👑 داستانِ ایمان فروشوں کی 👑🌴⭐قسط نمبر 𝟛⭐🌴


⚔️▬▬▬๑👑 داستانِ ایمان فروشوں کی 👑๑▬▬▬⚔️
تذکرہ: سلطان صلاح الدین ایوبیؒ
✍🏻 عنایت اللّٰہ التمش
🌴⭐قسط نمبر 𝟛⭐🌴
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
رات کا وقت تھا ناجی اپنے کمرے میں دو جونیئر کمانڈروں کے ساتھ بیٹھا شراب پی رہا تھا دو ناچنے والیاں ہلکی ہلکی موسیقی پر مستی میں آئی ہوئی ناگنوں کی طرح مسحور کن اداؤں سے رقص کر رہی تھیں
انکے پاؤں میں گھنگروں نہیں تھے
انکے جسموں پر کپڑے صرف اس قدر تھے کہ ان کے ستر ڈھکے ہوے تھے اس رقص میں خمار کا تاثر تھا
دربان اندر آیا اور ناجی کے کان میں کچھ کہا ناجی جب شراب اور رقص کے نشے میں محو ہوتا تھا تو کوئی اندر آنے کی جرات نہیں کر سکتا تھا
صرف ناجی کو معلوم تھا کہ وہ کونسا کام ہے جس کے لیے ناجی شراب و شباب کی محفل سے اٹھا کرتا ہے ورنہ وہ اندر آنے کی جرات نہیں کرتا تھا اسکی بات سنتے ہی ناجی باہر نکل گیا وہاں سوڈانی لباس میں ملبوس ایک ادھیڑ عمر کا آدمی تھا اسکے ساتھ ایک جوان لڑکی تھی ناجی کو دیکھ کر وہ اٹھی ناجی اسکے چہرے کی دلکشی اور قد کاٹھ دیکھ کر ٹھٹک گیا وہ عورتوں کا شکاری تھا اسے عورتیں صرف عیاشی کے لیے درکار نہیں تھیں ان سے وہ اور بھی کئی کام لیا کرتا تھا جن میں سے ایک یہ تھا کہ وہ ان میں سے بہت ہی خوبصورت اور عیار لڑکیوں کے زریعے بڑے بڑے افسروں کو اپنی مٹھی میں رکھتا تھا اور ایک کام یہ بھی کہ وہ انہیں امیروں اور حکمرانوں کو بلیک میل کرنے کے لیےاستعمال کیا کرتا تھا اور ساتھ میں ان سے جاسوسی بھی کراتا تھا
جس طرح قصاب جانور کو دیکھ کر بتاتا ہے کہ اسکا گوشت کتنا ہے اس طرح ناجی بھی لڑکی کو دیکھ کر بتاتا کہ یہ لڑکی کس کام کے لیے موزوں ہے لڑکیوں کے بیوپاری اور بردہ فروش اکثر مال ناجی کے پاس ہی لایا کرتے تھے۔

یہ آدمی بھی ایسے ہی بیوپاریوں میں سے لگتا تھا لڑکی کے مطلق اس نے بتایا کہ لڑکی تجربہ کار ہے ناچ بھی سکتی ہے اور پتھر کو زبان کے میٹھے پن کی وجہ سے پانی میں تبدیل بھی کر سکتی ہے ناجی نے اسکا تفصیلی انٹرویو لیا وہ اس فن کا ماہر تھا اس نے رائے قائم کی کہ جس کام کے لیے وہ اس لڑکی کو تیار کر رہا ہے تھوڑی سی ٹرینگ کے بعد یہ لڑکی اس کام کے لیے موزوں ہوگی، بیوپاری قیمت وصول کر کے چلاگیا ناجی اس لڑکی کو اپنے کمرے میں لیکر چلاگیا جہاں اسکے ساتھی رقص اور شراب سے دل بہلا رہے تھے، 
اس نے لڑکی کو نچانے کے لیے کہا اور جب لڑکی نے اپنا چغہ اتار کر اپنے جسم کو دو بل دیئے تو ناجی اور اسکے ساتھی تڑپ اٹھے پہلے ناچنے والیوں کے رنگ پیلے پڑ گئے کیونکہ ان کی قیمت کم ہو گئی تھی ناجی نے اس وقت محفل برخاست کردی اور لڑکی کو پاس بٹھا کر سب کو باہر نکال دیا لڑکی سے نام پوچھا تو اس نے زکوئی بتایا ناجی نے اس سے کہا،
زکوئی تم کو یہاں لانے والے نے بتایا ہے کہ تم پتھر کو پانی میں تبدیل کر سکتی ہو میں تمہارا یہ کمال دیکھنا چاہتا ہو
وہ پتھر کون ہے 
زکوئی نے سوال کیا
نیا امیر مصر ناجی نے کہا وہ سالار اعظم بھی ہے
سلطان صلاح الدین ایوبی ؟؟؟زکوئی نے پوچھا۔
ہاں اگر تم اسکو پانی میں تبدیل کردو تو میں اسکے وزن جتنا سونا تمھارے قدموں میں رکھ دوں گا

وہ شراب تو پیتا ہوگا
 زکوئی نے پوچھا۔

نہیں شراب ناچ گانا تفریح سے وہ اتنی ہی نفرت کرتا ہے جتنی ایک مسلمان خنزیر سے کرتا ہے ناجی نے کہا۔
میں نے سنا تھا آپکے پاس تو لڑکیوں کا ایک طلسم ہے جو نیل کی روانی کو روک لیتا ہے تو کیا وہ طلسم ناکام ہوا۔۔۔۔۔۔۔؟
زکوئی نے پوچھا۔
میں نے ابھی تک انکو آزمایا نہیں ہے یہ کام تم کر سکتی ہو میں تم کو سلطان کی عادتوں کے بارے میں بتا دیتا ہوں ناجی نے کہا۔
کیا آپ اسے زہر دینا چاہتے ہیں
 زکوئی نے پوچھا۔
نہیں ابھی نہیں میری اسکے ساتھ کوئی دشمنی نہیں میں بس یہ چاہتا ہوں کہ وہ ایک بار کسی تم جیسی لڑکی کے جال میں پھنس جائے پھر میں اسے اپنے پاس بیٹھا کر شراب پلا سکوں اگر اسکو قتل کرنا مقصود تھا تو میں یہ کام حشیشن سے آسانی کے ساتھ کر سکتا تھا ناجی نے جواب دیا۔۔۔
یعنی آپ سلطان سے دشمنی نہیں دوستی کرنا چاہتے ہیں
زکوئی نے کہا اتنا برجستہ جملہ سن کر ناجی لڑکی کو چند لمحے غور سے دیکھتا رہا لڑکی اسکی توقع سے زیادہ زہین تھی۔
ہاں زکوئی !!!ناجی نے اسکے نرم و ملائم بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوے کہا میں اسکے ساتھ دوستی کرنا چاہتا ہوں ایسی دوستی کہ وہ میرا ہمنوا اور ہم پیالہ بن جائے آگے میں جانتا ہوں کہ مجھے اس سے کیا کام لینا ہے
ناجی نے کہا اور ذرا سوچ کر بولا لیکن میں تمہیں یہ بھی بتا دوں کہ ایک جادو سلطان کے ہاتھوں میں بھی ہے اگر تمہارے حسن پر اسکے ہاتھ کا جادو چل گیا تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا اگر تم نے مجھے دھوکہ دیا تو تم ایک دن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکو گی صلاح الدین ایوبی تم کو موت سے بچا نہیں سکے گا تمہاری زندگی اور موت میرے ہاتھوں میں ہے تم مجھے دھوکہ نہیں دے سکو گی اس لئے میں نے تمہارے ساتھ کھل کر بات کی ہے ورنہ میری حیثیت اور رتبے کا انسان ایک پیشہ ور لڑکی سے پہلی ملاقات میں ایسی باتیں نہیں کرتا
یہ آپکو آنے والا وقت بتائے گا کہ کون کس کو دھوکہ دیتا ہے زکوئی نے کہا مجھے یہ بتائیں کہ میری سلطان تک رسائی کیسے ہوگی؟؟؟
میں اسے ایک جشن میں بلا رہا ہوں ناجی نے کہا اور اسی رات میں تمہیں اس کے خیمے میں داخل کردوں گا۔ میں نے تمہیں اسی مقصد کے لیے بلایا ہے
باقی میں سنبھال لونگی زکوئی نے کہا۔
وہ رات گزر گئی پھر اور کئی راتیں گزر گئیں سلطان صلاح الدین ایوبی انتظامی اور فوج کی نئی بھرتی میں اتنا مصروف تھا کہ ناجی کی دعوت قبول کرنے کا وقت نہیں نکال سکا علی بن سفیان نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو ناجی کے مطابق جو ریورٹ دی تھی اس نے سلطان کو پریشان کردیا تھا 
سلطان نے علی سے کہا
اس کا مطلب یہ ہے کہ ناجی صلیبیوں سے بھی زیادہ خطرناک ہے یہ ایک سانپ ہے جسے مصر کی امارات آستین میں پال رہی ہے
علی بن سفیان نے ناجی کی تخزیب کاری کی تفصیل بتانی شروع کردی کہ ناجی نے کس طرح بڑے بڑے عہدیداروں کو ہاتھ میں لیا اور انتظامیہ میں من مانی کرتا رہا اور کہا اور جس سوڈانی سپاہ کا وہ سپہ سالار ہے وہ ہماری بجائے ناجی کی وفادار ہے کیا آپ اسکا کوئی علاج سوچ سکتے ہیں؟
صرف سوچ ہی نہیں سکتا علاج شروع بھی کر چکا ہوں، مصر سے جو سپاہ بھرتی کیے جا رہے ہیں وہ سوڈانی باڈی گارڈز میں گڈ مڈ کردوں گا پھر یہ فوج نہ سوڈانی ہوگی اور نہ مصری ناجی کی یہ طاقت بکھر کر ہماری فوج میں جذب ہو جائے گی ناجی کو میں اسکے اصل ٹھکانے پر لیں آؤں گا سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا۔
اور میں یہ وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ناجی نےصلیبیوں کے ساتھ بھی گٹھ جوڑ رکھا ہے علی بن سفیان نے کہا آپ ملت اسلامیہ کو ایک مضبوط مرکز پر لاکر اسلام کو وسعت دینا چاہتے ہیں مگر ناجی آپکے خوابوں کو دیوانے کا خواب بنا رہا ہے

تم اس سلسلے میں کیا کر رہے ہو؟
سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا۔
یہ مجھ پر چھوڑ دیں
علی نے کہا میں جو کروں گا وہ آپکو ساتھ ساتھ بتاتا رہوں گا آپ مطمئن رہیں میں نے اسکے گرد جاسوسوں کی ایسی دیوار چن دی ہے جس کی آنکھیں بھی ہیں کان بھی ہیں اور یہ دیوار متحرک ہے
یوں سمجھ لیں کہ میں نے اسکو اپنے جاسوسی کے قلعے میں قید کرلیا ہے

سلطان صلاح الدین ایوبی کو علی بن سفیان پر اس قدر اعتماد تھا کہ اس نے علی سے اسکے درپردہ کاروائی کی تفصیل نہ پوچھی علی نے سلطان سے پوچھا معلوم ہوا ہے وہ آپکو جشن پر بلانا چاہتا ہے اگر یہ ٹھیک بات ہے تو اسکی دعوت اس وقت قبول کر لیجئے گا جب میں آپکو بتاؤں گا
ایوبی اٹھا اور اپنے ہاتھ پیچھے کر کے ٹہلنے لگا اسکی آہ نکلی وہ رک گیا اور بولا علی بن سفیان زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے بے مقصد زندگی سے بہتر نہیں کہ انسان پیدا ہوتے ہی مر جائے۔؟ 
کبھی کبھی یہ بات دماغ میں آتی ہے کہ وہ لوگ کتنے خوش نصیب ہیں جن کی قومی حس مردہ ہوچکی ہوتی ہے اور جن کا کوئی کردار نہیں ہوتا بڑے مزے سے جیتے ہیں اور اپنی آئی پر مر جاتے ہیں
وہ بد نصیب ہے امیر محترم علی بن سفیان نے کہا۔
ہاں علی بن سفیان میں جب انہیں خوش نصیب کہتا ہوں تو پتہ نہیں کون میرے کانوں میں یہ بات ڈال دیتا ہے جو تم نے کہی مگر سوچتا ہوں کہ اگر ہم نے تاریخ کا دھارا اس موڑ پر نہ بدلہ تو ملت اسلامیہ صحراؤں ، وادیوں میں گم ہو جائے گی ملت کی خلافت تین حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے امیر من مانی کر رہے ہیں اور صلیبیوں کا آلہ کار بن رہے ہیں مجھے اس بات کا ڈر بھی ہے کہ اگر مسلمان زندہ بھی رہے تو وہ ہمیشہ صلیبیوں کے غلام اور آلہ کار رہیں گے وہ اسی پر خوش ہونگے کہ وہ زندہ ہیں مگر قوم کی حیثیت سے وہ مردہ ہونگے ذرا نقشہ دیکھو علی۔۔۔! آدھی صدی میں ہماری سلطنت کا نقشہ کتنا سکڑ کر رہ گیا ہے وہ خاموش ہوگیا اور ٹہلنے لگا اور پھر سر جھٹک کر علی کو دیکھنے لگا۔
جب تباہی اپنے اندر سے ہو تو اسے روکنا محال ہوتا ہے اگر ہماری خلافتوں اور امارتوں کا یہی حال رہا تو صلیبیوں کو ہم پر حملہ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی وہ آگ جس میں ہم اپنا ایمان اپنا کردار اپنی قومیت جلا رہے ہیں اس میں صلیبی آہستہ آہستہ تیل ڈالتے رہیں گے انکی سازشیں ہمیں آپس میں لڑاتی رہیں گی میں شاید اپنا عزم پورا نہ کرسکوں میں شاید صلیبیوں سے شکست بھی کھا جاؤں لیکن میں قوم کے نام ایک وصیت چھوڑنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ کسی غیر مسلم پر کبھی بھروسہ نہیں کرنا انکے خلاف لڑنا ہے تو لڑ کر مر جانا  کسی غیر مسلم کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کوئی معاہدہ نہ کرنا
"آپکا لہجہ بتا رہا ہے کہ جیسے آپ اپنے عزم سے مایوس ہوگئے ہیں
علی بن سفیان نے کہا۔
مایوس نہیں جذباتی
علی میرا ایک حکم متعلقہ شعبہ تک پہنچاؤ بھرتی تیز کردو اور کوشش کرو کہ فوج کے لیے ایسے آدمی زیادہ سے زیادہ بھرتی کرو جنکو جنگ و جدل کا پہلے سے تجربہ ہو ہمارے پاس اتنی لمبی تربیت کا وقت نہیں بھرتی ہونے والوں کے لیے مسلمان ہونا لازمی قرار دو اور تم اپنے لیے زہن نشین کرلو کہ ایسے جاسوسوں کا دستہ تیار کرو جو دشمن کے علاقے میں جا کر جاسوسی بھی کریں اور شب خون بھی ماریں یہ جانبازوں کا دستہ ہوگا انہیں خصوصی تربیت دو ان میں یہ صفات پیدا کرو کہ وہ اونٹ کی طرح صحرا میں زیادہ سے زیادہ عرصہ پیاس برداشت کر سکیں انکی نظریں عقاب کی طرح تیز ہوں ان میں صحرائی لومڑی کی مکاری ہو اور وہ دشمن پر چیتے کی طرح جھپٹنے کی مہارت طاقت کے مالک ہوں ان میں شراب اور حشیش کی عادت نہ ہو اور عورت کے لیے وہ برف کی طرح یخ ہوں بھرتی تیز کرا دو علی سفیان اور یاد رکھو میں ہجوم کا قائل نہیں مجھے لڑنے والوں کی ضرورت ہے خواہ تعداد تھوڑی ہو ان میں قومی جذبہ ہو اور وہ میرے عزم کو سمجھتے ہوں کسی کے دل میں یہ شبہ نہ ہو کہ اسے کیوں لڑایا جا رہا ہے...

اگلے دس دنوں میں ہزارہا تربیت یافتہ سپاہی امارت مصر کی فوج میں آگئے اور ان دس دنوں میں ذکوئی کو ناجی نے ٹرینئنگ دے دی کہ وہ سلطان کو کون کون سے طریقے سے اپنے حسن کی جال میں پھنسا کر اسکی شخصیت اور اسکا کردار کمزور کر سکتی ہے
ناجی کے ہمراز دوستوں نے جب ذکوئی کو دیکھا تو انہوں نے کہا کہ مصر کے فرعون بھی اس لڑکی کو دیکھ لیتے تو وہ خدائی کے وعدے سے دستبردار ہو جاتے، ناجی کا جاسوسی کا اپنا نظام تھا بہت تیز اور دلیر، وہ معلوم کر چکا تھا کہ علی بن سفیان سلطان کا خاص مشیر ہے۔ اور عرب کا مانا ہوا سراغرساں اس نے علی کے پیچھے اپنے جاسوس چھوڑ دیئے تھے اور علی کو قتل کرنے کا منصوبہ بھی بنا لیا تھا ۔ ذکوئی کو ناجی نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو اپنے جال میں پھسانے کے لیے تیار کیا تھا، لیکن وہ محسوس نہیں کر سکا کہ مراکش کی رہنے والی یہ لڑکی خود اسکے اپنے اعصاب پر سوار ہو گئی ہے وہ صرف شکل و صورت ہی کی دلکش نہیں تھی، اسکی باتوں میں ایسا جادو تھا کہ ناجی اسکو اپنے پاس بٹھا کر باتیں ہی کیا کرتا تھا اس نے دو ناچنے گانے والیوں سے نگاہیں پھیر لیں جو اسکی منظور نظر تھیں، تین چار راتوں سے ناجی نے ان لڑکیوں کو اپنے کمرے میں بلایا نہیں تھا، ناجی سونے کے انڈے دینے والی مرغی تھی جو انکے آغوش سے ذکوئی کی آغوش میں چلی گئی تھی، انہوں نے ذکوئی کو راستے سے ہٹانے کی ترکیبیں شروع کردیں
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
یہ تحریر آپ کے لئے آئی ٹی درسگاہ کمیونٹی کی جانب سے پیش کی جارہی ہے۔
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
وہ آخر اس نتیجے پر پہنچے کہ اسے قتل کیا جائے لیکن اسکو قتل کرنا اتنا آسان نہ تھا 
کیونکہ ناجی نے اسے جو کمرہ دیا تھا اس پر دو محافظوں کا پہرہ ہوا کرتا تھا اسکے علاوہ یہ دونوں لڑکیاں اس مکان سے بلا اجازت نہیں نکل سکتی تھیں جو ناجی نے انہیں دے رکھا تھا انہوں نے حرم کی خادمہ (نوکرانی) کو اعتماد میں لینا شروع کیا وہ اسکے ہاتھوں ذکوئی کو زہر دینا چاہتی تھیں
علی بن سفیان نے سلطان صلاح الدین ایوبی کا محافظ دستہ بدل دیا یہ سب امیر مصر کے پرانے باڈی گارڈز تھے 
اسکی جگہ علی نے ان سپاہیوں میں باڈی گارڈز کا دستہ تیار کیا جو نئے آئے تھے یہ جانبازوں کا نیا دستہ تھا جو سپاہ گری میں بھی تاک تھا اور جذبے کے لحاظ سے ہر سپاہی اس دستے کا اصل میں مرد مجاہد تھا 
ناجی کو یہ تبدیلی بلکل بھی پسند نہیں تھی
لیکن اس نے سلطان صلاح الدین ایوبی کے سامنے اس تبدیلی کی بے حد تعریف کی اور اسکے ساتھ ہی درخواست کی کہ سلطان صلاح الدین ایوبی اسکی دعوت کو قبول کریں 
سلطان صلاح الدین ایوبی نے اسکو جواب دیا کہ وہ ایک آدھ دن میں اسکو بتائے گا کہ وہ کب ناجی کی دعوت قبول کرے گا 
ناجی کے جانے کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی نے علی سے مشورہ کیا کہ وہ دعوت پر کب جائے علی نے مشورہ دیا کہ اب وہ کسی بھی روز دعوت کو قبول کریں
دوسرے دن سلطان صلاح الدین ایوبی نے ناجی کو بتایا کہ وہ کسی بھی رات دعوت پر آسکتا ہے ناجی نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو تین دن کے بعد کی دعوت دی اور بتایا کہ یہ دعوت کم اور جشن زیادہ ہوگا اور یہ جشن شہر سے دور صحرا میں مشعلوں  میں منایا جائے گا، ناچ گانے کا انتظام ہوگا باڈی گارڈز کے گھوڑے اپنا کرتب دکھائینگے شمشیر زنی اور بغیر تلوار کے لڑائیوں کے مقابلے ہونگے اور سلطان صلاح الدین ایوبی کو رات وہیں قیام کرنا پڑے گا رہائشں کے لیے خیمے نصب ہونگے  سلطان صلاح الدین ایوبی پروگرام کی تفصیل سنتا رہا اس نے ناچنے گانے پر اعتراض نہیں کیا تھا
ناجی نے ڈرتے اور جھجکتے ہوئے کہا فوج کے بیشتر سپاہی جو مسلمان نہیں یا جو ابھی نیم مسلمان ہیں کھبی کھبی شراب پیتے ہیں، وہ شراب کے عادی نہیں لیکن وہ اجازت چاہتے ہیں کہ جشن میں انہیں شراب پینے کی اجازت دی جائے 
آپ ان کے کمانڈر ہو صلاح الدین ایوبی نے کہا۔ آپ چاہے ان کو اجازت دے دیں نہ چاہیں تو میں آپ پر اپنا حکم  نہیں چلاؤں گا

امیر مصر کا اقبال بلند ہو ناجی نے غلاموں کی طرح کہا۔ میں کون ہوتا ہوں اس کام کی اجازت دینے والا جس کو آپ سخت ناپسند کریں
انہیں اجازت دے دیں کہ جشن کی رات ہنگامہ آرائی اور بدکاری کے سوا سب کچھ کر سکتے ہیں اگر شراب پی کر کسی نے ہلہ گلہ کیا تو اس کو سخت سزا دی جائے گی سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا
یہ خبر جب سلطان صلاح الدین ایوبی کے سپاہیوں تک پہنچی کہ ناجی سلطان صلاح الدین ایوبی کے اعزاز میں جشن منعقد کررہا ہے اور اس میں ناچ گانا بھی ہوگا شراب بھی ہوگی اور سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس جشن کی دعوت ان سب خرافات کے باوجود بھی قبول کی ہے تو وہ ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہے کسی نے کہا کہ ناجی جھوٹ بولتا ہے اور دوسروں پر اپنا رعب ڈالنا چاہتا ہے اور کسی نے کہا ناجی کا جادو سلطان صلاح الدین ایوبی پر بھی چل گیا یہ رائے ناجی کے ان افسروں کو بھی پسند آئی جو ناجی کے ہم نوا اور ہم پیالہ تھے، سلطان صلاح الدین ایوبی نے چارج لیتے ہی ان کی عیش و عشرت شراب اور بدکاری حرام کردی تھی، 
سلطان صلاح الدین ایوبی نے ایسا سخت ڈسپلن رائج کیا کہ کسی کو بھی پہلے کی طرح اپنے فرائض سے کوتاہی کی جرات نہیں ہوتی تھی، وہ اس پر خوش تھے کہ نئے امیر مصر نے ان کو رات کی شراب کی اجازت دی تھی تو کل وہ بھی خود ان سب چیزوں کا رسیا ہو جائے گا، صرف علی بن سفیان تھا جسے معلوم تھا کہ سلطان نے ان سب خرافات کی اجازت کیوں دی تھی

جشن کی شام آگئی ایک تو چاندنی رات تھی صحرا کی چاندنی اتنی شفاف ہوتی ہے کہ ریت کے زرے بھی نظر آجاتے ہیں 
دوسرے ہزارہا مشغلوں نے وہاں کی صحرا کو دن بنایا تھا باڈی گارڈز کا ہجوم تھا جو ایک وسیع میدان کے گرد دیواروں کی طرح کھڑا تھا ایک طرف جو مسند سلطان صلاح الدین ایوبی کے لیے رکھی گئی تھی وہ کسی بہت بڑے بادشاہ کا تخت معلوم ہوتا تھا 
اسکے دائیں بائیں بڑے مہمانوں کے لیے نشستیں رکھی گئی تھیں اس وسیع و عریض تماشہ گاہ سے تھوڑی دور مہمانوں کے لیے نہایت خوبصورت خیمے نصب تھے 
ان سے ہٹ کر ایک بڑا خیمہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے لیے نصب کیا گیا تھا جہاں اسے رات بسر کرنی تھی
علی بن سفیان نے صبح سورج غروب ہونے سے پہلے وہاں جاکر محافظ کھڑے کردیئے تھے 
جب علی بن سفیان وہاں محافظ کھڑے کر رہا تھا تو ناجی ذکوئی کو آخری ہدایات دے رہا تھا
اس شام ذکوئی کا حسن کچھ زیادہ ہی نکھر آیا تھا  اسکے جسم سے عطر کی ایسی بھینی بھینی خوشبو اٹھ رہی تھی۔ جس میں سحر کا تاثر تھا اس نے بال عریاں کندھوں پر پھیلا دیے تھے 
سفید کندھوں پر سیاہی مائل بھورے بال زاہدوں کی نظروں کو گرفتار کرتے تھے
اسکا لباس اتنا باریک تھا کہ اسکے جسم کے تمام نشیب و فراز دکھائی دیتے تھے 
اسکے ہونٹوں پر قدرتی تبسم ادھ کھلی کلی کی طرح تھا
ناجی نے اسکو سر سے پاؤں تک دیکھا تمہارے حسن کا شاید سلطان صلاح الدین ایوبی پر اثر نہ ہو تو اپنی زبان استعمال کرنا وہ سبق بھولنا نہیں جو میں اتنے دنوں سے تمہیں پڑھا رہا ہوں اور یہ بھی نہ بھولنا کہ اسکے پاس جاکر اسکی لونڈی نہ بن جانا انجیر کا وہ پھول بن جانا جو درخت کی چوٹی پر نظر آتا ہے مگر درخت پر چڑھ کر دیکھو تو غائب اسے اپنے قدموں میں بٹھا لینا میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تم اس پتھر کو پانی میں تبدیل کرسکتی ہو اس سرزمین میں قلوپطرہ نے سینرز جیسے مرد آہن کو اپنے حسن و جوانی سے پھگلا کر مصر کے ریت میں بہادیا تھا قلوپطرہ تم سے زیادہ خوبصورت نہیں تھی میں نے تم کو جو سبق دیا ہے وہ قلوپطرہ کی چالیں تھیں عورت کی یہ چالیں کھبی ناکام نہیں ہو سکتیں ناجی نے کہا ذکوئی مسکرا رہی تھی اور بڑے غور سے سن رہی تھی مصر کی ریت نے ایک اور حسین قلوپطرہ کو حسین ناگن کی طرح جنم دیا تھا مصر کی تاریح اپنے آپ کو دہرانے والی تھی سورج غروب ہوا تو مشعلیں جل اٹھیں۔

سلطان صلاح الدین ایوبی گھوڑے پر سوار آگیا سلطان کے آگے پیچھے دائیں بائیں اس کے محافظ دستے کے گھوڑے تھے جو علی بن سفیان نے منتحب کیے تھے اسی دستے میں سے ہی اس نے دس محافظ شام سے پہلے ہی یہاں لاکر سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے کے گرد کھڑے کردیئے تھے
سازندوں نے دف کی آواز پر استقبالیہ دھن بجائی اور صحرا امیر مصر صلاح الدین ایوبی زندہ باد کے نعروں سے گونجنے لگا ناجی نے آگے بڑھ کر استقبال کیا اور کہا آپ کے جانثار عظمت اسلام کے پاسبان آپکو بسیروچشم خوش آمدید کہتے ہیں ان کی بے تابیاں اور بے قراریاں دیکھیں آپ کے اشارے پر کٹ مریں گے اور خوشامد کے لیے اسکو جتنے الفاظ یاد آئے ناجی نے کہہ ڈالے۔

جونہی سلطان صلاح الدین ایوبی اپنی شاہانہ نشست پر بیٹھا سر پٹ دوڑتے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں گھوڑے جب روشنی میں آئے تب اس نے دیکھا کہ چار گھوڑے دائیں سے اور 4 بائیں سے آ رہے تھے ہر ایک پر ایک ایک سوار تھا اور ان کے پاس ہتھیار نہیں تھے وہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آرہے تھے صاف ظاہر تھا کہ وہ ٹکرا جائینگے کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا کرینگے وہ ایک دوسرے کے قریب آئے تو سوار رکابوں میں پاؤں جمائے کھڑے ہوے پھر انہوں نے لگامیں ایک ایک ہاتھ میں تھام لیں اور دوسرے بازو پھیلا دیئے دونوں اطرف کے گھوڑے بلکل آمنے سامنے آگئے اور سواروں کی دونوں پارٹیاں ایک دوسرے سے الجھ گیں۔ سواروں نے ایک دوسرے کو پکڑنے اور گرانے کی کوشش کی سب گھوڑے جب آگے نکل گئے تو دو سوار جو گھوڑوں سے گر گئے تھے ریت پر قلابازیاں کھا رہے تھے ایک طرف کے ایک سوار نے دوسری طرف کے ایک سوار کو ایک بازو میں جھکڑ کر اسے گھوڑے سے اٹھا لیا تھا اور اسے اپنے گھوڑوں پر لاد کر لے جا رہا تھا، ہجوم نے اس قدر شور برپا کیا تھا کہ اپنی آواز خود کو سنائی نہیں دے رہی تھی
یہ سوار اندھیرے میں غائب ہوئے تو دونوں اطرف سے اور چار چار گھڑ سوار آئے اور مقابلہ ہوا اس طرح آٹھ مقابلے ہوئے اور اسکے بعد شتر سوار آئے پھر گھڑ سواروں اور شتر سواروں نے کئی کرتب دکھائے اسکے بعد تیغ زنی اور بغیر ہتھیاروں کے لڑائی کے مظاہرے ہوے جن میں کئی ایک سپاہی زخمی ہوئے سلطان صلاح الدین ایوبی شجاعت اور بہادری کے ان مقابلوں میں جذب ہوکر رہ گیا تھا اسے ایسی ہی بہادر فوج کی ضرورت تھی سلطان صلاح الدین ایوبی نے علی بن سفیان کے کان میں کہا  اگر اس فوج میں اسلامی جذبہ بھی ہو میں اسی فوج سے ہی صلیبیوں کو گھٹنوں پر بٹھا سکتا ہوں

علی بن سفیان نے وہی مشورہ دیا جو اس نے پہلے دیا تھا۔
اگر ناجی سے کمان لی جائے تو جذبہ بھی پیدا کیا جا سکتا ہے 
علی بن سفیان نے کہا مگر سلطان صلاح الدین ایوبی ناجی جیسے سالار کو سبکدوش نہیں کرنا چاہتا تھا بلکہ سدھار کر راہ حق پر لانا چاہتا تھا
وہ اس جشن میں اپنی آنکھوں سے یہی دیکھنے آیا تھا کہ یہ فوج اخلاقیات کے لحاظ سے کیسی بے اس کو ناجی کے اس بات سے ہی مایوسی ہوئی تھی کہ ناجی کے کمانڈر اور سپاہی شراب پینا چاہتے ہیں اور ناچ گانا بھی ہوگا سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس درخواست کی منظوری صرف اس وجہ سے دی تھی کہ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ یہ فوج کس حد تک عیش و عشرت میں ڈوبی ہوئی ہے۔

بہادری شجاعت شاہسواری تیغ زنی تلوار زنی میں تو یہ فوج جنگی معیار پر پوری اترتی تھی لیکن جب کھانے کا وقت آیا تو یہ فوج بدتمیزیوں بلانوشوں اور ہنگامہ پرور لوگوں کا ہجوم بن گئی کھانے کا انتظام وسیع و عریض میدان میں کیا گیا تھا اور ان سے ذرا دور سلطان صلاح الدین ایوبی اور دیگر مہمانون کے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا سینکڑون سالم دنبے اور بکرے اونٹوں کی سالم رانیں اور ہزاروں مرغ روسٹ کیے گئے تھے دیگر لوازمات کا کوئی شمار نہ تھا اور سپاہیوں کے سامنے شراب کے چھوٹے چھوٹے مشکیزے اور صراحیاں رکھ دی گئی تھیں ، سپاہی کھانے اور شراب پر ٹوٹ پڑے اور غٹاغٹ شراب چڑھانے لگے اور معرکہ آرائی ہونے لگی سلطان صلاح الدین ایوبی یہ منظر دیکھ رہا تھا اور خاموش تھا اسکے چہرے پر کوئی تاثر نہ تھا جو یہ ظاہر کرتا کہ وہ کیا سوچ رہا ہے اس نے ناجی سے صرف اتنا کہا پچاس ہزار فوج میں آپ نے یہ آدمی کس طرح منتخب کیئے کیا یہ آپکے بدترین سپاہی ہیں؟

نہیں امیر مصر! یہ دو ہزار عسکری میرے بہترین سپاہی ہیں آپ نے انکے مظاہرے دیکھے ان کی بہادری دیکھی ہے میدان جنگ میں جس جانبازی کا مظاہرہ کرینگے وہ آپکو حیران کردیگی آپ انکی بدتمیزی کو نہ دیکھیں یہ آپکے اشارے پر جانیں قربان کردینگے میں انہیں کھبی کھبی کھلی چھٹی دے دیا کرتا ہوں کہ مرنے سے پہلے دنیا کے رنگ و بو کا پورا مزہ اٹھا لیں ناجی نے غلامانہ لہجے میں کہا
سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس استدلال کے جواب میں کچھ نہیں کہا ناجی جب دوسرے مہمانوں کی طرف متوجہ ہوا تو سلطان صلاح الدین ایوبی نے علی بن سفیان سے کہا میں جو دیکھنا چاہتا تھا  وہ دیکھ لیا ہے یہ سوڈانی شراب اور ہنگامہ آرائی کے عادی ہیں تم کہتے ہو ان میں جذبہ نہیں ہے میں دیکھ رہا ہوں ان میں کردار بھی نہیں ہے  اس فوج کو اگر تم لڑنے کے لیے میدان جنگ میں لے گئے تو یہ لڑنے کی بجائے اپنی جان بچانے کی فکر کریں گے اور مال غنیمت لوٹیں گے اور مفتوح کی عورتوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کریں گے   اسکا علاج یہ ہے کہ آپ نے جو فوج مصر کے مختلف خطوں سے بھرتی کی ہے اسکو ناجی کی 50 ہزار فوج میں مدغم کرلیں برے سپاہی اچھے سپاہیوں کے ساتھ مل کر اپنی عادتیں بدل دیا کرتے ہیں  علی بن سفیان نے کہا ۔
 سلطان صلاح الدین ایوبی مسکرایا اور کہا "تم یقینا میرے دل کا راز جانتے ہو میرا منصوبہ یہی ہے جو میں ابھی تمہیں نہیں بتانا چاہ رہا تھا تم اسکا زکر کسی سے نہ کرنا
علی بن سفیان میں یہی وصف تھی کہ وہ دوسرے کے دل کا راز جان لیتا تھا اور غیر معمولی طور پر زہین تھا وہ کچھ اور کہنے ہی لگا تھا کہ ان کے سامنے مشعلیں روشن ہوئیں زمین پر بیش قیمت قالین بچھے ہوئے تھے شہنائی اور سارنگ کا ایسا میٹھا نغمہ ابھرا کہ مہمانوں پر سناٹا چھا گیا ایک طرف سے ناچنے والیوں کی قطار نمودار ہوئی بیس لڑکیاں ایسے باریک اور نفیس لباس میں چلی آرہی تھیں کہ ان کے جسموں کا انگ انگ نظر آرہا تھا ہر ایک کا لباس باریک چغہ سا تھا جو شانوں سے ٹخنوں تک تھا ان کے بال کھلے ہوئے تھے اور اسی ریشم کا حصہ نظر آرہے تھے جسکا انہوں نے لباس پہنا ہوا تھا صحرا کی ہلکی ہلکی ہوا سے اور لڑکیوں کی  چال سے یہ ڈھیلا ڈھالا لباس ملتا تھا تو یوں لگتا تھا جیسے پھولدار پودوں کی ڈالیاں ہوا میں تیرتی ہوئی آ رہی ہوں ہر ایک کے لباس کا رنگ جدا تھا ہر ایک کی شکل و صورت ایک دوسرے سے مختلف تھی لیکن حسن جسم کی لچک میں ساری ایک ہی جیسی تھیں انکے مرمریں بازو عریاں تھے وہ چلتی آرہی تھیں لیکن قدم اٹھتے نظر نہیں آرہے تھے وہ ہوا کی لہروں کی مانند تھیں وہ نیم دائرے میں ہوکر رہ گئیں سلطان صلاح الدین ایوبی کی طرف منہ کر کہ تعظیم کے لیے جھکیں سب کے بال سرک کر شانوں پر آگے سازندوں نے ان ریشمی بالوں اور جسموں کے جادو میں طلسم پیدا کردیا تھا دو سیاہ فام دیو ہیکل حبشی جن کے کمر کے گرد چیتوں کی کالی تھی ایک بڑا سا ٹوکرہ اٹھائے تیز تیز قدم چلتے آئے اور ٹوکرا نیم دائرے کے سامنے رکھ دیا ساز سپیروں کے بین کی دھن بجانے لگے ، حبشی مست سانڈوں کی طرح پھنکارتے ہوئے غائب ہوئے ٹوکری میں سے ایک بڑی کلی اٹھی اور پھول کی طرح کھل گئی، اس پھول میں سے ایک لڑکی کا چہرہ نمودار ہوا اور پھر وہ اوپر کو اٹھنے لگی یوں لگنے لگا جیسے یہ سرخ بادلوں میں ایک چاند نکل رہا ہو یہ لڑکی اس دنیا کی معلوم نہیں ہوتی تھی اسکی مسکراہٹ بھی عارضی نہیں تھی اسکی آنکھوں کی چمک بھی مصر کی کسی لڑکی کے آنکھوں کی چمک نہیں لگتی تھی اور جب لڑکی نے پھولوں کی چوڑی پتیوں میں سے باہر قدم رکھا تو اسکے جسم کی لچک نے تماشیئوں کو مسحور کرلیا، علی بن سفیان نے سلطان صلاح الدین ایوبی کی طرف دیکھا اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی 
سلطان صلاح الدین ایوبی نے اسکے کانوں میں کہا علی مجھے توقع نہیں تھی کہ یہ اتنی خوبصورت ہوگی
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*

Mian Muhammad Shahid Sharif

Accounting & Finance, Blogging, Coder & Developer, Administration & Management, Stores & Warehouse Management, an IT Professional.

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی