👑 داستانِ ایمان فروشوں کی 👑🌴⭐قسط نمبر 𝟙⭐🌴


⚔️▬▬▬๑👑 داستانِ ایمان فروشوں کی 👑๑▬▬▬⚔️
تذکرہ: سلطان صلاح الدین ایوبیؒ
✍🏻 عنایت اللّٰہ التمش
🌴⭐قسط نمبر 𝟙⭐🌴
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
تم پرندوں سے دل بہلایا کرو سپاہ گری اس انسان کے لیے ایک خطرناک کھیل ہے جو عورت اور شراب کا دلدادہ ہو
یہ تاریخی الفاظ سلطان صلاح الدین نے اپنے چچا زاد بھائی خلیفہ الصالح کے ایک امیر سیف الدین کو لکھے تھے، 
ان دونوں نے صلیبوں کو درپردہ مدد ، زر و جواہرات کا لالچ دیا اور صلاح الدین ایوبی کو شکست دینے کی سازش کی تھی
صلیبی یہی چاہتے تھے انہوں نے حملہ کیا الصالح اور سیف الدین نے ان کی مدد کی صلاح الدین ایوبی نے ان سب کو شکست دی امیر سیف الدین اپنا مال و متاع چھوڑ کر بھاگا اسکی زاتی خیمہ گاہ سے رنگ برنگے پرندے حسین اور جوان رقصایئں اور گانے والیاں ساز اور سازندے شراب کے مٹکے برامد ہوئے سلطان نے پرندوں گانے والیوں اور سازندوں کو آزاد کردیا اور امیر سیف الدین کو اس مضمون کا خط لکھا۔
تم دونوں نے کفار کی پشت پناہی کر کے ان کے ہاتھوں میرا نام و نشان مٹانے کی ناپاک کوششیں کیں مگر یہ نہ سوچا کہ تمہاری یہ ناپاک کوششیں عالم اسلام کا بھی نام و نشان مٹا سکتی تھیں۔ 
تم اگر مجھ سے حسد کرتے ہو تو مجھے قتل کرادیا ہوتا، تم مجھ پر دو قاتلانہ حملے کرا چکے ہو دونوں ناکام ہوئے اب ایک اور کوشش کر کے دیکھ لو ہو سکتا ہے کامیاب ہو جاؤ اگر تم مجھے یقین دلا دو کہ میرا سر میرے تن سے جدا ہو جائے تو اسلام اور زیادہ سر بلند ہوگا تو رب کعبہ کی قسم میں اپنا سر تمہاری تلوار سے کٹواؤں گا اور تمہارے قدموں میں رکھنے کی وصیت کرونگا میں صرف تمہیں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ کوئی غیر مسلم مسلمان کا دوست نہیں ہوسکتا تاریخ تمہارے سامنے ہے اپنا ماضی دیکھو، شاہ فرینک اور ریمانڈ جیسے اسلام دشمن تمہارے دوست صرف اس لیے بنے کہ تم نے انہیں مسلمانوں کے خلاف جنگ میں اترنے کی شہ اور مدد دی ہے۔ 
اگر وہ کامیاب ہو جاتے تو انکا اگلا شکار تم ہوتے اور اس کے بعد ان کا یہ خواب بھی پورا ہو جاتا کہ اسلام صفحہ ہستی سے مٹ جائے۔
تم جنگجو قوم کے فرد ہو فن سپاہ گری تمہارا قومی پیشہ ہے ہر مسلمان اللہ کا سپاہی ہے مگر ایمان اور کردار بنیادی شرط ہے۔ 
تم پرندوں سے دل بہلایا کرو سپاہ گری اس انسان کے لیے ایک خطرناک کھیل ہے جو عورت اور شراب کا دلدادہ ہو میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے ساتھ تعاون کرو اور میرے ساتھ جہاد میں شریک ہو جاؤ، اگر یہ نہ کرسکو تو میری مخالفت سے باز آ جاؤ، میں تمہیں کوئی سزا نہیں دوں گا
اللہ تمہارے گناہ معاف کرے آمین
(صلاح الدین ایوبی)

ایک یورپی مورخ لین پول لکھتا ہے۔
صلاح الدین کے ہاتھوں جو مال غنیمت لگا اسکا کوئی حساب نہیں تھا، 
جنگی قیدی بھی بے اندازہ تھے، سلطان نے تمام تر مال غنیمت تین حصوں میں تقسیم کیا، ایک حصہ جنگی قیدیوں میں تقسیم کر کے انکو رہا کر دیا، دوسرا حصہ اپنے سپاہیوں اور غرباء میں تقسیم کیا، اور تیسرا حصہ مدرسہ نظام المک کو دے دیا اس نے اسی مدرسے سے تعلیم حاصل کی تھی نہ خود کچھ رکھا اور نہ اپنے کسی جرنیل کو کچھ دیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جنگی قیدی جن میں بہت سے مسلمان تھے اور باقی غیر مسلم رہا ہوکر سلطان کے کیمپ میں جمع ہوگئے اور سلطان کی اطاعت قبول کر کے اپنی خدمات فوج کے لیے پیش کر دیں ایوبی کی کشادہ ظرفی اور عظمت دور دور تک مشہور ہوگئی
اس سے پہلے حسن بن صباح کے پراسرار فرقے فدائی جنہیں یورپین مورخین نے قاتلوں کا گروہ لکھا ہےصلاح الدین ایوبی پر دو بار قاتلانہ حملے کرچکے تھے لیکن اللہ نے اس عظیم مرد مجاہد سے بہت کام لینا تھا دونوں بار ایک معجزہ ہوا جس میں یہ مرد مجاہد بال بال بچ گیا سلطان پر تیسرا قاتلانہ حملہ اس وقت ہوا جب وہ اپنے مسلمان بھایئوں اور صلیبوں کی سازش کی چٹان کو شمشیر سے ریزہ ریزہ کرچکا تھا۔ 
امیر سیف الدین میدان جنگ سے بھاگ گیا تھا مگر وہ سلطان کے خلاف بغض اور کینہ سے باز نہ آیا۔ 
اس نے حسن بن صباح کے قاتل فرقے کی مدد حاصل کی۔
حسن بن صباح کا فرقہ اسلام کی آستین میں سانپ کی طرح پل رہا تھا۔ 
اس کا تفصیلی تعارف بہت ہی طویل ہے، مختصر یہ کہ جس طرح زمین سورج سے دور ہوکر گناہوں کا گہوارہ بن گئی ہے، 
اسی طرح ایک حسن بن صباح نامی ایک شخص نے اسلام سے الگ ہوکر نبیوں اور پیغمبروں والی عظمت حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا وہ اپنے آپکو مسلمان ہی کہلاتا رہا اور ایسا گروہ بنالیا جو طلسماتی طریقوں سے لوگوں کو اپنا پیروکار بناتا اس مقصد کے لیے اس گروہ نے نہایت حسین لڑکیاں نشہ آور جڑی بوٹیاں ہیپناٹزم اور چرب زبانی جیسے طریقے اختیار کیے بہشت بنائی جس میں جاکر پتھر بھی موم ہو جاتے تھے اپنے مخالفین کو قتل کرانے کے لیے ایک گروہ تیار کیا، قتل کے طریقے خفیہ اور پر اسرار ہوتے تھے، اس فرقے کے افراد اس قدر چلاک زہین اور نڈر تھے کہ بھیس اور زبان بدل کر بڑے بڑے جرنیلوں کے باڈی گارڈ تک بن جاتے تھے اور جب کوئی پراسرار طریقے سے قتل ہو جاتا تو قاتلوں کا سراغ ہی نہیں مل پاتا، کچھ عرصہ بعد یہ فرقہ قاتلوں کا گروہ کے نام سے مشہور ہوا 
یہ لوگ سیاسی قتل کے ماہر تھے زہر بھی استعمال کیا کرتے تھے، 
جو حسین لڑکیوں کے ہاتھوں شراب میں دیا جاتا تھا بہت مدت تک یہ فرقہ اسی مقصد کے لیے استعمال ہوتا رہا اسکے پیروکار فدائی کہلاتے تھے۔
سلطان صلاح الدین ایوبی کو نہ تو لڑکیوں سے دھوکہ دیا جاسکتا تھا اور نہ ہی شراب سے وہ ان دونوں سے نفرت کرتا تھا، 
سلطان کو اس طریقے سے قتل نہیں کیا جاسکتا تھا۔ 
اس کو قتل کرنے کا یہی ایک طریقہ تھا کہ اس پر قاتلانہ حملہ کیا جائے اسکے محافظوں کی موجودگی میں اس پر حملہ نہیں کیا جاسکتا تھا دو حملے ناکام ہو چکے تھے۔ اب جبکہ سلطان کو یہ توقع تھی کہ اسکا چچازاد بھائی الصالح اور امیر سیف الدین شکست کھا کر توبہ کر چکے ہونگے انہوں نے انتقام کی ایک اور زیر زمیں کوشش کی
صلاح الدین نے اس فتح کا جشن منانے کے بجائے حملے جاری رکھے اور تین قصبوں کو قبضے میں لیا ان میں غازہ کا مشہور قصبہ تھا 
اسی قصبے کے گردونواح میں ایک روز سلطان صلاح الدین ایوبی امیر جاوالاسدی کے خیمے میں دوپہر کے وقت غنودگی کے عالم میں سستا رہا تھا 
سلطان نے وہ پگڑی نہیں اتاری تھی جو میدان جنگ میں سلطان کے سر کو صحرا کی گرمی اور دشمن کے تلوار سے بچا کر رکھتی تھی 
خیمے کے باہر اسکے محافظوں کا دستہ موجود اور چوکس تھا
باڈی گارڈز کے اس دستے کا کمانڈر زرا سی دیر کے لیے وہاں سے چلا گیا، ایک محافظ نے سلطان کے خیمے میں گرے ہوئے پردوں میں سے جھانکا، اسلام کی عظمت کے پاسبان کی آنکھیں بند تھیں اور پیٹھ کے بل لیٹا ہوا تھا
اس محافظ نے باڈی گارڈز کی طرف دیکھا ان میں سے تین چار باڈی گارڈز نے اسکی طرف دیکھا محافظوں نے اپنی آنکھیں بند کر کے کھولیں
تین چار محافظ اٹھے اور دوسروں کو باتوں میں لگالیا محافظ خیمے میں چلا گیا کمر بند سے خنجر نکالا دبے پاؤں چلا اور پھر چیتے کی طرح سوئے ہوئے سلطان صلاح الدین ایوبی پر جست لگائی خنجر والا ہاتھ اوپر اٹھا
عین اسی وقت سلطان نے کروٹ بدل لی یہ نہیں بتایا جاسکتا کہ حملہ آور خنجر کہاں مارنا چاہتا تھا
دل میں یا سینے میں مگر ہوا یوں کہ خنجر سلطان کی پگڑی کے بالائی حصے میں اتر گیا اور سر بال برابر جتنا دور رہا اور پگڑی سر سے اتر گئی
سلطان صلاح الدین بجلی کی سی تیزی سے اٹھا اسے سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ یہ سب کیا ہے
اس پر اس سے پہلے ایسے دو حملے ہو چکے تھے
اس نے اس پر بھی حیرت کا اظہار نہیں کیا کہ حملہ آور خود اسکے باڈی گارڈز کے لباس میں تھا، جسے اس نے خود اپنے باڈی گارڈز کے لیے منتخب کیا تھا
اس نے ایک سانس برابر بھی اپنا وقت ضائع نہ کیا حملہ آور اپنا خنجر پگڑی سے کھینچ رہا تھا
ایوبی کا سر ننگا تھا
اس نے بھر پور طاقت سے ایک گھونسہ حملہ آور کی تھوڑی پر دے مارا ہڈی ٹوٹنے کی آواز سنائی دی حملہ آور کا جبڑا ٹوٹ چکا تھا
وہ پیچھے کی طرف گرا اور اسکے منہ سے ہیبت ناک آواز نکلی اسکا خنجر ایوبی کی پگڑی میں رہ گیا تھا
ایوبی نے اپنا خنجر نکال لیا تھا
اتنے میں دو محافظ دوڑتے اندر آئے ان کے ہاتھوں میں تلواریں تھیں
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
یہ تحریر آپ کے لئے آئی ٹی درسگاہ کمیونٹی کی جانب سے پیش کی جارہی ہے۔
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
سلطان صلاح الدین ایوبی نے انہیں کہا کہ ان کو زندہ پکڑو
مگر یہ دونوں محافظ سلطان صلاح الدین ایوبی پر ٹوٹ پڑے، سلطان صلاح الدین ایوبی نے ایک خنجر سے دو تلواروں کا مقابلہ کیا یہ مقابلہ ایک دو منٹ کا تھا
 کیونکہ تمام باڈی گارڈز اندر داخل ہوچکے تھے
سلطان صلاح الدین ایوبی یہ دیکھ کر حیران تھا کہ اسکے باڈی گارڈز دو حصوں میں تقسیم ہوکر ایک دوسرے کو لہولہان کر رہے تھے
اسے چونکہ معلوم نہ تھا کہ ان میں اسکا دوشمن کون اور دوست کون ہے وہ اس معرکہ میں شامل نہ ہوا کچھ دیر بعد جب باڈی گارڈز میں سے چند ایک مارے گئے کچھ بھاگ گئے کچھ زخمی ہوئے تو انکشاف ہوا کہ یہ جو دستہ سلطان صلاح الدین ایوبی کی حفاظت پر مامور تھا اس میں سات محافظ فدائی تھے
جو سلطان صلاح الدین ایوبی کو قتل کرنا چاہتے تھے
انہوں نے اس کام کے لیے صرف ایک فدائی کو اندر خیمے میں بھیجا تھا
اندر صورت حال بدل گئی تو دوسرے بھی اندر چلے گئے اصل محافظ بھی اندر چلے گئے وہ صورت حال سمجھ گئے اور سلطان صلاح الدین ایوبی بچ گیا سلطان صلاح الدین ایوبی نے اپنے پہلے حملہ آور ہونے والے کی شہ رگ پر تلوار رکھ کر پوچھا، کہ وہ کون ہے اور اسکو کس نے بھیجا ہے
سچ بولنے پر سلطان نے اسکے ساتھ جان بخشی کا وعدہ کیا۔ اس نے کہا کہ وہ فدائی ہے اور اسکو کیمیشتکن (جسے بعض مورخین نے گمشتگن لکھا ہے) نے اس کام کے لیے بھیجا تھا
کیمیشتکن الصالح کے ایک قلعے کا گورنر تھا
اصل واقعات کی طرف آنے سے پہلے یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان واقعات سے پہلے کے دور کو دیکھا جائے سلطان صلاح الدین ایوبی کے نام اس کی عظمت اور تاریخ اسلام میں اسکے مقام اور کارناموں سے کون واقف نہیں؟ 
ملت اسلامیہ تو سلطان صلاح الدین ایوبی کو بھول ہی نہیں سکتی مسیحی دنیا بھی اسے ہمیشہ یاد رکھے گی لہذا یہ ضروری معلوم نہیں ہوتا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کا شجرہ نسب تفصیل سے بیان کیا جائے ہم آپکو ایسے واقعات سنانے جا رہے ہیں جس کی وسعت کے لیے تاریح کا دامن بہت ہی چھوٹا پڑ جاتا ہے
یہ تفصیلات وقائع نگاروں اور قلم کاروں کی ریکارڈ کی ہوتی ہیں
کچھ سینہ بہ سینہ اگلی نسلوں تک پہنچتی ہیں
تاریح کے دامن پر سلطان صلاح الدین ایوبی کے صرف کارنامے محفوظ کیے گئے ہیں
ان سازشوں کا زکر بہت کم آیا ہے
جو اپنوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی کے خلاف کی اور اسکی بڑھتی ہوئی شہرت اور عظمت کو داغدار کرنے کے لیے اسے ایسی لڑکیوں کے جال میں پھانسنے کی بار بار کوشش کی گئی جن کے حسن میں طلسماتی اثر تھا
تاریح اسلام کا یہ حقیقی ڈارمہ 23 مارچ 1169کے روز سے شروع ہوتا ہے جب سلطان صلاح الدین ایوبی کو مصر کا واسرائے اور فوج کا کمانڈر انچیف بنایا گیا اسے اتنا بڑا ربتہ ایک تو اس لئے دیا گیا کہ وہ حکمرانوں کے گھروں کا نونہال تھا اور دوسرا اس لئے کہ اوائل عمری میں ہی وہ فن حرب و ضرب کا ماہر ہوگیا تھا
سپاہ گری ورثے میں پائی تھی سلطان صلاح الدین ایوبی کے معنوں میں حکمرانی ،بادشاہی نہیں قوم کی عظمت اور فلاح و بہبود تھی
اسکا جب شعور بیدار ہوا تو پہلی خلش یہی محسوس کی وہ یہ تھی کہ مسلمان حکمرانوں میں نہ صرف یہ کہ اتحاد نہیں بلکہ وہ ایک دوسرے کی مدد کرنے سے بھی گریز کرتے تھے وہ عیاش ہو گئے تھے
شراب اور عورت نے جہاں انکی زندگی رنگین بنا رکھی تھی وہاں عالم اسلام اور اس عظیم مذہب کا مستقبل تاریک ہوگیا تھا،
ان امیروں حکمرانوں اور ریئسوں کے حرم غیر مسلم لڑکیوں سے بھرے رہتے تھے زیادہ تر لڑکیاں یہودی اور عیسائی تھیں جن کو خاص تربیت دیں کر ان حرموں میں داخل کیا گیا تھا
غیر معمولی حسن اور ادکاری میں کمال رکھنے والی یہ لڑکیاں مسلمان حکمرانوں اور سربراہوں کے کردار اور قومی جذبے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی تھیں
اسکا نتیجہ یہ تھا کہ صلیبی جن میں فرینک (فرنگی) خاص طور پر قابل ذکر ہے مسلمانوں کی سلطنتوں کے ٹکڑے کرتے ہڑپ کرتے جارہے تھے
اور بعض مسلمان تو شاہ فرینک کو سالانہ ٹیکس اور جزیہ بھی دیتے تھے جس کی مثال غنڈہ ٹیکس کی سی تھی صلیبی اپنی جنگی قوت کے رعب اور چھوٹے چھوٹے حملوں سے مسلمان حکمرانوں کو ڈراتے رہتے کچھ علاقوں پر قبضہ کرلیتے ٹیکس اور تاوان وصول کرتے ان کا مقصد یہ تھا کہ آہستہ آہستہ دنیائے اسلام کو ہڑپ کر لیا جائے مسلمان حکمران اپنی رعایا کا خون چوس کر ٹیکس دیتے رہتے تھے 
ان کا مقصد یہ تھا کہ بس انہیں عیش و عشرت میں پریشان نہ کیا جائے
فرقہ پرستی کے بیچ بو دیئے گئے تھے، 
ان میں سب سے زیادہ خطرناک فرقہ حسن بن صباح کا تھا
جو صلاح الدین ایوبی کی جوانی سے ایک صدی پہلے وجود میں آیا تھا، یہ مفاد پرستوں کا ٹولہ تھا 
بے حد خطرناک اور پراسرار۔ یہ لوگ اپنے آپکو فدائی کہلاتے تھے
جو بعد میں حشیشن کے نام سے مشہور ہوئے کیونکہ وہ حیشیش نامی ایک نشہ آور شے سے دوسروں کو اپنے جال میں پھنساتے تھے
سلطان صلاح الدین ایوبی نے مدرسہ نظام الملک میں تعلیم حاصل کی یاد رہے کہ نظام الملک دنیائے اسلام کی سلطنت کے ایک وزیر تھے 
یہ مدرسہ انہوں نے تعمیر کیا جس میں اسلامی تعلیم دی جاتی تھی اور بچوں کو اسلامی تاریح اور نظریات سے بہره ور کیا جاتا تھا
ایک مورخ ابن الاطہر کے مطابق نظام الملک حسن بن صباح کے فدائیوں کا پہلا شکار ہوئے تھے 
کیونکہ وہ رومیوں کی توسیع پسندی کی راہ میں چٹان بنے ہوئے تھے رومیوں نے 1091میں انہیں فدائیوں کے ہاتھوں قتل کرا دیا۔ ان کا مدرسہ قائم رہا اور سلطان صلاح الدین ایوبی نے وہیں  تعلیم حاصل کی 
اسی عمر میں اس نے سپاہ گری کی تربیت اپنے بزرگوں سے لی نورالدین زنگی نے اسکو جنگی چالیں سکھائی ملک کے انتظامات کے سبق دیئے اور ڈیپلومیسی میں مہارت دی اس تعلیم و تربیت نے اسکے اندر وہ جذبہ پیدا کر دیا جس نے آگے چل کر اسے صلیبیوں کے لیے بجلی بنا دیا 
اوائل جوانی میں ہی اس نے وہ ذہانت اور اہلیت حاصل کر لی تھی جو ایک سالار اعظیم کے لیے ضروری ہوتی ہے
سلطان صلاح الدین ایوبی نے فن حرب و ضرب میں جاسوس گوریلا اور کمانڈو آپریشن کو خصوصی اہمیت دی
اس نے دیکھ لیا تھا کہ صلیبی جاسوسی کی میدان میں آگے نکل گئے ہیں اور وہ مسلمانوں کے نظریات پر نہایت کارگر حملے کر رہے ہیں
سلطان صلاح الدین نظریات کے محاذ پر لڑنا چاہتا تھا جس میں تلوار استعمال نہیں ہوتی تھی۔ ان واقعات میں آگے چل کر آپ دیکھیں گے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کی تلوار کا وار تو گہرا ہوتا ہی تھا اسکی محبت کا وار اس سے کہیں زیادہ مار کرتا تھا
اس کے لیے تحمل اور بردباری کی ضرورت ہوتی ہے 
جو سلطان صلاح الدین ایوبی نے اوائل عمر میں ہی اپنے آپ میں پیدا کر لی تھی
سلطان صلاح الدین کو جب مصر کا وائسرائے بناکر بهیجا گیا تو ان سینئر افسروں نے ہنگامہ برپا کر دیا جو اس عہدے کی آس لگائے بیٹھے تھے...
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*

Mian Muhammad Shahid Sharif

Accounting & Finance, Blogging, Coder & Developer, Administration & Management, Stores & Warehouse Management, an IT Professional.

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی