬๑👑 داستانِ ایمان فروشوں کی 👑๑▬▬▬⚔️
تذکرہ: سلطان صلاح الدین ایوبیؒ
✍🏻 عنایت اللّٰہ التمش
🌴⭐قسط نمبر 𝟝⭐🌴
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
سلطان صلاح الدین ایوبی نے دونوں فوجوں کو مدغم کرنے کا دورانیہ 7 دن رکھا تھا کاغذی کاروائی ہوتی رہی ناجی پوری طرح سے تعاون کرتا رہا 7 روز گزر چکے تھے ناجی ایک بار پھر سلطان صلاح الدین ایوبی سے ملا لیکن کوئی شکایت نہیں کی تفصیلی رپورٹ دے کر کہا کہ سات دن میں دونوں فوجیں ایک ہوجائیں گی سلطان صلاح الدین ایوبی کے نائبین نے بھی یقین دلایا کہ ناجی ایمانداری سے تعاون کر رہا ہے مگر علی بن سفیان کی رپورٹ کسی حد تک پریشان کن تھی اسکے انٹیلی جنس نے رپورٹ دی تھی کہ سوڈانی فوج میں کسی حد تک بے اطمینانی اور ابتری پائی جا رہی ہے وہ مصری فوج میں مدغم ہونے پر خوش نہیں ان میں یہ افواہیں پھیلائی جا رہی تھیں کہ مصری فوج میں مدغم ہوکر انکی حیثیت غلاموں جیسی ہو جائے گی انکو مال غنیمت بھی نہیں ملے گا اور ان سے بردباری کا کام لیا جائے گا اور سب سے بڑی بات کہ انکو شراب نوشی کی اجازت نہیں ہوگی علی بن سفیان نے سلطان صلاح الدین ایوبی تک یہ خبریں پہنچا دیں ایوبی نے اسے کہا کہ یہ لوگ طویل وقت سے عیش کی زندگی بسر کر رہے ہیں انکو یہ تبدیلی پسند نہیں آئے گی، مجھے امید ہے کہ وہ نئے حالات اور ماحول کے عادی ہو جائنگے
اس لڑکی سے ملاقات ہوئی کہ نہیں سلطان صلاح الدین ایوبی نے پوچھا۔
نہیں اس سے ملاقات ممکن نظر نہیں آرہی میرے آدمی ناکام ہوچکے ہیں ناجی نے اسکو قید کر کے رکھا ہے،  علی بن سفیان نے کہا۔

اس سے اگلی رات کا واقعہ  ہے رات ابھی تاریک ہوئی تھی زکوئی اپنے کمرے میں تھی ناجی اور اوورش ساتھ والے کمرے میں تھے اسے گھوڑوں کے قدموں کی آوازیں سنائی دیں اس نے پردہ ہٹادیا باہر کے چراغوں کی روشنی میں اسکو دو گھوڑا سوار  دکھائی دیئے لباس سے وہ تاجر معلوم ہو رہے تھے گھوڑوں سے اتر کر وہ ناجی کے کمرے کی طرف بڑھے تو انکی چال بتا رہی تھی کہ یہ تاجر نہیں اتنے میں اوورش باہر نکلا دونوں گھوڑا سوار اسکو دیکھ کر رک گئے اور اوورش کو سپاہیوں کے انداز سے سلام کیا اوورش نے ان کے گرد گھوم کر انکا جائزہ لیا اور پھر کہا کہ اپنے ہتھیار دکھاؤ دونوں نے پھرتی سے چغے کھولے اور ہتھیار دکھا دیئے انکے پاس چھوٹی چھوٹی تلواریں اور ایک ایک نیزہ تھا اوورش انکو کمرے کے اندر لے گیا دربان باہر کھڑا تھا۔
زکوئی گہری سوچ میں پڑ گئی وہ کمرے سے نکلی اور ناجی کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
مگر دربان نے اسکو دروازے پر ہی روکا اور کہا کہ اسے حکم ملا ہے کہ کسی کو اندر جانے نہ دیں زکوئی کو وہاں ایسی حیثیت حاصل ہوئی تھی کہ وہ کمانڈروں پر بھی حکم چلایا کرتی تھی 
دربان کے کہنے سے وہ سمجھ گئی کہ کوئی خاص بات ہے اسے یاد آیا کہ ناجی نے اسکی موجودگی میں اوورش سے کہا تھا میں عیسائی بادشاہوں کو مدد کے لیے بلا رہا ہوں تم دو پیامبر تیار کرو انہیں بہت دور جانا ہے آؤ میری بات بہت غور سے سنو اور پھر اس نے زکوئی کو اندر جانے کا کہا اور ناجی پھر بغاوت کی باتیں کرنے لگا۔ یہ سب سوچ کر وہ اپنے کمرے میں واپس چلی گئی اسکے اور ناجی کے خاص کمرے کے درمیان ایک دروازہ تھا جو دوسری طرف سے بند تھا اس نے اسی دروازے کے ساتھ کان لگا دیئے ادھر کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں پہلے تو اسے کوئی بات سمجھ نہیں آرہی تھی لیکن بعد میں اسکو ناجی کی آواز بڑی صاٖف سنائی دے رہی تھی۔
آبادیوں سے دور رہنا اگر کوئی شک میں پڑے تو سب سے پہلے اس پیغام کو غائب کرنا ، جان پر کھیل جانا جو بھی تمہارے راستے میں حائل ہو اس کو راستے سے ہٹا دینا تمہارا سفر  4 دنوں کا ہے 3 دن میں پہچنے کی کوشش کرنا سمت یاد کرلو، "شمال مشرق" ناجی کہہ رہا تھا۔
دونوں آدمی باہر نکلے زکوئی بھی باہر نکلی اس نے دیکھا کہ دونوں سوار گھوڑوں پر سوار ہو رہے تھے، ناجی اور اوورش بھی باہر نکلے تھے وہ شاید ان کو الوادع کہنے کے لیے باہر کھڑے تھے گھڑ سوار بہت تیزی سے روانہ ہوئے ناجی نے زکوئی کو بلا کر کہا کہ "میں باہر جا رہا ہوں  کام بہت لمبا ہے دیر لگے گی تم آرام کر لو اگر اکیلے دل نہ لگے تو گھوم پھر لینا
ہاں جب سے آئی ہوں باہر ہی نہیں نکلی زکوئی نے کہا۔

ناجی اور اوورش بھی چلے گئے زکوئی نے چغہ پہنا کمر میں خنجر اڑسا اور حرم کی طرف چل پڑی وہ جگہ کچھ سو گز دور تھی وہ ناجی پر یہ ظاہر کرانا چاہتی تھی کہ وہ حرم کے اندر ہی جا رہی ہے دربان کو بھی اس نے یہی بتایا حرم کے اندر جب زکوئی داخل ہوئی تو حرم والیاں اسکو دیکھ کر حیران ہوئیں وہ پہلی بار وہاں آئی تھی سب نے اسکا استقبال کیا اور اسکو پیار کیا ان دونوں لڑکیوں نے بھی اسکو خوش آمدید کہا جو زکوئی کو قتل کرنا چاہتی تھیں زکوئی سب سے ملی اور سب کے ساتھ باتیں کیں پھر حرم سے باہر نکلی وہ خرانٹ ملازمہ بھی وہیں تھی جس نے زکوئی کو قتل کرنا تھا اس نے زکوئی کو بڑے غور سے دیکھا اور زکوئی باہر نکل گئی۔
حرم والے مکان اور ناجی کی رہائش گاہ کا درمیانی علاقہ اونچا نیچا تھا اور ویران زکوئی حرم سے نکلی تو ناجی کی رہائشگاہ کے بجائے بہت تیز تیز دوسری سمت کی طرف چل پڑی ادھر ایک پگڈنڈی بھی تھی لیکن زکوئی زرا اس سے دور جا تھی تھی زکوئی سے پندرہ بیس قدم دور ایک  سایہ بھی چلا جا رہا تھا وہ کوئی انسان ہو سکتا تھا لیکن سیاہ لبادے میں لپٹے ہونے کی وجہ سے کوئی بھوت ہی لگ رہا تھا زکوئی کی رفتار تیز ہوئی تو اس بھوت نے بھی اپنی رفتار اور تیز کردی آگے گھنی جھاڑیاں تھیں زکوئی ان میں سے روپوش ہوئی سیاہ بھوت بھی جھاڑیوں میں روپوش ہوگیا وہاں سے کوئی اڑھائی تین سو گز دور سلطان صلاح الدین کی رہائشگاہ تھی جس کے اردگرد فوج کے اعلی رتبوں کے افراد رہتے تھے۔
زکوئی کا رخ ادھر ہی تھا وہ جھاڑیوں سے نکلی ہی تھی کہ بائیں طرف سے سیاہ بھوت اٹھا چاندنی بڑی صاف تھی لیکن پھر بھی اسکا چہرہ نظر نہیں آرہا تھا اسکے پاؤں کی آہٹ بھی نہیں تھی بھوت کا ہاتھ اوپر اٹھا چاندنی میں خنجر چمکا اور بجلی کی سی تیزی سے زکوئی کے بائیں کندھے اور گردن کے درمیان اتر گیا زکوئی کی کوئی چیخ نہیں نکلی ، خنجر اسکے کندھے سے نکال دیا گیا ۔ زکوئی نے اتنا گہرا وار کھا کر اپنے کمر بند سے اپنا بھی خنجر نکالا بھوت نے اس پر دوسرا وار کیا تو زکوئی نے اسکے خنجر والے بازو کو اپنے بازو سے روک کر اپنا خنجر بھوت کے سینے میں اتار دیا زکوئی کو چیخ سنائی دی جو کسی عورت کی تھی۔ 
زکوئی نے اپنا خنجر کھینچ کر دوسرا وار کیا جو اسکے پیٹ میں پورا خنجر اتر گیا ۔ اسکے ساتھ ہی زکوئی کے اپنے پہلو میں بھی خنجر لگا لیکن وہ اتنا گہرا نہیں تھا
 اسکے ساتھ ہی حملہ کرنے والی عورت چکرا کر گر گئی۔

زکوئی نے یہ نہیں دیکھا کہ اس پر حملہ کرنے والا کون تھا وہ دوڑ پڑی اسکے جسم سے خون تیزی سے بہہ رہا تھا سلطان صلاح الدین کا مکان اسکو چاندنی میں نظر آنے لگا آدھا فاصلہ طے کر کے زکوئی کو چکر آنے لگے اسکی رفتار سست ہو گئی اس نے چلانا شروع کیا۔

علی۔۔۔۔ایوبی۔۔۔۔علی۔۔۔۔۔ایوبی۔۔۔

زکوئی کے کپڑے خون سے سرخ ہونے لگے وہ بہت مشکل سے اپنے قدم گھسیٹنے لگی تھی اس کی منزل تھوڑی ہی دور تھی لیکن اس تک پہنچنا ممکن نظر نہیں آرہا تھا، 
وہ مسلسل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔علی۔۔۔۔۔۔۔۔­۔ ایوبی کہہ کر پکار رہی تھی، قریب ہی ایک گشتی سنتری پھر رہا تھا اسے آواز سنائی دی تو وہ دوڑ کر وہاں پہنچ گیا زکوئی اس پر گر پڑی اور کہا
مجھے امیر مصر سلطان صلاح الدین ایوبی کے پاس پہنچا دو جلدی بہت­ جلدی
سنتری نے جب اسکا خون دیکھا تو اسکو پیٹھ پر لاد کر دوڑ پڑا۔
سلطان صلاح الدین ایوبی اپنے کمرے میں بیٹھا علی بن سفیان سے رپورٹ لے رہا تھا۔
اسکے دو نائب بھی موجود تھے یہ رپورٹیں کچھ اچھی نہیں تھیں علی بن سفیان نے بغاوت کے خدشے کا اظہار کیا تھا جس پر غور ہو رہا تھا اتنے میں دربان دوڑتا ہوا آیا کہ ایک سپاہی ایک زخمی لڑکی کو اٹھائے باہر کھڑا ہے 
کہتا ہے یہ لڑکی امیر مصر سے ملنا چاہتی ہے۔ 
یہ سنتے ہی علی بن سفیان کمان سے نکلے ہوے تیر کی طرح باہر دوڑا سلطان صلاح الدین ایوبی نے بھی جب یہ الفاظ سنے تو وہ بھی علی کے پیچھے دوڑا اتنے میں لڑکی کو اندر لایا گیا سلطان صلاح الدین ایوبی نے چیخ کر کہا طبیب اور جراح کو جلدی سے بلاؤ لڑکی کو سلطان صلاح الدین ایوبی نے اٹھا کر اپنے پلنگ پوش پر لٹا دیا تھوڑے ہی وقت میں پلنگ پوش بھی خون سے سرخ ہونے لگا۔
کسی کو نا بلاؤ میں اپنا فرض ادا کر چکی ہوں لڑکی نے نخیف سی آواز میں کہا۔
تمہیں زخمی کس نے کیا ہے زکوئی علی نے کہا۔
پہلے میری بات سن لو شمال مشرق کی طرف سوار دوڑا دو دو سوار جاتے نظر آئینگے دونوں کے چغے بادامی رنگ کے ہیں 
ایک کا گھوڑا بادامی اور دوسرے کا سیاہ ہے وہ تاجر لگتے ہیں ان کے پاس سالار ناجی کا تحریری پیغام ہے جو عیسائی باداشہ فرینک کو بھیجا گیا ہے ۔
ناجی کی یہ سوڈانی فوج بغاوت کرے گی مجھے اور کچھ نہیں معلوم سلطان آپکی سلطنت سخت خطرے میں ہے ان دو سواروں کو راستے میں ہی پکڑ لو تفصیل ان کے پاس ہے بولتے بولتے زکوئی پر غشی طاری ہو گئی۔
دو طبیب آگئے انہوں نے خون بند کرنے کی کوشش کی زکوئی کے منہ میں دوائیاں ڈالیں جن کے اثر سے زکوئی پھر سے بولنے کے قابل ہوئی مثال کے طور پر ناجی نے اوورش کے ساتھ کیا باتیں کیں ناجی نے زکوئی کو کیسے اپنے کمرے میں جانے کو کہا ناجی کا غصہ اور بھاگ دوڑ دو سواروں کا آنا جانا وغیرہ، 
پھر اس نے بتایا کہ اسکو یہ علم نہیں کہ اس پر حملہ کرنے والا کون تھا 
وہ موقعہ موزوں دیکھ کر ادھر ہی آ رہی تھی کہ پیچھے سے کسی نے خنجر گھونپ دیا اس نے اپنا خنجر نکال کر اس پر حملہ کیا حملہ آور کی چیخ بتا رہی تھی کہ وہ کوئی عورت تھی اس نے جگہ بتا دی تو اسی وقت فوجی وہاں دوڑا دیئے گئے زکوئی نے کہا کہ وہ انسان زندہ نھی ہوگا کیونکہ میں نے وار اسکے سینے اور پیٹ پر کیئے تھے۔
زکوئی کا خون رک نہیں رہا تھا زیادہ تر خون پہلے بہہ گیا تھا زکوئی نے امیر مصر سلطان صلاح الدین کا ہاتھ پکڑ ا اور چوم کر کہا۔
اللہ آپکو اور آپکی سلطنت کو سلامت رکھے آپ شکست نہیں کھا سکتے مجھ سے زیادہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کا ایمان کتنا پختہ ہے 
پھر اس نے علی بن سفیان سے کہا علی میں نے کوتاہی تو نہیں کی۔۔؟  آپ نے جو فرض دیا تھا وہ میں نے پورا کردیا۔
تم نے اس سے زیادہ پورا کیا ہے ہمارے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ناجی اتنی خطرناک حد تک کاروائی کر سکتا ہے اور تمہیں جان کی قربانی دینی پڑے گی میں نے تم کو صرف مخبری کے لیے وہاں بھیجا تھا، علی بن سفیان نے کہا۔
اے کاش۔۔۔۔۔۔! میں مسلمان ہوتی زکوئی نے کہا اسکے آنسو نکل آئے میرے اس کام کا جو بھی معاوضہ بنتا ہے وہ میرے اندھے باپ اور صدا بیمار ماں کو دینا جن کی مجبوریوں نے مجھے بارہ سال کی عمر میں رقاصہ بنادیا
زکوئی کا سر ایک طرف ڈھلک گیا آنکھیں آدھی  کھلی ہوئی تھیں اور اسکے ہونٹ آدھے نیم وا مسکرا رہے تھے طبیب نے نبض پر ہاتھ رکھا اور سلطان کی طرف دیکھ کر سر ہلا دیا زکوئی کی روح اسکے زخمی جسم سے آزاد ہوگئی تھی
سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا یہ کسی بھی مذہب کی تھی زکوئی کو پورے اعزاز کے ساتھ دفن کرو اس نے اسلام ہی کے لیے جان قربان کی ہے اگرچہ یہ ہمیں دھوکہ بھی دے سکتی تھی 
دربان نے اندر آکر کہا کہ باہر ایک عورت کی لاش آگئی ہے جا کر دیکھا گیا تو وہ ایک ادھیڑ عمر عورت کی لاش تھی جائے وقوعہ سے دو خنجر ملے تھے اس عورت کو کوئی نہیں پہچانتا تھا یہ ناجی کے حرم کی ایک ملازمہ تھی جس کو انعام کے لالچ نے زکوئی پر حملہ کرنے پر مجبور کیا رات کو ہی زکوئی کو فوجی اعزاز کے ساتھ سپردخاک کیا گیا اور ملازمہ کی لاش گھڑا کھود کر دفنا دی گئی دونوں کو نہایت خفیہ انداز سے دفنا دیا گیا جب تدفین ہو رہی تھی تو سلطان صلاح الدین ایوبی نے نہایت اعلی قسم کے آٹھ جوان گھوڑے منگوائے آٹھ جوان منگوائے گئے ان کو علی بن سفیان کی کمان میں ناجی کے ان دو گھڑ سواروں کے پیچھے دوڑا دیا گیا جو ناجی کا تحریری پیغام عیسائی بادشاہ کو پہنچا رہے تھے
زکوئی کون تھی۔۔۔۔؟
وہ مراکش کی ایک رقاصہ تھی کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ اسکا مذہب کیا تھا وہ مسلمان نہیں تھی وہ عیسائی بھی نہیں تھی
جیسا کہ کہا گیا ہے کہ علی بن سفیان سلطان کی انٹیلی جنس (جاسوسی اور سراغ رسانی) کا سربراہ تھا اور اسے دوسروں کے راز معلوم کرنے کے کئی ڈھنگ اختیار کرنے پڑتے تھے 
صلاح الدین اسکو اپنے ساتھ مصر لایا تھا یہاں آکر معلوم ہوا کہ یہاں کا سالار ناجی نہایت ہی شیطان اور سازشی ہے اسکے اندرونی حالات معلوم کرنے کے لیے علی نے جاسوسوں کا ایک جال بچھا دیا اس اقدام سے علی بن سفیان کو ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ ناجی (حشیشن) کی طرح مخالفین کو حسین لڑکیوں سے پھنساتا اور اپنا گرویدہ بناتا اور مرواتا ہے علی بن سفیان نے تلاش و بسار کے بعد کسی کی مدد سے زکوئی کو مراکش سے حاصل کیا اور خود بردہ فروش کا روپ دھار کر ناجی کے ہاتھ بیچ دیا۔
زکوئی میں ایسا جادو تھا کہ ناجی اسکو سلطان کے پھنسانے کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا لیکن ناجی خود اس لڑکی کے دام میں پھنس گیا اور پھنسا بھی ایسا کہ زکوئی کے سامنے وہ اپنے سالار سے تمام باتیں کیا کرتا تھا  ناجی نے زکوئی کو جشن کی رات سلطان صلاح الدین کے خیمے میں بھیج دیا اور اپنی اس فتح پر بہت خوش ہو رہا تھا کہ اس نے صلاح الدین کا بت تھوڑ دیا ہے 
اب وہ اس لڑکی کے ہاتھوں شراب پلا سکے گا اور سلطان کو اپنا گرویدہ بنا لے گا مگر ناجی کے تو فرشتوں کو بھی علم نہیں ہوسکا کہ زکوئی سلطان صلاح الدین ایوبی کی ہی جاسوسہ تھی زکوئی سلطان کو اسی رات رپورٹیں دیتی رہی اور سلطان سے ہدایت لیتی رہی زکوئی سلطان کے خیمے سے نکل کر دوسری طرف چلی گئی تھی جہاں زکوئی کو سر منہ کپڑے میں لپیٹا ایک آدمی ملا تھا وہ آدمی علی بن سفیان تھا جس نے زکوئی کو مزید کچھ اور ہدایت دی تھیں اسکے بعد زکوئی ناجی کے گھر سے باہر نہ نکل سکی جس کی وجہ سے وہ علی کو کوئی رپورٹ نہ دے سکی آخر کار اسکو اسی رات موقع مل گیا اور وہ ایسی رپورٹیں لیکر پہنچی جس کا علم صرف اللہ ہی کو تھا 
یہ زکوئی کی بدنصیبی تھی کہ زکوئی کے خلاف حرم میں صرف اسلیئے سازش ہوئی کہ اس نے ناجی پر قبضہ جمایا ہے یہ سازش کامیاب رہی اور زکوئی قتل ہوگئی لیکن مرنے سے پہلے وہ تمام اطلاع سلطان تک پہنچانے میں کامیاب رہی ۔

زکوئی کے مرنے کے کچھ عرصہ بعد وہ معاوضہ جو علی بن سفیان نے زکوئی کے ساتھ طے کیا تھا 
سلطان کی طرف سے انعام اور وہ رقم جو علی بن سفیان نے ناجی سے بردہ فروش کی صورت میں ناجی سے وصول کی تھی 
مراکش میں زکوئی کے معذور والدین کو ادا کردی گئی۔۔۔۔۔
موت کی اس رات کے ستارے ٹوٹ گئے اور جب صبح ہوئی تو علی بن سفیان آٹھ سواروں کے ساتھ انتہائی تیز رفتاری سے شمال مشرق کی طرف جا رہا تھا 
آبادیاں دور پیچھے ہٹتی جا رہی تھیں
علی کو معلوم تھا کہ شاہ فرینک کے ہیڈ کوارٹر تک پہنچنےکا راستہ کونسا ہے 
رات انہوں نے گھوڑوں کو آرام دیا یہ عربی گھوڑے تھے جو تھکے ہوئے بھی تازہ دم لگتے تھے دور کجھور کے چند درختوں میں علی کو 2 گھوڑے جاتے نظر آئے علی نے اپنے دستے کو راستہ بدلنے اور اوٹ میں ہونے کے لیے ٹیلوں کے ساتھ ساتھ ہو جانے کو کہا علی صحرا کا راز دان تھا بھٹکنے کا کوئی خدشہ نہ تھا علی نے رفتار اور تیز کردی اگلے دو سواروں اور اس دستے کے بیچ کوئی 4 میل کا فاصلہ رہ گیا یہ فاصلہ تو طے ہوا لیکن گھوڑے تھک گئے تھے 
وہ جب کھجوروں کے درختوں تک پہنچے تو دو سوار کوئی دو میل دور مٹی کے ایک پہاڑی کے ساتھ ساتھ جا رہے تھے ان کے گھوڑے بھی شاید تھک گئے تھے دونوں سوار اترے اور نظروں سے اوجھل ہوگئے۔
وہ پہاڑیوں کے اوٹ میں بیٹھ گئے ہیں
علی نے کہا اور راستہ بدل دیا فاصلہ کم ہوتا گیا اور جب فاصلہ کچھ سو گز رہ گیا تو وہ دونوں بندے اوٹ سے باہر آئے انہوں نے گھوڑوں کے سرپٹ دوڑنے کا شور سن لیا تھا 
وہ دوڑ کر غائب ہوئے علی بن سفیان نے گھوڑے کو ایڑی لگائی تھکے ہوئے گھوڑے نے وفاداری کا ثبوت دیا اور اپنی رفتار تیز کردی باقی گھوڑے بھی تیز ہوگئے وہ جب پہاڑی کے اندر گئے تو دونوں سوار نکل چکے تھے مگر زیادہ دور نہیں گئے تھے 
وہ شاید گھبرا بھی گئے تھے آگے ریتیلی چٹانیں بھی تھیں انہیں راستہ نہیں مل رہا تھا کبھی دائیں جاتے کبھی بائیں علی بن سفیان نے اپنے گھوڑے ایک صف میں پھیلا دئے اور بھاگنے والوں سے ایک سو گز دور جا پہنچا ایک تیر انداز نے دوڑتے ھوے گھوڑے سے تیر چلایا جو ایک گھوڑے کے ٹانگ میں جا لگا گھوڑا بے لگام ہوا۔ تھوڑی سی اور بھاگ دوڑ کے بعد وہ دونوں گھیرے میں آگئے تھے اور انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے سوال جواب پر انہوں نے جھوٹ بولا اور اپنے آپ کو تاجر ظاہر کرنے لگے لیکن جیسے ہی تلاشی لی گئی تو وہ تحریری پیغام مل گیا جو ناجی نے انکو دیا تھا
ان دونوں کو حراست میں لے لیا گیا گھوڑوں کو آرام کا وقت دیا گیا اور پھر یہ دستہ واپس آگیا

سلطان صلاح الدین ایوبی بڑی بے چینی سے ان کا انتظار کر رہا تھا، 
دن گزر گیا رات بھی گزرتی جا رہی تھی آدھی رات گزر گئی  ایوبی لیٹ گیا اور اسکی آنکھ لگ گئی سحر کے وقت دروازے پر ہلکی سے دستک پر ایوبی کی آنکھ کھل گئی دوڑ کر دروازہ کھولا تو علی بن سفیان کھڑا تھا اسکے پیچھے آٹھ سوار اور وہ دو قیدی کھڑے تھے۔ 
علی اور قیدیوں کو سلطان نے اپنے سونے کے کمرے میں ہی بلالیا علی سلطان کو ناجی کا پیغام سنانے لگا پہلے تو سلطان کے چہرے کا رنگ ہی پیلا پڑ گیا پھر جیسے خون جوش مار کر سلطان کے چہرے اور آنکھوں میں چڑھ گیا ہو ناجی کا پیغام خاصا طویل تھا ناجی نے صلیبیوں کے بادشاہ فرینک کو لکھا تھا کہ وہ فلاں دن اور فلاں وقت یونانیوں رومیوں اور دیگر صلیبیوں کی بحریہ سے بحیرہ روم کی طرف سے مصر میں فوجیں اتار کر حملہ کردیں، حملے کی اطلاع ملتے ہی 50 ہزار سوڈانی فوج بھی امیر مصر کی خلاف بغاوت کردے گی مصر کی نئی فوج ایک ہی وقت میں بغاوت اور حملے کے جواب کے قابل نہیں ، اس کے عوض ناجی نے تمام تر مصر یا مصر کے ایک بڑے حصے کی بادشاہت کی شرط رکھی تھی سلطان صلاح الدین ایوبی نے دونوں پیغام لیکر جانے والوں کو قید خانے میں ڈال دیا اور اسی وقت نئی مصری فوج سے ایک دستہ بھیج کر ناجی اور ناجی کے نایئبین کو ان کے گھروں میں ہی نظر بند کردیا ناجی کے حرم کی تمام کی تمام لڑکیاں آزاد کردی گئیں ناجی کے تمام خزانے کو سرکاری خزانے میں ڈال کر سرکاری خزانہ بنادیا گیا اور یہ تمام کاروائی خفیہ رکھی گئی سلطان صلاح الدین ایوبی نے علی کی مدد سے اس خط میں جو پکڑا گیا تھا حملے کی تاریخ مٹا کر اگلی تاریخ لکھ دی دو ذہین فوجیوں کو شاہ فرینک کی طرف روانہ کیا گیا ان دونوں فوجیوں کو یہ ظاہر کرنا تھا کہ وہ ناجی کے پیامبر ہیں 
سلطان صلاح الدین ایوبی نے انکو روانہ کر کے سوڈانی فوج کو مصری فوج میں مدغم کرنے کا حکم روک دیا
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
یہ تحریر آپ کے لئے آئی ٹی درسگاہ کمیونٹی کی جانب سے پیش کی جارہی ہے۔
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
آٹھویں روز وہ دونوں پیامبر واپس آگئے اور شاہ فرینک کا جوابی خط جو اس نے ناجی کے نام لکھا تھا سلطان صلاح الدین ایوبی کو دیا شاہ فرینک نے لکھا تھا کہ حملے کی تاریخ سے دو دن قبل سوڈانی فوج بغاوت کردے تاکہ سلطان صلاح الدین ایوبی کو صلیبیوں کا حملہ روکنے کا ہوش تک نہ رہے 
علی بن سفیان نے ان دو پیامبروں کو سلطان صلاح الدین ایوبی کی اجازت سے نظر بند کردیا یہ نظربندی باعزت تھی
جس میں دونوں کے آرام اور بہترین کھانوں کا خاص خیال رکھا گیا یہ ایک احتیاطی تدابیر تھی کہ یہ اہم راز فاش نہ ہو سلطان صلاح الدین ایوبی نے بحیرہ روم کے ساحل پر اپنی فوج کو چھپا لیا جہاں صلیبیوں نے لنگرانداز ہوکر اپنی فوجیں اتارنی تھیں 
حملے میں ابھی کچھ دن باقی تھے۔۔
ایک مورخ سراج الدین نے لکھا ہے کہ سوڈانی فوج نے شاہ فرینک کے حملے سے پہلے ہی بغاوت کردی تھی 
جو سلطان صلاح الدین ایوبی نے طاقت سے نہیں بلکہ پیار  ڈپلومیسی اور اچھے حسن سلوک سے بدل لی تھی 
بغاوت کی ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ باغیوں کو اپنا سالار ناجی کہیں بھی نظر نہیں آیا اور اسکا کوئی نائب بھی سامنے نہیں آیا وہ سب تو قید میں تھے۔

مگر ایک اور مورخ ہیتاچی لکھتا ہے سوڈانی فوج نے حملے کے وقت بغاوت کی تھی تاہم یہ دونوں مورخ باقی تمام واقعات پر متفق نظر آتے ہیں دونوں نے لکھا ہے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے ناجی اور اسکے نایئبین کو سزا  میں موت کی سزا دے کر رات میں ہی گمنام قبروں میں دفن کرادیا تھا

ان دونوں مورخوں اور تیسرے اور مورخ " لین پول" نے بھی صلیبیوں کے بحریہ کے اعداد و شمار ایک جیسے ہی لکھے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ خط میں دی ہوئی تاریخ کے عین مطابق صلیبیوں کی بحریہ جس میں فرینک کی یونان کی روم کی اور سسلی کی بحریہ شامل تھی ، متحدہ کمان میں بحریہ روم میں نمودار ہوئی مورخین کے مطابق اس بحریہ میں جنگی جہازوں کی تعداد ایک سو پچاس تھی ، اسکے علاوہ بارہ جنگی جہاز بہت بڑےتھے ان میں مصر میں اتارنے کے لیے فوجیں تھیں اس فوج کا صلیبی کمانڈر ایمئرک تھا۔ جن بادبانی کشتیوں میں رسد تھی اسکی ٹھیک تعداد کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا جہاز دو قطاروں میں آرہے تھے۔۔۔

سلطان صلاح الدین ایوبی نے دفاغ کی کمانڈ اپنے پاس رکھی سلطان صلاح الدین ایوبی نے صلیبیوں کے بحریہ کو مزید قریب آنے دیا دام بچھایا جا چکا تھا
سب سے پہلے بڑے جہاز لنگر انداز ہوئے ہی تھے کہ ان پر اچانک آگ برسنے لگی یہ منجنیقوں سے پھینکی ہوئی مشعلیں تھی اور آگ کے گولے اور ایسے تیر بھی جن کے پچھلے حصے جلتے ہوئے شعلے کی مانند تھے
مسلمانوں کے اس برسائی ہوئی آگ نے صلیبیوں کے جہازوں کے بادبانوں کو آگ لگا دی جہاز لکڑی کے تھے جو فوراً جل اٹھے ادھر سے مسلمانوں کے چھپے ہوئے جہاز آگئے انہوں نے بھی آگ ہی برسائی یوں معلوم ہو رہا تھا جیسے بحیرہ روم جل رہا ہو، صلیبیوں کے جہاز موڑ کر ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے اور ایک دوسرے کو خود ہی آگ لگانے لگے جہازوں سے صلیبی فوج سمندر میں کود رہی تھی ان میں سے جو سپاہی زندہ ساحل پر آرہے تھے وہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے فوجیوں کے تیروں کا نشانہ بن رہے تھے
ادھر نورالدین زنگی نے فرینک کی سلطنت پر حملہ کردیا فرینک نے اپنی فوج مصر خشکی کے زریعے روانہ کردی تھی ، فرینک اس وقت سمندر میں جنگی بیڑے کے ساتھ تھا جب اسکو اپنی سطنت پر حملے کی اطلاع ملی تو وہ بڑی مشکل سے اپنی جان بچا کر بھاگ گیا لیکن جب وہ وہاں پہنچا تو وہاں کی دنیا ہی بدل گئی تھی۔

بحیرہ روم میں صلیبیوں کا متحدہ بیڑہ تباہ ہوچکا تھا اور فوج جل اور ڈوب کر ختم ہو گئی۔ صلیبیوں کا ایک کمانڈر ایملرک بچ گیا اس نے ہتھیار ڈال کر صلح کی درخواست کی جو بہت بڑی رقم کے عوض منظور کی گئی یونانیوں اور سسلی کے کچھ جہاز بچ گئے تھے  سلطان صلاح الدین ایوبی نے انکو جہاز واپس لے جانے کی اجازت دی مگر راستے میں ہی ایسا طوفان آیا کہ تمام بچے کچھے جہاز غرق ہو گئے
19 دسمبر 1169 کے روز صلیبیوں نے اپنی شکست پر دستخط کئے اور ، سلطان صلاح الدین ایوبی کو تاوان ادا کردیا بیشتر مورخین اور ماہرین حرب و ضرب نے  سلطان صلاح الدین ایوبی کے اس فتح کا سہرہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے انٹیلی جنس کے سر باندھا ہے 
رقاصہ زکوئی کا ذکر اس دور کے ایک مراکشی واقعہ نگار اسد السدی نے کیا ہے اور علی بن سفیان کا تعارف بھی اسی وقعہ نگار کی تحریر سے ہوا ہے۔ یہ ابتدا تھی سلطان صلاح الدین ایوبی کی زندگی اب پہلے سے بھی زیادہ خطروں میں گھر گئی تھی۔

صلیبیوں کے بحری بیڑے اور افواج کو بحیرئہ روم میں غرق کرکے صلاح الدین ایوبی ابھی مصر کے ساحلی علاقے میں ہی موجود تھا سات دن گزر گئے تھے  صلیبیوں سے تاوان وصول کیا جا چکا تھا مگر بحیرئہ روم ابھی تک بچے کچے بحری جہازوں کشتیوں کو نگل اور انسانوں کو اُگل رہا تھا صلیبی ملاح اور سپاہ جلتے جہازوں سے سمندر میں کود گئے تھے دور سمندر کے وسط میں سات روز بعد بھی چند ایک جہازوں کے بادبان پھڑپھڑاتے نظر آتے تھے ان میں کوئی انسان نہیں تھا پھٹے ہوئے بادبانوں نے جہازوں کو سمندر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا صلاح الدین ایوبی نے اِن کی تلاشی کیلئے کشتیاں روانہ کر دی تھیں اور ہدایت دی تھی کہ اگر کوئی جہاز یا کشتی کام کی ہو تو وہ رسوں سے گھسیٹ لائیں اور جو اس قابل نہ ہوں اِن میں سے سامان اور کام کی دیگر چیزیں نکال لائیں کشتیاں چلی گئیں تھیں اور جہازوں سے سامان لایا جا رہا تھا
ان میں زیادہ تر اسلحہ اور کھانے پینے کا سامان تھا یا لاشیں 
سمندر میں لاشوں کا یہ عالم تھا کہ لہریں انہیں اُٹھا اُٹھا کر ساحل پر پٹخ رہی تھیں ان میں کچھ تو جلی ہوئی تھیں اور کچھ مچھلیوں کی کھائی ہوئی بہت سی ایسی تھیں جن میں تیر پیوست تھے صلاح الدین ایوبی نے صلیبیوں کے تیروں، نیزوں ، تلواروں اور دیگر اسلحہ کا معائنہ بڑی غور سے کیا تھا اور انہیں اپنے اسلحہ کے ساتھ رکھ کر مضبوطی اور مار کامقابلہ کیا تھا زندہ لوگ بھی تختوں اور ٹوٹی ہوئی کشتیوں پر تیرتے ابھی سمندر سے باہر آرہے تھے 
ان بھوکے پیاسے تھکے اور ہارے ہوئے لوگوں کو لہریں جہاں کہیں ساحل پر لا پھینکتی تھیں وہیں نڈھال ہو کر گر پڑتے اور مسلمان انہیں پکڑ لاتے تھے 
ساحل کی میلوں لمبائی میں یہی عالم تھا صلاح الدین ایوبی نے اپنی سپاہ کو مصر کے سارے ساحل پر پھیلا دیا تھا اور انتظام کیا تھا کہ جہاں بھی کوئی قیدی سمندر سے نکلے اسے وہیں خشک کپڑے اور خوراک دی جائے اور جو زخمی ہوں ان کی مرہم پٹی بھی وہیں کی جائے اس احتمام کے بعد قیدیوں کو ایک جگہ جمع کیا جا رہا تھا 
صلاح الدین ایوبی گھوڑے پر سوار ساحلی علاقے میں گھوم پھر رہا تھا وہ اپنے خیمے سے کوئی دو میل دور نکل گیا تھا آگے چٹانی علاقہ آ گیا چٹانوں کی ایک سمت اور عقب میں صحرا تھا یہ سر سبز صحرا تھا جہاں کھجور کے علاوہ دوسری اقسام کے صحرائی درخت اور جھاڑیاں تھیں صلاح الدین ایوبی گھوڑے سے اُترا اور پیدل چٹانوں کے دامن میں چل پڑا محافظ دستے کے چار سوار اس کے ساتھ تھے اس نے اپنا گھوڑا محافظوں کے حوالے کیا اور انہیں وہیں ٹھہرنے کو کہا اس کے ساتھ تین سالار تھے ان میں اس کا رفیقِ خاص بہاوالدین شداد بھی تھا وہ اس معرکے سے ایک ہی روز پہلے عرب سے اس کے پاس آیا تھا انہوں نے بھی گھوڑے محافظوں کے حوالے کیے اور سلطان کے ساتھ ساتھ چلنے لگے موسم سرد تھا سمندر میں تلاطم نہیں تھا لہریں آتی تھیں اور چٹانوں سے دور ہی سے واپس چلی جاتی تھیں ایوبی ٹہلتے ٹہلتے دُور نکل گیا اور محافظ دستے کی نظروں سے اوجھل ہو گیا اس کے آگے پیچھے اور بائیں طرف اونچی نیچی چٹانیں اور دائیں طرف ساحل کی ریت تھی
وہ ایک چٹان پر کھڑا ہوگیا جس کی بلندی دو اڑھائی گز تھی اس نے بحیرئہ روم کی طرف دیکھا یوں معلوم ہوتا تھا جیسے سمندر کی نیلاہٹ سلطان ایوبی کی آنکھوں میں اُتر آئی ہو اس کے چہرے پر فتح و نصرت کی مسرت تھی اور اس کی گردن کچھ زیادہ ہی تن گئی تھی ۔
اس نے ناک سکیڑ کر کپڑا ناک پر رکھ لیا بولا  کس قدر تعفن ہے 
اس کی اور سالاروں کی نظریں ساحل پر گھومنے لگیں  پھڑپھڑانے کی آواز سنائی دی پھر ہلکی ہلکی چیخیں  سنائی دیں اوپر سے تین چار گدھ پر پھیلائے اُترتے دکھائی دئیے اور چٹان کی اوٹ میں جدھر ساحل تھا اُترتے گئے ایوبی نے کہا لاشیں ہیں
اُدھر گیا تو پندرہ بیس گز دور گدھ تین لاشوں کو کھا رہے تھے ایک گدھ ایک انسانی کھوپڑی پنجوں میں دبوچ کر اُڑا اور جب فضا میں چکر کاٹا تو کھوپڑی اس کے پنجوں سے چھوٹ گئی اور صلاح الدین ایوبی کے سامنے آن گری کھوپڑی کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں جیسے صلاح الدین ایوبی کو دیکھ رہی ہوں چہرے اور بالوں سے صاف پتہ چلتا تھا کہ کسی صلیبی کی کھوپڑی ہے
ایوبی کچھ دیر کھوپڑی کو دیکھتا رہا پھر اس نے اپنے سالاروں کی طرف دیکھا اور کہا ان لوگوں کی کھوپڑی مسلمانوں کی کھوپڑیوں سے بہتر ہیں یہ ان کھوپڑیوں کا کمال ہے کہ ہماری خلافت عورت اور شراب کی ندر ہوتی جا رہی ہے 
صلیبی چوہوں کی طرح سلطنتِ اسلامیہ کو ہڑپ کرتے چلے جارہے ہیں ایک سالا ر نے کہا 
اور ہمارے بادشاہ انہیں جزیہ دے رہے ہیں
شداد نے کہا فلسطین پر صلیبی قابض ہیں 
سلطان! کیا ہم اُمید رکھ سکتے ہیں کہ ہم فلسطین سے انہیں نکال سکیں گے 
خدا کی ذات سے مایوس نہ ہو شداد صلاح الدین ایوبی نے کہا 
ہم اپنے بھائیوں کی ذات سے مایوس ہو چکے ہیں
 ایک اور سالار بولا 
تم ٹھیک کہتے ہو سلطان ایوبی نے کہا .حملہ جو باہر سے ہوتا ہے 
اسے ہم روک سکتے ہیں کیا تم میں سے کوئی سوچ بھی سکتا تھا کہ کفار کے اتنے بڑے بحری بیڑے کو تم اتنی تھوڑی طاقت سے نذرِ آتش کرکے ڈبو سکو گے؟ 
تم نے شاید اندازہ نہیں کیا کہ اس بیڑے میں جو لشکر آرہا تھا وہ سارے مصر پر مکھیوں کی طرح چھا جاتا اللہ نے ہمیں ہمت دی اور ہم نے کھلے میدان میں نہیں بلکہ صرف گھات لگا کر اس لشکر کو سمندر کی تہہ میں گم کر دیا 
مگر میرے دوستو ! حملہ جو اندر سے ہوتا ہے اسے تم اتنی آسانی سے نہیں روک سکتے جب تمہارا اپنا بھائی تم پر وار کرے گا تو تم پہلے یہ سوچو گے کہ کیا تم پر واقعی بھائی نے وار کیا ہے؟ 
تمہارے بازو میں اسکے خلاف تلوار اُٹھانے کی طاقت نہیں ہوگی اگر تلوار اُٹھاو گے اور اپنے بھائی سے تیغ آزمائی کرو گے تو دشمن موقع غنیمت جان کر دونوں کو ختم کر دے گا
وہ آہستہ آہستہ ساحل پر چٹان کے ساتھ ساتھ جا رہا تھا
چلتے چلتے رُک گیا جھک کر ریت سے کچھ اُٹھایا اور ہتھیلی پر رکھ کر سب کو دکھایا یہ ہتھیلی جتنی بڑی صلیب تھی جو سیاہ لکڑی کی بنی ہوئی تھی 
اُس کے ساتھ ایک مضبوط دھاگہ تھا 
اُس نے ان لاشوں کے بکھرے ہوئے اعضاء کو دیکھا جنہیں گدھ کھا رہے تھے 
پھر کھوپڑی کو دیکھا جو گدھ کے پنجوں سے اُس کے سامنے گری تھی 
وہ تیز تیز قدم اُٹھاتا کھوپڑی تک گیا تین گدھ کھوپڑی کی ملکیت پر لڑ رہے تھے 
صلاح الدین ایوبی کو دیکھ کر پرے چلے گئے سلطان ایوبی نے صلیب کھوپڑی پر رکھ دی اور دوڑ کر اپنے سالاروں سے جا ملا کہنے لگا .میں نے صلیبیوں کے ایک قیدی افسر سے باتیں کی تھیں۔ 
اس کے گلے میں بھی صلیب تھی اس نے بتایا کہ صلیبی لشکر میں جو بھی بھرتی ہوتا ہے اس سے صلیب پر ہاتھ رکھ کر حلف لیا جاتا ہے کہ وہ صلیب کے نام پر جان کی بازی لگا کر لڑے گا اور وہ روئے زمین سے آخری مسلمان کو بھی ختم کر کے دم لے گا اس حلف کے بعد ہر لشکری کے گلے میں صلیب لٹکا دی جاتی ہے یہ صلیب مجھے ریت سے ملی ہے
معلوم نہیں کس کی تھی میں نے اس کھوپڑی پر رکھ دی ہے تا کہ اس کی روح صلیب کے بغیر نہ رہے 
اس نے صلیب کی خاطر جان دی ہے
سپاہی کو سپاہی کے حلف کا احترام کرنا چاہیے 

سلطان! شداد نے کہا یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ صلیبی یروشلم کے مسلمان باشندوں کا کتنا کچھ احترام کر رہے ہیں 
وہاں سے مسلمان بیوی بچوں کو ساتھ لے کر بھاگ رہے ہیں
ہماری بیٹیوں کی آبرو لوٹی جا رہی ہے 
ہمارے قیدیوں کو انہوں نے ابھی تک نہیں چھوڑا مسلمان جانوروں کی سی زندگی بسر کر رہے ہیں 
کیا ہم ان عیسائیوں سے انتقام نہیں لیں گے؟

انتقام نہیں صلاح الدین ایوبی نے کہا ہم فلسطین لیں گے مگر فلسطین کے راستے میں ہمارے اپنے حکمران حائل ہیں 
وہ چلتے چلتے رُک گیا اور بولا کفار نے صلیب پر ہاتھ رکھ کر سلطنتِ اسلامیہ کے خاتمے کا حلف اُٹھایا ہے 
میں نے اپنے اللہ کے حضور کھڑے ہو کر اور ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر قسم کھائی ہے کہ فلسطین ضرور لوں گا اور سلطنتِ اسلامیہ کی سرحدیں اُفق تک لے جاؤں گا مگر میرے رفیقو! مجھے اپنی تاریخ کا مستقبل کچھ روشن نظر نہیں آتا ایک وقت تھا کہ عیسائی بادشاہ تھے اور ہم جنگجو اب ہمارے بزرگ بادشاہ بنتے جا رہے ہیں اور عیسائی جنگجو دونوں قوموں کا رحجان دیکھ کر میں کہہ رہا ہوں کہ ایک وقت آئے گا جب مسلمان بادشاہ بن جائیں گے مگر عیسائی ان پرحکومت کریں گے  مسلمان اسی میں بدمست رہیں گے کہ ہم بادشاہ ہیں  آزاد ہیں مگر وہ آزاد نہیں ہوں گے میں فلسطین لے لوں گا مگر مسلمانوں کا رحجان بتا رہا ہے کہ وہ فلسطین گنوا بیٹھیں گے عیسائیوں کی کھوپڑی بڑی تیز ہے پچاس ہزار سوڈانی لشکر کون پال رہا تھا 
ہماری خلافت اپنی آستین میں ناجی نام کا سانپ پالتی رہی ہے 
میں پہلا امیر مصر ہوں جس نے دیکھا ہے کہ یہ لشکر ہمارے لیے نہ صرف بیکار ہے بلکہ خطرناک بھی ہے 
اگر ناجی کاخط پکڑا نہ جاتا تو آج ہم سب اس لشکر کے ہاتھوں مارے جا چکے ہوتے یا اس کے قیدی ہوتے .

اچانک ہلکا سا زناٹہ سنائی دیا اور ایک تیر صلاح الدین ایوبی کے دونوں پاؤں کے درمیان ریت میں لگا جدھر سے تیر آیا تھا ،اِس طرف سلطان ایوبی کی پیٹھ تھی

.سالاروں میں سے بھی کوئی اُدھر نہیں دیکھ رہا تھا 
سب نے بِدک کر اس طرف دیکھا جدھر سے تیر آیا تھا اُدھر نوکیلی چٹانیں تھیں تینوں سالار اور صلاح الدین ایوبی دوڑ کر ایک ایسی چٹان کی اوٹ میں ہوگئے جو دیوار کی طرح عمودی تھی انہیں توقع تھی کہ اور بھی تیر آئیں گے تیروں کے سامنے میدان میں کھڑے رہنا کوئی بہادری نہیں تھی 
شداد نے منہ میں انگلیاں رکھ کر زور سے سیٹی بجائی محافظ دستہ تھوڑی دور تھا 
ان کے گھوڑوں کے سرپٹ ٹاپوں کی آواز سنائی دی اس کے ساتھ ہی تینوں سالار اس طرف دوڑ پڑے جس طرف سے تیر آیاتھا
وہ بکھر کر چٹانوں پر چڑھ گئے چٹانیں زیادہ اونچی نہیں تھیں صلاح الدین ایوبی بھی ان کے پیچھے گیا ایک سالار نے اسے دیکھ لیا اور کہا سلطان آپ سامنے نہ آئیں مگر سلطان ایوبی رُکا نہیں 

محافظ پہنچ گئے صلاح الدین ایوبی نے انہیں کہا ہمارے گھوڑے یہیں چھوڑ دو اور چٹانوں کے پیچھے جاؤ اُدھر سے ایک تیر آیا ہے
جو کوئی نظر آئے اسے پکڑ لاؤ 
سلطان ایوبی چٹان کے اوپر گیا تو اُسے انچی نیچی چٹانیں دُور دُور تک پھیلی ہوئی نظر آئیں وہ اپنے سالاروں کو ساتھ لیے پچھلی طرف اُتر گیا اور ہر طرف گھوم پھر کر اور چٹانوں پر چڑھ کر دیکھا کسی انسان کا نشان تک نظر نہ آیا حافظ چٹانی علاقے کے اندر اوپر اور اِدھر اُدھر گھوڑے دوڑا رہے تھے 
صلاح الدین ایوبی نیچے اُتر کے وہاں گیا جہاں ریت میں تیر گڑھا ہوا تھا 
اس نے اپنے رفیقوں کو بلایا اور تیر پر ہاتھ مارا تیر گر پڑا سلطان ایوبی نے کہا  دُور سے آیا ہے اس لیے پاؤں میں لگا ہے ورنہ گردن یا پیٹھ میں لگتا ریت میں بھی زیادہ نہیں اُترا  اس نے تیر اُٹھا کر دیکھا اور کہا صلیبیوں کا ہے حشیشین کا نہیں 
سلطان کی جان خطرے میں ہے ایک سالار نے کہا 
اور ہمیشہ خطرے میں رہے گی صلاح الدین ایوبی نے ہنس کر کہا .میں بحیرئہ روم میں کفار کی وہ کشتیاں دیکھنے نکلا تھا جو ملاحوں کے بغیر ڈول رہی ہیں 
مگر میرے عزیز دوستو! کبھی نہ سمجھنا کہ صلیبیوں کی کشتی ڈول رہی ہے 
وہ پھر آئیں گے گھٹاؤں کی طرح گرجتے آئیں گے اور برسیں گے بھی لیکن وہ زمین کے نیچے سے اور پیٹھ کے پیچھے سے بھی وار کریں گے ہمیں اب صلیبیوں سے ایسی جنگ لڑنی ہے جو صرف فوجیں نہیں لڑیں گی  میں جنگی تربیت میں ایک اضافہ کر رہا ہوں یہ فنِ حرب و ضرب کا نیا باب ہے اسے جاسوسوں کی جنگ کہتے ہیں
سلطان صلاح الدین ایوبی تیر ہاتھ میں لیے گھوڑے پر سوار ہوگیا اور اپنے کیمپ کی طرف چل پڑا اس کے سالار بھی گھوڑوں پر سوار ہوگئے ان میں سے ایک نے سلطان کے دائیں طرف اپنا گھوڑا کر دیا ایک نے بائیں کو اور ایک نے اپنا گھوڑا اس کے بالکل پیچھے اور قریب رکھا 
تاکہ کسی بھی طرف سے تیر آئے تو صلاح الدین ایوبی تک نہ پہنچ سکے۔
صلاح الدین ایوبی نے اس تیر پر ذرا سی بھی پریشانی کا اظہار نہ کیا جو کسی نے اسے قتل کرنے کیلئے چلایا تھا
اپنے رفیق سالاروں کو اپنے خیمے میں بٹھاتے ہوئے وہ بتا رہا تھا کہ جاسوس اور شب خون مارنے والے دستے کس قدر نقصان کرتے ہیں وہ کہہ رہا تھا میں علی بن سفیان کو ایک ہدایت دے چکا ہوں لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا کیونکہ فوراً ہی مجھے اس حملے کی خبر ملی اور عمل درآمد دھرا رہ گیا تم سب فوری طور پر یوں کرو کہ اپنے سپاہیوں اور ان کے عہدے داروں میں سے ایسے افراد منتخب کرو جو دماغی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط اور صحت مند ہوں باریک بین دور اندیش قوت فیصلہ رکھنے والے جانباز قسم کے آدمی چنو میں نے علی کو ایسے آدمیوں کی جو صفات بتائیں تھیں وہ سب سن لو اُن میں اونٹ کی مانند زیادہ سے زیادہ دِن بھوک اور پیاس برداشت کرنے کی قوت ہو ۔ چیتے کی طرح جھپٹنا جانتے ہوں ، عقاب کی طرح ان کی نظریں تیز ہوں  خرگوش اور ہرن کی طرح دوڑ سکتے ہوں مسلح دشمن سے ہتھیار کے بغیر بھی لڑ سکیں  ان میں شراب اور کسی دوسری نشہ آور چیز کی عادت نہ ہو۔ کسی لالچ میں نہ آئیں عورت کتنی ہی حسین مل جائے اور زر و جواہرات کے انبار ان کے قدموں میں لگا دئیے جائیں  وہ نظر اپنے فرض پر رکھیں...
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*

Mian Muhammad Shahid Sharif

Accounting & Finance, Blogging, Coder & Developer, Administration & Management, Stores & Warehouse Management, an IT Professional.

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی